Biological And Medical updates

Biological And Medical updates

Share

it is for the students of biology and medical related fields.hope the students will benefited from it no

14/02/2025

بالوں کو ہٹانے کے لیے لہسن کا استعمال: -
مرحلہ وار طریقہ

اگر آپ قدرتی طریقے سے ناپسندیدہ بالوں کو ہٹانے کے لیے لہسن استعمال کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل آسان اقدامات پر عمل کریں تاکہ بہترین نتائج حاصل ہوں۔

1. لہسن کا پیسٹ تیار کریں

3 سے 4 تازہ لہسن کی گٹھیاں چھیل کر اچھی طرح پیس لیں۔ (آپ لہسن پریس یا ہاون دستہ استعمال کر سکتے ہیں)۔

پیسنے کے بعد لہسن کو تقریباً 10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں تاکہ اس میں موجود ایلیسن (Allicin) نامی مرکب فعال ہو جائے۔

اگر جلد پر جلن یا بدبو سے بچنا چاہتے ہیں تو 1 چائے کا چمچ زیتون کا تیل یا ایلوویرا جیل ملا لیں تاکہ جلد کو سکون ملے۔

2. مطلوبہ جگہ کو صاف اور خشک کریں

جہاں لہسن کا پیسٹ لگانا ہو، اس جگہ کو ہلکے صابن اور گرم پانی سے دھو لیں۔

جلد کو اچھی طرح خشک کر لیں تاکہ پیسٹ جلد پر بہتر طریقے سے چپک سکے۔

3. پیسٹ لگانے کا طریقہ

روئی یا انگلیوں (دستانے پہننا بہتر ہوگا) کی مدد سے لہسن کا پیسٹ ناپسندیدہ بالوں پر یکساں طور پر لگائیں۔

نرم دائرے کی شکل میں مساج کریں، خاص طور پر جہاں بال زیادہ گھنے ہوں۔

اگر ممکن ہو تو اس جگہ کو ململ کے کپڑے یا کسی ہلکی پٹی سے ڈھانپ لیں تاکہ پیسٹ جلد پر زیادہ دیر تک رہے۔

4. انتظار کریں

پیسٹ کو 15 سے 20 منٹ کے لیے لگا رہنے دیں۔

معمولی جلن محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اگر شدید جلن یا تکلیف ہو تو فوری طور پر دھو ڈالیں۔

کچھ لوگ اسے 30 منٹ تک چھوڑتے ہیں، لیکن جلد کی حالت کو دیکھتے ہوئے احتیاط کریں۔

5. دھونا اور موئسچرائزر لگانا

نیم گرم پانی سے جلد کو دھو لیں اور ہلکے ہاتھوں سے مساج کریں تاکہ ڈھیلے ہونے والے بال بھی نکل جائیں۔

ایلوویرا جیل، بابونہ (Chamomile) کریم یا کوئی ہلکا موئسچرائزر لگائیں تاکہ جلد نرم اور ہائیڈریٹ رہے۔

6. استعمال کی تعداد اور مستقل مزاجی

بہترین نتائج کے لیے اس عمل کو ہفتے میں 2 سے 3 بار دہرائیں۔

لہسن ایک قدرتی علاج ہے، اس لیے نتائج فوری نہیں بلکہ آہستہ آہستہ بال کمزور اور پتلے ہو جائیں گے۔

احتیاطی تدابیر

لہسن کے طاقتور مرکبات حساس جلد پر جلن پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے پہلے پیچ ٹیسٹ (Patch Test) ضرور کریں۔

بازو کے اندرونی حصے پر تھوڑا سا پیسٹ لگا کر 24 گھنٹے انتظار کریں۔

اگر لالی، خارش یا جلن محسوس ہو تو اس کا استعمال نہ کریں۔

جن افراد کو ایکزیما، سورائسس یا جلدی الرجی ہو، وہ استعمال سے پہلے ماہر جلد یا حکیم سے مشورہ کر لیں۔

حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کو چونکہ جلد زیادہ حساس ہوتی ہے، اس لیے طبی مشورہ لینا بہتر ہوگا.

لہسن ایک قدرتی جز ہے جو بالوں کو پتلا کرنے اور کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے، لیکن مستقل مزاجی اور احتیاط ضروری ہے۔ اگر جلد پر کسی بھی قسم کی پریشانی ہو تو فوراً استعمال بند کر دیں اور کوئی متبادل طریقہ آزمائیں۔

