High School Doulat Ghari

High School Doulat Ghari Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from High School Doulat Ghari, School, Nasirabad, Balochistan.

مورخہ 29 اگست 2024 آج مجھے جماعت چہارم کے معاشرتی علوم کو پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ معاشرتی علوم کی یہ کتاب Single National C...
31/08/2024

مورخہ 29 اگست 2024
آج مجھے جماعت چہارم کے معاشرتی علوم کو پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ معاشرتی علوم کی یہ کتاب Single National Curriculum پر مبنی ایک بہترین کتاب ہے۔ اس نصاب کی کتابیں گوکہ مشکل اور پیچیدہ ضرور ہیں لیکن اگر ایک معلم پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پڑھائے تو وہ نہ صرف طلباء کے علم و شعور میں میں اضافہ کرے گا بلکہ اسے ایک زمہ دار شہری بھی بنائے گا۔
جماعت چہارم کے باب اول کا موضوع" شہریتCitizenship " کے متعلق ہے۔ ایک فرد ہر اس ریاست کا شہری کہلاتا ہے جہاں وہ پیدا ہوا ہو اور جہاں اس کے آباؤاجداد کو ریاست کی طرف سے معاشرتی، سیاسی اور معاشی حقوق حاصل رہے ہوں۔

طلباء کو دوران تدریس میں نے انھیں بتایا کہ ایک شہری کے ایک ریاست کے اوپر کیا حقوق ہیں ۔
شہریوں کے عوام پر معاشرتی حقوق:
1. جان و مال کا تحفظ
جان و مال کا تحفظ ایک شہری کا ریاست پر اولین فرض ہے۔ ریاست نے ایک شہری کے جان ومال کے تحفظ کے لئے مختلف ادارے بنائے ہیں جن میں محکمہ پولیس سرفہرست ہے۔ اگر کسی شہری کے جان و مال کے تحفظ میں پولیس ناکام ہوتی ہے یا کوتاہی کی مرتکب ہوتی ہے تو شہریوں کا یہ حق ہے کہ متعلقہ افسران اور اہلکاروں سے پوچھ سکتے ہیں کہ " ریاست نے آپ کو ہمارے تحفظ کے لئے عمارت، سہولیات اور معقول تنخواہیں دی ہیں لیکن آپ ہمارے حقوق ادا نہیں کررہے لہذا ہمارے حقوق کی ادائیگی میں حائل ہونے کے بجائے اپنی زمہ داریاں نبھائیں۔

2. تعلیم
تعلیم ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ دنیا کی تمام مہذب اقوام اپنے معاشرے کی ترقی و ملک کی تعمیر کے لیے حتیٰ الامکان بہترین کوششیں کرتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ تعلیم ہی سے ممکن ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان کے تمام شہری بلا رنگ و نسل یہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں نہ صرف بنیادی تعلیم دی جائے بلکہ بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری تعلیم مہیا کی جائے۔ ریاست نے اس فرض کی ادائیگی کے لئے ملک بھر میں سکول و کالج قائم کیے، ان سکولوں میں درس و تدریس کی خدمات کےلئے معلمین تعینات کیے اور مفت کتب کی فراہمی کے لیے ایک معقول بجٹ بھی تفویض کیا ۔ لیکن ان سب کے باوجود اگر کوئی بچہ معیاری تعلیم سے محروم رہتا ہے تو بچوں کے والدین کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ سکول جاکر متعلقہ ہیڈماسٹر/ پرنسپل سے پوچھ سکتا ہے کہ " جناب میں ایک پاکستانی شہری ہوں ریاست آپ کو میرے بچوں کو تعلیم مہیا کرنے کے لیے ایک معقول تنخواہ دیتا ہے لیکن ، پھر بھی میرے بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں ۔ مجھے بتایا جائے کون ہے میرے بچوں کو تعلیم سے محروم کرنے والا تاکہ ہم شہری اس کا محاسبہ کرسکیں۔۔۔

3. صحت :
ایک شہری کا ریاست پر یہ بھی حق ہے کہ اس کو صحت کی تمام سہولیات میسر ہوں ۔ اور ریاست نے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے صوبے( سول ہسپتال) ، ضلعے( ضلعی سول ہسپتال) ، تحصیل( تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال) اور یونین کونسل( بنیادی صحت کے مراکزBHUs) کی سطح پر ہسپتال تعمیر کروائے ہیں اور ، ایمبولینس، ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف تعینات کیے ہیں تاکہ اس کے شہری صحت کی سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔ لیکن ان سب سہولیات کے باوجود اگر عام شہری کا علاج و معالجہ نہیں ہورہا تو اس کا حق ہے کہ زمہ داروں سے پوچھ سکتا ہے کہ " آپ کو ریاست نے ہم شہریوں کے علاج ومعالجہ کے لئےتعینات کیا ہے تاکہ ہمیں علاج کی سہولیات مل سکیں مگر آپ لوگ ہمیں ادویات و دیگر طبی سہولیات سے محروم کررہے ہیں ، لہذا ہمیں ریاست سے عطا کردہ سہولیات احسن طریقے سے اور ایمانداری سے دی جائیں ، ورنہ آپ کو اس عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ۔۔۔

