Ch Qamer Zaman Trainee Advocate

Ch Qamer Zaman Trainee Advocate

Share

This page is created for awareness of human rights & awareness of laws

Photos from Ch Qamer Zaman Trainee Advocate's post 09/11/2018
01/11/2018
23/03/2018

Naeem butt k qatal kiye jany par Commission of inquiry maqarar Kia gya

23/03/2018

Professor jameel Shb k case ka faisla

22/03/2018

پرانے ﻭﻗﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ وکیل ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﺎ..
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﮑﺮ ﺑﻼ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : وکیل ﺻﺎﺣﺐ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺑﯿﭽﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﯾﻨﺎ...
وکیل ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﺎﺭ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﻞ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﻧﺎ ﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﭘﮭﻨﺴﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ..؟
ﺍﺏ ﯾﺎ ﺗﻮ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮ ﺩﻭ، ﻭﺭﻧﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ...😜😂😂😜😜😂

Photos from Ch Qamer Zaman Trainee Advocate's post 20/03/2018

نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات

15/03/2018

اگر کسی عورت کو فون پر ہراساں کیا جائے تو کیا قانونی راستے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔ کسی کو غیر ضروری میسیجز بھیجنا پریوینشن آف ایلیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے سیکشن 21 اے کے تحت ایک جرم ہے۔ اس کو سائبر سٹاکنگ کہا جاتا ہے اور اس کی سزا تین سال تک کی قید اور 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتی ہے۔ اور اگر ان کو کوئی نازیبا تصاویر بھیج کر تنگ کر رہا ہے تو اس پر سیکشن 21 اے اور 19 اے دونوں لاگو ہوں گے جس صورت میں 5 سال تک کی قید اور 50 لاکھ تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ وہ پولیس کے پاس جا کر ایف آئی آر درج کروا سکتی ہے یا وہ ایف آئی اے کے دفتر جا کر بھی اپنی شکایت درج کروا سکتی ہے۔ ایف آئی اے میں شکایت آن لائن بھی اس لنک کے ذریعے درج کروائی جا سکتی ہے۔ http://nr3c.gov.pk/creport.php

اور اگر وہ پولیس اور ایف آئی اے کے پاس نہیں جانا چاہتیں تو وہ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) سے اس ہیلپ لائن اور اس ویبسائٹ پر رابطہ کر سکتی ہیں: 39393 یا [email protected]۔ ڈی آر ایف ایک ایسا ادارہ ہے جو سائبر کرائم کے متاثرین کے مقدمات مفت لڑتی ہے اور مفت قانونی تجاویز پیش کرتی ہے۔

15/03/2018

The 1st FIR of sub continent

Photos from Ch Qamer Zaman Trainee Advocate's post 15/03/2018

Breaking news for Law students Now to get admission in LL.B, Candidate must clear Test of LAT (Law Admission Test), same like G*T. Its proposal of HECP before SC. Law colleges hearing adjurned on 10-04-2018. And it will apply on next session 2018-19.

Want your school to be the top-listed School/college?

Telephone

Website