Dr Abdul Basit khan 07/02/2025

روغن
زیتون کے اکیس
ناقابل یقین فوائد کیا ہیں؟
زیتون ایک درخت ہے جس کا پھل زیتونہ کہلاتا ہے اُس پھل سے جو تیل حاصل کیا جاتا ہے اُسے روغنِ زیتون کہا جاتاہے۔زیتون اور روغنِ زیتون کے بےشمار خواص اور فوائد ہیں۔
زیتون اور روغنِ زیتون کے بارے میں کئی احادیث میں بھی ذکر ہے اور بعض حوالوں سے اسے ستر بیماریوں کے لئے شافی قرار دیا گیا ہے۔
روغنِ زیتون سب سے زیادہ پیٹ کے امراض کے لئے مفید اور شافی ہوتا ہے۔یہبدن کو گرم کرتا ہے، پتھری کو توڑکر نکالتا ہے اور قبض کشا بھی ہے۔
معدے کے افعال کو درست کرکے روغنِ زیتون بھوک کو بڑھاتا ہے اور آنتوں میں پڑے ہوئے سدے بھی کھول دیتا ہے۔پتے کی پتھری بھی روغنِ زیتون کے استعمال سے ٹوٹ کر خارج ہوجاتی ہے۔
زیتون کا تیل اگر تھوڑی مقدار میں دودھ کے ساتھ ملا کر پیئیں تو اس سےبتدریج السر سے مکمل طور پر نجات مل جاتی ہے اور معدے کی تیزابیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
دائمی اور پرانے قبض کو ختم کرنے کے لئے ایک تولہ روغنِ زیتون کو جو کےگرم پانی میں ڈال کر پیئیں تو دو تین دن کے اندر قبض سے نجات مل جاتی ہے۔
پیٹ کے اندر اگر فاسد مادے پیدا ہوچکے ہوں یا پیٹ میں کوئی زہریلی شئےچلی جائے تو اُس کا ا*ثر زائل کرنے کی خاطر زیتون کا تیل ہی سب سے موثراور اکسیر تریاق ہوگا۔
زیتون کے تیل کو کسی نہ کسی صورت میں جو لوگ کھاتے رہتے ہیں وہ کبھی آنتوں اور پیٹ کے سرطان کا شکار نہیں ہوسکتے۔
تپِ دق جیسے موذی مرض کا علاج بھی بذریعہ روغنِ زیتون شافی انداز میں کیاجاسکتا ہے۔اس مقصد کے لئے ہر روز تین اونس روغنِ زیتون براہِ راست یا دودھ میں ملا کر پینا ضروری ہوتا ہے۔یہ عمل تقریباً دو ماہ تک جاری رکھیں تو اس مرض سے مستقل طور پر نجات مل جاتی ہے۔
روغنِ زیتون کو دمہ کے مرض سے بچنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کےلئے شہد اور زیتون کے تیل کو برابر وزن کے ساتھ گرم پانی میں ملا کر پیناچاہیے ۔مستقل استعمال سے دمہ ختم ہو جاتا ہے ۔نزلہ زکام اور کھانسی بھی مستقل طور پر ختم ہوجاتے ہیں۔
زیتون کا تیل پسینہ خارج کرنے کا موجب بنتا ہے۔جسمانی اعضاء کو قوت اور توانائی بخشتا ہے۔
زیتون کے تیل کو جلد کی متعدد بیماریوں کے علاج کے لئے مجرد حالت میں یامرہم میں شامل کرکے اکسیر بنایا جاسکتا ہے۔ یہ جلد کے تمام بیرونی عوارض میں مفید ہوتا ہے۔آگ کے جلنے سے بنے ہوئے زخموں ،پھوڑے پُھنسیوں داد اور عام زخم کے علاج کے لئے بھی زیتون کا تیل لگانا فائدہ مند ہوتا ہے۔زیتون کی مسلسل مالش سے چیچک اور زخم کے داغ دھبے ختم ہوجاتے ہیں۔
آنکھوں کی کئی بیماریوں اور سرخی و سوزش ختم کرنے کے لئے سلائی سے زیتون کا تیل آنکھ میں لگائیں تو افاقہ ہوتا ہے۔
بالوں کو گرنے سے بچانے کے لئے سفید ہونے سے روکنے کی خاطر ہر روز بالوں میں زیتون کا تیل لگانا سب سے بڑا اور موثر نسخہ ہے۔
زیتون کے تیل کی باقاعدہ مالش کرنے سے جوڑوں کا درد اور لنگڑی کا درد ( عرق النساء ) بھی بدستور ختم ہوجاتا ہے۔
خواتین اپنے ہاتھوں ،بازوؤں اور چہرے کو نکھارنے کے لئے اور گداز رکھنے کی خاطر زیتون کے تیل کی مالش کو معمول بنا لیں تو یہ جلد کے لئے نہایت مفیدہوتا ہے۔
بچھو ،شہد کی مکھی یا بِھڑ وغیرہ کے کاٹے پر روغنِ زیتون ملنے سے جلد ہی زہر کا اثر زائل ہوجاتا ہے اور درد سے نجات مل جاتی ہے.۔.
روغنِ زیتون کا موسمِ سرما میں استعمال کرنے سے بالوں سے خشکی سکری دور ہوجاتی ہے۔
جو لوگ زیتون کے تیل میں کھانا بناتے ہیں وہ لاتعداد عوارض اور بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔
حکماء کا کہنا ہے کہ روغنِ زیتون میں خرگوش کو گوشت پکا کر کھانے سے عورتوں میں بانجھ پن ختم ہوسکتا ہے۔
کلونجی کو بھون کر زیتون کے تیل میں پیس کر مرہم بنا کر اگر پرانی خارش یافنگس پر لگائیں تو اس سے چند دنوں میں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔
غرض یہ کہ زیتون کے روغن میں پکے ہوئے پکوان ،اچار یا مٹھائیاں ذائقے میں منفرد ہوتی ہے اور معدے پر گراں نہیں گزرتی، زیتون کا تیل صحت اور تندرستی پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور معدے کی فعالیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