نوٹ :
ایک ریاست کی نظر میں تمام شہری یکساں و برابر ہیں ، چاہے وہ ایک دیہاڑی دار مزدور ہو، کاشتکاری ہو، تاجر ہو ، امیر ہو یا کوئی ارب پتی بزنس مین ، سب کا رتبہ و احترام یکساں ہے۔ لہذا اس پوسٹ کے توسط سے میں ریاست کے تمام ملازمین چاہے وہ کسی بھی محکمے میں ہیں اور کسی بھی عہدے پر فائز ہیں انھیں گزارش کرتا ہوں کہ ہر فرد سے عزت و احترام سے ملنا اور ان کے مسائل حل کرنا آپ کا اولین فرض ہے، اور فرض سے کوتاہی اللّٰہ کی نظر میں آپ کو گناہ گار اور ریاست کی نظر میں مجرم قرار دیتا ہے۔ (لہذا باضمیر بنیں)

ایک مغالطہ یہ بھی لوگوں میں ہے کہ وہ عوامی نمائندوں کو سر پر بٹھا کر رکھتے ہیں ، تو یہ تمام شہریوں کے لئے پیغام ہے کہ عوامی نمائندے کو آپ اس لئے منتخب کرتے ہیں تاکہ وہ آپ کے حقوق کی بہتر نمائندگی کرسکے وہ اسی طرح آپ کا نمائندہ ہے جس طرح ایک منشی کسی وڈیرے کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اور اگر وہ آپ کے حقوق کا دفاع نہ کرسکے تو آپ اس کا ٹھیک ٹھاک محاسبہ کرسکتے ہیں۔

اس کے علاؤہ شہریوں کے سیاسی و معاشی حقوق بھی ہیں ، مگر جب میں طلباء کو وہ حقوق پڑھاؤں گا تو انھیں ضرور آپ سے شیئر کروں گا۔

مورخہ 28 اگست 2024 کو سکول ہذا میں ہیڈماسٹر جنید احمد کھوسہ کے زیر صدارت میٹنگ کا انعقاد ہوا ۔ اس میٹنگ میں سکول کی مجمو...
28/08/2024

مورخہ 28 اگست 2024 کو سکول ہذا میں ہیڈماسٹر جنید احمد کھوسہ کے زیر صدارت میٹنگ کا انعقاد ہوا ۔ اس میٹنگ میں سکول کی مجموعی تعلیمی نظام اور اساتذہ و طلباء کی باقاعدہ سکول کے نظام تعلیم پر دلچسپی و عدم دلچسپی پر اظہارِ خیال کیا گیا ۔ میٹنگ کے ایجنڈے کے حوالے سے ہیڈماسٹر جنید صاحب نے کہا کہ سکول میں اسٹاف اور طلباء کی تواتر سے غیر حاضری باعث تشویش ہے، اس طرح کا غیر سنجیدہ رویہ ادارے کی ساکھ کے لئے نقصان دہ ہے۔ میٹنگ کے دوران تمام اساتذہ نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور ہیڈماسٹر صاحب کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

میٹنگ کے اختتام پر یہ طے ہوا کہ اساتذہ کی مستقل اور بلاوجہ غیرحاضریوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، علاؤہ ازیں غیرحاضر طلباء کے والدین سے روابط کے سلسلے میں استاد شاکر صاحب کو خصوصی ٹاسک دیا گیا کہ وہ والدین سے رابطہ کرکے طلباء کی حاضریوں کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں بروئے کار لائیں۔
تمام تر کوششوں کے بعد اگر طلباء بدستور سکول نہیں آتے تو ان کا نام سکول سے خارج کردیا جائے گا۔ اوراس حوالے سے کسی قسم کا عذر اور سفارش ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔

سکول سلیبس ، اکتوبر میں ششماہی امتحان ، ماہانہ پروگریس رپورٹ، نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کے باقاعدہ انعقاد پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

سکول ہذا کے ہیڈماسٹر جناب جنید احمد کی نگرانی میں  تدریسی عمل کی بحالی اور نکاسی آب کے لئے کی جانے والی کوششوں کی ایک جھ...
20/08/2024

