Quran and tarbiyah

Quran and tarbiyah

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Quran and tarbiyah, Education, Arifwala, Arifwala.

Our page is about online learning of Quran , Nazra , Hifz , Daily duplications with tajweed and correct pronounciation and specially Arabic language ( fusha & aamma)

28/02/2023

الحمد للہ🌼🍂

Photos 18/12/2022

Oh Allah, forgive my past and change my future.

24/03/2022

علم الصرف و النحو ، إجراء و حلّ عبارت اور قرآنی یا کلامی عربی تکلم سیکھنے کے لیے رابطہ
03143425625

18/12/2019

أھل بیت سے محبت
⁦❤️⁩⁦🕋❤️⁩
أھل سنت والجماعت کے تناظر میں

ابن عساکر متعدد طُرق سے روایت کرتے ھیں
کہ ھشام بن عبد الملک ، عبد الملک کے زمانہ خلافت میں حج کے لیے نکلا
جب بیت اللہ شریف کا طواف کرنے لگا تو اس نے بہت کوشش کی کہ حجر اسود تک پہنچ کر اسکا استلام کر سکے لیکن لوگوں کے ہجوم نے اسکے لیے یہ ممکن نہ ہونے دیا
پھر اسکے لیے مطاف کے ایک جانب منبر نصب کیا گیا
جس پر بیٹھ کر یہ طواف کا منظر دیکھنے لگا ، اسکے ساتھ شام سے آئے ہوئے دیگر لوگ بھی تھے
کہ اچانک علی بن حسین بن علی کرم اللہ وجوھہم سامنے سے نمودار ہوئے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ لخت جگر
اور
سردارِ جنت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے یہ فرزند لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت چہرے والے تھے
اور سب سے عمدہ خوشبو کے باعث لوگوں میں ایک جداگانہ پہچان رکھتے تھے
چنانچہ یہ بھی بیت اللہ کا طواف کرنے لگے اور جب حجر اسود کے پاس پہنچے تو لوگ انھیں دیکھ کر ایک دم پیچھے ہٹ گئے ، یہانتک کہ علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی رکاوٹ و تکلیف کے پُر وقار استلام کیا
جب اھل شام نے یہ منظر دیکھا تو ان میں سے ایک شخص بول پڑا
یہ کون ہے !؟ جس کے احترام میں لوگ اس قدر ہیبت زدہ ھیں ؟
تو ھشام اگرچہ علی بن حسین رضی اللہ عنہ کو پہچانتا تھا لیکن اس خوف سے کہ کہیں اھل شام ان میں رغبت نہ لینے لگیں؛ کہنے لگا
کہ "میں اس کو نہیں پہچانتا"
فرزدق نامی مشہور شاعر بھی وہاں موجود تھا ، اس نے کہا "لیکن میں ان کو پہچانتا ہوں " اس پر لوگوں نے کہا
"کون ہے یہ ؟ اے ابو فراس !" ( فرزدق کی کنیت)
تو فرزدق نے کہا

ھذا الذی تعرف البطحاء وطأته
والبيت يعرفه والحل والحرم

✨ یہ وہ ھیں جن کی مرتبت کو خود سرزمین بطحاء پہچانتی ہے ، بیت اللہ بھی انھیں جانتا ہے ، حل و حرم بھی پہچانتے ہیں (حِلّ یعنی غیر حرم)

هذا علي رسول الله والدهُ
امست بنور ھداہ تھتدی الامم

✨یہ علی ھیں ، رسول اللہ ان کے بابا ھیں ؛ جن کے نورِ ہدایت سے امتوں کے چراغِ ہدایت روشن ہوئے

ھذا ابن خیر عباد اللہ کلھمٖ
هذا النقي التقي الطاهر العلمُ

✨اللہ کے سب بندوں میں سے افضل یعنی خیر البشر (رسول اللہ )کے بیٹےھیں ، یہ پاکیزہ ھیں برگزیدہ ھیں امت کے سردار ھیں

