04/04/2024
السلام علیکم!
اوّل تو میں اس بات کی تصحیح کرتا چلوں کے چند دن پہلے جو میں نے پوسٹ رکھی تھی اُس سے میرا مطلب تضاد یا فتنا و فساد کو پھیلانا نہیں تھا، بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں کی اصلاح کرنا مقصود تھی ۔ کافی تبصرے اُس پوسٹ پے کیے ہوئےتھے۔ جن میں سے کچھ صحیح بھی تھے۔ آج میں سب سے پہلے میرے مؤکل اور اہلِ علم دوست جو میرے علم کے وزن کی بات کر رہے تھے انکی جانکاری کے لیے بتاتا چلوں کہ سناتن دھرم میں کہیں بھی ماس نہ کھانے اور پیشاب پینے کا ذکر نہیں ملتا ۔ یہ محض ایسا ہی ہے جیسے ہمارے معاشرے میں گدی نشینوں کی منتیں اور چڑھاوے کے مطالبات پورے کرنا۔ اسی طرح شاشوت دھرم میں بھی پنڈتوں نے اپنے مرید وں کے اضافے کے لیے اس طرح کے چڑھاوے کا اہتمام کیا ہوا ہے۔ دوسری بات جو احباب انسانیت کی بات کرتے ہیں انکی معلومات کے لیے کہ مذہبِ اسلام سے بہتر انسانیت کا درس کوئی مذہب نہیں دیتا ۔لیکن ایک تبصرے میں قرآن مجید کی سورہ "الکافرون " کی آیت نمبر ۶(6) "لکم دینکم ولی دین" کا حوالہ دیا گیا تھا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ "تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین"۔ تو پھر آپ دوسروں کے دین میں دخل اندازی کیوں کرتے ہیں ؟ جب وہ آپ کے مذہب میں دخل اندازی نہیں کرتے۔ گر آپ کو اپنے تہوار منانے کی آزادی ہے تو آپ دوسروں کا حق کیوں غصب کرتے ہیں؟ دیکھیں اسلام ایک مکمل زویۂ حیات ہے ، جس کے مطالعے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال "جوابِ شکوہ " میں فرماتے ہیں
وہ معزز تھے ، زمانے میں مسلماں ہو کر ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
یہ قرآن سے دوری کا نتیجہ ہے ورنہ ہم وہ قوم ہیں جو خود بھی راہے راست پر چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہیں۔ اب ہمارے دلائل ہونگے کے مولوی حضرات کا کام ہے یہ وہ دین کی نشر و اشاعت کا کام کریں اور قرآن مجید کی تعلیم دیں اور عمل پیرا ہوں مگر ایک نظر اپنے گریبان میں بھی جھانکیں کیا ہم مسلمان نہیں۔ کیا اللہ نے اپنے دین کی تدریس کے لیے ہمارا یعنی "امتِ مسلمہ" کا انتخاب نہیں کیا ۔ بیشک اللہ تعالی سورہ:آل عمران" میں فرماتے ہیں "تم میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو حق کی جانب لوگوں کو بلاتا ہے اور باطل سے روکتا ہے"۔ تو پھر آئیے مل کر اسلام کی تدریس اور ترویج کا کام کریں۔ اور سورہ الکافرون کی آیت کی مل کر پیروی کریں اور اپنے رب" اللہ تبارک و تعالیٰ" کے غضب سے بچیں۔ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