Dr. Khalil Ahmad

Dr. Khalil Ahmad Head Department of Archaeology and Additional Director Culture and Heritage Research Center, IUB

📢 Admissions Open – Fall 2026Department of ArchaeologyThe Islamia University of Bahawalpur💰 Fee: Only Rs. 25,000 per Sem...
28/07/2026

📢 Admissions Open – Fall 2026

Department of Archaeology

The Islamia University of Bahawalpur

💰 Fee: Only Rs. 25,000 per Semester
📌 Eligibility: FA/F.Sc/BA/B.Sc/ADP (or Equivalent) with at least 40% Marks

🎓 Why Choose the Department of Archaeology at IUB?

✅ Strong academic and professional MoUs with the Directorate of Archaeology & Museums Punjab, ASAS (French Archaeological Mission), CDA, BWP, MASHA Project (University of Cambridge, UK), and other national and international archaeological institutions.

✅ Paid field training and internship opportunities through ongoing research and archaeological projects.

✅ Hands-on participation in HEC-funded Cultural Heritage Conservation Projects.

📢 Upcoming Research Projects

🔹 French Mission / ASAS-Supported Digital Heritage & Augmented Reality (AR) Documentation Initiative
Preserving the rich cultural legacy of Cholistan through Digital Heritage and immersive AR technologies, with research opportunities and financial support for student researchers.

🔹 Archaeological Excavation and Documentation of Cholistan Forts

🔹 MASHA Project – University of Cambridge, UK

🎁 Scholarships & Student Opportunities

✅ Merit-based Scholarships (Top Two Position Holders in Each Semester)

✅ PM/CM Laptop Scheme (on Merit)

✅ PM/CM Need-Based Scholarships

✅ Internship Opportunities with National & International Archaeological Missions

✅ Additional University Facilities & Scholarships (Motorbike Scheme, University Scholarships, etc.)

🌍 Join Us in Preserving and Exploring the Unique Cultural Heritage of South Punjab & Cholistan!

📍 Apply Online: https://eportal.iub.edu.pk/

🌐 More Information: https://www.iub.edu.pk/

📱 Contact: 0300-7359615

---

🌟 ایڈمیشن اوپن – فال 2026

ڈیپارٹمنٹ آف آرکیالوجی

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

💰 فیس: صرف 25,000 روپے فی سمسٹر

📌 اہلیت: FA / F.Sc / BA / B.Sc / ADP (یا مساوی) کم از کم 40 فیصد نمبروں کے ساتھ

🎓 آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کیوں منتخب کریں؟

✅ ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیمز پنجاب، ASAS (فرانسیسی آرکیالوجیکل مشن)، CDA، BWP، MASHA Project (یونیورسٹی آف کیمبرج، برطانیہ) اور دیگر قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مضبوط تعلیمی و تحقیقی روابط (MoUs)

✅ جاری تحقیقی منصوبوں کے تحت پیڈ فیلڈ ٹریننگ اور انٹرنشپ کے مواقع

✅ HEC کے کلچرل ہیریٹیج کنزرویشن پراجیکٹس میں عملی طور پر کام کرنے کا موقع

📢 آنے والے تحقیقی منصوبے

🔹 French Mission / ASAS Supported Digital Heritage & Augmented Reality (AR) Documentation Initiative

جس کے تحت طلبہ کو چولستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل ہیریٹیج اور Augmented Reality (AR) جیسی جدید ٹیکنالوجیز پر تحقیق اور مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

🔹 Archaeological Excavation and Documentation of Cholistan Forts

🔹 MASHA Project – University of Cambridge, UK

🎁 اسکالرشپس اور سہولیات

✅ ہر سمسٹر میں پہلی دو پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے میرٹ اسکالرشپس

✅ وزیراعظم / وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم (میرٹ کی بنیاد پر)

✅ وزیراعظم / وزیراعلیٰ نیڈ بیسڈ اسکالرشپس

✅ قومی و بین الاقوامی آرکیالوجیکل مشنز کے ساتھ انٹرنشپ کے مواقع

✅ دیگر سہولیات، مثلاً موٹر بائیک اسکیم، یونیورسٹی اسکالرشپس وغیرہ

🌍 جنوبی پنجاب اور چولستان کے منفرد ثقافتی ورثے کی دریافت، تحقیق اور تحفظ کا حصہ بنیں!

