25/06/2026
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالتَّمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ فَيَجِيءُ هَذَا بِتَمْرِهِ وَهَذَا مِنْ تَمْرِهِ حَتَّى يَصِيرَ عِنْدَهُ كَوْمًا مِنْ تَمْرٍ ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَلْعَبَانِ بِذَلِكَ التَّمْرِ فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَهَا مِنْ فِيهِ ، فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ .
رسول اللہ ﷺ کے پاس توڑنے کے وقت زکوٰۃ کی کھجور لائی جاتی ، ہر شخص اپنی زکوٰۃ لاتا اور نوبت یہاں تک پہنچتی کہ کھجور کا ایک ڈھیر لگ جاتا ۔ ( ایک مرتبہ ) حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ایسی ہی کھجوروں سے کھیل رہے تھے کہ ایک نے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لی ۔ رسول اللہ ﷺ نے جونہی دیکھا تو ان کے منہ سے وہ کھجور نکال لی ۔ اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ محمد ﷺ کی اولاد زکوٰۃ کا مال نہیں کھا سکتی ۔
Sahih Bukhari #1485
کتاب زکوۃ کے مسائل کا بیان
#حسین
20/06/2026
پھر اللہ اپنے ایسے بندے کو کیسے خالی ہاتھ اور تڑپتا ہوا چھوڑ سکتا ہے جس نے ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھا ہو، کبھی نا امید نہ ہوا ہو، اور دعا جاری رکھی ہو۔ ❤️ 💯
20/06/2026
Surat No 42 : سورة الشورى - Ayat No 48
فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ؕ اِنۡ عَلَیۡکَ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَۃً فَرِحَ بِہَا ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ کَفُوۡرٌ ﴿۴۸﴾
۔ ( اے پیغمبر ! ) یہ لوگ اگر پھر بھی منہ موڑیں تو ہم نے تمہیں ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجا ہے ۔ تم پر بات پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اور ( انسان کا حال یہ ہے کہ ) جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے ، اور اگر خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ایسے لوگوں کو کوئی مصیبت پیش آجاتی ہے تو وہی انسان پکا ناشکرا بن جاتا ہے ۔
19/06/2026
چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک
کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ
وہ آنکھیں میری ہو جائیں
کوئی صوم صلوٰۃ دُرُود بتا
کہ وجّد وُجُود میں آ جائے
کوئی تسبیح ہو کوئی چِلا ہو
کوئی وِرد بتا وہ آن ملے
مُجھے جینے کا سامان ملے
گر نہیں تو میری عرضی مان
مُجھے مانگنے کا ہی ڈھنگ سِکھا
کہ اشّک بہیں میرے سجّدوں میں
اور ہونٹ تھر تھر کانپیں بّس
میری خاموشی کو بھّید مِلے
کوئی حرف ادا نہ ہو لیکن
میری ہر اِک آہ کا شور
وہاں سرِ عرش مچّے
میرے اشکوں میں کوئی رنگ مِلا
میرے خالی پن میں پُھول کِھلا
مُجھے یار ملا
سرکار ملا
اے مالک و مُلک، اے شاہ سائیں
مُجھے اور نہ کوئی چاہ سائیں
مری عرضی مان، نہ خالی موڑ
مُجھے مان بہت مرا مان نہ توڑ
چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک
کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ
وہ آنکھیں میری ہوجائیں ۔
کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔
مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔
یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔
میں شمع، وہ پروانہ ہو۔
زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔
کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا
کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔
جو کر دے بخت سکندر سا
کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔
کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔
کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔
وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔
کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔
مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔
کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔
وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔
کوئی ایسا کالا جادو کر
جو جگمگ کر دے میرے دن۔
وہ کہے مبارک جلدی آ ۔
اب جیا نہ جائے تیرے بن۔
کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔
جس رہ سے وہ دلدار ملے۔
کوئی تسبیح دم درود بتا ۔
جسے پڑھوں تو میرا یار ملے
کوئی قابو کر بے قابو جن۔
کوئی سانپ نکال پٹاری سے
کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا
کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔
کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔
وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔
کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔
وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔
کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔
اسے لگے میں چاند کے جیسی ہوں ۔
جو مرضی میرے یار کی ہے۔
اسے لگے میں بالکل ویسی ہوں۔
کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔
جو اشک بہا دے سجدوں میں۔
اور جیسے تیرا دعوی ہے
محبوب ہو میرے قدموں میں ۔
پر عامل رک، اک بات کہوں۔
یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟
محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔
مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔
اور عامل سن یہ کام بدل۔
یہ کام بہت نقصان کا ہے۔
سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔
جو مالک کل جہان کا ہے::!!