25/07/2026
حبیب بورقیبہ - جدید تیونس کے بانی* 🇹🇳
*حبیب بورقیبہ* تیونس کی تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت تھے۔ انہیں *"جدید تیونس کا باپ"* اور *"المجاہد الاکبر"* یعنی *"عظیم مجاہد"* کہا جاتا ہے۔
*1. ابتدائی زندگی اور تعلیم*
حبیب بورقیبہ 3 اگست 1903 کو تیونس کے شہر *منستیر* میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے *فرانس* کا رخ کیا اور وہاں سے قانون اور سیاسیات میں ڈگری حاصل کی۔ فرانس میں رہتے ہوئے انہوں نے محسوس کیا کہ تیونس کے لوگ غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی دن انہوں نے قسم کھائی کہ وہ اپنے ملک کو آزاد کروا کر رہیں گے۔
*2. آزادی کی جدوجہد*
اس وقت تیونس پر فرانس کا قبضہ تھا۔ بورقیبہ نے 1934 میں *"نیو دستور پارٹی"* بنائی۔ انہوں نے جنگ کی بجائے پرامن طریقے، تقریروں اور سیاسی دباؤ سے آزادی کی تحریک چلائی۔ کئی بار انہیں جیل بھی جانا پڑا۔
آخرکار ان کی محنت رنگ لائی اور *20 مارچ 1956* کو تیونس کو فرانس سے آزادی مل گئی۔ 1957 میں انہوں نے بادشاہت ختم کر کے *تیونس کے پہلے صدر* کا عہدہ سنبھالا۔
*3. جدید اصلاحات*
بورقیبہ صرف ایک سیاستدان نہیں تھے بلکہ وہ ایک بڑے مصلح بھی تھے۔ انہوں نے تیونس کو ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے بہت کام کیا:
1. *خواتین کے حقوق*: انہوں نے 1956 میں "ذاتی حیثیت کا قانون" نافذ کیا۔ اس قانون کے تحت تعدد ازواج یعنی ایک سے زیادہ شادیاں ختم کر دیں، لڑکیوں کی شادی کی عمر مقرر کی اور عورتوں کو طلاق کا حق دیا۔ اس وجہ سے تیونس آج بھی عرب دنیا میں خواتین کے حقوق کے معاملے میں سب سے آگے ہے۔
2. *تعلیم*: انہوں نے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا نظام بنایا۔
3. *سیکولر ریاست*: انہوں نے مذہب اور سیاست کو الگ رکھا تاکہ ملک جدید خطوط پر ترقی کر سکے۔
*4. آخری ایام اور ورثہ*
حبیب بورقیبہ تقریباً 30 سال تک یعنی 1957 سے 1987 تک تیونس کے صدر رہے۔ 1987 میں بڑھاپے کی وجہ سے انہیں صدارت سے الگ کر دیا گیا۔ وہ 6 اپریل 2000 کو اپنے آبائی شہر منستیر میں وفات پا گئے۔
*نتیجہ*
حبیب بورقیبہ نے نہ صرف تیونس کو آزادی دلائی بلکہ اسے ایک جدید قوم میں تبدیل کر دیا۔ ان کا مشہور قول تھا: *"تعلیم ہی ترقی کی کنجی ہے"*۔ آج بھی تیونس کی بڑی سڑکوں اور یونیورسٹیوں کا نام ان کے نام پر ہے۔
24/07/2026
کینزو تانگے - Kenzo Tange
اسلام آباد سپریم کورٹ کی عمارت کے معمار
کینزو تانگے جاپان کے عظیم آرکیٹیکٹ تھے۔ وہ 4 ستمبر 1913 کو جاپان میں پیدا ہوئے اور ٹوکیو یونیورسٹی سے فنِ تعمیر کی تعلیم حاصل کی۔ انہیں "جدید جاپانی آرکیٹیکچر کا باپ" کہا جاتا ہے۔ 1987 میں انہیں آرکیٹیکچر کا سب سے بڑا ایوارڈ "پرٹزکر پرائز" بھی ملا۔
