01/04/2026
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن صوبہ بھر میں معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
پیف سے منسلک اسکولوں میں داخلے جاری ہیں.
اپنے بچوں کو آج ہی پیف سے منسلک سکولوں میں داخل کروائیں اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے:
✔ بچوں کی فیس ادا کی جاتی ہے
✔ مفت درسی کتب فراہم کی جاتی ہیں
یہ صرف تعلیم نہیں… یہ ایک بہتر کل کی ضمانت ہے۔
دیر نہ کریں، آج ہی اپنے بچے کا داخلہ یقینی بنائیں۔
#پنجاب
23/03/2026
🇵🇰 یومِ قراردادِ پاکستان – 23 مارچ 1940 🇵🇰
وہ دن جب ایک خواب نے حقیقت کا روپ دھارنا شروع کیا…
جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک علیحدہ وطن کا عزم کیا…
✨ لاہور کی تاریخی سرزمین پر منظور ہونے والی قرارداد نے ہمیں پاکستان جیسی نعمت عطا کی۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
✔️ اتحاد میں طاقت ہے
✔️ ایمان ہماری پہچان ہے
✔️ قربانی کامیابی کی کنجی ہے
آئیں عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
💚 پاکستان زندہ باد! 💚
20/03/2026
🌙 *چاند رات بہت بہت مبارک ہو*🌙
اللہ پاک آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، رحمتوں اور آسانیوں سے بھر دے۔
آنے والی عید آپ سب کے لیے ڈھیروں خوشیاں اور محبتیں لے کر آئے۔
اپنے پیاروں کو یاد رکھیں اور دعاؤں میں ضرور شامل کریں 🤲✨
*منجانب!*
عبدالجلیل
11/03/2026
✨ الحمدللہ! تعلیمی سفر کا ایک اہم موڑ ✨
کل الھدیٰ پبلک ہائی سکول کے ہونہار طلباء کا کوالٹی ایشورنس ٹیسٹ (QAT) منعقد ہونے جا رہا ہے۔ یہ دن ہمارے بچوں کی محنت اور اساتذہ کی لگن کے ثمر کا دن ہے۔ 📚🖊️
ہماری دعا ہے کہ:
🤲 اللہ تعالیٰ تمام طلباء کو ان کی محنت کا بہترین صلہ عطا فرمائے۔
🤲 انہیں امتحان میں مکمل اعتماد، ذہنی سکون اور شاندار کامیابی نصیب فرمائے۔
🤲 باری تعالیٰ ان کے علم و عمل میں برکت دے اور انہیں والدین، اساتذہ اور ملک و قوم کا نام روشن کرنے والا بنائے۔
📢 والدین اور احباب سے خصوصی گزارش:
آپ سب سے التماس ہے کہ ہمارے بچوں کی کامیابی کے لیے اپنی دعاؤں میں خصوصی حصہ ڈالیں۔ آپ کی ایک دعا ان کے مستقبل کو سنوار سکتی ہے۔ 💫
اللّٰہ تعالیٰ سب کا حامی و ناصر ہو اور سب کو کامیاب کرے۔ آمین! 🤲🌷
09/03/2026
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے منسلک سکولوں میں کوالٹی ایشورنس ٹیسٹ(QAT) شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔
حکومت پنجاب کے احکامات کے مطابق صوبے بھر میں پبلک اور پرائیویٹ سکولز 10مارچ سے 31 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب کے فیصلے کے مطابق جاری امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔اسی تناظر میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے منسلک سکولوں میں ہونے والے کوالٹی ایشورنس ٹیسٹ (QAT) جاری کردہ شیڈول کے مطابق منعقد کیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں تمام پیف پارٹنرز اور لائسنسیز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مقررہ شیڈول کے مطابق طلباء و طالبات کی امتحانات میں شرکت کو یقینی بنائیں۔
07/03/2026
الہدیٰ پبلک سکول بستی گڑھکنہ بہاولنگر
نرسری تا ہشتم کلاس
محدود نشستوں میں داخلے جاری ہیں
18/02/2026
🌙 رمضان مبارک
الھدیٰ پبلک ہائی سکول بہاولنگر کی جانب سے تمام طلباء و طالبات، اساتذہ کرام اور والدین کو رمضان المبارک کی دلی مبارکباد۔ دعا ہے کہ یہ بابرکت مہینہ ہمیں ایمان کی مضبوطی، علم کی روشنی، نیک اعمال، مغفرت اور زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین
05/02/2026
"کشمیر بنے گا پاکستان! 🇵🇰❤️
الھدیٰ پبلک ہائی سکول بہاولنگر کی جانب سے اہل کشمیر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار۔ ہماری دعائیں اور ہماری آواز ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ ہے۔"
03/02/2026
الہدی پبلک ہائی سکول بہاولنگر
کی جانب سے تمام طلباء و طالبات، اساتذہ کرام، اور والدین کو شبِ برات کی دلی مبارکباد۔ دعا ہے کہ یہ بابرکت رات ہمیں ایمان کی مضبوطی، علم کی روشنی، نیک اعمال، مغفرت اور زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین
18/01/2026
والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچہ صبح اسکول کے دروازے میں داخل ہوتا ہے، کئی والدین ذہنی طور پر خود کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب فیس ادا ہو چکی ہے، لہٰذا باقی تمام فرائض بھی ادا ہو گئے۔
