Jahan e Mushtaq "جہانِ مشتاق"

Jahan e Mushtaq "جہانِ مشتاق"

Share

ہر سانس ، ہر ساعت ۔۔ ایک نعمت اور مہلت ۔
۔ زندگی اپنی مرضی سے گزاریں

29/05/2026

سات ماہ کا سکون بھرا سفر
گزشتہ سال پندرہ اکتوبر کو خیر پور ڈاہا ہائی سکول میں بطور سینئر ہیڈ ماسٹر میرا تبادلہ ہوا ۔ اپنے گھر کوٹلہ موسیٰ خان سے سکول کا یہ سفر اور دَور بہت پُر سکون اور پُر مسرت لگتا رہا ہے ۔
چودہ پندرہ کلومیٹر کے اس سفر میں بیٹے وقاص کے ساتھ بائیک پر میں سکون سے بیٹھا ماحول کی رعنائیوں اور جمالِ فطرت سے اپنی آنکھوں کو طراوت دیتا رہتا ۔ کھلی فضا ، ارد گرد لہلہاتی مختلف فصلیں، راستے میں موجود باغات ، دور و نزدیک ، چھوٹے بڑے اشجار ، مشرق کی جانب نوزائیدہ ، معصوم ، گول مٹول ، سرخ سورج ۔۔جو درختوں کے پیچھے چھپتا ، شرماتا ، لیکن سارا راستہ اپنی جھلکیاں دکھلاتا ۔۔۔ اسی سرخ سورج کی شعاعیں مسجدوں کے کلس پر پڑتی اور چمکتی دکھائی دیتیں تو مسجد کے مینار اور کلس مینارۂ نور نظر آتے ۔ اس سفر میں شاید ہی کوئی جگہ ایسی ہو جہاں مسجد نظر نہ آتی ہو۔ دور و نزدیک ۔۔کہیں نہ کہیں چھوٹی بڑی مسجد اس سارے سفر میں ضرور نظر آ جاتی ہے ۔
کوٹلہ سے ڈاہا روڈ پر عموماً اور بالخصوص صبح صبح ٹریفک بہت کم ہوتی ہے۔ اس روڈ کے اطراف و جوانب میں زیادہ تر لوگ غریب اور دیہاتی ہیں ۔ چہرے ، حلیے اور رویے سے یہ لوگ مجھے صدیوں پرانے لگتے ہیں ۔تاریخ کا طالب علم اور کم حوصلہ ہونے کی وجہ سے مجھے جدت ، تصنع ، تکلف اور ریاکاری سے زیادہ قدامت ،سادگی اور سچائی میں کشش زیادہ محسوس ہوتی ہے ۔ کچے پکے مکانات ، سادہ مزاج ، سادہ لباس ، حرص و ہوس سے بے نیاز لوگ اس راستے میں بہت ملتے ہیں ۔ اب کہیں کہیں بڑی اور اونچی کوٹھیاں بننا شروع ہو گئی ہیں لیکن ان کی قیمت یہاں سے سعودی عرب ، دبئی وغیرہ جانے والے نوجوان ادا کر رہے ہیں جو پردیس میں اپنوں سے دور ہیں۔ اپنے جذبات دل میں دبا کر ، آنکھوں میں آنسو چھپا کر اپنے پیاروں کو سہولیاتِ زندگی فراہم کرنے کے لئے کئی کئی سال سے وہاں مقیم ہیں۔ کاش کہ میرے پاکستان میں روزگار ہوتا تو یہ لوگ دیارِ غیر کے اجنبی ماحول میں دوسرے درجے کے شہری نہ بنتے ، اپنے ملک میں اعتماد اور احترام سے رہتے ۔۔ اپنوں میں بستے ۔۔۔
میں بہت کمزور دل ہوں ۔ گھر سے دور جانے کا سوچ کر دل ڈوبنے لگتا ہے ۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ زندگی اپنوں میں گزرے وقت کا نام ہے ۔ باقی محض ماہ و سال کی گنتی ہے ۔ سر پر چھت ، سادہ سی خوراک ، تن ڈھانپنے کے لئے لباس ، چھوٹا موٹا روزگار ، صحت کی دولت ، اپنوں کی قربت ۔۔۔۔ تو پھر کیسی غربت ۔۔۔ مزید کس چیز کی حاجت؟
سات ماہ کے سفر میں سڑک کنارے ایک چھوٹی سی کوٹھڑی، ساتھ ایک درخت ، ایک چارپائی پر بیٹھے یا کبھی لیٹے ایک بوڑھے کو میں ضرور دیکھتا جاتا ہوں جو سڑک سے گزرنے والی ہر سواری کو دیکھتا رہتا ہے ۔ اس کے چہرے پر مجھے سکون نظر اتا ہے جیسے اسے زندگی کے فلسفے کی سمجھ آ گئی ہو کہ بہت زیادہ بھاگ دوڑ اور ہوس کا کوئی فائدہ نہیں ، بالآخر انسان تھک جاتا ہے ۔ یا شاید وہ اپنی جوانی ، توانائی ، خواہشات کے عروج کو یاد کر رہا ہوتا ہے لیکن مجھے اس کے جھریوں بھرے چہرے اور بوڑھی آنکھوں میں مزید کوئی خواہش یا رمق نظر نہیں آتی ۔۔