ان کی سب سے بڑی خاصیت روایتی مشرقی فن اور جدید ٹیکنالوجی کا حسین امتزاج تھا۔ پاکستان میں ان کا سب سے نمایاں کارنامہ *اسلام آباد کی سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت* ہے جسے انہوں نے 1993 میں ڈیزائن کیا۔ اس عمارت میں انہوں نے گول شکل، نیلا شیشے کا گنبد اور پانی کے فواروں کے ذریعے "انصاف اور مساوات" کا تصور پیش کیا۔ سفید سنگِ مرمر اور کھلی فضا اس عمارت کو منفرد بناتی ہے۔
کینزو تانگے کا ماننا تھا کہ عمارت صرف اینٹ اور پتھر نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔
24/07/2026
مشہور جاپانی آ رکیٹیکٹ
کینزو تانگے - Kenzo Tange
: اسلام آباد سپریم کورٹ کی عمارت کے معمار*
کینزو تانگے جاپان کے عظیم آرکیٹیکٹ تھے۔ وہ 4 ستمبر 1913 کو جاپان میں پیدا ہوئے اور ٹوکیو یونیورسٹی سے فنِ تعمیر کی تعلیم حاصل کی۔ انہیں "جدید جاپانی آرکیٹیکچر کا باپ" کہا جاتا ہے۔ 1987 میں انہیں آرکیٹیکچر کا سب سے بڑا ایوارڈ "پرٹزکر پرائز" بھی ملا۔
ان کی سب سے بڑی خاصیت روایتی مشرقی فن اور جدید ٹیکنالوجی کا حسین امتزاج تھا۔ پاکستان میں ان کا سب سے نمایاں کارنامہ *اسلام آباد کی سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت* ہے جسے انہوں نے 1993 میں ڈیزائن کیا۔ اس عمارت میں انہوں نے گول شکل، نیلا شیشے کا گنبد اور پانی کے فواروں کے ذریعے "انصاف اور مساوات" کا تصور پیش کیا۔ سفید سنگِ مرمر اور کھلی فضا اس عمارت کو منفرد بناتی ہے۔
کینزو تانگے کا ماننا تھا کہ عمارت صرف اینٹ اور پتھر نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔
23/07/2026
ایک عظیم فریڈم فائٹرز"احمد بن بیلا
الجزائر کی تاریخ کے سب سے بڑے انقلابی رہنما اور ملک کے پہلے صدر تھے۔ وہ 25 دسمبر 1916 کو مغربی الجزائر کے ایک چھوٹے سے قصبے مغنیہ میں پیدا ہوئے۔ جوانی میں ہی انہوں نے فرانسی نوآبادیات کے ظلم کو قریب سے دیکھا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ملک کو آزاد کروا کر رہیں گے۔
1954 میں انہوں نے اپنے 8 ساتھیوں کے ساتھ مل کر *FLN یعنی National Liberation Front* کی بنیاد رکھی اور فرانس کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی۔ یہ جنگ 8 سال تک چلی۔ فرانس نے 1956 میں انہیں اغوا کر کے 5 سال تک سخت جیل میں رکھا، لیکن اس سے تحریک کمزور ہونے کے بجائے اور مضبوط ہوئی۔
آخرکار 5 جولائی 1962 کو 132 سال بعد الجزائر آزاد ہوا۔ عوام نے احمد بن بیلا کو اپنا محبوب لیڈر مانا اور 1963 میں وہ ملک کے پہلے صدر بنے۔ صدر بننے کے بعد انہوں نے بڑے اصلاحات کیں۔ فرانسیوں کی چھوڑی ہوئی لاکھوں ایکڑ زمین غریب کسانوں میں بانٹ دی۔ تیل، گیس اور بڑی صنعتوں کو سرکار کے قبضے میں لے کر "عرب سوشلزم" کا نظام نافذ کیا۔ بین الاقوامی سطح پر وہ تیسرے دنیا کے ممالک، عدم وابستگی کی تحریک اور فلسطین کے سب سے بڑے حامیوں میں سے تھے۔