Dr Abdul Basit khan Herbalist (Hakeem) & Doctorate of Philosophy (Phd) in Management Sciences.

31/01/2025

جاپانی ڈاکٹر کی حیرت انگیز تحقیق:
معدے کے تیزابیت کا سبب صرف بے ترتیب خوراک نہیں بلکہ بے چینی معدے کے تیزابیت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
بلڈ پریشر کے بڑھنے کی وجہ خوراک میں نمک کی زیادتی نہیں بلکہ جذبات پر قابو نہ پانا بلڈ پریشر کے بڑھنے کی اصل وجہ ہے۔
انسان کے جسم میں خون کی چکنائی زیادہ ہونے کی وجہ چکنائی والی غذا نہیں بلکہ سستی ہے۔

چھاتی کی تمام بیماریوں کا سبب آکسیجن کی کمی نہیں بلکہ غم اور افسردگی ہے، جو انسان کو چھاتی کی مختلف بیماریوں میں مبتلا کرتی ہے۔

شوگر کی بیماری کا سبب جسم میں گلوکوز کی زیادتی نہیں بلکہ غرور اور اپنی بات پر سختی سے قائم رہنا اس بیماری کو دعوت دیتا ہے۔

جگر (لیور) کی بیماریوں کا سبب صرف بے وقت نیند اور ذہنی دباؤ نہیں بلکہ مایوسی اور دل ٹوٹنے کے اثرات بھی جگر کی بیماریوں کا حصہ ہیں۔

دل کی بیماریوں کی وجہ خون کی کمی نہیں بلکہ سکون اور اطمینان کا فقدان ہے جو دل کی بیماریوں کا اصل سبب ہے۔

مختصراً، ان بیماریوں کے اسباب درج ذیل فیصد میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں:

50٪ روحانی اسباب

25٪ نفسیاتی اسباب

15٪ سماجی اسباب

10٪ کیمیائی اسباب

لہذا، اگر آپ ایک صحت مند اور تندرست زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اپنے دل و دماغ کی حفاظت کریں اور حسد، نفرت، غصہ، غرور، سستی، بدکلامی اور دوسروں کو کمتر سمجھنے سے پرہیز کریں۔

Sardarni Beautician $ardarni's RoyalStudio ゚viralシ ゚viralシ

29/01/2025

پیدل چلو خواہ تمہیں کانٹوں پہ چلنا پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
قدیم کہاوت ھے کہ ،، صحتمند رھنا ھے تو پیر گرم اور سر ٹھنڈا رکھو ،،۔
میڈیکل سائینس اس بات کی تصدیق کرتی ھے کہ پیدل چلنے والے نہ صرف یہ کہ ذیابیطس ، بلڈ پریشر ، ھائی کولیسٹرول ، امراض قلب ، ھڈیوں کی کمزوری ، فالج اور بہت سے دیگر امراض سے بچے رھتے ہیں بلکہ صحتمند اور چاک و چوبند زندگی گزارتے ہیں ۔

موجودہ دور میں تیز رفتار زندگی نے انسان کو ،، مفلوج ،، کردیا ھے ۔ اب لوگوں کا پیدل چلنا بہت کم ہو گیا ھے ۔
پروفیشنل زندگی ایسی ہو گئی ہے کہ اکثر لوگ سارا دن بیٹھے رھتے ہیں ، کہیں آنا جانا ہو تو چھوٹے چھوٹے فاصلے بھی بائیک یا گاڑیوں میں طے کرتے ہیں ۔
اس طرز زندگی کے بھیانک نتائج کسی بیماری ، خاص طور پر بڑھاپے میں نکلتے ہیں ۔