راستے میں ایک چھابڑی نما دکان پر بیٹھا ادھیڑ عمر بندہ دیکھ کر میں اکثر سوچنے لگ جاتا ہوں کہ یہ گھر کی ضروریات کیسے پوری کرتا ہو گا لیکن وہ توکل کی تصویر بنا بیٹھا ہوتا ہے ۔ شاید وہ خواہشات کی بجائے صرف ضروریات کو ضروری اور کافی سمجھتا ہو گا ۔
اسی راستے میں سی پیک بھی آتا ہے ۔ سی پیک کے نیچے کی دنیا میں آہستگی اور سادگی غالب ہے جبکہ اوپر سی پیک پر بڑی بڑی ، خوب صورت اور بیش قیمت گاڑیاں تیزی سے آتی جاتی نظر آتی ہیں ۔ یہاں مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں دو مختلف زمانوں اور دنیاؤں کو دیکھ رہا ہوں ۔۔ سوچتا ہوں کہ یہ دونوں مختلف جہان ہیں ۔ شاید دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کو رشک سے دیکھتے ہوں گے ۔ دونوں کی محرومیاں اور مزے الگ الگ ہیں ۔۔ اور انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا ۔
اس راستے میں بس کا انتظار کرتے میرے سکول کے اٹھکھیلیاں کرتے ، ہنستے مسکراتے بچے بھی جا بجا ہوتے ہیں۔ کاش کہ وقت ٹھہر جائے اور یہ معصوم ہمیشہ یونہی خوش باش رہیں ۔ لیکن وقت رکتا نہیں ۔ کچھ سالوں بعد یہ عملی زندگی میں آ جائیں گے ۔ ان کی معصومیت اور مسکراہٹ غائب ہو جائے گی کیونکہ نئی نسل کے مستقبل کا سوچ کر میرا دل کانپ اٹھتا ہے۔ جب ہماری بائیک ان بچوں کے قریب پہنچتی ہے تو وہ اپنے ہیڈ ماسٹر کو دیکھ کر بڑے مؤدب ہو جاتے ہیں ۔ ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے ہیں ۔ میں اپنا ہاتھ ہلا کر ان کی محبتوں اور سلام کا جواب دیتا ہوں ۔ یہ وقت اور منظر مجھے بہت سکون اور اطمینان دیتا ہے کہ ہمارے دیہاتی طلباء میں ابھی تک پرانی اقدار کسی حد تک باقی اور برقرار ہیں ورنہ استاد شاگرد (پیر مرید ) کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے ۔
اسی راستے میں حضرت حافظ کمال صاحب کا مزارِ پُر انوار ہے جن سے مجھے دلی انسیت اور عقیدت ہے ۔ آتے جاتے سڑک سے انہیں سلام کرنا ، جہاں تک ہو سکے اس مزار کو دیکھتے جانا میرے دل کو سکون بخشتا ہے ۔
میں خیر پور ڈاہا خزاں کے موسم میں گیا ، سردی اور دھند میں لپٹے سفر کئے ، بہار میں نئی کونپلیں اور غنچے نکلتے دیکھے ، اب حرارت کی حدت اور شدت کی وجہ سے تعطیلات ہیں ۔۔ یعنی چاروں موسموں کے رنگ دیکھ لئے ہیں لیکن اس سفر کے آتے جاتے اوقات میں دل کا موسم ہمیشہ قوسِ قزح جیسا لگتا ہے ۔ کیونکہ سفر بھی بہت پُرکیف و پُرلطف ہے ۔ منزل بھی بہت پُرامن اور پُرسکون ہے ۔ خیر پور ڈاہا سکول میں خیر ہی خیر ہے ۔ ٹیچر دوست بہت پیارے ہیں اور طالب علم معصوم ۔۔۔ جن کے چہرے ،ظاہری حالات ان کے لئے ہم سب کو پُرجوش اور متحرک بنا دیتے ہیں کہ انہیں مستقبل میں ملازمتیں دینا ہمارے بس میں نہیں ، انہیں امید ، حوصلہ ، تعلیم ، تربیت ، اچھائی کی طرف رغبت دینا تو ہمارے بس میں ہے ۔

