Psychologation

Psychologation

Share

Psyche_Islamic Information, Online psychological services related to counseling and academia

06/10/2024

اساتذہ کے متعلق اپنے ذہن و دل میں جو خیالات و احساسات کی ایک یورش تھی سوچا اسے بھی صفحہِ فیسبک پر اتارا جائے۔ لیکن اس سے پہلے اپنے تمام اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گی، ہر ایک نے میرے اخلاق و کردار بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ چاہے وہ استاد کسی ادارے سے وابستہ تھے یا کسی اور مقام پر بلا واسطہ کچھ سیکھنے کو ملا، اور سب سے زیادہ تو میری پہلی درسگاہ میری امی جان کا کردار بہت اہم ہے۔

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اب استاد بننا کوئی نہیں چاہتا بلکہ جو کچھ اور بن نا سکے وہ بچ بچا کر بڑی مجبوری میں یا اچھا پیسہ اور عہدہ دیکھ کر استاد بن جاتے ہیں۔ کیا معلم بننے کے لیے یہی خصوصیات رہ گئی ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ہم سے بچپن میں سوال کیا جاتا کہ کیا بنو گے تو مجھ سمیت میرے اردگرد بسنے والوں میں بیشتر بچوں کا پہلا جواب استاد بننا ہوتا تھا، ساتھ کوئی ڈاکٹر، پائلٹ وغیرہ کا جوڑ بھی لگا دیتا تھا، ہاں تھوڑا اور سمجھ آنے پر ہر بچہ کوئی خاص شعبہ کا ذکر کرنے لگ جاتا تھا۔ لیکن اصل بات یہ ہی ہے کہ ٹیچر بننا بڑی شدید خواہش ہوتی تھی اور ہمارے کھیل میں بھی سب سے زیادہ یہی شامل ہوتا تھا کہ جب بھی کوئی پھپھو چاچو خالہ ماموں کے بچے اکٹھے ہوں، بہن بھائی آپس میں، حتی کہ دوستوں وغیرہ کے ساتھ بھی مل کر یہی ہوتا کہ آؤ گھر گھر کھیل لیں یا ٹیچر ٹیچر کھیل لیا۔ ایک مزے کی بات بتاؤں کہ بچپن میں مجھے ٹیچر بھی بننا تھا، ڈاکٹر بھی، (پارلر کھولنے کا بھی بہت شوق تھا😁 اور بھی پتا نہیں کیا کچھ)، پھر جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے تو دائرہ کار محدود ہوتا گیا تو خاندانی مشترکہ ووٹ ڈاکٹری کے نام تھا ( حالانکہ الحمدللہ میرے والدین نے کبھی بھی نہیں کہا تھا کہ ڈاکٹر بنائیں گے، نا کبھی زور دیا ہاں اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پڑھنے سے کام چوری کی اجازت دی ہو)، کچھ خدمت خلق کا شوق تھا اور لگتا تھا کہ صرف ڈاکٹر بن کر ہی یہ کام ہوگا، اور ایک ہمارے معاشرتی طور طریقوں کی بدولت بھی کہ ایک خاص طبقے کے نزدیک قابل فخر اور عزت کے لائق صرف وہی ہے جس نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور انہی رویوں کو دیکھ کر مجھے بھی شوق تھا کہ ڈاکٹر بننا ہے، لیکن دل میں بار بار خیال آتا کہ ڈاکٹر بن کے استاد بھی بنوں گی، بس دل ہی دل میں یہ آرزو پروان چڑھتی رہی۔ یہ خیالات اس لیے بھی تھے کہ میرے دادا اور نانا (اللہ تعالیٰ دونوں مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین) دونوں استاد رہے، پھر والدین نے ہمیشہ استاد کی عزت و احترام کا درس دیا، ان کی تکریم سے روشناس کرایا، خاندان میں اور بھی بہت سے لوگ تدریس سے وابستہ تھے تو ان کے بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ کچھ الحمدللہ ہر ایک مقام پر مجھے بہت بہت عمدہ اور نفیس طبیعت کے اساتذہ ملے، جن کی بدولت بہت کچھ سیکھا اور ہمیشہ ان کے لیے دعائیں نکلتی ہیں، اللہ تعالیٰ میرے سب محترم اساتذہ دنیا و آخرت کی آسانیاں عطا فرمائے آمین۔
غرض نا اب وہ استاد ہیں نا ہی ویسے با ادب شاگرد ہیں۔ شاگردوں کی بے ادبی اور وجوہات الگ ایک موضوع ہے، لیکن زیادہ مغموم کرنے والی بات اصل استاد کی مرکز میں غیر حاضری ہے، جو استاد بننے کے مستحق ہیں وہ وسائل سے محروم ہیں، اور متعدد وجوہات کی بدولت اس فریضے کو انجام دینے سے دور ہیں۔
کوئی بھی شعبہ مضمون اختیار کریں لیکن اگر واقعی آپ میں معلم بننے کی صلاحیت ہے تو آگے آئیں اور اپنا فرض ادا کریں تاکہ ہمارے پاس ہماری قوم میں بھی بہترین تربیت گاہوں کا وجود برقرار رہ پائے جو کہ بڑی تیزی سے تنزلی کا شکار ہے۔ اپنے بچوں کی سوچ کے زاویوں میں اساتذہ کا عزت و اکرام اور مقام واضح کریں تاکہ نئی نسل میں بھی تدریس کے فرائض نبھانے کی خواہش پیدا ہو۔
اب تو ایسے خواب کو شرمندہِ تعبیر کرنے والے نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔۔ ایسے ایسے لوگ استاد کے روپ میں نظر آتے ہیں کہ بیان سے باہر ہے۔ دنیا میں ہر شعبے کے کچھ خاص نظم و ضبط اور شرائط ہوتی ہیں تو کیا ہمارے پاس اقدار کا اس قدر فقدان ہے کہ ہم ایک معزز استاد اور فیشن شو میں شرکت کے لیے آئے ماڈل میں بھی فرق نا کر سکیں، غرض کچھ نئے نئے لوگ (معذرت کہ ایسے لوگوں کے لیے استاد لکھنا بھی گراں گزرتا ہے) تو اس طرز کا حلیہ اور چال ڈھال ایسی بنائے ہوتے ہیں کہ کیا ہی کسی الہڑ و لاپرواہ کا ہو گا۔ خدارا جس بھی وجہ سے ہی سہی اگر آپ اس عظیم الشان منصب پر فائز ہو گئے ہیں تو اس کی ناموس کا خیال رکھیں یہ تو انبیاء کی وراثت ہے، اس کے مقام کو اپنی وقتی خواہشات و ضروریات کی نظر نا کریں۔ شاگردوں کو اپنائیں اور ان کی اخلاقی تربیت و تعلیم کا خصوصی اہتمام کریں۔

