Jahan e Mushtaq "جہانِ مشتاق"

Jahan e Mushtaq "جہانِ مشتاق" ہر سانس ، ہر ساعت ۔۔ ایک نعمت اور مہلت ۔
۔ زندگی اپنی مرضی سے گزاریں

22/08/2026

موسم گرما کی تعطیلات کے اختتام پر خیر پور ڈاہا ہائی سکول اپنے طالب علم بیٹوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیار ہے ❤️
سکول ہذا کے فرض شناس اور جفاکش ملازمین کا بے حد شکریہ جنہوں نے سکول کے ماحول کو صاف ستھرا بنا دیا ہے ۔
محترم والدین اپنے بیٹوں کو پرسوں یعنی سوموار سے سکول باقاعدگی سے بھیجیں تاکہ تعلیمی و تدریسی عمل احسن طریقے سے شروع ہو جائے 🥰

20/08/2026

کیا یہ قدیم دور کا عطر دان تھا ؟
اہلِ علم سے رہنمائی مطلوب ہے

19/08/2026

ڈیرہ نواب صاحب ۔۔۔ صادق گڑھ پیلس
شاندار محل تباہی کی طرف 😭 کاش کہ اس تاریخی اثاثے کو بچا لیا جائے

18/08/2026

مسجد بھونگ کے خوب صورت رنگ ❤️

17/08/2026

عباسی نوابوں کا شاہی قبرستان ۔۔ قلعہ ڈیراور

15/08/2026

مٹی سے بنی قدیم مہر ۔۔۔ اے آئی کی رائے 👍
ویڈیو میں جو چیز ہے یہ *قدیم مہر / Terracotta Seal یا Token* لگ رہی ہے۔

# # # *اس مہر کے بارے میں رہنمائی*

# # # # *1. مواد اور بناوٹ*
- *مٹی / Terracotta*: ہلکے بھورے رنگ کی پکی ہوئی مٹی کی بنی ہے۔
- *شکل*: گول، تقریباً 2-3 سینٹی میٹر قطر۔
- *نقش*: اس پر ایک کھڑی ہوئی انسانی شکل نظر آ رہی ہے۔ ساتھ میں کوئی چیز یا ہتھیار بھی لگ رہا ہے۔ کناروں پر کچھ تحریر جیسے نشان بھی ہیں لیکن واضح نہیں۔

# # # # *2. ممکنہ دور اور اہمیت*
ایسی مٹی کی مہریں ہمارے علاقے میں 3 ادوار میں بہت ملتی ہیں:

1. *وادی سندھ / ہڑپہ دور 2600-1900 قبل مسیح*
ہڑپہ والے تاجروں کی شناخت کے لیے مٹی کی مہریں استعمال کرتے تھے۔ ان پر جانور، دیوتا اور "ہڑپہ رسم الخط" ہوتا تھا۔
2. *کوشان / ہند-سکائی دور 100-400 عیسوی*
اس دور میں بدھ مت اور ہندو مذہبی مہریں عام تھیں۔ ان پر کھڑے دیوتا، یوگی یا بادشاہ بنے ہوتے تھے۔

3. *اسلامی دور کے ابتدائی 800-1200 عیسوی*
اس وقت "ٹکسال کی مہر" اور "تاجر کی مہر" کے طور پر مٹی کے ٹوکن استعمال ہوتے تھے۔

آپ کی مہر پر جو کھڑی شکل ہے وہ *کوشان دور کے "دیوتا" یا "یوگی"* سے ملتی ہے۔ لیکن حتمی بات کندہ کاری دیکھ کر ہی ہوگی۔

# # # # *3. اس کا استعمال کیا تھا؟*
قدیم لوگ اسے 3 کاموں کے لیے استعمال کرتے تھے:
1. *تجارتی مہر*: سامان کے تھیلے یا صندوق پر لگا کر "یہ میرا مال ہے" کی نشانی۔
2. *مذہبی تعویذ*: خوش قسمتی اور برکت کے لیے گھر میں رکھتے تھے۔
3. *ٹوکن / سکہ*: چھوٹی خریداری کے لیے مٹی کا سکہ۔