سکول ہذا کے ہیڈماسٹر جناب جنید احمد کی نگرانی میں تدریسی عمل کی بحالی اور نکاسی آب کے لئے کی جانے والی کوششوں کی ایک جھلک۔۔۔۔

گزشتہ روز ہونے والے شدید بارش کے باعث سکول ہذا تالاب کا منظر پیش کررہا ہے۔
19/08/2024

گزشتہ روز ہونے والے شدید بارش کے باعث سکول ہذا تالاب کا منظر پیش کررہا ہے۔

07/08/2024

نوٹس برائے داخلہ فرسٹ ائیر گورنمنٹ بوائز انٹر کالج میر حسن:

گورنمنٹ بوائز انٹر کالج میر حسن میں فرسٹ ائیر پری میڈیکل /پری انجینئرنگ /آرٹس اور کمپوٹر سائنسں کی کلاسوں میں جن طلباء نے آن لائن پروسسز مکمل کیا ہے۔

10اگست2024 کو مندرجہ ذیل ڈاکیومنٹس کیساتھ کالج (گورنمنٹ ہائ اسکول دولت گھاڑی) تشریف لائیں۔
میٹرک رزلٹ کارڈ کاپی 03 عدد۔
ب فارم اوروالد کےشناختی کارڈ کی کاپی 03 عدد۔
لوکل/ڈومیسائل کاپی 03 عدد۔
تصاویر وائٹ بیک گراونڈ کیساتھ 06 عدد۔
اسٹامپ پیپر
فیس /-3350

مزید کسی انفارمیشن کیلئے ذیل میں دئے گئے کالج نمبر پر رابطہ کریں:
پرنسپل : کرم خان
03326678807
ایڈمن: بشیر احمد کھوسہ۔
03453652905

20/04/2024
27/03/2024

آج صبح سکول ہذا کے معلم جناب عبد الطیف جویا سے گن پوائنٹ پر پیروپل کے علاقے تحصیل چھتر، ضلع نصیر آباد بلوچستان میں راہزنوں نے موٹر سائیکل ، موبائل اور نقدی چھین لی اور فرار ہوگئے۔ استاد صاحب اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی کے لئے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول دولت گھاڑی آرہے تھے۔ مگر، راستے میں گھات لگائے نقاب پوش راہزنوں نے استاد محترم کو موٹر سائیکل اور دیگر قیمتی اشیا سے محروم کردیا ۔

یہاں امن و امان قائم کرنے والے اداروں خصوصاً محکمہ پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ کیونکہ کچھ عرصہ سے ضلع نصیر آباد خصوصاً تحصیل چھتر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے ہر شہری کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو اس کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، مگر زمہ دار ریاستی اداروں نے عام شہریوں کو چوروں، لٹیروں، لوفروں ، دہشتگردوں اور معاشرے کا امن تباہ کرنے والے عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ آئے روز کسی نہ کسی معزز اور معصوم شہر ی کو اس کی جان و مال سے محروم کردیا جاتا ہے، مگر ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ریاست اور عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے زمہ دار حکام کے ضمیر تو گویا اس دارفانی سے کوچ کرگئے ہیں؟؟؟
تحصیل چھتر کی مخدوش صورتحال پر ریاستی اداروں کو حرکت میں آنا چاہیے۔ علاقے کا امن تباہ کرنے والے عناصر کو سخت سزائیں دی جائیں ، پولیس چوکیوں اور پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے ، اور جن معزز شہریوں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کیا گیا ہے ان کی فوری داد رسی کی جائے۔

اس کے علاؤہ یہاں کے عوامی نمائندوں کو بھی خواب خرگوش سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے ، انھیں احساس ہونا چاہیے کہ جن کے ووٹوں کی بدولت وہ اعلیٰ ایوانوں کی نرم و گداز نشستوں پر براجمان ہیں انہی عوام کی جان و مال غیر محفوظ ہے ، اور ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ ریاست ، ریاستی اور عوامی نمائندوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

علاؤہ ازیں علاقے کے معززین کو بھی اس بگڑتی ہوئی صورتحال میں اپنا مثبت ادا کرنا چائیے۔ یوں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے اور بے حس و بے پرواہ رہنے سے علاقے کی صورتحال مزید گمبھیر ہوسکتی ہے ۔ لہذا جرائم کی بیخ کنی کئے لئے ہر مکتبہ فکر کو متحد ہوکر کوشش کرنی چاہیے، تاکہ جرائم پیشہ عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جاسکے ، اور عام اور معزز شہری امن و سکون سے اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔

Address

Nasirabad
Balochistan

Telephone

+923453652905

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when High School Doulat Ghari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category