Lt.muzaffar Khan Shaheed Govt. Boys Degree College Punjan Charhoi

Lt.muzaffar Khan Shaheed Govt. Boys Degree College Punjan Charhoi

Share

education forum

03/12/2020

مادرِ علمی گورنمنٹ ہائی سکول کوٹ ادو میں یاران جواں قلب کے ہمراہ,,,,,, آداب ِ سحر گاہی,,,,,,

01/12/2020

سابق وزیر تعلیم کالجز جناب محترم مطلوب انقلابی صاحب کے انتقال پرملال پر انتہائی افسوس ہوا۔ کالج سٹاف کی طرف سے ان کے اہل و عیال کہ ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے آمین اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔

03/06/2020

یہ تو دستور ازل سے ہے جناب ِ عالی
حق و باطل میں لڑائی نہیں مٹنے والی
رفیع صدیقی

27/05/2020

تفردات رفیع
پہلے پاکستان نے مارا , اب چینی فوج نے پیٹا ہے
بھارتی سینا کی قسمت میں جوتے کھانا لکھا ہے
رفیع صدیقی

27/05/2020

تفردات رفیع
جوتوں سے پٹائی ابی نندن کی ہوئی تھی
اب چینی جوانوں نے نئی کی ہے دھنائی
رفیع صدیقی

