17/05/2026
جنت مانگنے اور جہنم سے آ زا دی کی دعا
📖 *Learn Quran Online with Tajweed*
🌐 Worldwide Online Classes
👨🏫 Certified Male & Female Teachers
🕋 3 Days Free Trial | Kids & Adults
17/05/2026
جنت مانگنے اور جہنم سے آ زا دی کی دعا
شریعتِ مطہرہ میں قربانی کے جانور کی قربانی درست ہونے کے لیے ان کے لیے ایک خاص عمر کی تعیین ہے، یعنی بکرا ، بکری وغیرہ کی عمر ایک سال، گائے، بھینس وغیرہ کی دو سال، اور اونٹ ، اونٹنی کی عمر پانچ سال پورا ہونا ضروری ہے، دنبہ اور بھیڑ وغیرہ اگر چھ ماہ کا ہوجائے، لیکن وہ صحت اور فربہ ہونے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی درست ہوگی۔
اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ ان جانوروں کی اتنی عمریں ہوگئی ہیں (مثلاً: جانور کو اپنے سامنے پلتا بڑھتادیکھا ہو اور ان کی عمر بھی معلوم ہو) تو ان کی قربانی درست ہے، پکے دانت نکلنا ضروری نہیں، بلکہ مدت پوری ہونا شرط ہے۔ تاہم آج کل چوں کہ فساد کا غلبہ ہے؛ اس لیے صرف بیوپاروی کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا احتیاطاً دانت کو عمر معلوم کرنے کے لیے علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، دانتوں کی علامت ایسی ہے کہ اس میں کم عمر کا جانور نہیں آسکتا ، ہاں زیادہ عمر کا آںا ممکن ہے، یعنی تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ مطلوبہ عمر سے پہلے جانور کے دو دانت نہیں نکلتے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر جانور کی عمر یقینی طور پر پوری ہوچکی ہو تو دانت آئیں یا نہ آئیں قربانی درست ہوجائے گی، اور یہ معلوم نہیں ہے تو پھر احتیاطاً دانت آنے پر ہی قربانی درست ہونے کا حکم لگایا جائے گا، ایسی صورت میں قربانی کرنے سے پہلے اس کے دانت آجائیں تو یقینی طور پر یہ معلوم ہوگا کہ جانور کی عمر پوری ہوچکی ہے؛ اس لیے اس کی قربانی درست ہوگی۔
عمر معلوم کرنے کے لیے سا منے والے دانتوں کو دیکھا جائے گا۔
11/05/2026
پردہ ضرور کروں گی!
11/05/2026
*اے اللہ پاک جی 🤲🏼!*
جو لوگ غم زدہ ہیں، پریشان ہیں، بیمار ہیں یا کسی مشکل میں ہیں، ان کے لیے آسانیاں پیدا فرما، ان کے دکھوں کو دور فرما، اور انہیں اپنی خاص رحمتوں سے نواز دے۔
*آمین، یا ربّ العالمین!* 🤲 🥹
*اے میرے پیارے اللہ جی!*
ہمارے دلوں کو سکون عطا فرما، ہمارے رزق میں برکت دے، اور ہمیں ہر آزمائش میں صبر اور استقامت نصیب فرما۔
*آمین، یا ربّ العالمین!* 🤲 🫀🥹
*حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی توہین کرنے والے کو سزا بھی اللہ نے دنیا ہی میں دی اور انسانوں کے لیے نمونۂ عبرت بنایا*
واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کوفہ کے گورنر تھے، کچھ لوگوں نے ان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں اور دربارِ خلافت میں ان کی شکایت بھیجنا شروع کر دیں ۔حضرت عمرؓ نے ایک تحقیقاتی ٹیم ان شکایت کنندگان کے ہمراہ بھیجی، اس ٹیم کے ارکان نے کوفہ کی تمام مساجد میں جا جا کر معاملات کی تحقیق شروع کی، لیکن کسی بھی جگہ سے کوئی ایک شکایت بھی درست ثابت نہیں ہوئی، صرف ایک مسجد میں ایک شخص ابوسعدہ نے الزام لگایا کہ: ’’بخدا سعدؓ نہ تقسیم ِ اموال میں انصاف سے کام لیتے ہیں ،نہ عدالتی فیصلوں میں انصاف کرتے ہیں اور نہ کفار کے خلاف جنگوں میں نکلتے ہیں ۔‘‘
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا:’’اے اللہ اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کی عمر دراز کر، اس کے فقر کو بڑھادے، اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔
واقعہ کے راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو بہت بوڑھا دیکھا، بڑھاپے کی وجہ سے ان کی پلکیں آنکھوں پر گری ہوتی تھیں، فقر سے بدحال تھا اور راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑتا تھا۔ جب اس سے پوچھتے کہ کیا حالت ہورہی ہے توکہتا: ’’میں فتنہ میں مبتلا بڈھاہوں، مجھے سعدؓ کی بددعا لگ گئی ہے۔‘‘ (اولیاء اللہ کی اہانت کا وبال:۵۴)