ArifWala.Net Page

ArifWala.Net Page

Share

Arifwala.net is First Online Marketplace for Local small and large business.

VU Campus 2-A Fareedia Colony Near Al-Shamas Honda Agency Arifwala ,0302-2200081 ,0345-2200081, 0457-834384
Working Hours: 10:00 AM to 05:PM کیا آپ جانتے ہیں کہ عارف والا کیسے بنا؟
عارفوالا شہر کی تاریخ پر ایک مختصر نظرچار بازاروں والا شہر:
دہلی تا ملتان روڑ پر واقع زرعی اجناس اور خاص اہمیت کا حامل شہر (عارفوالا) کو چار بازاروں والا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ان چار بازاروں میں قبولہ بازار، تھانہ بازا

16/07/2025

Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

16/07/2025
22/08/2024

زیادہ اعتماد پریشانی کا سبب ھو سکتا ھے
مجھ پر یقین کریں یا نہ کریں لیکن آپ کے کچھ دوست خفیہ طور پر آپ سے نفرت کرتے ہیں" تعلقات کے بارے میں ایک گہری اور کبھی کبھی پریشان کن حقیقت کی عکاسی کی جاتی ھے کہ کہیں کوئی ایسے تعلقات میں نقصان نہ اٹھا بیٹھے۔ لہزا مکمل اعتماد کرتے وقت علم و عقل کا استعمال کر لینے سے انسان کچھ حد تک مصائب سے بچ سکتا ھے۔
1. اعتماد اور خیانت اور پوشیدہ جذبات:
یہ ھیڈنگ اس خیال کو اجاگر کرتا ہے کہ ہر وہ شخص جو آپ کا دوست دکھائی دیتا ہے اس کے دل میں آپ کے بہترین مفادات نہیں ہیں۔ ظاہری شکل کے باوجود کچھ لوگ آپ کے تئیں منفی جذبات یا ناراضگی پیدا کر سکتے ہیں۔
2. آگاہی اور سمجھداری:
محتاط رہیں: یہ آپ کے تعلقات میں محتاط اور سمجھدار رہنے کی یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جو آپ کے قریب ہے وفادار یا مددگار ہو، اور یہ ضروری ہے کہ ممکنہ پوشیدہ دشمنیوں سے آگاہ ہو۔
3. انسانی فطرت، حسد اور عدم تحفظ:
یہ عنوان عام انسانی جذبات جیسے حسد یا عدم تحفظ کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے، جو کبھی کبھی پوشیدہ ناراضگی کے طور پر ظاہر ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ دوست بھی مسابقتی یا حسد محسوس کر سکتے ہیں، جو منفی جذبات کا باعث بنتے ہیں جن کا وہ کھل کر اظہار نہیں کر سکتے۔
4. رشتوں کی عکاسی اور دوستی کا اندازہ لگانا:
یہ پیغام آپ کی دوستی کے معیار اور صداقت پر خود غور کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ اس بات پر غور کرنے کی دعوت ہے کہ آیا آپ کے آس پاس کے لوگ واقعی معاون ہیں یا ان تعلقات میں بنیادی مسائل ہو سکتے ہیں۔
5. گھٹیا پن بمقابلہ حقیقت اور توازن کا نقطہ نظر:
اگرچہ اس ھیڈنگ کو مذموم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، یہ انسانی تعلقات کے حقیقی پہلو کو بھی چھوتا ہے۔ صحت مند شکوک و شبہات کے ساتھ اعتماد میں توازن رکھنا آپ کو ممکنہ خیانت سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
نتیجہ:
ایک واضح یاد دہانی ہے کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ آپ کس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس بات سے آگاہ رہیں کہ تمام دوستیاں اتنی حقیقی نہیں ہیں جتنی کہ وہ نظر آتی ہیں۔ یہ ان لوگوں کو احتیاط سے منتخب کرنے کی اہمیت کی تجویز کرتا ہے جن کے ساتھ آپ اپنے ارد گرد رہتے ہیں اور انسانی جذبات اور تعلقات میں پیچیدگیوں سے آگاہ ہیں۔
Copied