📍 آن لائن درخواست دیں: https://eportal.iub.edu.pk/

🌐 مزید معلومات: https://www.iub.edu.pk/

📱 رابطہ: 0300-7359615

شعبۂ آثارِ قدیمہ کے فارغ التحصیل طلبہ کے اعزاز میں پُروقار و پُرتکلف تقریب کا انعقادڈیپارٹمنٹ آف آرکیالوجی، کلچر اینڈ ہی...
15/06/2026

شعبۂ آثارِ قدیمہ کے فارغ التحصیل طلبہ کے اعزاز میں پُروقار و پُرتکلف تقریب کا انعقاد

ڈیپارٹمنٹ آف آرکیالوجی، کلچر اینڈ ہیریٹیج ریسرچ سینٹر، دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور میں سمسٹر مکمل کرنے اور فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں ایک پُروقار اور پُرتکلف تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اساتذہ، طلبہ اور شعبے کے دیگر اراکین نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کا مقصد طلبہ کی علمی کامیابیوں کو سراہنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرنا تھا۔

اس موقع پر چیئرمین شعبہ ڈاکٹر خلیل احمد نے طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آثارِ قدیمہ کا شعبہ صرف ایک تعلیمی میدان نہیں بلکہ تہذیبی ورثے کی حفاظت اور تحقیق کی ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے علم اور صلاحیتوں کو قومی ورثے کے تحفظ، تحقیق اور ترویج کے لیے بروئے کار لائیں۔

تقریب کے دوران طلبہ کی تعلیمی کاوشوں اور شعبے کے لیے ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ اساتذہ نے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں شعبۂ آثارِ قدیمہ اور پاکستان کے ثقافتی ورثے کے سفیر کے طور پر نمایاں کردار ادا کریں گے۔

الحمدللہ! شعبۂ آثارِ قدیمہ، ثقافت و ورثہ تحقیقی مرکز کی تعلیمی، تحقیقی اور فیلڈ سرگرمیوں کو قومی و مقامی اخبارات میں نمایاں کوریج حاصل ہو رہی ہے، جو شعبے کی علمی خدمات اور آثارِ قدیمہ کے فروغ کے لیے کی جانے والی کاوشوں کا اعتراف ہے۔

ہم تمام میڈیا نمائندگان، مدیران اور صحافتی اداروں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے شعبے کی سرگرمیوں اور قومی ورثے کے تحفظ کے پیغام کو عوام تک پہنچانے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔

"اپنے ماضی کی حفاظت ہی ایک مضبوط اور باوقار مستقبل کی ضمانت ہے۔"

منجانب:
ڈیپارٹمنٹ آف آرکیالوجی، کلچر اینڈ ہیریٹیج ریسرچ سینٹر
دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور
A Prestigious and Grand Ceremony Held in Honor of the Graduating Students of the Department of Archaeology

A dignified and grand ceremony was organized by the Department of Archaeology, Culture and Heritage Research Center, The Islamia University of Bahawalpur, to honor students who successfully completed their semester and graduated from the department. The event was attended by faculty members, students, and other members of the department. The purpose of the ceremony was to recognize the academic achievements of the students, encourage them in their future endeavors, and extend best wishes for their bright future.

On this occasion, the Chairman of the Department, Dr. Khalil Ahmed, congratulated the graduating students and emphasized that archaeology is not merely an academic discipline but also a significant responsibility toward the preservation, research, and promotion of our cultural heritage. He encouraged the students to utilize their knowledge and skills for the protection and documentation of Pakistan’s rich historical and archaeological legacy.