16/05/2020

استاد سے ایڈمنسٹریٹر تک
ایک طالب علم کی حیثیت سے انسان اپنے استاد کو دو طرح سے دیکھتا ہے ۔ ایک کہ وہ مضمون جو پڑھا رہا ہے اس پر استاد کی کتنی گرفت اور دسترست ہے اور متلاشیان و تشنگان علم کی عطش کس طرح سے بجاتا اور سیر کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کی ذات کیا ایک مصلح کی حیثیت اپنے کردار اور گفتار کی حیثیت سے رکھتی ہے یا کہ نہیں۔ پھر اگر اسی ہستی کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل جانا اور اس ہستی کے سامنے خدمات سر انجام دینے کا موقع مل جانا اسی ہستی کی سر پرستی میں جہاں ایک سعادت ہے وہیں ایک اور موقع ہےاسی ہستی سے سیکھنے اسے پرکھنے سمجھنے کا۔ اور ایسے مواقع کم ہی میسر آتے ہیں اگر آ جائیں تو یقینا خوشقسمتی سے کم نہیں۔میرے لئے باعث سعادت و فخر ہے کہ مجھ ناچیز کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ میں نے ہر دو صورت میں اپنے عظیم استاذی المکرم پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین احمد صدیقی صاحب کہ سایہ شفقت میں وقت گزارا اور انہیں ہر دو محاذ پر دیکھنے اور ان سے سیکھنے کا موقع میسر آیا ۔ دور طالب علمی میں وہ آپ کی گرج دار آواز ۔۔ وہ مشفقانہ مگر تادیب سے لبریز انداز تربیت ۔۔ اور ہمارے مبتدی سے لے کر منتہی طالب علم کی حیثیت سے اذہان کے عین مطابق ہر کلاس میں انداز تدریس۔۔ سہل و شستہ زبان و کلام اور وضع قطع میں تمکنت ۔ جوش و ولولہ انگیز حالات کے تقاضہ کے مطابق تربیتی و فکری لیکچرز اور ہماری آزاد سوچ کو بڑی بالغ نظری سے اسلام کے حسین اور عظیم قالب میں ڈالنے کی بے دریغ بے باک اور مسلسل کوشش ۔ یہ سب آپ ہی کا خاصہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے فرض منسبی سے کما حقہ وفا و ایفا، وقت کی پابندی اور بلا تعطل تسلسل کے ساتھ کورس کمپلیشن ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تخلیقی سوچ کو ابھارنے والا انداز تعلیم و تدریس ۔بلاشبہ آپ ہی کی ذات کا سہرا تھا۔ آپ کی ذات کی وہ تصویر ہمارے سامنے تھی جسے شاگرد کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کا لباس تک اتنا ممتاز اور شائستگی سے بھرا ہوتا تھا کہ ہم عموما اسے بھی دور طالب علمی میں موضوع سخن یاران علم و دانش کی مجلسوں میں بنایا کرتے تھے ۔ وہ تصویر ذہن پر نقش تھی کہ 2017 میں پبلک سروس کمیشن سے سلیکشن کے بعد نصیب کی یاوری سے وہ موقع بھی میسر آیا کہ آپ ہی کہ زیر سایہ بطور لیکچرر گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چڑہوئی میں تعیناتی ہوئی ۔ جب راقم ناچیز جائے تعیناتی پر جا رہا تھا تو پتہ چلا کہ اس ادارہ میں پرنسپل استاذی المکرم ہیں۔ جہاں ایک خوشی تھی کہ آپ کا سایہ شفقت پھر میسر آئے گا وہیں یہ ڈر بھی تھا کہ شاید میں آپ کی توقعات پر پورا بھی اتر سکوں گا یا نہیں اور وہی رعب بھی ذہن میں تھا ۔ لیکن جب خدمت میں حاضر ہوا تو ۔ آپ نے منفرد شفقت اور محبت سے نوازا ۔ جہاں ہر گام راہنمائی کی وہیں میرے تدریسی رتبے اور عھدے کہ مطابق عزتوں سے نوازا ۔ حالانکہ میں ان کا شاگرد تھا لیکن گفتار میں اس طرح نوازنا درحقیقت آپ کامجھے خود اعتمادی اور حوصلہ فراہم کرنا تھا ۔ وہ روایتی طریقے کی بجائے تخلیقی انداز تدریس کا درس دیتے اور راہنمائی فرماتے رہے اور ایک ماہر تعلیم ہونے کے باوجود مشاورت میں ناچیز اور دیگر تمام ساتھیوں کو شامل کر کے متفقہ رائے پر عمل درآمد کرتے اور عملدرآمد کرواتے رہے ۔۔ آپ کو جس طرح دوران تعلم اپنے فرائض منسبی دلجمعی اور ذمہ داری سے ادا کرتے دیکھا تھا اسی طرح بطور منتظم و ایڈمنسٹریٹر بھی آپ کو مستعد ،پابند اور ماہر پایا ۔ آپ کی بڑھی بالغ نظری سے ادارہ کہ تمام معاملات کی نگرانی کرتے رہے اور چاہے تدریس کا معاملہ ہو کہ تنظیم کا ،ڈسپلن کا معاملہ ہو یا تزیین و آرائش کا حساب خرچ کا معاملہ ہو یا اندرونی و بیرونی تعلقات کا ۔ طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت سے لے کر ہم نصابی دیگر معاملات و ترغیبی و تربیتی لیکچرز تک گویا ہر چیز میں آپ ایک ہمہ جہت شخصیت کے طور پر بلس تعطل خدمات سر انجام دیتے رہے ۔ علاقہ چڑہوئی کے لوگ اور ہم خود اس بات کے شاھد ہیں کہ ادارہ کو جب آپ کی سرپرستی ملی تب کیا حالات تھے اور آپ نے مختصر عرصے میں تعمیراتی و انتظامی ہر دو معاملات میں بہترین اور بے مثال ترقی سے ادارے کو ہمکنار کیا ۔ادارہ کی خستہ عمارت کی درستگی ہو یا پھر ادارہ میں شجر کاری ہر اعتبار سے آپ نے جنون کے ساتھ اپنی کاوششیں اور کاوشیں صرف فرمائیں۔ ٹائم ٹیبل ،سکیم آف سٹڈی ،ایویلویشن سسٹم جیسے انقلابی اقدامات کا سہرا آپ کے سر جاتا ہے ۔ اس دوران وہی لباس میں تمکنت اور گفتگو میں وہی شائستگی اور ادبی آمیزش اور مشفقانہ اصلاحی رویہ خوس خلقی آپ کا خاصہ رہی ۔ بلاشبہ جس طرح راقم نے زانوئے تلمذ طے کرتے ہوئے ایک ایماندار قابل اور محنتی پایہ تھا بالکل اسی طرح بطور ایڈمنسٹریٹر بھی آپ کو محنتی قابل نباض اور عظیم منتطم پایہ ۔ آپ کا ریٹائر ہونا بلاشبہ محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے لئیے ایک ایسا خلا ہے جو شاید کبھی پر نہ ہوسکے ۔ آپ کی ان عظیم خدمات پر آپ کا یہ شاگرد سلام ادب و عقیدت پیش کرتا ہے ۔ اور دعا ہے کہ آپ جیسے صاحب علم کا سایہ ملک و ملت کے نوجوانوں پر تادیر سلامت رہے ۔ اور آپ اپنی تحریر سے بطور مصلح جس طرح پہلے بے باکی سے خدمات سر انجام دیتے رہے اس سے بڑھ کر بطور نباض سر انجام دیتے رہیں اور ہماری رہنمائی فرماتے رہیں۔۔ اللہ آپ کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے اور آپ کی خدمات کو قبول فرمائے ۔ آمین ۔ راقم الحروف فیض رسول
لیکچرر فزکس
گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج پنجن چڑہوئی ضلع کوٹلی آزاد کشمیر