22/08/2024

السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالٰی وبرکاتہ
شکر گزاری کی عادت انسان کو ہر طرح کے حالات میں رہنا آسان کر دیتی ہے، اپنے پاس اُن چیزوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرتے رہا کریں، جن کے لیے اکثر لوگ ترستے ہیں اور ایسا یقینی طور پر ہوتا ہے کہ ہمارے پاس موجود کئی نعمتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو پانے کا کئی لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے
اللہ پاک سے دعا کرتے رہا کریں کہ وہ ہمیشہ شکر گزاروں میں سے رکھے، یہ توفیق بہت بڑی عطا اور سکون کا باعث ہوتی ہے، خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں اور مسکراتے رہیں
آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ
تمام احباب محبت سے درود پاک پڑھنے کو معمول بنا لیں کہ سعادت دارین اور شفاعتِ کبریٰ کا باعث ہے

19/08/2024

‏دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا،
انسان کی معاشی زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز کرتا ہے‘‘
تعلیم شعور دیتی ہے لیکن’’کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں،
’’اگر تعلیم سے روٹی کمائی جا سکتی تو آج دنیا کے تمام پروفیسر ارب پتی ہوتے‘‘
اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں لیکن ان میں ایک بھی پروفیسر ، ڈاکٹر یا ماہر تعلیم شامل نہیں‘‘
’’دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی،
یہ لوگ وقت کی قدر و قیمت سمجھتے ہیں
چنانچہ یہ لوگ ڈگری ہاتھ میں لیکر نوکری ڈھونڈنے کی بجائے طالب علمی کے دور ہی میں کاروبار شروع کر دیتے ہیں
چنانچہ ان کی کامیابی انھیں کالج یا یونیورسٹی سے اسٹور، کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے‘‘ یہاں وہ محنت سے مقام پاتے ہیں ۔
دنیا میں ہر چیز کا متباد موجود ہے لیکن محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں‘‘
’’ دنیا کا کوئی کیمیائی عمل لوہے کو سونا نہیں بنا سکتا
لیکن انسانی ہاتھ وہ طاقت ہیں جو دنیا کی کسی بھی دھات کو سونے میں بدل سکتے ہیں‘‘۔
یاد رکھیے دنیا میں ان نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں
جو یہ سمجھتے ہیں کہ محض تعلیمی قابلیت بتانے والے ڈگری نام کے کاغزی ٹکڑے سے دنیا ان کے قدموں میں ہوگی
تعلیم کے ساتھ ہنر لازم ہے ہنرمندوں کے لیے پوری دنیا کھلی پڑی ہے'
’’ہنر مند شخص کا ہنر اس کا پاسپورٹ ہوتا ہے
ہنر سیکھیے حالات پر رونے کی بجائے کمائی کے اسباب پیدا کیجیے...!!!

19/08/2024

ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ چڑیا گھر گیا۔
بیوی نے دیکھا کہ بندر اپنی بیوی کے ساتھ کھیل رہا ہے اور کہا: "کیا شاندار محبت کی داستان ہے، ہر طرف خوشی ہی خوشی!"
جب وہ شیروں کے پنجرے کے پاس گئے، تو بیوی نے دیکھا کہ شیر اپنی بیوی سے دور، خاموشی سے بیٹھا ہے اور کہا: "یہ کتنی افسردہ محبت کی کہانی ہے، سب کچھ دکھ بھرا ہے!"
شوہر نے کہا: "یہ خالی بوتل اٹھا کر شیرنی کی طرف پھینکو اور دیکھو کیا ہوتا ہے۔"
جب بیوی نے بوتل پھینکی، تو شیر غصے میں دھاڑتے ہوئے اپنی بیوی کی حفاظت کے لیے اٹھا اور اس کے دفاع کے لیے آگے بڑھا!
پھر شوہر نے کہا: "اب یہ بوتل بندر کی بیوی کی طرف پھینکو۔"
جب بیوی نے ایسا کیا، تو بندر اپنی بیوی کو چھوڑ کر بھاگ گیا تاکہ بوتل اس کو نہ لگے!
شوہر نے کہا: "ظاہر پر مت جاؤ، لوگوں کے سامنے جو نظر آتا ہے وہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اپنی جعلی محبت سے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، جب کہ کچھ اپنی محبت کو دل کے اندر چھپا کر رکھتے ہیں۔
یاد رکھو:
- جو تنہا رہتا ہے، وہ خواہشات سے خالی نہیں ہوتا!
- جو عورت پردہ کرتی ہے، وہ فیشن سے بے خبر نہیں ہوتی!
- جو سخی ہے، وہ مال سے نفرت نہیں کرتا!
بلکہ یہ لوگ اپنی خواہشات پر قابو پا کر مضبوط ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
"اور جو اپنے رب کے مقام سے ڈرتا رہا اور نفس کو خواہشات سے روکتا رہا، تو یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔" (سورۃ النازعات: 40-41)
میرے محترم قاری:
آپ کا لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک یہ نہیں بتاتا کہ آپ کو ان کی ضرورت ہے، بلکہ یہ آپ کے دین اور تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس لیے:
- اپنی اخلاقیات میں مالدار بنو،
- اپنی قناعت میں امیر بنو،
- اور اپنے تواضع میں بڑے بنو۔
اور ان لوگوں کی پرواہ نہ کرو جو پیٹھ پیچھے بات کرتے ہیں، کیونکہ وہ واقعی تمہارے پیچھے ہیں۔

