11/01/2023
درود شریف کے فضاٸل
Struggling For Students Rights
11/01/2023
درود شریف کے فضاٸل
Afsos
18/05/2021
waraz
What is the distance travelled by a car which travelled at a speed of 80Km/hr for 3hours and 30 minutes?
A) 275Km B) 280Km
C) 285Km D)290Km
کالج کے ہاکی ٹیم بنارہے ہیں جن طلباء کی خواہش ہیں وہ انباکس میں تشریف لے آئیں۔
13/11/2020
03/11/2020
معاشی ترقی کے لیے وزیراعظم عمران خان کے اقدامات اور بہترین فیصلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بڑی اور اچھی خبر یہ ہے کہ صنعتوں کیلیے بجی 50 فیصد سستی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس سے صنعتوں کا پہیہ چلے گا نہیں دوڑے گا اور لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا۔
02/11/2020
تعلیم ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔
آج کل ہمارے وزراء کوئی اسپتال کا دورہ کرتے ہیں کوئی دوسرے اداروں کا، جس طرح یہ سب وزراء ایم این ایز اور ایم پی ایز روزانہ کبھی کسی اسپتال کا چکر لگاتے ہیں کبھی سول کالونی کا ۔۔۔۔ کاش یہ لوگ کبھی ایک دن اسکولز اور کالجز کا بھی وزٹ کرتے کہ وہاں ہمارے مستقبل کے شاہینوں کا کیا حال ہیں۔ بہت افسوس کیساتھ یہ لکھ رہاہوں کہ 5 پالیمینٹرین اور ایک سینیٹر باجوڑ سے تعلق رکھتے ہیں مگر ابھی تک ایجوکیشن کے ڈیپارٹمنٹ میں کچھ قدم نہیں اٹھایا۔ 2020 میں باجوڑ میں ہائی اسکولز سے 3974 طلباء فارغ ہوگئے ان میں سے صرف 1500 طلباء کو باجوڑ کالجز میں داخلہ ملا، ابھی یہ باقی طلباء کہاں جائینگے۔
جہاں پر پہلے سے کلاشنکوف کلچر ہو وہاں پر تعلیم کا نہ ہونا بڑا خطرہ ہے.
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج خارر باجوڑ میں تقریبا پانچ ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں اور ان کے لیے اسٹاف صرف 35 ٹیچر ہیں۔
اسٹاف کی کمی کے علاوہ فرنیچر
اور بلڈنگ کا بھی بہت فقدان ہے۔
تو باجوڑ کے منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد کالج کا وزٹ کریں اور ہمارے مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے بھرپور کوشش کریں۔ اور اگر ان پر ایکشن نہ لیا تو ہم اپنے جائز مطالبات کے لئے بھر پور احتجاج کریں گے۔
سید احتشام الحق & ضیاءالدین خان ماموند
28/10/2020
ذیشان خان کو کیڈٹ کالج مہمد گٹ کا کیڈٹ بننے پر مُبارکباد پیش کرتاہوں، یاد رہے کہ یہ شہید کا بیٹا ہے
28/10/2020
کوئی ٹرینڈ نہیں، کوئی خبر نہیں، اب سیدھا بھرے بازار میں ایسے ظالموں کو مین چوک پر لٹکا کر پھانسی ہونی چاہئیے۔
پتہ نہیں ہم کونسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں اتنی چھوٹی معصوم بچیوں کے ساتھ اتنی ذیادتی ہو رہی ہے۔
سلام ہے ان والدین کو جو یہ غم سہہ کر بھی ذندہ ہے😢
ظالم یہ ظلم کرتے وقت زمین میں ذندہ دفن کیوں نہیں ہوا۔
یا اللہ اس معصوم بچی کے والدین کو صبر دیں اور ہمیں ایسے حکمران نصیب فرما جو ایسے ظالموں کو دنیا کے سامنے نشانہ عبرت بنائے۔