إذا رأته قريش قال قائلها
الى مكارم هذا ينتهى الكرمُ

✨جب ان (علی بن حسین رضی اللہ عنہ) کو قریش نے دیکھا تو ان کے کسی کہنے والے نے کہا " یہ وہ کریم ھیں جن کے کرم (سخاوت) پر کرم کی انتہا ہوتی ھے"

يُنمىٰ الى ذُروة العز التى قصرت
عن نيلها عرب الاسلام والعجمُ

✨عزت کے جس عالی مقام پر یہ ھیں اس تک پہنچنے سے عرب و عجم قاصر ھیں

يكاد يُمسكه عرفان راحته
ركن الحطيم اذا ما جاء يستلمُ

✨ ڈر ھے کہ کہیں استلام کرتے وقت حطیم ( کعبہ شریفہ کی وہ دیوار جس پر چھت نہیں) کا کونہ انھیں روک نہ لے کیونکہ وہ بھی ان کی ہتھیلی تک کو پہچانتا ہے

فى كفه خيزران ريحه عبق
من كف أروع فى عرنينه شممُ

✨ان کے ہاتھ میں عصائے شاہی ہے جو ہاتھ کی خوشبو سے مہک رہا ھے ، ان کی ناک کی بلندی حسن سے کس قدر خیرہ کرتی ہے

يُغضِى حياءً و يغضٰى من مهابتهٖ
فما يكلم الا حين يبتسمُ

✨وہ لوگوں سے نگاہیں پھیرتے ہیں حیاء کی وجہ سے
اور لوگ ان سے نگاہیں پھیرتے ہیں احترام بھری ہیبت کی وجہ سے
ان کے لب صرف مسکرانے کے لیے ہی کھلتے ھیں مسکرانا ہی ان کا بات کرنا ہے

من جده دان فضل الأنبياء له
و فضل أمته دانت له الأممُ

✨ان کے نانا کا وہ مقام ہے جس پر انبیاء کے مقام جھکتے ھیں اور انکی امت پر امتیں قربان ھیں

ينشق نور الهدى عن نور غرته
كالشمس ينجاب عن إشراقها العتمُ

✨جن کی پیشانی کے نور سے ہدایت کا نور پھوٹتا ہے
جیسے سورج کی روشنی سے اندھیریاں چھٹ جاتی ھیں

مشتقة من رسول الله نبعته
طابت عناصره والخيم والشيمُ

✨یہ کونپل رسول اللہ سے یہ پھوٹی ہے
کیا ہی عمدہ بنیاد ھے کیا ہی نورانی طبائع و عادات ھیں

ھذا ابن فاطمة ان كنت جاهله
بجده أنبياءالله قد ختموا

✨ اگر تو ان سے ناواقف بنا ہوا ہے تو یہ فاطمہ کے بیٹے ہیں
جن کے بابا کی بعثت پر انبیاء کا سلسلہ ختم ہو گیا

الله شرفه قدرا و فضله
جرى بذاك له فى لوحه القلم

✨خود اللہ نے ان کو شرف بخشا اور فضیلت دی
اور اس شرف و فضیلت کے لیے خود رب تعالیٰ کی لوح محفوظ میں قلم جاری ہوا ہے

كلتا يديه غياث عم نفعهما
يستوكفان و لا يعروهما عدمُ

✨ان کے دونوں ہاتھ سخاوت میں باران رحمت ھیں جن سے مخلوق خدا کو فرق کیے بغیر خیرات عام ملتی ہی رہتی ہے کبھی ان پر محرومی نہیں آتی

سهل الخليقة لا تخشى بوادره
يُزينه الخلتان الحلم والكرمُ

✨یہ مرد نرم خو ھیں جن سے تیزی خشم کا کچھ خوف نہیں کیا جا سکتا، جنہیں بردباری اور سخاوت کی دو مبارک خصلتیں مزید آراستہ کرتی ھیں