آجکل ایسے بوڑھوں کی تعداد میں مسلسل بڑھ رھی ہے جو 60 سال کی عمر کے بعد اپنی باقی زندگی وھیل چئیر پہ گزارتے ہیں ، اور آخر دم تک دوسروں کے سہارے رھتے ھیں ۔
ایسا کیوں ھے ؟
اسکی وجہ یہ ھے کہ انسانی جسم میں 50٪ مسلز اور ھڈیاں ٹانگوں میں ھوتی ھیں ۔اسی طرح 50٪ اعصاب ، اور 50٪ خون کی نالیاں بھی ٹانگوں میں ہوتی ہیں ۔
ھماری ٹانگیں گردش خون کا سب سے بڑا نیٹ ورک ھیں ۔ ھماری پنڈلیاں ھمارا دوسرا دل ھیں ۔دل صاف خون کو جسم میں پمپ کرتا ھے تو ھماری پنڈلیاں نچلے دھڑ سے ناصاف خون کو واپس دل کی طرف پمپ کرتی ہیں ۔
اس طرح جب ھم چلتے ہیں تو ھمارے جسم میں گردش خون مکمل اور تیز تر رھتی ھے ، اور جسم کے ایک ایک خلیے کو بذریعہ خون غذائیت اور آکسیجن ملتی رھتی ھے ۔ اور ھمارا جسم تندرست و توانا رھتا ھے ۔
جب ھم اپنی ٹانگوں کو حرکت نہیں دیتے تو ھم اپنے جسم کی گردش خون کو سست کر دیتے ہیں ، جب ٹانگوں کے مسلز اور اعصاب کی حرکت کم رھتی ہے تو یہ بے حس اور کمزور ہونے لگتے ہیں ، ٹانگوں کے مسلز کمزور ہوکر سکڑنے لگتے ہیں ، دل پر خون پمپ کرنے کا بوجھ اور مشقت بڑھ جاتی ہے۔

اگر ھم کسی وجہ سے صرف دو ھفتے تک اپنی ٹانگوں پہ جسم کا بوجھ نہ ڈالیں ، انہیں حرکت نہ دیں تو ھماری ٹانگوں کے مسلز اور اعصاب کی کار کردگی 5٪ کم ہو جاتی ھے ۔

ھمارے جسم میں غذا کو توانائی میں تبدیل کرنے کا 70٪ عمل ھماری ٹانگیں اور پیر ہی سر انجام دیتے ہیں ۔ جب ھم اپنے پیروں اور ٹانگوں کو متحرک نہیں رکھتے تو اضافی کیلوریز ھمارے جسم میں جمع ہوتی رھتی ھیں جو کہ موٹاپے کا باعث بنتی ہیں ، کچھ لوگوں کی توند نکل آتی ھے اور موٹاپا انکیلیے وبال جان بن جاتا ھے ۔

یاد رھے کہ 50 سے ساٹھ سال کی عمر کے بعد موٹاپا کم کرنا نا ممکن ھے ، خواہ آپ فاقے کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس عمر میں پہنچ کر آپکی ٹانگوں کے کمزور مسلز آپکے بھاری بھرکم جسم کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رھتے ۔ نتیجہ آپ پہلے لاٹھی کا سہارا لیں گے اور پھر وھیل چئیر پہ آجائیں گے۔

بڑھاپے میں معذوری اور محتاجی سے بچنا ھے تو پیدل چلیں ، خواہ آپکو کانٹوں پہ چلنا پڑے۔

ٹانگوں کے مسلز کے سکڑ کر دبلا اور چھوٹے ہو جانے کے عارضے کو طبی اصطلاح میں سارکو پینیا (Sarcopenia) کہتے ہیں ۔ چالیس پچاس سال کی عمر کے بعد اسکا کوئی علاج نہیں ، آپ لاکھ خوراکیں کھائیں ، جتن کریں یہ کمی پوری ہونے والی نہیں سوائے اسکے جو مسلز بچے ہیں انکی کار کردگی بحال رکھی جائے۔
دوسرا بھیانک نتیجہ آپکی ہڈیوں کے کمزور ہوجانے کی شکل میں نکلتا ھے ، آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بوڑھے افراد جب گرتے ہیں تو انکی ران کی ہڈی یا کولہے کا جوڑ ٹوٹ جاتا ھے ، جو پھر نہیں جڑتا اور انکی باقی ساری زندگی بستر یا وھیل چئیر پہ گزرتی ہے۔
لکھنے کو اس موضوع پہ پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے ، اس تھوڑے لکھے کو ہی بہت جانیے۔
اگر آپ صحتمند رھنا چاھتے ہیں ، چالیس ، پچاس سال کی عمر کے بعد ، مفلوج کردینے والے خطرات سے بچنا چاھتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ چلیے ، اپنے جسم کا بوجھ ٹانگوں پہ ڈالیے ، اپنے پیروں کو متحرک رکھیے ۔
پیدل چلنے کا سٹینڈرڈ یہ ہے کہ اپ دس ہزار قدم روز چلیں ۔ تاکہ آپکی ٹانگوں اور پیروں کے مسلز مضبوط ، لچکدار اور طاقتور بنے رھیں ۔
چالیس سال کی عمر کے بعد آپ بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں ، اس وقت یہ مت دیکھیں کہ آپکے بال کتنے سفید ہو گئے ہیں ، چہرے اور جلد پہ کتنی جھریاں نمو دار ہو گئی ھیں بلکہ یہ دیکھیں کہ آپکی ٹانگیں اور انکے مسلز اور اعصاب کتنے کمزور ہو گئے ہیں ۔ یوں سمجھیے کہ بڑھاپا ،، ٹانگوں ،، سے شروع ہوتا ھے ۔ کمزوری ٹانگوں سے بالائی جسم میں آتی ھے ۔
زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کی عادت ڈالیں ۔ چھوٹے چھوٹے فاصلے پیدل طے کریں بائیک یا گاڑی لمبے سفر کیلیے استعمال کریں ، پیدل نہیں چلنا پسند تو سائیکل لے لیجئیے۔
اسی طرح اپنے گھر کے بزرگوں کو بستر پہ مت لیٹا رھنے دیں ، انہیں چلنے کی تحریک دیں ، سہارا دیکر چلائیں ، بیٹھ سکتے ہیں تو انہیں کھڑا کریں ، کھڑے نہیں ہو سکتے تو اٹھا کر بٹھائیں ، ٹانگوں پہ بوجھ ڈالنے کی تلقین کریں ، ٹانگوں کی ورزش کروائیں ۔
چلنے پھرنے کے قابل ھیں ، تو انہیں متحرک رکھیں ، ادھر ادھر چھوٹے چھوٹے فاصلے پیدل طے کرنے کی ترغیب دیں ۔