28/05/2026

رحمان و مہربان ذوالفضل العظیم ربِ کریم کا ان گنت بار شکر الحمدللہ کہ چھوٹے بھائی مختار خان کی حالت اب بہت بہتر ہے ۔ عارضۂ قلب کی وجہ سے انہیں سٹنٹ ڈالنے کے بعد دو تین دن احتیاطی طور پر ایمرجنسی اور پھر وارڈ میں رکھا گیا ۔ ان شاءاللہ آج وہ بہاول وکٹوریہ ہسپتال سے اپنے گھر منتقل ہو جائیں گے ۔
میں ان سب لوگوں کا دلی شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں جنہوں نے مختار خان کے لئے دلی دعائیں کیں ۔۔ کالز کیں ، ہمیں حوصلے دیئے ۔ ان مشکل لمحات میں ہمارا ساتھ دیا ۔ ہمیں یہ احساس رہا کہ ہم اکیلے نہیں ہیں ۔ ہمارے ساتھ ہزاروں مخلصین کی دعائیں اور محبتیں ہیں۔ ہم ان بے لوث خیر خواہوں کو کبھی نہیں بھولیں گے کہ کسی انسان کے لئے بالخصوص آزمائش میں دلی دعاؤں ، بے لوث محبتوں اور سچے جذبوں سے بڑھ کر کوئی بیش قیمت خزانہ اور تحفہ نہیں ۔۔
دلی دعائیں ہیں کہ اللّٰہ پاک آپ سب کو زندگی کے ہر لمحے ، ہر سانس میں سکھ اور سکون سے رکھے ۔ عافیت اور عزت سے آپ کی زندگی بسر ہو ۔۔ آمین
میں ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں کہ اس بار عید مبارک نہیں کہہ سکا ۔ بیشتر دوستوں کو جواب نہیں دے سکا ۔۔ امیدِ واثق ہے کہ معروضی حالات مدِ نظر رکھتے ہوئے تمام مخلص ، اعلیٰ ظرف دوست درگزر فرمائیں گے 💖

27/05/2026

چھوٹے بھائی مختار خان (پرنسپل ہائیر سیکنڈری سکول کوٹلہ موسیٰ خان ) کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں انہیں سٹنٹ ڈال دیا گیا ہے ۔۔ الحمدللہ کہ اب ان کی صحت قدرے مستحکم ہے ۔
رحیم و کریم ذاتِ باری تعالیٰ میرے بہادر اور با حوصلہ بھائی کو مکمل اور جلد صحتیابی نصیب فرمائے ۔۔
تمام خیر خواہوں سے مختار خان کی صحت و سلامتی کے لئے مخلصانہ دعاؤں کے لئے دست بستہ ملتمس ہوں 💖
اللّٰہ تعالیٰ آپ اور آپ کے پیاروں کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین

25/05/2026

میرا مقصد حقیقی تاریخ کو تلاشنے کی طرف توجہ دلانا ہے ۔
تاریخ کی حقیقتوں تک پہنچنا ہے تو بات ثبوتوں کے ساتھ ہی مستند اور معتبر ہو سکتی ہے ۔
تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے باذوق لوگوں کے لئے میری ایک اور وڈیو ۔ جس میں بہت زیادہ غلطیاں ہو سکتی ہیں ۔۔ لیکن غلطیاں بتائی جائیں گی تو تاریخ درست ہو گی ۔ یہی مدعا اور مقصد ہے
فیس بک کا شکریہ جس نے میری یادیں محفوظ کر دی ہیں ۔