اب یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تعلیم بھی دے، اخلاق بھی سکھائے، تربیت بھی کرے، تمیز بھی دے، ہنر بھی دے، اور اگر ممکن ہو تو ایک مکمل “اچھا انسان” پیک کر کے شام کو واپس کر دے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ سوچ والدین کو اپنی اصل ذمہ داری سے بری الذمہ کر دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسکول کے پاس بچے کے دن کے صرف چند گھنٹے ہوتے ہیں، اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں، ایک طے شدہ نظام کے تحت۔ اسکول نصاب پڑھا سکتا ہے، کچھ عادات سکھا سکتا ہے، کچھ حدود متعین کر سکتا ہے، مگر وہ بچے کی پوری شخصیت نہیں بنا سکتا۔ انسان کی تعمیر کوئی ایک جگہ، ایک ادارہ یا ایک فرد نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کے اردگرد موجود ہر چیز شامل ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہ سب اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔
بچہ اصل میں گھر میں بنتا ہے۔ ماں باپ کے رویّے، ان کی گفتگو، ان کا غصہ، ان کی برداشت، ان کا سچ، ان کا جھوٹ، یہ سب لاشعوری طور پر بچے کے اندر منتقل ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کا لہجہ، رشتہ داروں کا انداز، گھر کا مجموعی ماحول، یہ سب بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد گلی محلہ آتا ہے، جہاں وہ مختلف لوگوں کو دیکھتا ہے، مختلف زبانیں سنتا ہے، مختلف رویّے سیکھتا ہے۔ بازار سے گزرتے ہوئے، ٹرانسپورٹ میں بیٹھتے ہوئے، دکانوں کے سامنے رکتے ہوئے، وہ ایسی آوازیں اور مناظر دیکھتا ہے جو اس کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
پھر ہمارے دور کا سب سے طاقتور استاد آتا ہے: اسکرین۔ موبائل فون، ٹی وی، کارٹون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو دن کے کئی گھنٹے بچے کی سوچ، زبان، ردعمل اور رویّے کو شکل دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب موبائل کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ صرف وقت ضائع نہیں کر رہا ہوتا، وہ ایک خاص قسم کی دنیا اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔ وہ دنیا جس میں چیخ ہے، جلدی ہے، ضد ہے، غصہ ہے اور غیر ضروری خواہشات ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر بچہ یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں میں جذب کر رہا ہے تو کیا صرف چھ گھنٹے کا اسکول اس سب کا توڑ کر سکتا ہے؟
یہاں ذرا انصاف سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہو، گفتگو تلخ ہو، والدین خود موبائل میں گم ہوں، بچے کو وقت نہ دیا جائے، اس کے سوال نہ سنے جائیں، اس کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، اور پھر یہ توقع رکھی جائے کہ اسکول جا کر وہ خودبخود سدھر جائے گا، تو یہ ایک فریب ہے۔
اسکول ذمہ دار ضرور ہے، مگر وہ والدین کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ استاد بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلانا والدین کا کام ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ بچہ اسکول کا نہیں، آپ کا ہے۔ اس کا مستقبل فیس سے نہیں بنتا، ماحول سے بنتا ہے۔ اس کی زبان، اس کی سوچ، اس کا رویّہ، اس کا اخلاق — یہ سب کچھ اس وقت بنتا ہے جب وہ اسکول سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر کمی، ہر خرابی اور ہر ناکامی کا الزام صرف اسکول پر ڈال دیں گے تو نہ بچہ سنورے گا، نہ نظام بہتر ہو گا، اور نہ ہی معاشرہ آگے بڑھے گا۔
یاد رکھئے، تعلیم اسکول دیتا ہے، مگر انسان گھر بناتا ہے۔ جب تک والدین یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم اسکول کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے اور خود بری الذمہ بنتے رہیں گے۔ اور یہ رویّہ سب سے زیادہ نقصان اسی بچے کو پہنچاتا ہے، جس کے نام پر ہم سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوتے ہیں۔
18/01/2026
السلام علیکم!
امید ہے سب خیریت سے ہوں گے ۔ آپ کو مطلع کیا جاتا ہے مورخہ 2026- 01 - 19 (بروز سوموار) سے سکول معمول کے مطابق کھلے گا۔ تمام والدین سے گزارش ہے بچوں کی حاضری کو یقینی بنائیں ۔ وقت کی پابندی کا خیال رکھیں ۔
شکریہ!!
منجانب
پرنسپل الھدیٰ پبلک ہائی سکول