لیکن 19 جون 1965 کو ان کے اپنے ساتھی ہواری بومدین نے فوجی بغاوت کر کے انہیں معزول کر دیا۔ احمد بن بیلا کو 14 سال تک نظر بند رکھا گیا۔ 1980 میں رہا ہونے کے بعد بھی وہ آخر عمر تک الجزائر کی آزادی اور اتحاد کی بات کرتے رہے۔
آج پوری عرب اور افریقی دنیا میں احمد بن بیلا کو "الجزائر کا بابائے قوم" کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ نوآبادیات کے خلاف ہمت اور قربانی سے ہی آزادی ملتی ہے۔
22/07/2026
دنیا کی مشہور پینٹنگ Mona Lisa
مونا لیسا دنیا کی سب سے مشہور تصویر ہے جسے لیونارڈو دا ونچی نے 1503 سے 1506 کے درمیان بنایا تھا۔ اس عورت کا اصل نام لیسا گیرارڈینی تھا جو فلورنس کے ایک کپڑے کے سوداگر فرانچسکو دل جوکونڈو کی بیوی تھیں۔ اسی وجہ سے اس تصویر کو لا جوکونڈا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تصویر اپنی پراسرار مسکراہٹ اور جادوئی آنکھوں کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ دور سے دیکھو تو لگتا ہے وہ مسکرا رہی ہے اور قریب سے دیکھو تو لگتا ہے وہ خاموش ہے۔ اس کی آنکھیں ایسی ہیں کہ آپ جدھر بھی کھڑے ہوں وہ آپ کی طرف ہی دیکھتی محسوس ہوتی ہیں۔ اس میں نہ کوئی زیور ہے نہ تاج، صرف ایک سادہ اور باوقار عورت کو سکون کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ 1911 میں یہ تصویر لوور عجائب گھر سے چوری ہو گئی تھی جس کے بعد یہ اور زیادہ مشہور ہو گئی۔ اب یہ فرانس کے پیرس شہر میں لوور عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہے اور اسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔
20/07/2026
کیا آپ جانتے ہیں *Saira Peter* کون ہے!؟
*Saira Peter* ایک برطانوی-پاکستانی سوپرانو گلوکارہ ہیں جنہیں دنیا کی *پہلی Sufi Opera Singer* ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئیں اور بچپن سے ہی چرچ اور کمیونٹی کے پروگراموں میں گاتی رہیں۔ بعد میں انہوں نے لندن جا کر Western Classical Voice کی تربیت حاصل کی اور ساتھ ہی جنوبی ایشیائی کلاسیکی موسیقی اور راگداری بھی سیکھی۔
سائرہ پیٹر نے Opera کی تکنیک کو Sufi شاعری، خاص طور پر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کے ساتھ ملا کر ایک نیا انداز متعارف کروایا۔ ان کا مقصد موسیقی کے ذریعے امن، محبت اور انسانیت کا پیغام دنیا تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بیرونِ ملک کئی پرفارمنس دیں جن میں اردو، سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی اور عربی زبانوں میں گیت شامل ہیں۔
وہ London میں NJ Arts London اور لاہور میں Saira Arts Academy کی بانی بھی ہیں تاکہ نوجوان فنکاروں، خاص طور پر خواتین کو تربیت دی جا سکے۔ 2025 میں انہیں واشنگٹن ڈی سی میں US Congress میں "She Leads the Nations Award" سے بھی نوازا گیا۔ سائرہ پیٹر کو پاکستان کی پہلی Opera Singer اور ایک ثقافتی سفیر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت چہرہ پیش کرتی ہیں.