During the ceremony, the academic efforts and contributions of the students were highly appreciated. Faculty members expressed their best wishes for the graduates and hoped that they would play a vital role in promoting archaeology, heritage studies, and cultural preservation in the future.

Alhamdulillah, the educational, research, and field activities of the Department of Archaeology, Culture and Heritage Research Center continue to receive prominent coverage in national and local newspapers. This recognition reflects the department’s commitment to academic excellence and its efforts to promote awareness about archaeology and cultural heritage.

We extend our sincere gratitude to all media representatives, editors, and journalists who have positively contributed to highlighting the department’s activities and spreading awareness about the importance of preserving our national heritage.

“Preserving our past is the foundation of a strong and dignified future.”

Issued by:
Department of Archaeology, Culture and Heritage Research Center
The Islamia University of Bahawalpur

پھوٹی کوڑی سے روپیہ تک — برصغیر کے قدیم زرِ مبادلہ کا سفربرصغیر کی معاشی تاریخ میں مختلف ادوار کے دوران زرِ مبادلہ (Curr...
01/06/2026

پھوٹی کوڑی سے روپیہ تک — برصغیر کے قدیم زرِ مبادلہ کا سفر
برصغیر کی معاشی تاریخ میں مختلف ادوار کے دوران زرِ مبادلہ (Currency) کے کئی دلچسپ اور مرحلہ وار نظام رائج رہے۔ انہی میں ایک قدیم اور نہایت نچلے درجے کی اکائی "پھوٹی کوڑی" بھی شمار کی جاتی ہے، جسے عام طور پر مغل دور اور اس سے قبل کے مقامی معاشی نظام سے جوڑا جاتا ہے۔
پھوٹی کوڑی کیا تھی؟
"پھوٹی کوڑی" دراصل ایک چھوٹا سا سمندری گھونگا (shell) ہوتا تھا، جسے بطور سکہ یا تبادلے کی بنیادی اکائی استعمال کیا جاتا تھا۔ بعض گھونگوں میں قدرتی طور پر دراڑ یا ٹوٹ پھوٹ پائی جاتی تھی، اسی نسبت سے انہیں "پھوٹی" کہا جانے لگا۔ یہ انتہائی معمولی قیمت رکھنے والی شے تھی، مگر اس کی کمی اور محدود دستیابی نے اسے ایک علامتی مالی قدر عطا کی۔
قدیم روایات کے مطابق وادیٔ سندھ کی تہذیب اور بعد کے ابتدائی معاشی نظاموں میں کوڑیوں کا استعمال بطور زرِ تبادلہ کیا جاتا رہا، اگرچہ مختلف علاقوں اور ادوار میں اس کی تفصیلات میں فرق پایا جاتا ہے۔
کوڑی سے کرنسی کا ارتقاء
وقت کے ساتھ ساتھ یہ نظام مزید منظم ہوتا گیا اور چھوٹی بڑی اکائیوں کا ایک درجہ وار سلسلہ تشکیل پایا۔ روایتی حساب کے مطابق:
3 پھوٹی کوڑیاں = 1 کوڑی
10 کوڑیاں = 1 دمڑی
2 دمڑیاں = تقریباً 1.5 پائی
1.5 پائی = 1 دھیلا
2 دھیلے = 1 پیسہ
6.25 پیسے = 1 آنہ
16 آنے = 1 روپیہ
یہ پورا نظام اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح برصغیر میں مالی لین دین کو انتہائی باریک اکائیوں میں تقسیم کیا گیا تھا، تاکہ چھوٹے سے چھوٹا تبادلہ بھی ممکن ہو سکے۔
ثقافتی اور لسانی اہمیت
"پھوٹی کوڑی" صرف ایک مالی اصطلاح نہیں رہی بلکہ اردو زبان میں یہ ایک محاورے کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے۔ عام بول چال میں یہ لفظ انتہائی غربت یا عدمِ مال داری کو ظاہر کرنے کے لیے بولا جاتا ہے، جیسے:
"میرے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں بچی"
یہ جملہ محض مالی حالت نہیں بلکہ شدید معاشی تنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