27/01/2025

■Celiac disease is a (multi-organ) autoimmune disease that occurs in genetically predisposed people where the ingestion of gluten leads to damage in the small intestine.
It is estimated to affect 1 in 100 people worldwide, but only about 30% are properly diagnosed.

گلوٹین گندم اور جو (اوربشے) میں پایا جاتاھے
جس کے کھانے سے چھوٹی انت میں زخم پیدا ھوجاتے ہین اور پھر جسم کے مختلف
اعضاء متاثر ھوجاتے ہیں
[Undiagnosed or Untreated Celiac Disease Can Lead to:}
اگر علاج میں تاخیر کی جائے۔۔تو پھر جسم کے مختلف اعضاء متاثر ھونا شروع ھوجاتے ہیں مثلا۔

■Early onset osteoporosis or osteopenia and bone fractures
G■all bladder malfunction
■Heart disease (people with celiac disease have a 2x greater risk of developing coronary artery disease,)
■Infertility and miscarriage( )
■Iron deficiency anemia
Lactose intolerance
■Liver failure
■Malnutrition
■Neurological symptoms, including attention-deficit/hyperactivity disorder (ADHD), headaches, lack of muscle coordination, seizures, ataxia, dementia, neuropathy, myopathy, and multifocal leucoencephalopathy
■Pancreatic insufficiency
■Small intestine cancer and non-Hodgkin lymphoma
V■itamin and mineral deficiencies
●Diagnosis:
Anti-tTg IgA and (total total IgA sometimes), DGP IgG
Endoscopy with duedenal biopsy
■Treatment:
Life long Gluten avoidance/ gluten free diet۔
تمام زندگی ان تمام اشیاء سے پرھیز کرنا۔جن میں گلوٹین ھو۔مثلا گندم اور جو۔
Important:
خون میں انٹی باڈیز سے گلوٹین کے پرھیز سے نارمل ھوجاتے ہیں۔لیکن پھر بھی انتوں میں زخم موجود رھتی ھے۔اس کا یہ مطلبھرگز نہیں۔کہ خوں میں انٹی باڈیز نیگیٹیو ھیں۔۔تو مزید پرھیز کی ضرورت نہیں ھے۔
(There is poor co-relation between negative serology and mucosal healing,and repeat biopsy is usually needed to confirm mucosal healing but still to avoid gluten containg diet).
◇Dr Dilaram khan
◇Consultant ◇Gastroenterologist
♧(Ref: WGO guidelines and Celiac foundations recommendations)

