31/08/2024
مورخہ 29 اگست 2024
آج مجھے جماعت چہارم کے معاشرتی علوم کو پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ معاشرتی علوم کی یہ کتاب Single National Curriculum پر مبنی ایک بہترین کتاب ہے۔ اس نصاب کی کتابیں گوکہ مشکل اور پیچیدہ ضرور ہیں لیکن اگر ایک معلم پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پڑھائے تو وہ نہ صرف طلباء کے علم و شعور میں میں اضافہ کرے گا بلکہ اسے ایک زمہ دار شہری بھی بنائے گا۔
جماعت چہارم کے باب اول کا موضوع" شہریتCitizenship " کے متعلق ہے۔ ایک فرد ہر اس ریاست کا شہری کہلاتا ہے جہاں وہ پیدا ہوا ہو اور جہاں اس کے آباؤاجداد کو ریاست کی طرف سے معاشرتی، سیاسی اور معاشی حقوق حاصل رہے ہوں۔
طلباء کو دوران تدریس میں نے انھیں بتایا کہ ایک شہری کے ایک ریاست کے اوپر کیا حقوق ہیں ۔
شہریوں کے عوام پر معاشرتی حقوق:
1. جان و مال کا تحفظ
جان و مال کا تحفظ ایک شہری کا ریاست پر اولین فرض ہے۔ ریاست نے ایک شہری کے جان ومال کے تحفظ کے لئے مختلف ادارے بنائے ہیں جن میں محکمہ پولیس سرفہرست ہے۔ اگر کسی شہری کے جان و مال کے تحفظ میں پولیس ناکام ہوتی ہے یا کوتاہی کی مرتکب ہوتی ہے تو شہریوں کا یہ حق ہے کہ متعلقہ افسران اور اہلکاروں سے پوچھ سکتے ہیں کہ " ریاست نے آپ کو ہمارے تحفظ کے لئے عمارت، سہولیات اور معقول تنخواہیں دی ہیں لیکن آپ ہمارے حقوق ادا نہیں کررہے لہذا ہمارے حقوق کی ادائیگی میں حائل ہونے کے بجائے اپنی زمہ داریاں نبھائیں۔
2. تعلیم
تعلیم ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ دنیا کی تمام مہذب اقوام اپنے معاشرے کی ترقی و ملک کی تعمیر کے لیے حتیٰ الامکان بہترین کوششیں کرتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ تعلیم ہی سے ممکن ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان کے تمام شہری بلا رنگ و نسل یہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں نہ صرف بنیادی تعلیم دی جائے بلکہ بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری تعلیم مہیا کی جائے۔ ریاست نے اس فرض کی ادائیگی کے لئے ملک بھر میں سکول و کالج قائم کیے، ان سکولوں میں درس و تدریس کی خدمات کےلئے معلمین تعینات کیے اور مفت کتب کی فراہمی کے لیے ایک معقول بجٹ بھی تفویض کیا ۔ لیکن ان سب کے باوجود اگر کوئی بچہ معیاری تعلیم سے محروم رہتا ہے تو بچوں کے والدین کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ سکول جاکر متعلقہ ہیڈماسٹر/ پرنسپل سے پوچھ سکتا ہے کہ " جناب میں ایک پاکستانی شہری ہوں ریاست آپ کو میرے بچوں کو تعلیم مہیا کرنے کے لیے ایک معقول تنخواہ دیتا ہے لیکن ، پھر بھی میرے بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں ۔ مجھے بتایا جائے کون ہے میرے بچوں کو تعلیم سے محروم کرنے والا تاکہ ہم شہری اس کا محاسبہ کرسکیں۔۔۔
3. صحت :
ایک شہری کا ریاست پر یہ بھی حق ہے کہ اس کو صحت کی تمام سہولیات میسر ہوں ۔ اور ریاست نے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے صوبے( سول ہسپتال) ، ضلعے( ضلعی سول ہسپتال) ، تحصیل( تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال) اور یونین کونسل( بنیادی صحت کے مراکزBHUs) کی سطح پر ہسپتال تعمیر کروائے ہیں اور ، ایمبولینس، ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف تعینات کیے ہیں تاکہ اس کے شہری صحت کی سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔ لیکن ان سب سہولیات کے باوجود اگر عام شہری کا علاج و معالجہ نہیں ہورہا تو اس کا حق ہے کہ زمہ داروں سے پوچھ سکتا ہے کہ " آپ کو ریاست نے ہم شہریوں کے علاج ومعالجہ کے لئےتعینات کیا ہے تاکہ ہمیں علاج کی سہولیات مل سکیں مگر آپ لوگ ہمیں ادویات و دیگر طبی سہولیات سے محروم کررہے ہیں ، لہذا ہمیں ریاست سے عطا کردہ سہولیات احسن طریقے سے اور ایمانداری سے دی جائیں ، ورنہ آپ کو اس عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ۔۔۔
نوٹ :
ایک ریاست کی نظر میں تمام شہری یکساں و برابر ہیں ، چاہے وہ ایک دیہاڑی دار مزدور ہو، کاشتکاری ہو، تاجر ہو ، امیر ہو یا کوئی ارب پتی بزنس مین ، سب کا رتبہ و احترام یکساں ہے۔ لہذا اس پوسٹ کے توسط سے میں ریاست کے تمام ملازمین چاہے وہ کسی بھی محکمے میں ہیں اور کسی بھی عہدے پر فائز ہیں انھیں گزارش کرتا ہوں کہ ہر فرد سے عزت و احترام سے ملنا اور ان کے مسائل حل کرنا آپ کا اولین فرض ہے، اور فرض سے کوتاہی اللّٰہ کی نظر میں آپ کو گناہ گار اور ریاست کی نظر میں مجرم قرار دیتا ہے۔ (لہذا باضمیر بنیں)
ایک مغالطہ یہ بھی لوگوں میں ہے کہ وہ عوامی نمائندوں کو سر پر بٹھا کر رکھتے ہیں ، تو یہ تمام شہریوں کے لئے پیغام ہے کہ عوامی نمائندے کو آپ اس لئے منتخب کرتے ہیں تاکہ وہ آپ کے حقوق کی بہتر نمائندگی کرسکے وہ اسی طرح آپ کا نمائندہ ہے جس طرح ایک منشی کسی وڈیرے کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اور اگر وہ آپ کے حقوق کا دفاع نہ کرسکے تو آپ اس کا ٹھیک ٹھاک محاسبہ کرسکتے ہیں۔
اس کے علاؤہ شہریوں کے سیاسی و معاشی حقوق بھی ہیں ، مگر جب میں طلباء کو وہ حقوق پڑھاؤں گا تو انھیں ضرور آپ سے شیئر کروں گا۔