# # # *اہم گزارش ڈاکٹر صاحب*
1. *نرم ہاتھ سے رکھیں*: مٹی بہت نازک ہوتی ہے۔ گرنے سے ٹوٹ جائے گی۔
2. *پانی/کیمیکل نہ لگائیں*: صفائی کرنے سے نقش مٹ جاتا ہے۔
یہ چولستان کے کسی مدفون شہر سے ملی ہے تو 80% امکان ہے کہ یہ *کوشان دور 200-300 عیسوی* کی مذہبی مہر ہے۔ اس دور میں چولستان میں بدھ مت اور ہندو روایات دونوں تھیں۔
یہ مہر صرف مٹی نہیں ہے۔ یہ 1500-4000 سال پرانے انسان کے ہاتھ کا نشان ہے۔ جس نے اسے بنایا تھا وہ بھی آپ کی طرح یہاں کا رہنے والا ہوگا ✨
نوٹ ۔۔۔۔ اے آئی کی پر بات حتمی اور قطعی نہیں ہوتی ۔۔ جسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا مقصد آپ جیسے پڑھے لکھے اور ماہر لوگوں کی رائے لینا ہوتا ہے ۔
آپ کے تبصروں کا منتظر رہوں گا ❤️

14/08/2026

میرا پاکستان ۔۔ میرا مان
میری جائے امان 💖

" قفل" ٹوٹا خدا خدا کر کے الحمدللہ ۔۔ ملازمت کی پہلی اور آخری ترقی بالآخر ہو ہی  گئی ہے ۔ انسان کی خواہشات کی کوئی حد نہ...
13/08/2026

" قفل" ٹوٹا خدا خدا کر کے
الحمدللہ ۔۔ ملازمت کی پہلی اور آخری ترقی بالآخر ہو ہی گئی ہے ۔
انسان کی خواہشات کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ کافی انتظار کے بعد سن ستانوے میں سکول ٹیچر بھرتی ہوا تو میں نے اطمینان کا سانس لیا کہ چلیں ۔۔ روٹی روزی کا کوئی باقاعدہ انتظام ہو گیا ہے ۔ اب سکون سے زندگی گزارنی ہے ۔ لیکن دل میں آگے بڑھنے کی امنگ جاگ اٹھی ۔
ایم ایز کرتے کرتے ایم فل ڈگری کی شدید خواہش کی تکمیل کے دوران ہی پنجاب پبلک سروس کمیشن سے یکے بعد دیگرے پہلی ہی کوششوں میں لیکچرار تاریخ اور پھر سینئر سبجیکٹ سپیشلسٹ کے امتحانات پاس ہو گئے ۔۔
سن دو ہزار سات میں سینئر سبجیکٹ سپیشلسٹ (تاریخ ۔ بی پی ایس 18) جوائن کرتے وقت شدید شش و پنج میں تھا کیونکہ کالج ونگ چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا تھا لیکن خیر خواہوں نے مشورہ دیا کہ کالج ونگ کی نسبت سکول ونگ میں ترقی جلد مل جاتی ہے ۔ آپ ضرور جوائن کریں ۔۔ آپ بہت جلد بیسویں سکیل تک پہنچ جائیں گے جو ٹیچنگ کیڈر کی معراج ہوتی ہے ۔
میں تیز رفتار ترقی اور خوشگوار مستقبل کے سنہری خواب آنکھوں میں سجائے ، خوش امیدیاں دل میں سمائے سکول ونگ میں جوائن ہو گیا لیکن سکول ونگ میں قدم رکھتے ہی میں " سبز قدم" ہو گیا ۔ کالج ونگ میں پروموشنز ملنے کا عمل تیز تر ہو گیا اور سکول ونگ میں جمود آ گیا ۔
پندرہ سال بعد دو ہزار بائیس میں میرے ساتھیوں کو ترقی مل گئی لیکن شومئی قسمت یا " حسنِ اتفاق" کہ میں ان دنوں پی ایچ ڈی سٹڈی لیو کے حوالے سے ایک انکوائری کا سامنا کر رہا تھا ۔ دو ہزار تیرہ میں جمع کرائی گئی میری درخواست رخصتِ مطالعہ برائے پی ایچ ڈی کا فیصلہ کرتے کرتے محکمہ نے بارہ سال لگا دیئے ۔ دو ہزار پچیس کے اوائل میں مجھے انکوائری سے نجات حاصل ہو گئی لیکن اس دوران آٹھ سو سے زائد جونیئرز مجھ سے پہلے ترقی یاب ہو کر انیسویں سکیل میں چلے گئے ۔۔
ہر بار دوست اور رفیق میرے پروموشن کیس کے ڈیفر ہونے پر دکھ کا اظہار کرتے، ساتھ ہی میری "آزمائش " جلد ختم ہونے کی امیدیں بندھاتے، حوصلے بڑھاتے ۔ صاف ظاہر ہے کہ میرے پاس بھی اچھے وقتوں کا انتظار ، صبر وحوصلہ کا ہی واحد راستہ بچتا تھا۔
انکوائری میں ںے قصور قرار دیئے جانے کے بعد مجھے پروموشن سلیکشن بورڈ کے اجلاس کے انعقاد کا قریباً پونے دو سال انتظار کرنا پڑا ۔
بالآخر اب یہ مرحلہ مکمل ہوا ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ تیس سال کی سرکاری ملازمت میں مجھے بھی ایک اِن سروس ترقی کا "شرف " حاصل ہو گیا ہے ۔۔
ذہنی اذیت کا ازالہ تو ممکن نہیں ہوتا لیکن مقامِ اطمینان یہ ہے کہ پروفارما پروموشن کے ذریعے دو ہزار بائیس سے ہی ترقی اور فوائد حاصل ہوں گے ۔
اللّٰہ پاک کا ان گنت بار شکریہ جس نے ہمیشہ زندگی اور سرکاری ملازمت میں میرا بھرم رکھا ۔
دوستوں اور خیر خواہوں کا شکریہ جو مشکل وقتوں میں امید ، حوصلے اور قیمتی مشورے دیتے رہے ۔
اللّٰہ پاک آپ سب کی زندگیوں میں خوشیوں کے رنگ سدا قائم رکھے ۔۔ دنیا کی تمام نعمتوں ، رحمتوں ، فضیلتوں اور برکتوں سے نوازے ۔ آمین 💖