23/01/2025

لونگ فوائد احتیاط..
فقط ایک جڑی بوٹی ” لونگ”جسے اللہ نے شفا سے بھر دیا ، 23 بڑی بیماریوں کا علاج ،
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی چیز بھی بےکار پیدا نہیں کی ہر چیز میں کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور رکھا ہے اور اللہ رب العزت یہ بھی فرماتے کہ میں نے ہر بیماری کا علاج بھی پیدافرما دیا ہے ، اب آتے ہیں‌ دیسی جنہیں یونانی طریقہ علاج کہا جاتا ہے اس میں جڑی بوٹیوں کےخوص کو کافی اہمیت دی جاتی ہے ، ان میں سے ایک "لونگ ” بھی ہے
ماہرین طب کےمطابق لونگ ایک جنگلی درخت کی خشک شدہ کلیاں ہیں ،لونگ ایک جنگلی درخت کی خشک شدہ کلیاں ہیں جن کے اوپر کی طرف چار دندانے سے ہوتے ہیں اور ان کے درمیان ایک گول سا ابھار ہوتا ہے۔ لونگ مصالحہ جات کا اہم جزو ہے۔ اس کا رنگ سیاہی مائل سرخ ہوتا ہے۔ اس کا مزاج گرم و خشک درجہ سوم ہوتا ہے جبکہ ذائقہ تیز اور بو بھی تیز ہوتی ہے۔ اس کی مقدار خوراک آدھ ماشہ سے ایک ماشہ تک ہے۔ جبکہ اس کے روغن کی مقدار خوراک ایک قطرہ سے تین قطرے تک ہے۔ اس کے حسب ذیل فوائد ہیں۔
لونگ کے فوائد
1- لونگ مفرح اور دل و دماغ کو طاقت دیتی ہے۔
2- ریاح غلیظ کو تحلیل کرتی ہے۔3- اعضائے رئیسہ کو قوت اور فرحت بخشتی ہے۔
4- فالج‘ لقوہ‘ سکتہ‘ درد سر اور دماغ کے تمام بارد اور رطب امراض کو مفید ہے۔
5- دماغ میں ذہن اور فکر کی محافظ اور مقوی ہے۔
6- سوداوی مزاجوں کے موافق ہے۔
7- منہ کی بدبو کو دور کرتی ہے۔8- کھانوں کو خوش ذائقہ اور لذیذ بناتی ہے۔
9- دانتوں کے درد کو دور کرتی ہے اور مسوڑھوں کی جملہ تکالیف میں بے حد مفید ہے۔
ماہرین طب مزید اس کے فوائد بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
10- اس کا سرمہ مقوی بصر ہے اور جالے کو دور کرتا ہے۔ آنکھ کو طاقت دیتا ہے۔
11- مقوی معدہ ہے اور بھوک بڑھاتی ہے۔
12- کھانسی‘ نزلہ‘ زکام‘ دمہ‘ وسواس‘ خوف‘ وہم اور خفقان میں اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔
13- جن لوگوں کو کھانا کھاتے ہی الٹی آ جاتی ہو انہیں پسی ہوئی لونگ دن میں چار مرتبہ ہمراہ پانی چار چار رتی کھلانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
14- گردے اور جگر کو طاقت دیتی ہے۔
15- ہچکی‘ قے اور متلی کو روکتی ہے۔
16- ریاح اور اورام کو تحلیل کرتی ہے۔
17- پیشاب کی رکاوٹ کو دور کرتی ہے۔
18- دانت درد کی صورت میں اگر دانت پر روغن لونگ روئی کے ساتھ لگا کر ملا جائے تو فوری آرام ہو جاتا ہے۔ اگر دانت میں سوراخ ہو تو اس میں ایک لونگ رکھنا بہت ہی فائدہ دیتا ہے۔
یہ جڑی بوٹی مزید کیا خصوصیات رکھتی ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیں
19- لونگ چبا کر لعاب کا طلاء کرنا ملذذ ہے۔
20- لونگ سے کشید کیا ہوا تیل ڈکاروں ہچکی‘ نفخ شکم اور قولنج میں مفید ہے اس کی خوراک دو قطرے روغن ایک کپ دودھ میں ڈال کر پینا مفید ہے۔21- روغن لونگ مجلوقین کو بطور طلاء استعمال کرایا جاتا ہے جو کہ بے حد مفید ہے۔
22- اس کے روغن کو کنپٹیوں پر ملنا سردی کے سر درد کو دور کرتا ہے۔ اگر درد شدید ہو تو پھر اس کا اثر نہیں ہوتا۔
23- لونگ‘ سونٹھ‘ جائفل اور حرمل کو روغن کنجد (تلوں کا تیل) میں پکا کر ملنا جوڑوں کے دردوں کیلئے بے حد مفید ہے
یہ تو ہیں‌ لونگ کے بڑے بڑے فوائد اورخواص حکما کے مطابق یہ جڑی بوٹی اور بھی بیماریوں میں بڑی کارآمد ہے
احتیاط..
لونگ کی تاثیر نہایت گرم ہوتی ہے زیادہ مقدار میں کھانے سے معدے میں تیزابیت ہو سکتی ہے... اس کے روزانہ استعمال سے وزن بڑھ سکتا ہے... گلے میں سوزش ہو سکتی ہے

22/01/2025

1۔ *معدہ(Stomach)*
اس وقت ڈرا ہوتا ہے جب آپ صبح کا ناشتہ نہیں کرتے ۔

2۔ *گردے(Kidneys)* اس وقت خوفزدہ ہوتے ہیں جب آپ 24 گھنٹے میں 10 گلاس پانی نہیں پیتے۔

3۔ *پتہ( Gall bladder )* اس وقت پریشان ہوتا ہے جب آپ رات 11بجے تک سوتے نہیں اور سورج طلوع سے پہلے جاگتے نہیں ہیں