پھوٹی کوڑی سے لے کر روپیہ تک کا یہ سفر نہ صرف معاشی ارتقاء کی داستان ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ انسانی تہذیب نے کس طرح چھوٹی قدرتی اشیاء کو قدر و قیمت دے کر ایک مکمل مالی نظام تشکیل دیا۔ یہ نظام آج کے جدید بینکنگ ڈھانچے تک پہنچنے والی ایک طویل تاریخی کڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔

*📢 نوجوانوں کے لیے انٹرنشپ کے شاندار موقع* وزیر اعلیٰ پنجاب کے Magnificent Tourism Internship Program (Phase-II) کا آغاز...
01/06/2026

*📢 نوجوانوں کے لیے انٹرنشپ کے شاندار موقع*
وزیر اعلیٰ پنجاب کے Magnificent Tourism Internship Program (Phase-II) کا آغاز ہو چکا ہے!

اگر آپ ٹورازم، آرکیالوجی اور میوزیم کے شعبے میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں، تو یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔

انٹرنشپ کی اہم تفصیلات:
💰 ماہانہ وظیفہ: 60,000 روپے
⏳ دورانیہ: 3 ماہ
👥 کُل انٹرنشپس: 4,000 (پہلا بیج: 1,000)
🎓 اہلیت: 21 سے 28 سال کے گریجویٹس (جنہوں نے پچھلے دو سالوں میں متعلقہ ڈگری حاصل کی ہو)۔

📅 درخواست دینے کی آخری تاریخ: 18 جون، 2026

🌐 ابھی آن لائن اپلائی کریں: https://mpip.punjab.gov.pk/

چناب دریا پر بھارت کے دلہستی-II منصوبے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازع مزید گہراچناب دریا پر بھارت کے نئے منصوب...
31/05/2026