حمال أثقال أقوام اذااقترضوا
حلو الشمائل تحلو عنده نعمُ

✨جب قومیں مقروض ہو جائیں تو یہ ان کا بوجھ اٹھاتے ھیں ، ان کے خصائل بہت ہی عمدہ ھیں اور ( کسی بھی سوال کرنے والے کو ) "ہاں" کہنا ان کا پسندیدہ عمل ہے

ما قال لا قطّ الا فى تشهدهٖ
لو لا التشهد كانت لاؤهُ نعمُ

✨(ان کی سخاوت کا یہ عالم ھے کہ) کبھی بھی کسی ( سائل کو)" لَا "(یعنی نہیں ھے) نہیں کہتے اگر لَا کہتے ھیں تو صرف تشھد میں کہتے ھیں
( اشهد ان لا اله الا الله)
اگر تشھد نہ ہوتا تو ان کا لَا بھی نعم (ہاں ) ہی ہوتا

عمّ البرية بالاحسان فانقشعت
عنها الغياهب والاملاق والعدمُ

✨ان کا احسان لوگوں پر اس قدر ہوا کہ لوگوں سے ظلمت ، فقر اور قحط دور ہو گئے

من معشرٍ حبهم دين و بعضهم
كفر و قربهم منجاً و معتصمُ

✨(جہان کی کل انسانیت میں ، اس گھرانے کو یہ اعزاز حاصل ھے کہ) ان کی محبت دین ھے اور ان سے بغض کفر ھے اور ان کا قرب (مصائب و آلام) سے نجات اور پناہ گاہ ھے

مقدم بعد ذكر الله ذكرهم
فى كل بدءٍ و مختوم به الكلمُ

✨همیشہ اللّہ تعالیٰ کے نام کے بعد ان کا نام آتا ھے چاھے کسی کلام کا آغاز ہو چاھے اختتام ھو
(الحمد لله والصلوٰة والسلام على رسول الله و{ على آله } و صحبه أجمعين)

يُستدفَع السوءُ والبلوٰى بحبهمٖ
و يستزاد به الأحسان والنِعَمُ

✨ان کی محبت کے صدقے (مصائب و آلام سے) نجات طلب کی جاتی ھے اور اسی کے وسیلے سے رب کریم سے لطف و احسان اور نعمتوں میں برکت کا سوال کیا جاتا ھے

ان عُدّ اهل التقىٰ كانوا ائمتهم
او قيل: من خير اهل الأرض؟ قيل هم

✨اگر اھل تقوٰی کو شمار کیا جائے تو یہ ان سب کے امام ھوں گے ، اور اگر پوچھا جائے کہ زمین والوں میں سب سے بہتر کون ھیں ؟ تو کہا جائے گا " یہ ھیں "

لا يستطيع جوّاد شأوَ غايتهم
و لا يدانيهمٖ قوم و ان كرموا

✨کوئی کتنا ہی سخی اور جواد کیوں نہ ہو ان کی حد کو پار نہیں کر سکتا اور اگر کوئی قوم سخاوت پر اتر آئے تو ان کی خاکِ پا کو نہیں پہنچ سکتی

هم الغيوث اذاما ازمة ازمتْ
والأُسد أُسد الشرى والبأس محتدمُ

✨جب قحط شدت پکڑتے ھیں تو ان بادلوں سے جودوسخا کے باران اترتے ھیں اور جب بھی کوئی فتنہ برپا ھو ، دین پر آنچ آنے لگے اور لڑائی کا میدان گرم ھو جائے تو یہ شرٰی کے شیروں کی طرح بپھرے ھوئے شیر ھوتے ھیں
(اور دین میں پڑنے والے شگاف کو اپنی تلواروں کی گرمی اور خون کے نذرانے سے پُر کرتے ھیں)
(شرٰی فرات کے کنارے ایک جگہ جو شیروں کی آماجگاہ ھونے میں ضرب المثل تھی)