اس ضمن میں ایک بات واضح کر دوں کہ ڈاکٹر بننا واقعی میں آسان نہیں اور نا ہی ڈاکٹر بن کر زندگی آسان ہو گی، بہت محنت طلب ہے ، اس لیے ہر بچے کو اس کا شوق نا دلائیں، جن میں یہ لگن اور رمق موجود ہے ان کو آگے بڑھائیں ورنہ ہمارے ہاں اس شعبے میں بھی غیر ضروری افراد کی کمی نہیں ہے۔

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
✍️نیلم ظفر
نشر مکرر (5 اکتوبر 2023 کی پوسٹ)

کوشش ہے کہ ہمارے ہاں جو تعلیم اور تربیت کے نام پر ہو رہا ہے اور جس طرح تعلیم کا اصل غائب ہو گیا ہے اور اساتذہ کے کردار کیوں اور کیسے معلم سے ہٹ کر کچھ اور بن گیا ہے، ان سب پر سیریز شروع کر کے بات کروں گی۔ ان شاءاللہ

21/12/2023

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
" ہم اور مہنگائی"
شدید دکھ محسوس کر رہی ہوں یہ لکھتے ہوئے بھی اور سوچتے ہوئے بھی اضطراب رہتا ہے کہ من حیث القوم ہم کس درجے میں کھڑے ہیں۔ آج کے دکھ کی وجہ بنی ہے ہمارے معاشرے میں رائج برینڈ سیسٹم اور ان کی بدولت عوام کا معاشی اور اخلاقی استحصال۔ معیاری چیزوں کا مہنگا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے نا ہی مہنگائی کوئی نئی چیز آئی ہے، ہر دور میں یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے، لیکن جو صورت حال اب سوشل میڈیا کے ذریعے ہر لمحے اشتہارات کی ترسیل کی وجہ سے برپا ہے وہ ہمارے معاشرتی نظام اور صحت مند زندگی کیلئے خطرہ ہے۔ وہ اس طرح سے کہ کچھ عرصہ قبل تک لوگ بوقت ضرورت بازار یا مال وغیرہ جاتے تھے اور اتنا وافر وقت نہیں ہوتا تھا کہ دن و رات کا بیشتر وقت ونڈو شاپنگ کے نام پر ضائع کریں یا قیمت پوچھ پوچھ کر خفگان کا شکار ہوں اور دوسروں کو بھی کریں۔اگر اپنی استطاعت سے زائد قیمت ہوتی تو کسی اور مناسب جگہ چلے جاتے تھے، اور جو مہنگی ترین چیز نہیں لے سکتے تھے اس کا غم بھی وقتی کیفیت ہوتی تھی لیکن اب تو ادھر سوشل میڈیا پر آپ کے سامنے بازار ہر لمحہ کھلا ہے اور ترغیب دیتے ہوئے سیل بھی لگ جاتی ہے جس میں عوام کو مزید بے وقوفی کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ کہیں یہ نہیں ہوتا تو ویسے ہی بلا شبہ آسمان کو چھوتی قیمتوں نے ہمارے زیادہ تر سفید پوش طبقے کو ڈپریشن میں مبتلا کر دینا ہے، اور بھی اس سے ملتے جلتے مشاہدات ہم سب کے علم میں ہیں۔ اور آج میرے غم کی وجہ بھی مبلغ آٹھ ہزار روپے کا جوتے کا جوڑا قوت خرید سے باہر ہونا نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ اتنا مہنگا ہوا ہی کیوں ؟ اور صرف ایک برینڈ پر نہیں میں نے تحقیق میں بہت سے پاکستانی برینڈ کو سٹالک کیا ہے سب ایک دوسرے سے آگے بڑھ گئے ہیں، اور پھر اگر کپڑوں کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہاں بھی منظر کچھ خوش نما نہیں۔