چناب دریا پر بھارت کے دلہستی-II منصوبے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازع مزید گہرا
چناب دریا پر بھارت کے نئے منصوبوں نے پاکستان کی غذائی اور آبی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ ان منصوبوں سے بھارت کو دریا کے بہاؤ پر زیادہ کنٹرول حاصل ہونے کا امکان ہے۔
ایک ایسے اقدام میں جس نے آبی سیاست (Hydro-Politics) کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں چناب دریا پر 260 میگاواٹ صلاحیت کے متنازع دلہستی اسٹیج-II رن آف دی ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کی لاگت 3,277.45 کروڑ بھارتی روپے ہے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ اقدام سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی روح کو مزید کمزور کرتا ہے اور پاکستان کے زیریں علاقوں کے آبی تحفظ کے لیے خطرات پیدا کرتا ہے۔
اس منصوبے میں 3,685 میٹر طویل پانی موڑنے والی سرنگ (Diversion Tunnel)، گھوڑے کی نعل نما ذخیرہ آب (Horseshoe Pondage)، سرج شافٹ، پریشر شافٹ اور زیرِ زمین پاور ہاؤس شامل ہوگا، جس میں 130 میگاواٹ کے دو یونٹ نصب کیے جائیں گے۔ منصوبے کے لیے 60.3 ہیکٹر اراضی درکار ہوگی، جس میں بینزوار اور پالمار دیہات کی 8.27 ہیکٹر نجی زمین بھی شامل ہے۔
بھارت کی ماحولیاتی جائزہ کمیٹی (Environmental Appraisal Committee - EAC)، جو وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (MoEFCC) کے تحت کام کرتی ہے، نے اس منصوبے کی منظوری دی ہے۔ منصوبے کے تحت موجودہ دلہستی پاور اسٹیشن (اسٹیج-I) سے پانی ایک علیحدہ 3,685 میٹر لمبی اور 8.5 میٹر قطر کی سرنگ کے ذریعے منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد اسٹیج-II کے لیے ذخیرہ آب تعمیر کیا جائے گا۔
اس ذخیرہ آب کے علاوہ منصوبے میں سرج شافٹ، پریشر شافٹ اور زیرِ زمین پاور ہاؤس بھی شامل ہوگا، جس میں 130 میگاواٹ کے دو یونٹس لگائے جائیں گے اور مجموعی پیداواری صلاحیت 260 میگاواٹ ہوگی۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو مؤثر طور پر معطل رکھنے کے دوران دلہستی اسٹیج-II منصوبے کی منظوری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ سرحد پار آبی وسائل کے مشترکہ انتظام کے اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بالائی علاقوں میں یکطرفہ بنیادی ڈھانچے کو وسعت دے رہا ہے۔
چناب دریا کے نظام پر اضافی سرنگوں، ذخیرہ آب اور پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے والے ڈھانچوں کی تعمیر سے اس خدشے میں اضافہ ہوا ہے کہ بھارت پاکستان کے لیے نہایت اہم دریائی بہاؤ کو اپنی مرضی کے مطابق متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بہاؤ پاکستان کی زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مزید برآں، بھارت کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل (آبی) معلومات کی فراہمی محدود رکھنے اور بین الاقوامی سوالات کے باوجود تکنیکی شفافیت نہ دکھانے سے سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم اعتماد، استحکام اور پیش گوئی پر مبنی آبی انتظامی نظام کمزور ہو رہا ہے۔
مغربی دریاؤں پر بھارت کی مسلسل پن بجلی منصوبوں کی توسیع اور اہم آبی اعداد و شمار کا تبادلہ نہ کرنے کی پالیسی نہ صرف آبی سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ سندھ طاس کے آبپاشی نظام پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
India’s Dulhasti-II project on Chenab River deepens hydro-political tensions with Pakistan
New Chenab River projects raise fears over India's control of flows vital to Pakistan's food security.
In a move that has sharply escalated hydro-political tensions, India has approved the controversial Rs 3,277.45 crore Dulhasti Stage-II run-of-the-river hydroelectric project of 260 megawatt capacity on the Chenab River in Indian-occupied Kashmir, further undermining the Indus Waters Treaty and threatening Pakistan’s downstream water security.

The project includes a 3,685-metre-long diversion tunnel, horseshoe pondage, surge and pressure shafts, and an underground powerhouse with two 130MW units. It requires 60.3 hectares of land, including 8.27 hectares of private land from Benzwar and Palmar villages.

The Environmental Appraisal Committee (EAC) under the Union Ministry of Environment, Forest and Climate Change (MoEFCC) of India cleared the Dulhasti Stage-II project, which will draw water from the existing Dulhasti Power Station (Stage I) through a separate 3,685m-long tunnel with a diameter of 8.5m, leading to the construction of a horseshoe pondage for Stage II.

In addition to the pondage, the project will feature a surge shaft, a pressure shaft, and an underground powerhouse equipped with two units of 130MW each, resulting in a total installed capacity of 260MW.

India’s approval of the Dulhasti Stage-II Hydroelectric Project while keeping the Indus Waters Treaty in abeyance reflects a growing pattern of unilateral upstream infrastructure expansion that undermines the principles of cooperative transboundary water governance.

The construction of additional tunnels, pondage structures, and flow-regulating infrastructure on the Chenab River system raises serious concerns regarding India’s increasing capacity to manipulate downstream river flows critical to Pakistan’s agricultural and food security.

By withholding hydrological data and limiting technical transparency despite repeated international queries, India is weakening confidence in treaty-based mechanisms designed to ensure stability, predictability, and equitable river management in South Asia.

India’s continued hydropower expansion on western rivers, without the sharing of critical hydrological data, risks exacerbating hydro-political tensions and increasing vulnerability for millions dependent on the Indus Basin irrigation system.