24/05/2026

بائیس مئی کا روز ۔۔ یومِ سوگ
دن اور تاریخیں برے نہیں ہوتے لیکن ان سے جڑی یادیں انہیں ہمارے لئے خوشگوار یا سوگوار بنا دیتی ہیں ۔
دو سال پہلے بائیس مئی کے دن میری امی جان ہم سب سے ہمیشہ کے لئے دور چلی گئیں ۔ ماں ، جو میرا مان اور کل جہان تھیں ۔ ہر روز ان کی جدائی کا دکھ تازہ ہوتا اور بڑھتا ہے ۔
ماہِ مئی میں مدر ڈے منایا جاتا پے لیکن اسی مہینے میں بالخصوص بائیس مئی قریب آتے ہی ماں کی ممتا سے محرومی کا احساس دوچند ہو جاتا ہے ۔
ایک بائیس مئی والدہ کا فراق دے گیا ، اب کے بائیس مئی اولاد کا دکھ دے گیا ۔ آصف خان میرے کزن کا بیٹا تھا لیکن ہمیں ماں باپ کا اعلانیہ درجہ دیتا تھا ۔ آصف اور کاشف دونوں بھائی ہمیں اولاد کی طرح عزیز رہے ہیں ،مشکل وقتوں میں ہمارے گھر کو وہ جائے پناہ اور مقامِ سکون سمجھتے ۔۔۔ یہ ان کا اعتماد اور ہمارا اعزاز تھا ۔
ہمارے گھر کی پوری کوشش رہی کہ انہیں محبت اور حوصلہ دیں، پتہ نہیں کہ ہم اہنی ذمہ داریوں کو کتنا نبھا سکے لیکن آصف کے یہ الفاظ ہمیں بہت اطمینان دیتے کہ ہر مشکل وقت میں آپ کے گھرانے نے ہمیں اپنا بیٹا سمجھا ہے اور یہاں سے صرف بے غرض محبت اور ماں باپ والی شفقت ملی ہے ۔ آپ ہی ہمارے والدین ہیں ۔ بس اس گھرانے سے ہمیں ہمیشہ راحت و سکون ملا ہے ۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم میاں بیوی اور ہمارے سارے بچے ان سے محبت کرتے اور یہ بدلے میں ہمیں اتنی عزت و احترام دیتے کہ یہ بچے ہمارے کلیجے اور آنکھوں کی ٹھنڈک محسوس ہوتے ۔ آصف ، کاشف کی جوڑی بہت پیاری تھی ۔ دونوں بھائی ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے ، اس کے باوجود کہ انہوں نے بچپن میں بہت مشکلات دیکھی تھیں لیکن ان کی باہمی الفت اور دیگر لوگوں سے ان کے خوشگوار تعلقات ، حسنِ اخلاق بہت بے مثل رہے ہیں ۔
آصف بہت مہذب اور مؤدب بچہ تھا ۔ لگتا تھا کہ سرزمینِ محبت کی مٹی سے اس کا خمیر تیار کیا گیا تھا ۔ صرف محبت کرنا جانتا تھا ،کسی سے نفرت نہیں کر سکتا تھا حتیٰ کہ قابلِ نفرت لوگوں سے بھی نہیں۔
آصف بزرگوں سے لے کر بچوں تک سب کے دل جیتنے کا ہنر رکھتا تھا ۔ وہ دلوں پر راج کرتا تھا ۔۔ شاید اسے پتہ تھا کہ وہ بہت کم عمر لے کر آیا ہے ، اس نے یہ قلیل مدت ایثار کرنے اور پیار بانٹنے میں گزار دی ۔کبھی خود غرضی نہیں کی ، حسنِ اخلاق ، اعلیٰ ظرفی اور خوش مزاجی اس کی فطرت تھی ۔ لوگ اسے دھوکہ دے جاتے لیکن وہ حرفِ شکایت زبان پر نہ لاتا ، کسی سے ذکر کر کے دل کا بوجھ ہلکا نہ کرتا ۔۔ مجھے کہیں سے پتہ چلتا تو اسے سمجھاتا کہ آصف ، زندگی اس طرح نہیں گزرتی ، تھوڑا ہوشیار رہا کریں ، زندگی میں ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے ، آپ کسی کو دھوکہ اور تکلیف نہ دیں لیکن ساتھ ہی دھوکہ ، تکلیف دینے والوں سے بچنے کی سمجھ ضرور رکھا کریں ۔۔ لیکن مجال ہے کہ اس پر میری ان باتوں کا اثر ہوتا ہو ،
