Darululoom Al Islamia Baffa

Darululoom Al Islamia Baffa � Darul Uloom Islamia Baffa
� Quran & Hadith
� Authentic Fiqh Guidance
� Islamic & Moral

29/03/2026

📖 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تعلیم یافتہ نہیں، باکردار انسان بنیں

آج کے دور میں “تعلیم یافتہ” ہونا ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ محض ڈگری حاصل کر لینا انسان کو مکمل نہیں بناتا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان علم کے ساتھ اپنے کردار کو بھی سنوارے۔ اگر علم ہو مگر اخلاق نہ ہوں تو یہ ایسا چراغ ہے جس میں روشنی ہی نہ ہو۔

سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری پہلی ترجیح ایک اچھا انسان بننا ہونی چاہیے۔ نرم خوئی، سچائی، دیانت اور ہمدردی، یہ وہ اوصاف ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں۔ علم کا حسن بھی تبھی ظاہر ہوتا ہے جب وہ کردار میں ڈھل جائے، ورنہ وہ صرف الفاظ کا بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔

اسی حوالے سے نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی ہمارے سامنے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ انسانی اقدار کا ایسا حسین امتزاج ہے جس کی مثال تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ رحم، عدل، صبر، عفو اور حسنِ سلوک جیسی صفات آپ ﷺ کی زندگی میں اس طرح جلوہ گر ہیں جیسے روشن دن میں سورج۔ اس لیے بجا طور پر آپ ﷺ ہی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور آپ کی سیرت سے ہٹ کر کوئی راستہ سیدھا نہیں ہو سکتا۔

ایک اہم غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ “انسانیت” اور “اسلام” کو الگ الگ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مسلمان ہونا دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کا نام ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کو اس کے اصل مقام تک پہنچاتی ہے۔ انسان ہونا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عطیہ ہے، جو انسان کے اختیار کے بغیر اسے حاصل ہو جاتا ہے، مگر مسلمان بننا ایک شعوری اور اختیاری راستہ ہے۔

اس لیے یہ کہنا کہ “پہلے انسان بنو پھر مسلمان”—درست طرزِ فکر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حقیقی مسلمان ہی کامل انسان بنتا ہے۔ اسلام انسان کو وہ صفات عطا کرتا ہے جو اسے اعلیٰ درجے کی انسانیت تک لے جاتی ہیں۔ یوں اسلام اور انسانیت میں کوئی تضاد نہیں بلکہ اسلام ہی انسانیت کی تکمیل کرتا ہے۔

مختصر یہ کہ ہمیں صرف تعلیم یافتہ ہونے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے اندر اعلیٰ اخلاق، مضبوط ایمان اور صحیح فکر پیدا کرنی چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں باعزت اور آخرت میں کامیاب بناتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علم کے ساتھ عمل اور کردار کی دولت بھی نصیب فرمائے۔

📌 مزید اصلاحی مضامین کے لیے پیج کو فالو کریں
📌 اپنے خیالات اور سوالات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں

دارالعلوم الاسلامیہ بفہ

آج کی حدیث
29/03/2026

آج کی حدیث

بسم اللہ الرحمٰن الرحیمموجودہ دور کے فتنے اور سیرتِ نبوی ﷺ سے ان کا حلموجودہ دور اپنے اندر بے شمار فتنوں کو سمیٹے ہوئے ہ...
24/03/2026

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

موجودہ دور کے فتنے اور سیرتِ نبوی ﷺ سے ان کا حل

موجودہ دور اپنے اندر بے شمار فتنوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ زندگی کی رفتار تیز ہوئی تو سوچوں میں بھی ایک طرح کی بے ترتیبی آ گئی۔ کبھی عقیدے میں کمزوری دکھائی دیتی ہے، کبھی عمل میں غفلت، اور کبھی اخلاق میں گراوٹ—یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان باہر سے جتنا سنور رہا ہے، اندر سے اتنا ہی بکھر رہا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اس صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
بادروا بالأعمال فتناً كقطع الليل المظلم (صحیح مسلم)
یعنی نیک اعمال میں جلدی کرو، اس سے پہلے کہ فتنے اندھیری رات کی طرح چھا جائیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب فتنوں کا دور آتا ہے تو حق اور باطل میں فرق کرنا آسان نہیں رہتا، اور انسان غیر محسوس طریقے سے بہاؤ کے ساتھ بہنے لگتا ہے۔

