17/01/2026
والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچہ صبح اسکول کے دروازے میں داخل ہوتا ہے، کئی والدین ذہنی طور پر خود کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب فیس ادا ہو چکی ہے، لہٰذا باقی تمام فرائض بھی ادا ہو گئے۔
اب یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تعلیم بھی دے، اخلاق بھی سکھائے، تربیت بھی کرے، تمیز بھی دے، ہنر بھی دے، اور اگر ممکن ہو تو ایک مکمل “اچھا انسان” پیک کر کے شام کو واپس کر دے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ سوچ والدین کو اپنی اصل ذمہ داری سے بری الذمہ کر دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسکول کے پاس بچے کے دن کے صرف چند گھنٹے ہوتے ہیں، اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں، ایک طے شدہ نظام کے تحت۔ اسکول نصاب پڑھا سکتا ہے، کچھ عادات سکھا سکتا ہے، کچھ حدود متعین کر سکتا ہے، مگر وہ بچے کی پوری شخصیت نہیں بنا سکتا۔ انسان کی تعمیر کوئی ایک جگہ، ایک ادارہ یا ایک فرد نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کے اردگرد موجود ہر چیز شامل ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہ سب اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔
بچہ اصل میں گھر میں بنتا ہے۔ ماں باپ کے رویّے، ان کی گفتگو، ان کا غصہ، ان کی برداشت، ان کا سچ، ان کا جھوٹ، یہ سب لاشعوری طور پر بچے کے اندر منتقل ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کا لہجہ، رشتہ داروں کا انداز، گھر کا مجموعی ماحول، یہ سب بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد گلی محلہ آتا ہے، جہاں وہ مختلف لوگوں کو دیکھتا ہے، مختلف زبانیں سنتا ہے، مختلف رویّے سیکھتا ہے۔ بازار سے گزرتے ہوئے، ٹرانسپورٹ میں بیٹھتے ہوئے، دکانوں کے سامنے رکتے ہوئے، وہ ایسی آوازیں اور مناظر دیکھتا ہے جو اس کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
پھر ہمارے دور کا سب سے طاقتور استاد آتا ہے: اسکرین۔ موبائل فون، ٹی وی، کارٹون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو دن کے کئی گھنٹے بچے کی سوچ، زبان، ردعمل اور رویّے کو شکل دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب موبائل کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ صرف وقت ضائع نہیں کر رہا ہوتا، وہ ایک خاص قسم کی دنیا اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔ وہ دنیا جس میں چیخ ہے، جلدی ہے، ضد ہے، غصہ ہے اور غیر ضروری خواہشات ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر بچہ یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں میں جذب کر رہا ہے تو کیا صرف چھ گھنٹے کا اسکول اس سب کا توڑ کر سکتا ہے؟
یہاں ذرا انصاف سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہو، گفتگو تلخ ہو، والدین خود موبائل میں گم ہوں، بچے کو وقت نہ دیا جائے، اس کے سوال نہ سنے جائیں، اس کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، اور پھر یہ توقع رکھی جائے کہ اسکول جا کر وہ خودبخود سدھر جائے گا، تو یہ ایک فریب ہے۔
اسکول ذمہ دار ضرور ہے، مگر وہ والدین کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ استاد بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلانا والدین کا کام ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ بچہ اسکول کا نہیں، آپ کا ہے۔ اس کا مستقبل فیس سے نہیں بنتا، ماحول سے بنتا ہے۔ اس کی زبان، اس کی سوچ، اس کا رویّہ، اس کا اخلاق — یہ سب کچھ اس وقت بنتا ہے جب وہ اسکول سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر کمی، ہر خرابی اور ہر ناکامی کا الزام صرف اسکول پر ڈال دیں گے تو نہ بچہ سنورے گا، نہ نظام بہتر ہو گا، اور نہ ہی معاشرہ آگے بڑھے گا۔
یاد رکھئے، تعلیم اسکول دیتا ہے، مگر انسان گھر بناتا ہے۔ جب تک والدین یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم اسکول کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے اور خود بری الذمہ بنتے رہیں گے۔ اور یہ رویّہ سب سے زیادہ نقصان اسی بچے کو پہنچاتا ہے، جس کے نام پر ہم سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوتے ہیں۔
16/01/2026
دہم کلاس (2026) کے امتحانات 27 مارچ سے اور سیکنڈ ایئر کے امتحانات 20 مئی سے شروع ہوں گے۔
ان شاءاللہ
16/01/2026
جمعہ صرف "آدھی چھٹی" نہیں، بلکہ "تربیت اور انسانیت" کا دن ہے! 🌙✨
اسلامی معاشرے اور خاص طور پر پاکستان کے تعلیمی اداروں کے پالیسی سازوں، پرنسپلز اور اساتذہ کے نام ایک اہم پیغام!
ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی نظام کے تحت اتوار کو ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے، لیکن ہم یہ بھولتے جا رہے ہیں کہ "سید الایام" (دنوں کا سردار) تو جمعہ ہے۔ وہ دن جس کی نسبت براہِ راست اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ہے۔ کیا ہم نے اپنے بچوں کے لیے اسے صرف ایک "جلدی چھٹی والے دن" تک محدود کر دیا ہے؟
آئیے! جمعہ کو ایک نئی روح دیں اور اسے اپنے سکولوں میں "یومِ تربیت و انسانیت" کے طور پر منائیں۔ میری تمام تعلیمی اداروں سے چند عملی گزارشات ہیں:
1. لباس کی تبدیلی (فری ڈریس کوڈ): 👕
جمعہ کے دن بچوں کو سکول یونیفارم کی قید سے آزاد کریں۔ انہیں کہو کہ وہ صاف ستھرا اسلامی یا روایتی لباس (شلوار قمیض) پہن کر آئیں، تاکہ انہیں بچپن سے ہی اس دن کی خاص نسبت اور پروٹوکول کا احساس ہو۔
2. اسمبلی میں خصوصی اہتمام: 🎤
عام اسمبلی کے بجائے جمعہ کی اسمبلی کو "محفلِ درود و سلام" اور "نعتِ رسولِ مقبول ﷺ" کے لیے وقف کریں۔ بچوں کے درمیان درودِ پاک پڑھنے کے مقابلے کروائیں تاکہ ان کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن ہو۔
3. انسانیت اور ہمدردی کا سبق (Humanity Day): 🤝
اسلام سراسر انسانیت کا دین ہے۔ ہر جمعہ کو ایک "انسانیت ایکٹیویٹی" رکھیں۔ بچے گھر سے کوئی اضافی لنچ یا پھل لائیں اور آپس میں بانٹ کر کھائیں یا کسی ضرورت مند کی مدد کریں۔ اس سے ان میں "احساسِ ہمدردی" پیدا ہوگا۔
4. سنتوں کی عملی مشق: 📖
بچوں کو جمعہ کے آداب سکھائیں: غسل کرنا، خوشبو لگانا، ناخن کاٹنا اور سورۃ الکہف کی تلاوت کی اہمیت۔ یہ باتیں صرف کتابوں تک نہ رہیں، بلکہ سکول میں ان کا عملی تذکرہ ہو۔
5. ہر جمعہ، ایک نیا عنوان (Theme-based Friday): 🏷️
ہم پورے سال کے ہر جمعہ کو ایک خاص نام دے سکتے ہیں، مثلاً:
سلام کا جمعہ: (اس دن ہر ایک کو سلام کرنے کی خاص مہم)
اخلاق کا جمعہ: (اچھے اخلاق اور گفتگو پر بات چیت)
صفائی کا جمعہ: (اپنے اردگرد کو صاف رکھنے کی عملی تربیت)
والدین کا جمعہ: (والدین کی خدمت اور ادب کا سبق)
میرا مقصد صرف "واہ واہ" سمیٹنا نہیں، بلکہ ایک نظریہ پیش کرنا ہے۔ اگر ہم آج اپنے بچوں کو جمعہ کا پروٹوکول سکھائیں گے، تو کل ربِ کائنات ہمیں دنیا اور آخرت میں پروٹوکول عطا فرمائے گا۔
تعلیمی اداروں کے سربراہان سے اپیل: اس جمعہ سے اپنے سکول میں کوئی ایک چھوٹی سی تبدیلی ضرور لائیں۔ اسے ایک تحریک بنائیں تاکہ ہمارے بچے بڑے ہو کر صرف ڈگریاں لینے والے روبوٹ نہ بنیں، بلکہ ایک سچے مسلمان اور بہترین انسان بنیں۔
آئیے اس پیغام کو ہر اسکول، ہر ٹیچر اور ہر والدین تک پہنچائیں! 🔄
15/01/2026
خاموش زندگی، بولتی غلطیاں
زندگی اکثر خاموش رہتی ہے۔
لیکن اس خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ سب ٹھیک ہے۔
ہر انسان سے کبھی نہ کبھی غلطیاں ہوتی ہیں۔
یہ غلطیاں فوراً نظر نہیں آتیں،
مگر بعد میں نتیجہ دکھا کر بولتی ہیں۔
نوجوان اکثر سوچتے ہیں:
“ابھی وقت ہے، بعد میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
یہ سب سے بڑی غلطی ہے۔
وقت ضائع کرنے سے بعد میں پچھتاوا بڑھ جاتا ہے۔
والدین اور اساتذہ بھی اہم ہیں۔
اگر والدین صرف ڈانٹتے ہیں یا نمبر پوچھتے ہیں،
اور اساتذہ صرف پڑھاتے ہیں،
تو بچے سمجھدار نہیں بنتے۔
وہ خاموش رہتے ہیں، مگر اپنی غلطیاں نہیں سیکھتے۔
اصل کامیابی وہ ہے جو:
اپنی غلطی مانے
اسے سدھارے
دوبارہ نہ دہرائے
جو آج اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے،
وہ کل مضبوط اور کامیاب بن سکتا ہے۔