شاید وہ دنیا کو یہ بتانے کے لئے آیا تھا کہ زندگی کی مہلت اور مدت بہت کم ہوتی ہے ، ہم تھوڑے وقت کے مہمان ہوتے ہیں ، ہمیں محبتیں تقسیم کرنی چاہیئں ۔۔ کسی کا دل نہیں دکھانا چاہیئے ۔ دیکھو ۔۔ مجھے لوٹنے والو ، دھوکہ دینے والو، رنج و تکلیف دینے والو ۔۔ میرے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رقصاں رہتی ہے ۔۔ میں دل ہی دل میں تم لوگوں پر ترس کھاتا ہوں کہ یہ کتنے خسارے کے کام کر رہے ہیں، میں زخم کھا کر بھی ہمیشہ مسکراتا رہتا ہوں اور مسکراتا رہوں گا ۔ لیکن آزار پسند، حریص ، بخیل لوگ کبھی خوش نہیں رہ سکتے ۔ ایسے لوگ قابلِ ترس ہیں اور ہمیشہ گھاٹے میں رہیں گے ۔
آصف مجموعۂ حسنِ صفات تھا لیکن اس کے اندر ایک بہت بڑی "خامی " تھی کہ وہ ہر کسی کو خوش کرنے میں لگا رہتا ، اپنا خیال نہ رکھتا ، کبھی اپنی ذات کے لئے نہیں سوچا ، اسے پتہ ہوتا کہ اسے دھوکہ اور فریب دیا جا رہا ہے لیکن پھر بھی وہ اس لالچی ، خود غرض بندے کا بھرم رکھتا ، خود کو تکلیف و مصیبت میں مبتلا کر لیتا ، مجھ سمیت اس کے بہت سارے خیر خواہ اسے خبردار کرتے ، سمجھاتے لیکن اس کے چہرے پر ایک ہلکا سا تبسم آ جاتا ، میرے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کہتا کہ اب آپ کے کہنے کے مطابق ہوشیار اور سمجھدار بنوں گا ، انکار کرنے کی ہمت پیدا کروں گا ، خود کے بارے میں سوچوں گا ۔۔ لیکن ۔۔۔ اس نے یہ وعدہ مرتے دم تک پورا نہیں کیا ۔
واقفانِ حال جانتے ہیں کہ اس کی قبل از وقت رحلت کا سبب بھی وہ خود تھا ۔ وہ کبھی خود کے لئے نہیں سوچ سکا ، اس کی فطرت بہت اچھی تھی، اچھے برے کی تمیز سمجھتا تھا لیکن اس کی قوت یا جرآتِ فیصلہ بہت کمزور تھی ۔ سب کو خوش کرنے کے چکر میں اپنی زندگی گنوا دی لیکن کسی کو ناراض نہیں کیا ، اب جب اس کے پاس کچھ کو خوش رکھنے اور کچھ کو چھوڑنے کے سوا کوئی آپشن نہیں رہا تھا تو وہ سب کو چھوڑ کر چلا گیا کہ میں کسی کو دکھ نہیں دے سکتا ، دھوکہ دینے والے اور چہرے پر چہرے رکھنے والے کو بھی تکلیف نہیں دے سکتا ۔۔۔۔۔
وہ عین جوانی میں اگلے جہان چلا گیا ۔۔ بہت سے لوگوں کے لئے سوال چھوڑ کر کہ یار ۔۔ تم لوگ اتنے خود غرض کیوں ہو ؟ اس دنیا میں مہمان ہو کر بھی سینے میں بغض ، کینہ، کدورت ، لالچ ، مکر رکھ کر تمہیں کیا حاصل ہوتا ہے ؟ کیوں ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے ہو ؟ کیوں خود سکون سے نہیں رہتے اور دوسروں کو سکون سے کیوں نہیں رہنے دیتے ؟ دیکھو ۔۔۔ میں نے مشکل حالات میں بھی کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا ، کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا ۔۔ تمہارے پاس سب کچھ ہو گا لیکن مجھے جو عزت اور سکون نصیب ہے ، وہ تمہیں کبھی نہیں مل سکتے کیونکہ اس کے لئے تمہیں آصف جیسا جگر اور گردہ چاہیئے ۔۔