یقین کیجیے یہ انتہائی شرم کا مقام ہے ہم سب کے لیے بھی اور ان برینڈز کے لیے تو تف ہے اس طرز معیشت پر۔ کوئی قابلِ فخر بات نہیں نا قابلِ ستائش کہ ہم آٹھ دس ہزار کے جوتے اور بیس پچیس ہزار کے جوڑے (خیال رہے کہ میں عروسی ملبوسات کی بات نہیں کر رہی، خیر سے عام استعمال والے اور ہلکے پھلکے پارٹی ویئر کی قیمت ہے یہ) پہن کر مطمئن ہوں کہ اللّٰہ نے مال دیا ہے تو استعمال کیوں نہ کریں۔ او بھئی سب سے پہلے تو اللّٰہ نے جو عقل دی ہے وہ استعمال کر لیں تاکہ آپ کے شعور میں بھی یہ بات پہنچے کہ اردگرد موجود لوگ بھی اللّٰہ نے ہی تخلیق کیے ہیں ان کے لیے بھی اتنا ہی درد ہے دل میں ؟ دلائل دینے والے تو بہت سے ہوں گے لیکن میرے ذہن میں ایک ہی تکرار ہو رہی ہے کہ میرے پیارے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو اپنے لیے پسند کرو وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرو (مفہوم حدیث) تو اس کے بعد کون سی حجت رہ جاتی ہے، اگر حیثیت و استطاعت رکھنے والا طبقہ ان ٹرینڈز کے خلاف عملاً اقدامات کرے گا تو بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے، خدارا اپنے لوگوں کے لیے آسانیوں کا باعث بنیں نا کہ ایسی ڈور کا حصہ بنیں جو ہمارے ہی لوگوں کا معاشی و سماجی و نفسیاتی استحصال کر رہی ہے۔
میرے ذہن سے یہ سوچ نہیں جاتی کہ ہم نے کس بنیاد پر معاشی ترقی کرنی ہے ، معاشی اصلاحات کیوں نہیں کئے جاسکتے ، کیوں ہماری عام عوام کی پہنچ سے بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی اتنا کٹھن بنا دیا گیا ہے، سٹیٹس کو سے ہم نے کیا حاصل کر لیا ہے ؟ کیا ہمارے ملک میں 50 فیصد لوگ ایسے ہیں جو آٹھ ہزار کے جوتے خریدنے کی سکت رکھتے ہیں ؟ اس کو چھوڑیں میرے خیال میں ہم اتنے بھی نا سمجھ نہیں، ہمارے ہاں تو تین ہزار کے جوتے خریدنے کی سکت رکھنے والے بھی پچاس فیصد نہیں ہیں، تو پھر ہمارا سسٹم، معاشی منتظمین کہاں ہیں ؟ کیوں کوئی پرائس کنٹرول کمیٹی عملاً حرکت میں نظر نہیں آتی ؟ جس کا جیسے دل کرتا ہے جتنا دل کرتا ہے ، جائز و نا جائز سے بے پروا ہو کر منافع لے رہا ہے، ضمناً بات کپڑوں اور جوتوں کی کر دی ورنہ کوئی چیز بچی ہوئی نہیں ہے اس المیے سے۔
جواب بھی ہم سب کو ہی پتا ہے، سب کے سب صرف اپنے اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، اپنی آسائشوں کے لیے موقع بناتے ہیں، عوام تو احمق اور صم بکم کی تصویر ہے نا اپنے حق کے لیے اٹھے گی، نا اللّٰہ کی زمین پر اللّٰہ کا نظام رائج کرنے کے لیے کاوش کرنی ہے ، نا کسی سے واسطہ، بس منتظر ہیں کہ کوئی اور آ کے حالات درست کرے بقول اقبال
تھے تو آبا وہ تھارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو
قادرِ مطلق، رحمٰن و رحیم رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
بات ابھی مکمل نہیں ہوئی، بقیہ حصہ دوم میں ان شاءاللہ