انٹرنیشنل میوزیم ڈے 2026 کے موقع پر شعبہ آثارِ قدیمہ اور کلچر اینڈ ہیریٹیج ریسرچ سینٹر، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے زی...
19/05/2026

انٹرنیشنل میوزیم ڈے 2026 کے موقع پر شعبہ آثارِ قدیمہ اور کلچر اینڈ ہیریٹیج ریسرچ سینٹر، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے زیرِ اہتمام ایک شاندار اور معلوماتی ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا، جس کا مقصد میوزیمز کی اہمیت، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور طلبہ میں تاریخی شعور کو اجاگر کرنا تھا۔
سیمینار کے دوران نامور مقررین نے میوزیمز کی علمی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت پر مدلل اور بصیرت افروز گفتگو کی۔
ڈاکٹر خلیل احمد، چیئرمین شعبہ آثارِ قدیمہ و کلچر اینڈ ہیریٹیج ریسرچ سینٹر، نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے میوزیمز کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور انہیں شعبہ کی مختلف تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں، فیلڈ ورک منصوبوں، آثارِ قدیمہ کی دریافتوں اور محفوظ کردہ ثقافتی نوادرات سے متعارف کروایا۔ انہوں نے زور دیا کہ میوزیم صرف قدیم اشیاء کی نمائش کی جگہ نہیں بلکہ ایک قوم کی تاریخ، تہذیب اور شناخت کے امین ہوتے ہیں۔
اس موقع پر جناب محمد ارشد مغل، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب آثارِ قدیمہ، پاکستان نے طلبہ کے لیے ایک انتہائی معلوماتی لیکچر دیا۔ انہوں نے تاریخی ورثے کے تحفظ اور نوجوان نسل میں آگاہی پیدا کرنے میں میوزیمز کے عملی کردار کو واضح کیا۔ ان کی گفتگو نے طلبہ کو اپنی ثقافت اور ورثے کی حفاظت کی اہمیت کو سمجھنے اور سراہنے کے لیے گہرے طور پر متاثر کیا۔
ڈاکٹر محمد یاسر مدنی نے اسلامی نقطۂ نظر سے قدیم مخطوطات، نایاب کتب، اسلامی نوادرات اور مسلم تہذیب کی شاندار روایات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسلامی تہذیب نے ہمیشہ علم، تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کو خاص اہمیت دی ہے اور میوزیمز ان تاریخی خزانوں کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
پروگرام کے دوران طلبہ کو میوزیمز کی اہمیت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق معلوماتی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔ طلبہ نے ان پریزنٹیشنز کو گہری دلچسپی سے دیکھا اور ان سے قیمتی علم اور آگاہی حاصل کی۔
سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر خلیل احمد نے تمام معزز مہمانان، مقررین، فیکلٹی اراکین اور طلبہ کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ پروگرام ایک خوشگوار اور علمی و فکری ماحول میں اختتام پذیر ہوا اور شرکاء نے اس اہم ثقافتی و تعلیمی اقدام کو بے حد سراہا۔
یہ کامیاب پروگرام شعبہ آثارِ قدیمہ اور کلچر اینڈ ہیریٹیج ریسرچ سینٹر، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی ایک قابلِ تحسین کوشش تھی جس کا مقصد ثقافتی ورثے کا تحفظ اور نوجوان نسل میں تاریخی شعور کو فروغ دینا تھا۔
On the occasion of International Museum Day 2026, the Department of Archaeology and the Culture & Heritage Research Center at The Islamia University of Bahawalpur organized a remarkable and informative One-Day Seminar to highlight the importance of museums, cultural heritage preservation, and historical awareness among students.

During the seminar, distinguished speakers delivered insightful talks on the academic, historical, and cultural significance of museums.

Dr. Khalil Ahmad, Chairman of the Department of Archaeology and Culture & Heritage Research Center, addressed the students on the importance of museums and introdued hem to the department’s various academic and research activities, fieldwork projects, archaeological discoveries, and preserved cultural artifacts. He emphasized that museums are not merely places for displaying ancient objects, but are in fact custodians of a nation’s history, civilization, and identity.