جو آج سستی اور لاپرواہی دکھاتا ہے،
اس کی غلطیاں ایک دن سب کے سامنے بولتی ہیں۔
یاد رکھیں:
زندگی خود کچھ نہیں کہتی،
لیکن ہماری غلطیاں ہمیشہ بولتی ہیں۔
#تعلیم
15/01/2026
بچوں کو سمجھانے کا صحیح وقت کیوں ضروری ہے؟
بیٹا/بیٹی، جب کوئی ہمیں کچھ سکھاتا ہے تو ہمارا دل اور دماغ اُس وقت تیار ہونا چاہیے۔ اگر وقت ٹھیک نہ ہو تو اچھی بات بھی بری لگنے لگتی ہے۔
1️⃣ سوتے ہی نہیں ڈانٹنا چاہیے
جب بچہ نیند سے جاگتا ہے تو اُس کا دماغ ابھی تازہ ہوتا ہے۔ اگر فوراً ڈانٹ پڑ جائے تو دل اداس ہو جاتا ہے اور پورا دن بوجھل لگتا ہے۔
2️⃣ سونے سے پہلے نہیں سمجھانا چاہیے
رات کو دماغ آرام کرنا چاہتا ہے۔ اگر اُس وقت ڈانٹ یا سخت بات ہو تو وہ بات بار بار یاد آتی رہتی ہے اور نیند خراب ہو جاتی ہے۔
3️⃣ کھانے کے وقت نہیں ڈانٹنا چاہیے
کھانا کھاتے وقت جسم کو خوشی اور سکون چاہیے۔ ڈانٹ سے دل گھبرا جاتا ہے اور کھانا بھی ٹھیک طرح ہضم نہیں ہوتا۔
4️⃣ سب کے سامنے کبھی نہیں ڈانٹنا چاہیے
اگر سب کے سامنے ڈانٹا جائے تو بچے کو شرمندگی ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ میں اچھا نہیں ہوں، اور اُس کا اعتماد کم ہو جاتا ہے۔
پھر صحیح طریقہ کیا ہے؟
✔️ لوگوں کے سامنے ہمیشہ بچے کی تعریف کرو
✔️ غلطی ہو تو اکیلے میں پیار سے سمجھاؤ
✔️ نرمی سے بات کرو، چیخنے سے نہیں
✔️ یہ بتاؤ کہ غلطی کیا تھی اور درست کیا ہے
یاد رکھو
م
جب بڑوں کی زبان نرم ہوتی ہے تو
بچے کا دل مضبوط ہوتا ہے۔
اور جب بچے کا دل مضبوط ہو،
تو وہ خود پر یقین کرنا سیکھ لیتا ہے۔
کیونکہ ہم اپنے بچوں سے جیسے بات کرتے ہیں، وہ ویسا ہی خود کو سمجھنے لگتے ہیں۔
#تعلیم
26/12/2025
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچایا جاتا ہے۔”
(سنن ابو داؤد)
26/12/2025
تعلیم وہ روشنی ہے جو
طالب علم کو صرف کامیاب ہی نہیں
بلکہ بہتر انسان بھی بناتی ہے۔
ہم علم کے ساتھ
اخلاق، نظم و ضبط اور خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔
Education is the light that not only leads
students to success
but also helps them become better human beings.
24/12/2025
کامیاب طالب علم وہی ہوتا ہے جو
محنت کے ساتھ نظم و ضبط کو بھی اپناتا ہے۔
📘 تعلیم کے ساتھ کردار سازی
ہماری اولین ترجیح ہے۔
✨ Thought of the Day
A successful student is one who combines
hard work with discipline and good character.
20/12/2025
📚 تعلیم وہ سرمایہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
ہم اپنے طلبہ کو علم کے ساتھ اخلاق، نظم و ضبط اور خود اعتمادی سکھاتے ہیں۔
✨ Education is the most valuable asset that never fades.
We focus on knowledge, discipline, and strong character building
24/10/2025
🌟 THE LEAD PUBLIC HIGH SCHOOL 12 EB ARIFWALA 🌟
📚 Admissions Open for Session 2025-26 📚
✅ Quality Education with Islamic Values
✅ Experienced & Dedicated Staff
✅ Separate Classes for Boys & Girls
✅ Discipline – Character – Excellence
📞 Contact: 0340-4095172 | 0327-0849172
🏫 Visit us today and secure your child’s bright future!
🌷 دی لیڈ پبلک ہائی اسکول 12 ای بی، عارف والا 🌷
📖 سیشن 2025-26 کے داخلے جاری ہیں! 📖
✅ معیاری تعلیم اسلامی تربیت کے ساتھ
✅ تجربہ کار اور محنتی اساتذہ
✅ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ کلاسز
✅ نظم و ضبط، کردار سازی اور اعلیٰ تعلیم
🏫 اپنے بچے کے روشن مستقبل کے لیے آج ہی اسکول تشریف لائیں!