09/01/2026
الماری سے الماری تک
گاؤں میں بابا امید علی کی ایک دکان ہوا کرتی تھی۔ دکان خاصی کشادہ تھی، الماریاں بھی خوب تھیں، مگر الماریوں کے حساب سے سامان نہایت کم اور معیار اس سے بھی کم تر۔ بابا جی کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ گاہک مطمئن ہیں یا نہیں، ان کا فخر بس یہی تھا کہ “میرا سامان سب سے سستا ہے۔”
سامان بڑھانے کے بجائے وہ ایک ہی سامان کو ایک الماری سے اٹھا کر دوسری میں رکھ دیتے اور آنے والے ہر شخص کو فخر سے بتاتے،
“دیکھیں جی، یہ الماری خالی تھی، آج بھر گئی ہے۔”
لوگ مسکراتے، قہقہے لگاتے اور معیاری سامان کے لیے کسی اور دکان کا رخ کر لیتے۔
ایک دن گاؤں کے چودھری صاحب نے بابا امید علی کو جدید دور کے تقاضوں سے روشناس کرایا۔ مشورہ دیا کہ خالی اور بھری ہوئی الماریوں کی تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دو، تشہیر ہو گی، دکان چل پڑے گی۔ بابا جی نے مشورہ مان لیا۔ اب سامان ہفتوں بعد نہیں بلکہ روزانہ الماری بدلنے لگا، تصویریں اپ لوڈ ہونے لگیں، اور اعلان ہونے لگا کہ “میری دکان خوب چل رہی ہے۔”
حقیقت مگر وہی رہی: سامان وہی، معیار وہی، گاہک چند ایک اور، دھوکا مستقل۔
بابا امید علی کی یہ کہانی محض ایک دکان کی نہیں، یہ پنجاب کی تعلیمی پالیسی کا استعارہ ہے۔
جب اسکول آؤٹ سورس کیے جاتے ہیں تو سب سے نمایاں دعویٰ طلبہ کی تعداد میں اضافے کا ہوتا ہے۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ یہ طلبہ کہاں سے آئے؟ کیا وہ پہلے اسکول نہیں جاتے تھے؟ کیا معیارِ تعلیم بہتر ہوا؟ یا لٹریسی ریٹ میں کوئی حقیقی اضافہ دیکھنے میں آیا؟
ان سوالات کے جواب ماضی میں بھی نہیں ملے، حال میں بھی ندارد ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آؤٹ سورس اسکول حاصل کرنے والے گروپس کی اولین ترجیح تعلیم نہیں، تعداد ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے آسان شکار وہ بچے بنتے ہیں جو پہلے ہی کسی سرکاری یا نجی اسکول میں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ یوں مجموعی تعداد وہی رہتی ہے، بس بابا امید علی کے سامان کی طرح ایک الماری سے دوسری میں منتقل ہو جاتی ہے۔
اساتذہ کا حال اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ مقامی نوجوانوں کو استاد رکھ کر کاغذوں میں پندرہ ہزار تنخواہ دکھائی جاتی ہے، مگر عملی طور پر سات آٹھ ہزار دیے جاتے ہیں۔ انسپیکشن کے وقت مکمل تنخواہ بتانا لازمی قرار پاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ استاد اتنی ہی محنت کرتا ہے جتنی تنخواہ اسے واقعی ملتی ہے، اور اس کا خمیازہ براہِ راست طالب علم بھگتتا ہے۔
مقامی آبادی کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اب ہر بچہ آئن سٹائن اور عبد القدیر خان بنے گا، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی جگہ مڈل پاس طلبہ اپنا نام تک درست نہیں لکھ پاتے۔
جب اس پالیسی پر سوال اٹھایا جائے تو جواب ملتا ہے کہ “ابھی تو آؤٹ سورس ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں، وقت دیں۔”
سوال یہ ہے کہ پھر 2016–2017 میں پبلک اسکول سپورٹ پروگرام کے تحت آؤٹ سورس کیے گئے چار ہزار سے زائد اسکولوں کا حاصل کیا ہے؟ اگر تمام سروے اور ڈیٹا غیر جانبداری سے دیکھے جائیں تو ایک ہی نتیجہ سامنے آتا ہے: معیارِ تعلیم نیچے گیا ہے، بہتری کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
اعداد و شمار کی الماریاں ضرور بھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں، مگر تعلیم کی دکان اب بھی خالی ہے۔
اور جب نظریہ بابا امید علی جیسا ہو، تو انجام بھی مختلف نہیں ہو سکتا۔