4۔ *چھوٹی آنت(small intestines )* اس وقت تکلیف محسوس کرتی ہے جب آپ ٹھنڈے مشروبات پیتے ہیں اور باسی کھانا کھاتے ہیں ۔

5۔ *بڑی آنت(Large intestine)* اس وقت خوفزدہ ہوتی ہے جب زیادہ تلی ہوئی یا مصالحہ دار چیز کھاتے ہیں


6۔ *پھیپھڑے ( Lungs )* اس وقت بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں جب آپ دھواں دھول سگریٹ بیڑی سے آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں ۔

7۔ *جگر(Liver)* اس وقت خوفزدہ ہوتا ہے جب آپ بھاری تلی ہوئی خوراک اور فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں ۔

8۔ *دل(Heart )* اس وقت بہت تکلیف محسوس کرتا ہے جب آپ زیادہ نمکین اور کولیسٹرول والی غذا کھاتے ہیں

9۔ *لبلبہ(Pancreas )* لبلبہ اس وقت بہت ڈرتا ہے جب آپ کثرت سے مٹھائی کھاتے ہیں

10۔ *آنکھیں(Eyes )* اس وقت تنگ آ جاتی ہیں جب اندھیرے میں موبائل اور کمپیوٹر پر ان کی تیز روشنی میں کام کرتے ہیں ۔

11۔ *دماغ(Brain )* اس وقت بہت دکھی ہوتا ہے جب آپ منفی negative سوچتے ہیں ۔

اپنے جسم کے اعضاء کا خیال رکھئے اور ان کو خوفزدہ مت کیجیئے۔

21/01/2025

* دہی سے علاج اور احتیاط
*👸 خوبصورتی بڑھانے کیلئے دہی کا استعمال بہت ہی مفید ہے۔*
دہی ایک *پرو بائیوٹک* (Probiotic) ہے جو خطرناک بیکڑیا کو ختم کرتا ہے اور دوست بیکڑیا کو پیدا کرتا ہے۔

*دہی ہاضمہ کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کو طاقت دیتا ہے۔*

*دہی کم و بیش 10 ہزار بیماریوں کا علاج ہے۔*

دہی میں *کیلشیم، فولاد، زنک، پوٹاشیم، فاسفورس اور میگنشیم* جیسے اجزاء پائے جاتے ہے، یہ عناصر انسانی صحت لیے بہت ہی مفید ہے۔

*دہی کا نعم البدل کوئی چیز نہیں۔*

*معدہ کی خراش اور پیچیش میں اسکا استعمال بہت ہی مفید ہے۔*

*روس کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے وقت سے پہلے بڑھاپے کی آمد کو روکنے کیلئے اپنی روز مرہ خوراک میں دہی کو ضرور شامل کرے۔*

*دہی میں کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے۔*

*دہی کا مستقل استعمال اوسٹیو پراسس کے عمل سے محفوظ رکھتا ہے۔*

*دہی کھانے سے موٹاپا میں کمی آتی ہے۔*

*ہائی بلڈ پریشر کنڑول میں رہتا ہے۔*

🔹دل کے امراض میں روز بروز ہوتا جا رہا ہے دہی جسم میں کولیسڑول لیول کو کنڑول کرتا ہے۔*

🔹ایسے لوگ جنکی دل کی شریانیں بلاک ہونا شروع ہو جائے وہ ایک گلاس دہی کی لسی (بنا شکر) میں السی کے تیل کے 10 قطرے ڈال کر روزانہ استعمال کرے، ان شاء اللہ‎ اسکے استعمال سے دل کی شریانیں بلاک نہیں ہو گی۔*

*کسی بھی بیماری میں اینٹی بائیوٹک کے استعمال سے، کمزوری ہو، ہاضمہ خراب ہو، منہ خشک رہتا ہو، رنگت زرد پڑ جائے تو دہی کا استعمال چند دنوں میں آپکی کایا پلٹ دے گا۔*

*دہی قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔* قوت مدافعت اگر زیادہ ہو گی تو بیماریاں حملہ آور نہیں ہو گی۔

*دہی معدے کی گرمی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ منہ کے چھالوں کیلئے بھی بے حد مفید ہے۔*

*جلدی امراض میں جسم کی خارش، دانے نکل آتے ہے ان میں بہت ہی مفید ہے۔*

*ایسی حاملہ خواتین جنکا ہاضمہ خراب رہتا ہے دہی کے مستقل استعمال سے ان کے معدے کے تمام مسائل ٹھیک ہو جائیگے۔*

🔸ایک کپ دہی میں ایک چمچ لیموں کا رس شامل کرکے اچھی طرح مکس کر لیں اور اس ماسک کو گردن، چہرہ، ہاتھ اور پاوں پہ لگائیں۔ 20 منٹ لگا رہنے دے پھر سادہ پانی سے دھو لیں اس سے آپکا چہرہ نرم و ملائم صاف اور چمکدار ہو جائیگا۔ چہرے کے کیل مہاسے اور چھائیاں بھی ختم ہو جائیگی۔*
ھوالشافی
🔸انڈے کی سفیدی - 1 عدد*
*دہی - 4 چمچ*
*جو کا آٹا - 2 چمچ*
تینوں 🍵 چیزوں کو ملا کر اچھی طرح مکس کر لیں پیسٹ بن جائے تو چہرہ پر لگائیں۔ 25 منٹ لگا رہنے دے پھر نیم گرم پانی سے دھو لیں اس سے چہرہ صاف ہو جائیگا۔.