ایسے حالات میں سیرتِ نبوی ﷺ ایک واضح اور متوازن راستہ فراہم کرتی ہے۔ سب سے پہلے علم کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ وحی کا آغاز ہی لفظِ اقرأ سے ہوا، جو اس بات کی طرف راہنمائی کرتا ہے کہ دین کو سمجھنے کے لیے علم بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بے علمی انسان کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیتی ہے، جبکہ صحیح علم نہ صرف یہ کہ اسے استقامت عطا کرتا ہے، بلکہ گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اس کےلیے مشعل راہ ہوتا ہے۔

اسی طرح ایمان کی حفاظت بھی بنیادی ضرورت ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایسا فتنوں کا زمانہ ہوگا کہ انسان صبح ایمان کی حالت میں ہوگا اور شام تک اسے کھو بیٹھے گا۔ معلوم ہوا کہ ایمان ایک ایسی حقیقت ہے جس کی مسلسل حفاظت ضروری ہے، ورنہ حالات کا دباؤ اسے کمزور کر سکتا ہے۔

نیز انسانی زندگی میں صحبت کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
(المرء على دين خليله (سنن ابی داود
یعنی انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے صالح اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا دین پر قائم رہنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ بری صحبت انسان کو آہستہ آہستہ غلط راستے کی طرف لے جاتی ہے۔

گناہوں سے بچنا بھی فتنوں سے حفاظت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ قرآن مجید میں دلوں پر ران (زنگ) کا ذکر آیا ہے، جو گناہوں کی کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔ جب دل متاثر ہوتا ہے تو انسان کی سوچ اور فیصلے بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔

آخر میں سنتِ نبوی ﷺ کی اتباع وہ جامع راستہ ہے جو انسان کو اعتدال، استقامت اور صحیح سمت فراہم کرتا ہے۔ سیرتِ طیبہ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی دیتی ہے، اور یہی اس کی جامعیت ہے۔

مختصر یہ کہ موجودہ دور کے فتنوں کا مقابلہ علم، ایمان، نیک صحبت، تقویٰ اور سنت کی پیروی سے ہی ممکن ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو انسان کو ہر زمانے میں راہِ حق پر قائم رکھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان اصولوں کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

🤲 آمین

📌 اپنے دینی سوالات کمنٹس میں ضرور پوچھیں
📌 مزید رہنمائی کے لیے پیج کو فالو کریں

دارالعلوم الاسلامیہ بفہ

24/03/2026

📖 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالعلوم الاسلامیہ بفہ آفیشل پیج

الحمد للہ! دارالعلوم الاسلامیہ بفہ کے اس آفیشل پیج کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
اس پلیٹ فارم کا مقصد قرآن و حدیث کی تعلیم کو عام کرنا اور مستند فقہی مسائل میں راہنمائی فراہم کرنا ہے۔

یہاں آپ کو ان شاء اللہ درج ذیل امور ملیں گے:
📖 قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں راہنمائی
⚖️ روزمرہ پیش آنے والے فقہی مسائل کا حل
🕌 اصلاحی اور تربیتی مضامین
📜 اسلامی تعلیمات کی سادہ اور عام فہم وضاحت

ہماری کوشش ہوگی کہ مستند اور قابلِ اعتماد دینی معلومات آپ تک پہنچائی جائیں۔

آپ حضرات سے گزارش ہے:
✔️ پیج کو فالو کریں
✔️ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں
✔️ اپنے دینی مسائل کمنٹس میں پوچھیں

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔

جزاکم اللہ خیرا
دارالعلوم الاسلامیہ بفہ

Address

Mansehra
Baffa
21110

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darululoom Al Islamia Baffa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share