( کوئی بھی بات ہو آج کل تو وہ ہمارے القدس کے لیے دعا کے بغیر مکمل نہیں ہوتی،
فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے اور اس پر ہماری مسلم ریاستوں بالخصوص پاکستان اور عرب مملکتوں کی کارکردگی پر تو ہر حقیقی معنوں میں مسلمان شرمندہ بھی ہے اور دعا گو بھی ہے کہ اللّٰہ رب العزت مسلم امہ کو مثلِ عمر بن خطاب فرماں روا عطا فرمائے آمین)



✍️ نیلم ظفر
۱۰ دسمبر ۲۰۲۳

21/12/2023

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ہمارے ہاں طویل عرصے سے ایک کثرت سے کی جانے والی سنگین غلطی جس کے نتائج بھی اکثر و بیشتر نظر آتے رہتے ہیں اس کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے
اُردو ادب کا مطالعہ کریں تو بہت سے بہترین لکھاری موجود ہیں، جن کی تحریریں دلپزیر اور تفکر و تدبر سے بھرپور ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ ایسا مواد بھی موجود ہے جو سراسر غلط پیغام دیتا رہا ہے اور آج کل تو یہ عام ٹرینڈ بن چکا ہے۔ یعنی بات ہو رہی ہے "بھاگ کر شادی کرنے کی"، تمام لکھاری ایسا نظریہ مثبت پیش نہیں کرتے اور اس کی مذمت میں ہی ادب تخلیق کرتے ہیں مگر ایک کثیر تعداد اس موضوع کو دلائل کے ساتھ حق بجانب ثابت کرتی نظر آتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے مسلم لکھاری خواتین و حضرات نے علم دین کو اس قدر پسِ پشت ڈال دیا ہے کہ جو چیز مکمل طور پر حرام رشتے کو ظاہر کر رہی ہے ہم اُسے ایک معمول بنا رہے ہیں، قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر ولی کی اجازت کے نکاح کی کوئی حیثیت نہیں ہے یعنی نکاح باطل ہو گیا، اور اس کے بعد جو رشتہِ ازدواج قائم ہوا وہ بھی ناجائز ہے یعنی ساری عمر اگر ایسے نکاح کی بدولت کوئی خود کو صحیح تصوّر کر کے ایک خاندانی نظام چلا رہا ہے تو یہ صریحاً غلط ہے ایک حرام کو حلال کر کے مت دکھائیں خُدارا۔ لکھنے سے قبل پڑھنے اور علم حاصل کرنے کی اہمیّت کو جانیں، کسی حساس موضوع پر لکھنے سے پہلے خاص طور پر پوری تحقیق کیا کریں اور پھر قلم کی نوک پر لائیں۔
ہمارے ہاں ایسی شادیوں کے بارے میں بے تحاشا ناول، افسانے موجود ہیں جن میں بہت کم لکھاریوں نے اس کو جرم دکھایا ہے اور اِس کی اسلامی توجیح بھی پیش کی ہے۔
آپ سب سے گذارش ہے کہ اس طرز کے موضوع پر لکھنے سے قبل ضروری اور مستند دلائل پر مبنی مواد حاصل کریں تا کہ جس تک پیغام پہنچے صحیح پہنچے اور کسی کی سوچ کو سیدھا راستہ فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو۔
آنلائن لکھنے والوں کا بہت ہی کم کام میں نے پڑھا ہے اُن میں ایک نام فریال خان بھی ہے جنہوں نے اس موضوع کو اس کی صحیح حقیقت کے ساتھ ہی لکھا ہے، ورنہ عمومًا آج کے آنلائن دور میں صرف مغربی تہذیب و ثقافت کے اثرات نظر آتے ہیں جن میں ایک "اپنی مرضی کی شادی" بنا کسی ولی کے بہت عمدگی کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔ اللہ کی پناہ
اللہ تعالیٰ آپ کو ہم سب کو نافع علم، دین و دنیا کی برکات عطا فرمائے، آسانیاں عطا فرمائے اور اپنی رحمت میں رکھے آمین
✍️ نیلم ظفر
20 دسمبر 2022