25/04/2020

********* دین و سیاست*******
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عطیہ قبول کر لو جب تک اس کی حثیت عطیہ کی ہو لیکن جب یہ عطیہ دین کے معاملے میں رشوت بن جائے تو پھر اسے قبول نہ کرو،مگر تم اسے چھوڑنے والے نہیں ہو فقروفاقہ تمہیں اسے قبول کرنے پر مجبور کر دےگا۔ ہاں سنو! اسلام کی چکی گھوم رہی ہے تو جس طرف قرآن کا رخ ہوا ادھر تم بھی گھوم جاؤ۔ سنو! قرآن اور اقتدار عنقریب جدا ہو جائیں گے۔ ( خبردار ) تم قرآن کا ساتھ نہ چھوڑنا۔ائندہ ایسے حکمران ہو ں گے جو تمہارے بارے میں فیصلے کریں گے اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں گمراہ کر ڈالیں گے اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمہیں موت کی گھاٹ اتار دیں گے ( راوی ) نے پوچھا تب ہم اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی کرو جو حضرت عیسی علیہ والسلام کے ساتھیوں نے کیا وہ لوگ آروں سے چیرے گئے سولیوں پر لٹکائے گے۔اللہ کی نافرمانی میں زندگی گزارنے سے بہتر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کی پیروی اختیار کرتے ہوئے جان دے دے۔ ( خواہ کتنی بڑی سے بڑی آزمائش کیوں نہ آجائے ایک مومن کو حق پر جمے رہنے اور حق کی دعوت سے باز نہیں انا چائیے۔)
( المعجم الصغیر طبرانی ماخوذ انتخاب حدیث صفحہ۔۳۷)

22/04/2020

,,,,,,,,,,,غزل,,,,,,,,,,,

آپ کہتے ہیں جو , نہیں کہنا
جان پیاری ہے تو , نہیں کہنا

شب کو کہتے ہو شب دلیری سے
اپنی حد میں رہو, نہیں کہنا

یہ فراعین کی خدائی ہے
لب سیئو اور سنو , نہیں کہنا

بادشاہ ہو گیا الف ننگا
توبہ توبہ کرو , نہیں کہنا

دور ہے یہ صریح ظلمت کا
بینا , نابینا ہو , نہیں کہنا

پہلے اظہار تھا محبت کا
اب نہیں کہنا , سو , نہیں کہنا

اب ہے تنہائی ہم سفر اپنی
ہم سفر تم بنو , نہیں کہنا

دیکھ مقتل میں سر کے ڈھیر لگے
سر اٹھاؤ , کہو , نہیں کہنا

شب اندھیری ہے دل بڑا رکھو
خوف میں تم جیو , نہیں کہنا

بازوؤں پر بہت بھروسہ تھا
اور اونچے , اڑو , نہیں کہنا

آرزو کی ہی نا تمامی ہے
یہ بھی وہ بھی دھرو نہیں کہنا

کٹ گئی گو سپاہ ساری پر
آخری ہو , تو ہو , نہیں کہنا

ایک سے ایک جلتے جاتے ہیں
تم ہواؤ , سنو , نہیں کہنا

بس بھروسہ ہو رب تعالی پر
ما سوا جو بھی ہو , نہیں کہنا

شاعر : پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین احمد صدیقی

Want your school to be the top-listed School/college in Azad Kashmir?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Punjan Tehsil Charhoi District Kotli Azad Kashmir
Azad Kashmir