On this occasion, Mr. Muhammad Arshad Mughal, former Deputy Director of Punjab Archaeology, Pakistan, delivered a highly informative lecture to the students. He elaborated on the practical role of museums in preserving historical heritage and creating awareness among the younger generation. His talk greatly inspired students to understand and appreciate the value of protecting their culture and heritage.

Dr. Muhammad Yasir Madni spoke from an Islamic perspective about the importance of ancient manuscripts, rare books, Islamic artifacts, and the rich traditions of Muslim civilization. He explained that Islamic civilization has always given great importance to knowledge, history, and the preservation of cultural heritage, and that museums play a vital role in safeguarding these historical treasures.

During the program, students were also shown informative videos related to the importance of museums and the preservation of cultural heritage. The students watched these presentations with great interest and gained valuable knowledge and awareness from them.

At the end of the seminar, Dr. Khalil Ahmad expressed his gratitude to all distinguished guests, speakers, faculty members, and students for their participation. The program concluded in a pleasant and intellectually enriching atmosphere, and the participants highly appreciated this valuable cultural and academic initiative.

This successful event was a commendable effort by the Department of Archaeology and the Culture & Heritage Research Center, The Islamia University of Bahawalpur, aimed at preserving cultural heritage and promoting historical consciousness among the younger generation.

الحمدللہ!ورلڈ ہیریٹیج ڈے کے موقع پر منعقدہ شاندار سیمینار کی کامیابی میں جہاں تمام شرکاء اور منتظمین کا کردار قابلِ تحسی...
22/04/2026

الحمدللہ!
ورلڈ ہیریٹیج ڈے کے موقع پر منعقدہ شاندار سیمینار کی کامیابی میں جہاں تمام شرکاء اور منتظمین کا کردار قابلِ تحسین ہے، وہیں میڈیا کی مثبت اور مؤثر کوریج نے بھی اس پیغام کو وسیع حلقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ہم دل کی گہرائیوں سے روزنامہ سیادت اور محمد پارس ارکیا لوجی سکالر کے مشکور ہیں جنہوں نے آج بروز بدھ (22-04-2026) ہمارے اس علمی و ثقافتی سیمینار کو نہ صرف بھرپور انداز میں اجاگر کیا بلکہ اس پر ایک مکمل صفحہ (Full Page) بھی شائع کیا۔
ان کی یہ خصوصی کاوش نہ صرف ہمارے ادارے کے لیے باعثِ حوصلہ افزائی ہے بلکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ اور آگاہی کے مشن کو بھی مزید تقویت دیتی ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی اسی طرح میڈیا اور علمی اداروں کا یہ مثبت تعاون جاری رہے گا۔
بہت شکریہ!

18/04/2026
الحمدللہ18 اپریل، ورلڈ ہیریٹیج ڈے کے موقع پر منعقدہ ہمارے پروگرام کو میڈیا کی بھرپور کوریج اور پذیرائی ملی، جبکہ ریڈیو پ...
18/04/2026

الحمدللہ
18 اپریل، ورلڈ ہیریٹیج ڈے کے موقع پر منعقدہ ہمارے پروگرام کو میڈیا کی بھرپور کوریج اور پذیرائی ملی، جبکہ ریڈیو پاکستان بہاولپور نے بھی اسے نشر کر کے اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔
ہم تمام میڈیا نمائندگان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس پروگرام کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا، اور بالخصوص اپنے ریسرچ اینڈ آرکیالوجیکل اسکالر اعجاز الرحمن کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔
یہ کامیابی ہماری ٹیم کی محنت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کی عکاسی ہے۔
ان شاء اللہ، مستقبل میں بھی ایسے بامقصد اقدامات جاری رہیں گے۔۔
https://www.facebook.com/share/v/1YnnWBL5KX/

Address

Islamia University Bahawalpur
Bahawalpur
63100'

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Khalil Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dr. Khalil Ahmad:

Shortcuts

Share