29/10/2023

"The world will not be destroyed by those who do evil, but by those who stand by and do nothing. "
Albert Einstein

13/12/2022

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اُمید ہے آپ سب مثبت انداز میں لیں گے ایک درستگی کو جو خاص کسی ایک کے لیے نہیں ہے بلکہ تمام لکھاری بہنوں اور حضرات کے لیے ہے کیوں کہ اکثر و بیشتر یہ جملہ ہماری روز مرہ زندگی میں عام مقبول ہے۔ "خدا جو ہمیں ستر ماؤں سے بھی زیادہ چاہتا ہے" یا اسی قسم کا کوئی اور فقرہ۔ تو یہ جملہ ہم تک کسی روایت یا سند یافتہ حدیث یا اقوال صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زریعے نہیں پہنچا بلکہ نا معلوم زریعے سے گفتگو کا حصہ بن چکا ہے۔ تقریباً ایک سے دو ماہ پہلے تک مجھے بھی علم نہیں تھا، قرآن کی تعلیم و فہم کے سفر میں ایک مقام پر اللہ عز وجل کی محبت و رحمت کے ذکر میں یہ نکتہ بھی واضح ہوا کہ اللہ تو وہ ذات اور ہستی ہے جس کی چاہت، رحمت، محبت و شفقت ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں نا ہی گنتی یا شمار کیا جا سکتا ہے، اسی لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ عام و خاص گفتگو اور معاملات میں جب بھی کوئی ایسا ذکر ہو تو رب العالمین کی صفات کو لا محدود اور شمار سے ماورا تصوّر کیا جائے اور لکھا پڑھا جائے۔ ہم اس طرح بھی جملہ ادا کر سکتے ہیں، مثلاً : "وہ اللہ ہمیں مشکل میں کیسے اکیلا چھوڑ سکتا ہے جو ہم سے اتنی محبت رکھتا ہے جتنی اس دُنیا و کائنات میں کوئی کسی سے نہیں رکھ سکتا، جس کا شمار ہی ممکن نہیں، جو ہمارے محدود حواس میں سما ہی نہیں سکتی، جو اتنی زیادہ ہے کہ سوائے اللہ رب العزت کے کوئی نہیں جان سکتا"...آپ بھی ضرور اس نکتے پر غور و فکر کریں۔
اُمید واثق ہے اس تحریر سے اللہ کی رحمت و مدد کے ساتھ ہمارے علم و عمل میں بہتری آئے آمین ثم آمین۔
✍️ نیلم ظفر

Want your school to be the top-listed School/college in Bahawalpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Bahawalpur