17/05/2026
"ایک طالبہ کے دل کی آواز..." 📝🌸
ریڈ فاؤنڈیشن سکول اینڈ کالج ریڑہ گرلز کی ایک طالبہ نے ادارے کے آنگن میں گزرے اپنے چند یادگار لمحات پر اپنے
خوبصورت جذبات کا اظہار کیا ہے۔
* *ریڈ فاؤنڈیشن اسکول کی یادیں( 14 سال کا سفر)*
میرے لیے *ریڈ فاؤنڈیشن* صرف ایک اسکول نہیں بلکہ میری زندگی کا وہ خوبصورت حصہ ہے جس سے میری چودہ سالہ وابستگی ہے۔ میں نے بچپن کی پہلی مسکراہٹ سے لے کر شعور کی پہلی منزل تک کا سفر اسی ادارے میں طے کیا۔ آج جب میں ان دنوں کو یاد کرتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری زندگی کے سب سے خوبصورت موسم اسی آنگن میں گزرے ہوں—صبح کی اسمبلی، کلاسوں کی رونق، کاپیوں کی خوشبو، کھیل کے میدان، اور چھٹی کی گھنٹی… سب کچھ دل کے بہت قریب ہے۔
یہیں میں نے حرفوں کو لفظ بنتے دیکھا، لفظوں کو معنی ملتے دیکھے، اور خوابوں کو حقیقت کی طرف بڑھتے محسوس کیا۔ یہ ادارہ میرے لیے صرف تعلیم کی جگہ نہیں رہا بلکہ وہ مقام رہا جہاں میری شخصیت نے آہستہ آہستہ اپنی پہچان بنائی۔
پرائمری کے دن میری زندگی کے سب سے معصوم اور خوبصورت دن تھے۔ انہی برسوں میں میری رہنمائی کرنے والوں میں *میم کوثر، میم سمیرا، میم عائشہ، میم نائلہ، میم ناہید، میم شمائلہ، میم شگفتہ، میم سدرہ، میم رضوانہ، میم مریم، میم آسیہ عارف، میم بشری، میم شبانہ، میم عشرت ، میم نگہت، میم لبنا، میم اقصیر، سر ضیا الرحمن، سر بدر، سر عامر اور سر فیاض* شامل ہیں۔
مڈل اسکول کے دنوں میں سوچ کو وسعت ملی اور اعتماد بڑھا۔ ان برسوں کی رہنمائی میں *میم ہاجرہ، میم کوثر، میم فضیلا، میم انجمن، میم ساجدہ، سر انعام اور میم مریم* شامل رہیں۔
کالج کے سالوں نے خوابوں کو نئی سمت دی۔ اس سفر میں *میم زینب، میم زورین، میم صغریٰ، میم منزّہ، میم روبی، میم رفعت، میم طاہرہ، میم کنول، میم فوزیہ، میم زاہدہ، میم صائمہ، میم عائشہ، میم رضیہ, میم شمسا، میم ارم اور میم سیمنا* کی شفقت اور محنت ہمیشہ یاد رہے گی۔
میں دل کی گہرائیوں سے اپنے تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ آپ سب نے صرف کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ حوصلہ دیا، اعتماد دیا، ادب سکھایا اور زندگی کو سمجھنے کا سلیقہ دیا۔ میری آج کی سوچ اور میری شخصیت میں آپ سب کی محنت شامل ہے۔
ہمارے محترم *پرنسپل سر افتخار احمد* کی شخصیت بھی ہمیشہ یاد رہے گی۔ ان کی نصیحتوں میں خلوص تھا، ان کے انداز میں وقار تھا، اور ان کی رہنمائی میں ایک ایسا اعتماد تھا جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔
اور اب جب میں اسی اسکول سے فارغ ہو رہی ہوں تو دل میں ایک عجیب سی خاموشی اتر آئی ہے۔ ابھی تک یقین نہیں آتا کہ وہی راستے جن پر میں روز چلا کرتی تھی، وہی کلاسیں جن میں میری آواز گونجتی تھی، وہی چہرے جن کے ساتھ ہر دن گزرتا تھا—اب روزمرہ کا حصہ نہیں رہیں گے۔
آج دل بار بار یہی سوچتا ہے کہ کل جب صبح ہوگی تو میں اسی طرح اسکول کے لیے تیار نہیں ہوں گی، اسمبلی میں کھڑی نہیں ہوں گی، اور نہ ہی ویسے ہی دوستوں اور اساتذہ کے درمیان بیٹھوں گی۔ یہی خیال آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔
چودہ سال کا یہ سفر میرے لیے ایک خزانہ ہے۔ وقت آگے ضرور بڑھ رہا ہے، مگر کچھ جگہیں انسان چھوڑ دیتا ہے اور پھر بھی دل وہیں رہ جاتا ہے۔
اور میرے لیے *ریڈ فاؤنڈیشن* ہمیشہ میری زندگی کی سب سے خوبصورت یاد رہے گا
*رَاقِمُ الْحُرُوف*
*سعدیہ حیات*
**سابقہ طالبہ، ریڈ فاؤنڈیشن ہائی اسکول اینڈ کالج ریڑھ*
*2014 - 2026*
✨