۔
لیکن آصف یہ باتیں کبھی نہ کہہ سکا ، دل ہی دل میں سب رکھتا گیا ، اس کے دماغ میں کشمکش رہتی ہو گی لیکن اس نے کبھی اظہار نہیں کیا ۔۔
آصف میری بات کو حکم کا درجہ دیتا تھا ، لیکن اس نے زندگی میں صرف میری یہ بات نہیں مانی کہ آصف ، بہادر بنو ۔۔ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا سیکھو ۔۔ لیکن وہ با ادب اور با اخلاق بچہ حد سے زیادہ اچھا تھا ۔ حد سے زیادہ اچھا ہونے کی وجہ سے وہ خود کو کرب و اذیت میں رکھتا لیکن اس کے چہرے کی مسکراہٹ اور معصومیت ، لہجے کی ملائمت ، اس کی اعلیٰ ظرفی اور صداقت ، اس کے کردار کی عظمت سدا برقرار رہی،
آصف یار ۔۔۔ تجھے ہم کبھی نہیں بھولیں گے ، پہلے تو ہمارے دلوں پر راج کرتا تھا، اب ہماری سوچوں پر تیرا غلبہ رہے گا ۔ تیری بے وقت موت پر تیرے دوست ، رشتے دار ، جاننے ، نہ جاننے والے سب افسردہ ہیں ۔ میں نے تیرے لئے ہر آنکھ اشکبار ، ہر دل سوگوار دیکھا ہے ۔ پتھر دل لوگ بھی بلکتے دیکھے ہیں ۔ میں تیری بیماری کے دوران روتا رہا ہوں ، تیرے دکھ میں بہت بار اور بے اختیار میرے آنسو بہے ہیں ، لیکن ہم سب کے رونے سے تو واپس نہیں آئے گا ۔۔ اس دنیا سے تیرے چلے جانے کا بڑا دکھ ہے ۔ تجھ جیسے لوگ دنیا و معاشرے کی ضرورت ہوتے ہیں جن سے صرف سکون ملتا پے ، تو پچیس چھبیس سال کی عمر میں بہت عزتیں اور محبتیں سمیٹ گیا ہے اور کچھ بدبخت ، بد قسمت آخر عمر تک اپنی عزت نہیں کروا سکتے ۔
آصف ۔۔ تو ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ اور دعاؤں میں غالب رہے گا ۔ تیرے حسنِ اخلاق و اخلاص ، صبر وحوصلہ کی مثالیں دی جاتی رہیں گی ۔ تو سب کے دل مفتوح کرتا تھا لیکن تیرے بعد ہمارے دل بہت ملول اور مغموم ہیں ۔ تیری یاد ، تیرے تصور میں آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ، دل روتا ہے اور زندگی کے آخری سانس تک تیری فرقت کا دکھ تازہ رہے گا ۔
بس دعا اور خواہش ہے کہ رحیم و کریم ذاتِ باری تجھے آگلے جہان میں تیری پیاری فطرت ، اپنے پرائے سے محبت ، کسی کو دکھ نہ دینے کی عادت کا اجر دے ، تو وہاں سکون سے رہے ۔
میرا اعتقاد پے کہ تمہارے ، ہمارے رب نے تیری روانگی و رحلت کے لئے ذی الحجہ کے مبارک عشرے ، سید الایام جمعہ مبارک کے دن کا انتخاب تیری خوبیوں کی وجہ سے کیا ہے ۔ تو نے کبھی کسی کا دل نہیں توڑا ، کسی کو نقصان نہیں پہنچایا ، کسی کو تکلیف نہیں دی ، کبھی کوئی لالچ نہیں کیا ۔۔۔۔ بس تو مجسمِ محبت تھا ۔۔ خدا تجھ جیسوں سے محبت کرتا ہے ، ابدی اور اخروی زندگی میں تجھ جیسوں کے لئے بہت بڑا اجر اور خوب صورت زندگی ہے ۔۔