لا يقبض العسر بسطاً من اكفِّهمٖ
سيّان ذلك ان أثروا و ان عدموا

✨ان کی کشادگی کو تنگی کبھی ختم نہیں کر سکتی دونوں صورتوں میں چاھے ان کے پاس کچھ ھو یا نہ ھو

يابىٰ بهم أن يحلَّ الذمُّ ساحتهم
خلق كريم و أيد باالندىٰ هضمُ

✨اخلاق کریمانہ اور شانِ جودوسخا کسی مذمت یا ملامت کو ان کے گوشۂ سکن کے قریب نہیں پھٹکنے دیتے

أيُّ الخلائق ليست فى رقابهمٖ
لأوّليّة هذا أو له نعمُ

✨مخلوق میں ایسے لوگ کہا ھیں ؟ جن کے کاسۂ گدائی میں ان (علی بن حسین رضی اللہ عنہ) سے یا ان کے آباء سے عطا کردہ نعمتیں نہ ھوں

من يعرف اللهَ يعرف أوّليّةَ ذا
فالدين من بيت هذا ناله الأممُ

✨جو اللہ کو پہچانتا ھے وہ ان کے بڑوں کو بھی پہچانتا ھے کیونکہ دین(جو انسانیت کو آگ سے بچانے آیا) جیسی نعمت عظمیٰ اسی گھرانے سے امتوں کو نصیب ہوئی
(تو جو ان کو نہیں پہچانتا وہ رب کوبھی نہیں پہچانتا)

اِن كنتَ تنكره فالله يعرفه
والعرش يعرفه واللوح والقلمُ

✨اگر تو انھیں پہچاننے سے انکار کرتا ہے (تو اس سے نبی کے گھرانے کی شان وعظمت میں کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ) خود بارِ الٰہا ان کو پہچانتا ھے ، عرش ان کو پہچانتا ھے لوح و قلم پہچانتے ھیں

و ليس قولك من هذا بضائره
العرب تعرف من أنكرت والعجمُ

✨تیرا یہ کہنا کہ "یہ کون ھے ؟"
ان کا کچھ نہیں بگاڑ پایا کیونکہ جنھیں پہچاننے سے تو انکار کرتا ھے انھیں عرب و عجم پہچانتے ھیں

ھشام غیظ و غضب سے آگ بگولہ ھو گیا جب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان عُسفان نامی جگہ پر پہنچے تو فرزدق کی قید کا حکم جاری کر دیا
اس معاملہ کی خبر جناب علی بن حسین بن علی کرم اللہ وجوھہم کو پہنچ گئی انھوں نے بارہ ہزار درھم فرزدق کےلیے بھیجے اور فرمایا " اے ابو فراس( خاندانِ نبوت کی عزت کی پاسداری کرنے کی پاداش میں آپ کو جو اذیت در پیش ھوئی اس پر ) میں معذرت خواہ ھوں ، اگر میرے پاس اس سے ذیادہ بھی ھوتا تو وہ بھی آپ کو پہنچا دیتا
تو فرزدق نے کہا "اے رسول اللہ کے بیٹے" میں نے جو کچھ کہا صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے ڈر کر کہا
اب میں اس پر کچھ لے نہیں سکتا
تو شہزادۂ جنت جناب علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا " میں اللہ تعالیٰ سے تیرے کیے پر شکر گزار ھوں لیکن ھم اھل بیت جب کسی امر کو نافذ کر چکیں تو پھر اس سے واپس نہیں پلٹتے
تو فرزدق نے وہ رقم قبول کر لی اور جیل میں بیٹھے ھشام کی ہجو میں کثیر اشعار کہہ ڈالے۔۔

مترجم :
أحسن نذیر

18/12/2019
Want your school to be the top-listed School/college in Arifwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Arifwala
Arifwala