12/08/2026

نور محل بہاول پور ۔۔ ایک اندرونی حصے میں بہاول پور کی تاریخ اور ثقافت کے کچھ پہلو محفوظ کئے گئے ہیں

12/08/2026

قدیم نادر موتیوں پر میٹا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی رائے ۔۔
ویڈیو میں جو موتی نظر آ رہے ہیں ان کی شکل، رنگ اور مواد سے میں 2-3 نکات کی بنیاد پر اندازہ لگا سکتا ہوں۔ 100% حتمی فیصلہ لیبارٹری ٹیسٹ سے ہی ہوگا، لیکن ابتدائی اندازہ یہ ہے:

# # # *اندازہ: یہ زیادہ تر "ہڑپہ دور / وادی سندھ تہذیب 2600-1900 قبل مسیح" کے لگتے ہیں*

# # # # *کیوں ہڑپہ دور؟ 3 بڑی وجوہات:*

1. *مواد اور رنگ*
- *سرخ عقیق / Carnelian*: ہڑپہ کے کاریگر اس میں سب سے ماہر تھے۔ چولستان سے ایسے ہی لمبے، چھوٹے، گول سرخ موتی ہزاروں کی تعداد میں ملے ہیں۔
- *نیلے-سبز فائنس*: ہڑپہ دور کی سب سے بڑی پہچان۔ یہ "گلیزڈ" چمکدار موتی صرف اسی دور میں بہت عام تھے۔ کشان دور میں شیشے کے موتی زیادہ آتے ہیں۔
- *سفید موتی*: یہ "اسٹیٹائٹ" یا "شیل" کے لگتے ہیں جو ہڑپہ میں ہار بنانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

2. *بناوٹ / Shape*
ہڑپہ کے موتی چھوٹے، باریک اور "Standardized" ہوتے تھے۔ یعنی ایک جیسے سائز کے سینکڑوں موتی۔ ویڈیو میں بھی وہی باریک کاری نظر آ رہی ہے۔ کشان دور کے موتی تھوڑے بڑے اور بھاری ہوتے تھے۔