18/07/2026
Q. The first Pakistan National Marathon Race was organized at?
A. Islamabad
B. Karachi
C. Lahore
D. Peshawar
16/07/2026
Samina baig
ثمینہ بیگ پاکستان کی پہاڑی بیٹی اور دنیا کی کم عمر ترین خواتین کوہ پیماؤں میں سے ایک ہیں۔ ان کا تعلق گلگت بلتستان کے خوبصورت ضلع ہنزہ سے ہے۔ انہوں نے صرف 19 سال کی عمر میں 2013 میں دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا اور پاکستان کی پہلی خاتون بن گئیں جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ ثمینہ کا سفر یہاں ختم نہیں ہوا، انہوں نے ہمت اور لگن سے دنیا کے ساتوں براعظموں کی بلند ترین چوٹیاں بھی مکمل کیں جن میں ایشیا کی ایورسٹ، افریقہ کی کلیمنجارو اور جنوبی امریکہ کی ایکونکاگوا شامل ہیں۔ وہ نہ صرف ایک بہادر کوہ پیما ہیں بلکہ خواتین کے حقوق اور گلگت بلتستان کے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔ ان کی کامیابیوں کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا۔ ثمینہ بیگ آج لاکھوں پاکستانی لڑکیوں کے لیے امید اور حوصلے کی علامت ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ اگر خواب بڑے ہوں اور محنت سچی ہو تو آسمان بھی چھوا جا سکتا ہے۔
16/07/2026
کیا آپ جانتے ہیں کہ کوفی عطا عنان کون تھے؟
کوفی عطا عنان 8 اپریل 1938 کو گھانا کے شہر کوماسی میں پیدا ہوئے اور 18 اگست 2018 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برن میں وفات پا گئے۔ وہ ایک گھانائی سفارتکار تھے اور اقوامِ متحدہ کے 7ویں سیکرٹری جنرل کے طور پر دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔ انہوں نے 1 جنوری 1997 سے 31 دسمبر 2006 تک یعنی 10 سال تک یہ عہدہ سنبھالا۔ وہ سب سے پہلے سیاہ فام افریقی تھے جو اقوامِ متحدہ کے سربراہ بنے۔
کوفی عنان نے اپنی ابتدائی تعلیم گھانا میں حاصل کی اور بعد میں امریکہ کی میکالیسٹر کالج، جنیوا کی گریجویٹ انسٹیٹیوٹ اور امریکہ کی ایم آئی ٹی سے معاشیات اور مینجمنٹ میں ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ 1962 میں عالمی ادارہ صحت WHO سے اقوامِ متحدہ کے نظام میں شامل ہوئے اور پھر مختلف عہدوں پر کام کرتے رہے۔ 1992 سے 1996 تک وہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے سربراہ بھی رہے۔
سیکرٹری جنرل بننے کے بعد کوفی عنان نے اقوامِ متحدہ میں بڑی اصلاحات کیں۔ انہوں نے "ہم عوام: اکیسویں صدی میں اپنا کردار" کے نام سے ایک رپورٹ پیش کی جس میں غربت، ایڈز، جنگوں اور انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ انہی کی قیادت میں 2000 میں "ملینیم ڈیولپمنٹ گولز" یعنی MDGs منظور کیے گئے جن کا مقصد 2015 تک دنیا سے غربت اور بیماریاں کم کرنا تھا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے "گلوبل کمپیکٹ" کا آغاز بھی کیا جس کے تحت بڑی کمپنیوں کو انسانی حقوق اور ماحول کے قوانین ماننے کی ترغیب دی گئی۔
کوفی عنان کو ان کی امن اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کے اعتراف میں 2001 میں اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر نوبل امن انعام دیا گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ فعال رہے۔ 2007 میں انہوں نے "کوفی عنان فاؤنڈیشن" بنائی اور 2008 میں کینیا میں انتخابی تشدد ختم کروانے میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ 2012 میں وہ شام کے بحران کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ نمائندہ بھی مقرر ہوئے۔
کوفی عنان کو ان کی نرم مزاجی، سفارتکاری اور "امن کے لیے بات چیت" کے نظریے کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ کہتے تھے "انسانی حقوق سب کے لیے ہیں اور جنگ آخری حل ہونا چاہیے"۔ آج بھی انہیں دنیا کے سب سے بااثر اور معزز سیکرٹری جنرلز میں شمار کیا جاتا ہے۔