21/05/2026

خدا حافظ ۔۔
میاں محمد قاسم صاحب کا خیر پور ڈاہا ہائی سکول میں آج آخری دن تھا ۔ سکول سٹاف نے انہیں خلوص ، محبت ، مسکراہٹوں کے ساتھ الوداع کیا ۔
ہماری دلی دعا ہے کہ وہ ہمیشہ عزت ، عافیت ، صحت و سکون سے رہیں ❤️

19/05/2026

آج فیس بُک دو سال پہلے کی وڈیو سامنے لایا تو مجھے بھی اپنی ایک غلطی کا اعتراف کرنے کا موقع مل گیا ہے ۔ میں نے اس وڈیو میں جو سامان دکھایا ، سب اشیاء کو ہاتھی دانت سمجھا اور یونہی بیان کیا ۔
بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اس طرح کی کچھ چیزیں مصنوعی طور پر تیار کی جاتی تھیں جو ہزاروں سال پہلے کے دستکاروں کی مہارت کا ثبوت ہیں ۔
اس وڈیو میں کچھ سامان ہاتھی دانت سے بنا ہوا ہے اور کچھ اشیاء سمندری جھاگ و دیگر چیزوں سے مصنوعی طور پر تیار کردہ ہیں۔
میں تاریخ کا طالب علم ہوں ۔ آثارِ قدیمہ ایک الگ علم ہے۔ میں نے اپنے علاقے کے مدفون شہر کی اشیاء دکھاتے ہوئے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ ان کے حوالے سے ماہرینِ علم و آثارِ قدیمہ رہنمائی کریں ۔۔
مجھے امیدِ واثق ہے کہ ایک دن دنیا ان چیزوں کی حقیقت کو مانے گی ۔۔ یہ بھی کہ ہمارا یہ خطہ ہزاروں سال قدیم تہذیب کا مولد و مسکن رہا ہے جس کے سارے ثبوت و شواہد میں وقتاً فوقتاً پیش کرتا رہتا ہوں ۔
میں نے ہاتھی دانت کی اشیاء سے متعلق دیگر وڈیوز بعد میں شیئر بھی کی تھیں

19/05/2026

حاجی غلام مصطفیٰ صاحب آف خیر پور ڈاہا کا دلی شکریہ ❤️
حاجی صاحب نے خیر پور ڈاہا ہائی سکول کے بچوں کے لئے پچھتر کاپیوں کا تحفہ بھیجا ہے ۔ ان کاپیوں کو کل طلباء میں تقسیم کیا جائے گا ۔۔ ان شاءاللہ
یہی لوگ معاشرے کا سنگھار ، وقار اور انسانیت کا اعتبار ہیں ۔۔ 💖
آئیں ۔۔ علم کے اجالے بانٹیں اور جہالت کے اندھیرے مٹائیں ❤️

16/05/2026

فطرت سے قربت اور محبت میرے لئے باعثِ سکون اور مسرت ہے ۔ گھر میں ایک چھوٹا سا باغیچہ میرے لئے بہت بڑی نعمت ہے جہاں پھول ، پودے ، پرندے ۔۔ مجھے ترو تازگی اور توانائی بخشتے ہیں ۔
فطرت کے حسین و جمیل رنگ زندگی میں روشنی اور نئی امیدوں کے چراغ روشن کئے رکھتے ہیں ۔۔
قدرت کے خوب صورت اور پُرکیف رنگ انسان کو دنگ اور مبہوت کر دیتے ہیں ۔ سر سبز پہاڑ ، حسین وادیاں، بہتے دریا، بپھرے سمندر ، مہکتے پھول ، چہکتے پرندے ، لہلہاتی فصلیں، بدلتے موسموں کے تیور ، برستے بادل، قوسِ قزح ، ابھرتا سورج، چمکتا چاند ، صحرا کا سحر ۔۔۔۔ غرض یہ کہ ہر طرف فطرت کے مناظر اہلِ دل اور اہلِ ذوق کو دعوتِ نظارہ دیتے ہیں ۔۔ ہم سب کو اپنے مصروف ، محدود اور مخصوص دائرے سے باہر نکل کر فطرت سے ضرور محظوظ ہونا چاہیئے کہ یہ ہمیں بہت سی روحانی اور جسمانی بیماریوں سے بچانے کا ٹانک ہیں 💖

Want your school to be the top-listed School/college in Bahawalpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

P/O Kotla Musa Khan Ahmadpur East Bahawalpur
Bahawalpur