# # # *کشان / ہند-یونانی دور 200 قبل مسیح - 300 عیسوی کے آثار کب ہوتے؟*
اگر یہ کشان کے ہوتے تو ان میں یہ چیزیں زیادہ ہوتیں:
1. *بڑے شیشے کے موتی* - نیلے، پیلے، دھاری دار
2. *سکے کی شکل کے موتی* یا تصویروں والے
3. *سونے کے ساتھ جڑے ہوئے*

ویڈیو میں مجھے وہ نہیں نظر آئے۔
1. *ہڑپہ دور = تجارت کا عروج*: اسی لیے اتنی قسم کے موتی ایک جگہ ملنا نارمل ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ جگہ کوئی تجارتی مرکز یا کاریگروں کی بستی تھی۔
2. *محفوظ رکھیں*: اگر یہ واقعی ہڑپہ کے ہیں تو یہ 4500 سال پرانے ہیں۔ مٹی سے نکالنے کے بعد ہوا لگنے سے خراب ہو جاتے ہیں۔
آپ کے پاس تاریخ کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہ صرف موتی نہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارا علاقہ کبھی دنیا کا سب سے بڑا تجارتی روٹ تھا ✨
*جی ڈاکٹر صاحب ❤️*
یہ سوال بہت اہم ہے۔ یہ "Memories" صرف خوبصورتی نہیں، تاریخ کی کتابیں ہیں۔
عقیق اور فائنس کے ہڑپہ دور کے موتی سب سے مہنگے۔

اس وقت کی ثقافت اور تجارت میں ان کی اہمیت*

یہ علاقہ 5000 سال پہلے وادی سندھ کی تہذیب کا "ہائی وے" تھا۔

*ثقافت*:
- خواتین انہیں ہار، چوڑیوں اور کپڑوں میں پہنتی تھیں۔ یہ حسن اور حیثیت کی علامت تھے۔
- مرد تسبیح اور تعویذ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ کچھ موتی "نظر بد" سے بچاؤ کے لیے سمجھے جاتے تھے۔
- مذہبی رسومات میں بھی استعمال ہوتے تھے۔

*تجارت*:
- یہاں کے قافلے یہ موتی لے کر *میسوپوٹامیا، ایران اور وسط ایشیا* تک جاتے تھے۔
- *کرنسی کی طرح*: چھوٹے موتی چھوٹی خریداری، بڑے اور نایاب موتی بڑی تجارت کے لیے۔
- کوٹلہ موسیٰ خان سے ملنے والے موتی ثابت کرتے ہیں کہ یہاں "Bead Making Industry" تھی۔ کاریگر یہاں بیٹھ کر بناتے اور بیچتے تھے۔

قدیم تاریخ کو سمجھنے کے لیے ان کی اہمیت*
ڈاکٹر صاحب، یہ موتی "3 سوالوں" کا جواب دیتے ہیں:

1. *تکنیک*: کس دور میں کس طرح سوراخ کیے گئے، کس رنگ سے پکایا گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہڑپہ کے لوگ کتنے ماہر تھے۔
2. *رابطے*: اگر ایک موتی آپ کے علاقے میں ملا اور ویسا ہی موتی عراق میں ملا، تو ثابت ہوا کہ 4000 سال پہلے تجارت ہوتی تھی۔
3. *روزمرہ زندگی*: لوگ کیا پہنتے تھے، کیا پسند کرتے تھے، کسے قیمتی سمجھتے تھے۔ یہ محل اور قلعوں سے نہیں پتا چلتا، یہ موتیوں سے پتا چلتا ہے۔

*مثال*: نیلے فائنس کے موتی ملنا ثابت کرتا ہے کہ اس علاقے کا مصر سے رابطہ تھا۔ سرخ عقیق ملنا بتاتا ہے کہ انڈین صوبے گجرات سے تجارت تھی۔

یہ موتی "تاریخ کے فنگر پرنٹ" ہیں۔
یہ واقعی " 5000 سال پرانی یادیں" ہیں ✨
۔
خطے کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم حضرات سے رائے اور رہنمائی کا انتظار رہے گا 🔴 پیشگی شکریہ

Address

P/O Kotla Musa Khan Ahmadpur East Bahawalpur
Bahawalpur

Telephone

+923016505747

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jahan e Mushtaq "جہانِ مشتاق" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Jahan e Mushtaq "جہانِ مشتاق":

Shortcuts

Share