#منظوراحمدپشتین
Iktypist5 bajaur
بیا دہ لیونتوب لاره اختیار می کړه�
بیا دہ میخاني په لور
03/02/2023
#واشنگٹن میں بل گیٹس #برگر کا آرڈر دینے کے لیے قطار میں کھڑا ہے۔ یہ دنیا کا امیر ترین اور سب سے بڑا خیراتی #ادارہ چلانے والا انسان ہے، نہ اسکے ساتھ اسلحہ سے لیس گارڈز ، نہ بڑی بڑی گاڑیاں ، نہ ہٹو بچو والی آوازیں اور نہ #سیکورٹی کے ڈالے۔
یہ بندہ اس پوری برگر شاپ کو خرید سکتا ہے ، لیکن نہ اس نے قطار توڑی ، نہ اس کے لئے اگلوں کو ہٹایا گیا اور نہ ہی اس کا آرڈر پہلے لگایا گیا ہو گا۔
اصولوں پر کاربند رہنا ، دیانت داری ، ایمان داری اور محنت ، یہ ہی ان قوموں کی ترقی کا راز ہے۔
اور ہمارے بادشاہوں والے رویے ، فراڈ دھوکہ دہی فریب ٫ بددیانتی ٫ ملاوٹ ٫ گراں فروشی ٫ جھوٹ اور کام چوری وغیرہ جیسی چیزیں ہماری قوم کے زوال کا باعث ہیں۔
دہ انڈیا سہ ھغہ چل وشو لکہ پہ لڈو چی چکے ڈیری راوخیجے او بے توڑا تاوو شی
10/11/2022
دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص مکیش امبانی کا انٹرویو۔
اس انٹرویو میں اس نے دلچسپ باتیں کہی تھیں جن میں سے کچھ اہم باتیں ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔
1: دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی بھی خوشحال نہیں ہو سکتا۔
2: انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنا کام شروع کرتا ہے۔
3: کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔
4: اگر تعلیم کے ذریعے پیسہ کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔
5: اس وقت دنیا میں نو سو پچاس ارب پتی ہیں۔ ان میں کوئی پروفیسر یا ماہر تعلیم شامل نہیں ہے۔
6: دنیا میں ہمیشہ مڈل کلاس لوگوں نے ترقی کی ہے، یہ لوگ وقت کی قدر اور قیمت سمجھتے ہیں، یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کے بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔
7: کامیابی انہیں کالج یا یونیورسٹی کے بجائے فیکٹری یا مارکیٹ سے ملتی ہے۔
8: میں اپنی زندگی میں کبھی کالج یا یونیورسٹی نہیں گیا۔
9: اس وقت میری کمپنی میں 30,000 اعلیٰ تعلیم یافتہ مرد و خواتین کام کرتے ہیں، یہ پڑھے لکھے لوگ وزن، عقل اور دماغ کے لحاظ سے مجھ سے بہت بہتر ہیں، لیکن ان میں نوکری چھوڑنے کی ہمت نہیں ہوتی۔وہ اپنے آپ پر انحصار نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں خود پر اعتماد نہیں
10: اگر کوئی شخص میرے لیے کام کرسکتا ہے تو وہ اپنے لیے بھی کرسکتا ہے۔ اسے صرف تھوڑی سی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
11: دنیا میں ہر چیز کا متبادل ہے سوائے محنت کے۔
12: بے سہارا لوگوں کے لیے دنیا میں کوئی جائے پناہ نہیں، لیکن کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی ہے۔
نظم
😭😭😭
تعلیم یافتہ زوے او بے تعلمہ پلار
میڈل آرڈر کا بہترین حل لیکن افسوس اس سلیکشن پر 😥😥
03/10/2022
ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﺩﻭ ﺩﮨﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﻗﺖ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺳﺎﻭﺗﮫ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﭨﯿﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﮩﺮ ﮔﮭﻮﻣﻨﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﻮﭨﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ۔
ﻭﮨﺎﮞ ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ
ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﺍﻓﺴﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﺎﺋﮯ۔
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺁﮔﯿﺎ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍُﺳﮑﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﮦ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﮐﺎ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﺍﻓﺴﺮ ﺑﻮﻻ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺣﺎﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔
ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮨﯽ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﺟﻮ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﺎﺩﯼ ﺗﮭﺎ۔
ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﮔﺎﺭﮈ ﺗﮭﺎ، ﯾﮧ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﺸﺪﺩ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ، ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﺁﺝ ﺍﺳﮑﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﺭ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﻟﻮﻧﮕﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺟذﺑﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺻﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺻﻠﮧ ﺭﺣﻤﯽ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﮧ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔۔
ﻧﯿﻠﺴﻦ ﻣﯿﻨﮉﯾﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺳﭻ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ " ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔
21/09/2022
سکول کا پرنسپل ایک گوشت والی بڑی شاندار شاپ میں داخل ہوا اور وہاں کاؤنٹر پر بیٹھے لڑکے سے کہا بیٹا دو کلو گوشت دینا ۔
وہاں لڑکے نے کہا جی جناب آپ بیٹھیں اور ایک کپ چائے بھی پیش کردی اور اپنے ملازمین سے کہا کہ دو کلو اچھا گوشت بنائیں ۔
گوشت بیگ میں ڈالنے کے بعد ملازمین نے خود جاکر اس کی چھوٹی سی گاڑی میں رکھ دیا۔
پرنسپل نے جب پیسے دینے چاہے تو اس لڑکے نے منع کردیا تو پرنسپل نے پوچھا بیٹا تم نے اتنی میری خدمت کی اور گوشت کے پیسے بھی نہیں لیے ، کیا تم مجھے جانتے ہو ؟
تو اس لڑکے نے کہا آپ میرے استاد ہیں ۔ یاد ہے اپکو جب میں نے کلاس میں ایک غلطی کی تھی تو آپ نے کہا تھا کہ تب تک کلاس میں تم داخل نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے سرپرست کو ساتھ نہ لے کر آجاؤ تو میں سکول سے بھاگ گیا اور ایک چھوٹی سے قصائی کے ہاں کام شروع کردیا تھا ۔اب الحمدللہ میرے پاس اپنی چار بڑی بڑی گوشت کی دکانیں ہیں ،ایک بڑا فارم ہے اور ایک شاندار گھر بھی میں نے لے لیا ہے ۔
تب پرنسپل نے ایک سرد آہ بھری اور کہا جی بیٹا مجھے یاد آگیا کاش میں بھی تمہارے ساتھ اس دن بھاگ جاتا 😄
زرولی خانہ سہ نوی نوی نظامونہ راوتلی دی اللہ مو دی معاف کہ😀😀
Click here to claim your Sponsored Listing.