*بالوں کیلئے بھی دہی بہت مفید ہے۔*
*بالوں کو چمکدار،ریشمی اور مضبوط کرتا ہے۔*
*خشکی،سکری اور بالوں کو گِرنے سے روکتا ہے۔*

*دہی کو 3 دن کیلئے کسی برتن میں ڈال کر کھلی جگہ پہ رکھ دے چوتھے دن استعمال کرنا ہے, بالوں کی جڑوں میں اچھی طرح لگائیں۔ 30 منٹ لگا رہنے دے پھر سادہ تازہ پانی سے دھو لیں۔ شمیو اور صابن استعمال نہیں کرنا ہے۔*

🎺 دہی کی احتیاط!* 🎺

📢 *دہی کو کبھی بھی صبح نہار منہ استعمال نہ کرے,

مشہور قول ہے *جو شخص دوپہر کے وقت دہی کھائے اسے مرنا نہیں چاہیئے اور جو رات کو دہی کھائے اسے صبح اُٹھنا نہیں چاہیئے۔*

🍵 دہی کھانے کا بہترین وقت دوپہر کے کھانے کے بعد کا ہے۔*

📢 رات کے وقت بھی دہی نہیں کھانا چاہیئے کیونکہ اس سے معدہ میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے اور گیس پیدا ہوتی ہے۔*

📢 دہی ہمیشہ تازہ اور میٹھا استعمال کریں.

📢 *خالی پیٹ جب بھوک لگی ہو تو دہی کا استعمال فائدے کی بجائے نقصان دیتا ہے۔*

تازہ دہی دماغ کو طاقت دیتی ہے۔ نظر تیز کرتی ہے۔*

ایسے لوگ جہنیں دودھ ہضم نہیں ہوتا، پیٹ میں گیسز بن جاتی ہے وہ دہی کا استعمال ضرور کرے۔*
♦️براہ کرم نوٹ کریں!!!
آپ کی دولت آپ کی صحت سے شروع ہوتی ہے اور آپ کی صحت آپ سے شروع ہوتی ہے!

20/01/2025

ککروندا جسے آزادکشمیر اور خیبر پختونخوامیں ہند کا ساگ کہتے ہیں انگریزی میں Dandelion کہا جاتا ہے اردو میں گل قاصدی کہتے ہیں،
ایک معجزاتی پودا ہے،جو پاکستان بھرمیں خودرو اگتا ہے اور جس کو ہم بیکار جڑئی بوٹی سمجھ کر کاٹ پھینکتے ہیں۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اسے فائیو سٹار ہوٹلوں میں سلاد کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ خوش ذائقہ پودا اپنے اندر کینسر کے مرض کے خلاف معجزاتی فوائد رکھتا ہے۔یہ قوت مدافعت بڑھاتا ہے، جگر کو مضبوط کرتا ہے۔

ککروندا(ہند) میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا: طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیوں سے بھرپور ککروندا وٹامنز، منرلز اور کھانے والی فائبر کا خزانہ ہے۔اس میں وٹامن کے، وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن ای اور وٹامن بی کے علاوہ فولیٹ پائی جاتی ہے۔ اس پودے کی جڑیں حل پزیر ڈائٹری فائبر سے بھر پور ہوتی ہیں۔

ککروندا کے طبی فوائد:

ککروندا کی جڑ میں کینسر کا علاج: اس پودے کی جڑیں کینسر کے خلیوں کو ختم کر دیتی ہیں اور دوسرے خلیوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ کینیڈا کی ونڈسر یونیورسٹی کے کیمسٹری اور بائیو کیمسٹری کے ڈیپارٹمنٹ کے محققین کے تجرباتی مطالعہ سے معلوم ہوا کہ اس پودے کی جڑیں ٹیومر کے خلیوں کو نکال دیتی ہیں اور جن خلیوں کو بچانا ہے ان کی حفاظت بھی کرتی ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق کیمو تھراپی سے زیادہ اچھی دوا ککروندا( ہند) (Dandelion)کی جڑیں ہیں۔💗💗🎀

31/12/2024
24/12/2024

حکیم پیر سید زبیر شاہ جلالی صاحب۔

Want your school to be the top-listed School/college in Bajauri Koruna?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Bajauri Koruna