31/05/2026
خبرِ غم
خواجۂ خواجگان حضرت مولانا محمد فخرالدین فخرِ جہاں غریب نواز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے سجادہ نشین شیخِ طریقت سیدی آقائی حضرت خواجہ غلام محی الدین فخری قدس سرہ العزیز وصال فرما گئے ہیں۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
اللہ تعالیٰ حضرت غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جملہ متعلقین، محبین، مریدین و عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
28/03/2026
چشتیہ رباط فاونڈیشن کے زیر اہتمام پہلی " نظام رات " عالمی صوفی مبلغ سئیں قبلہ صاحبزادہ عاصم مہاروی سئیں کی زیر سرپرستی ، نور منزل، چشتیاں شریف میں منعقد ہوئی۔
اس پہلی نظام رات کی نظامت میرے لیے باعث اعزاز تھی۔ ملک بھر سے مہمانوں نے پہلی نظام رات میں شرکت کی۔
پاکستان کے معروف ڈرامہ آرٹسٹ سئیں ثاقب سمیر، معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر احسان الحق چشتی ، عالمی شہرت یافتہ ستار نواز سئیں وجہیہ نظامی اور خوبصورت گلو کار سئیں محسن فیاض نے خصوصی شرکت کی۔
قبلہ ڈاکٹر عصمت اللہ شاہ سئیں کی محبت تو ہر حال میں شامل رہی ،
کمال محبت سئیں قبلہ صاحبزادہ عاصم مہاروی سئیں ۔
#اطہرلاشاری
28/03/2026
بہ شکریہ ڈاکٹر عصمت اللہ شاہ سئیں
چشتیہ رباط انٹرنیشنل فاؤنڈیشن ،خانقاہی نظام کے احیا اور اسے جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے بنائی جانے والی ایک ایسی تنظیم ہے جس کے میر مرابط عالمی شہرت یافتہ صوفی سکالر سئیں صاحبزادہ عاصم مہاروی ہیں۔جو سلسلہ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ سئیں خواجہ نور محمد مہاروی قبلہ عالم سرکار کے خانوادے کے قابل فخر سپوت ہیں۔خانقاہوں سے متعلق شخصیات کی طرف سے عقیدت مندوں اور دھرتی واسیوں کو کچھ عطا کرنے کا سلسلہ پچھلے کچھ عرصے سے اس طرح فعال نہیں رھا،جس طرح صدیوں سے چلا آرھا تھا بلکہ اب تو اس جانب سے یہ توقع کی جاتی ھے کہ " آسو تاں کیا گھن آسو ؟ تے اساں آسوں تاں کیا ڈیسو؟" پچھلے سال خادم دربار فرید سئیں کلیم الدین کوریجہ کی طرف سے سرائیکی وسیب کے مہاندرے لکھاریوں ،فنکاروں اور سماجی خدمات کے حوالے سے نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو " نشان فرید ایوارڈ" دے کر خانقاہی نظام کی اصل روایت کو ازسرنو زندہ کیا گیا۔جو یقیناً ایک قابل تحسین عمل ھے۔
معروف صوفی سکالر صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی نے چشتیہ رباط کے تحت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی سے منسوب " نظام رات" کی بنیاد بھی اسی عزم و یقین سے رکھی ھے کہ مرنے کے بعد " خراجِ عقیدت" پیش کرنے کی بجائے زندہ شخصیات کو "خراجِ تحسین" پیش کیا جائے۔
جس کا بنیادی خیال " where culture breathes and souls connect " ہے۔
اس حوالے سے فقیر اور پیارے اطہر لاشاری کو بھی مشاورت میں شامل ھونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔پہلی " نظام رات" میں سرائیکی وسیب کے مہان شاعر سئیں عزیز شاہد کے اعزاز میں ایک شاندار اور باوقار تقریب سجائی گئی جس میں نظامت کے فرائض معروف سرائیکی شاعر سئیں اصغر گورمانی نے انجام دیے ۔دوسری نظام رات میں چشتیاں شریف سے تعلق رکھنے والے لاھور میں مقیم ملک کے معروف ماہر نفسیات اور جدید اردو نظم کے باکمال شاعر ڈاکٹر احسان الحق چشتی،بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ملک کے معروف ڈراما آرٹسٹ سئیں ثاقب سمیر ،پاکپتن شریف سے تعلق رکھنے والے معروف صوفی گائیک سئیں محسن فیاض اور تان سین کے خاندان کے ہونہار چشم و چراغ بین الاقوامی شہرت یافتہ ستار نواز سئیں وجہیہ نظامی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔جس میں نظامت کی ذمہ داری سرائیکی وسیب کی ہر دلعزیز شخصیت سئیں اطہر لاشاری نے خوب نبھائی ۔اس سحرانگیز اور یادگار تاریخی تقریب کے اختتام پر میر مرابط صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی کی طرف سے اعزازی شیلڈز بھی عطا کی گئیں ۔ فقیر بھی اس اعزاز سے نوازا گیا ۔اللہ کرے نظام رات کا یہ سفر یونہی جاری وساری رہے اور اس کے ذریعے خانقاہ کی طرف سے عرصے سے رکاھوا بہترین معاشرے کی تشکیل کا سفر پھر سے شروع ھو سکے۔ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں چشتیہ رباط اور سئیں عاصم مہاروی سرکار کے لئے!!!!
10/01/2026
اس قدر پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے
کہ فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا
خانقاہ کی زندگی —- جہاں درویشی محض تصور نہیں ، بلکہ جینے کا ہنر ہے۔
کیا آپ نے یہ تجربہ کیا ہے؟
وہ احباب جو ابھی تک کسی صوفی خانقاہ پر رہنے کا ذائقہ نہیں چکھ سکے۔ آپ میں سے کتنے ہیں جو یہ تجربہ حاصل کرنا چاہیں گے؟
آپ کے کمنٹس کے منتظر ۔
دُعاگُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی چشتی نظامی
چشتیہ رباط مرکز تعلیمات صوفیہ