18/08/2024

Must Read if You are a Father of Daughter,
کسی گاؤں میں ایک پہلوان رہتاتھا۔۔اپنے علاقے کا بہت مشہور اور جانا مانا۔۔۔۔اسکی ایک ہی بیٹی تھی۔۔۔بہت لاڈ اور پیار سے پالی۔۔۔۔خوبصورت اور نازک سی۔۔۔بیٹی جوان ہوئی تو اسکی شادی کی فکر ہوئی۔۔۔
چونکہ پہلوان تھا۔۔۔اسلیئے بیٹی کے لیئے ایک پہلوان ہی پسند آیا۔۔۔اونچا لمبا تنےہوئے بدن کا مالک۔۔۔گھنی موچھوں والا۔۔۔گھبرو۔۔۔زمیندار۔۔۔
نازو پلی بیٹی وداع کردی۔۔۔
چھے ماہ بھی ناگزرے تھے کہ پہلوان داماد نے بیٹی کومار پیٹ کر نکال دیا۔۔۔کہ گھر کا کوئی کام نہیں آتا اسے۔۔۔
باپ کادل بہت رنجیدہ ہوا۔۔۔مگر کسی کوکچھ نا کہا۔۔۔کہ فضول میں تماشا بنے گا۔۔۔۔۔بیوی سے کہا کہ اسے ہر چیز سکھاو۔۔۔جو گھرداری کے لیئے ضروری ہوتی۔۔۔ماں نے بیٹی کو جھاڑو پوچا۔۔۔کھاناپکانا۔۔۔سب سیکھیا۔۔چند ماہ بعد صلح صفائی ہوئی۔۔۔داماد کو بلایا۔۔۔معافی مانگی کہ شرمندہ ہیں لاڈ پیار میں گھرداری ناسیکھائی۔۔۔
چھے ماہ ناگزرے۔۔۔بیٹی پھر مار کھاکر میکے واپس اگئی۔۔۔کہ کوئی سیناپرونا نہیں آتا۔۔۔۔پھر پہلوان بہت دکھی ہوا۔۔۔پھر بیوی کو کہا اسے سیناپرونا سیکھاو۔۔۔۔
بیوی نے سلائی کڑھائی۔۔۔۔گوٹاکناری۔۔۔۔رضائیاں بچھائیاں۔۔۔یہاں تک کے پراندے اور ازاربندھ بھی سیکھائے۔۔۔پھر داماد کو بلایا۔۔۔غلطی کی معافی مانگی۔۔۔اور بیٹی رخصت کی۔۔۔۔
پھر چند ماہ گزرے۔۔۔بیٹی پھر نیل ونیل۔۔۔مار کھاکر میکے واپس۔۔کہ کھیت کھلیان نہیں سنبھال سکتی میرے ساتھ۔۔گائے بھینسوں کادودھ دوہنا نہیں آتا۔۔پہلوان بہت ہی دکھی۔۔۔رنجیدہ۔۔۔۔یااللہ کیسا نصیب ہے بیٹی کا۔۔۔خیر۔۔۔بڑی عزت تھی زمانے میں۔۔خاموش رہا۔۔۔بیٹی کوساتھ لے جاتا کھیتئ بھاڑی کے کام سیکھائے۔۔۔اور ایک بار پھر بیٹی بہت دعاوں کے ساتھ رخصت کی۔۔۔
پھر چند دن گزرے۔۔۔پھر بیٹی روتی میکے۔۔۔پہلوان نے سوال کیا بیٹی اب کیا ماجرہ ہوا۔۔۔۔کہنے لگی میرا شوہر کہتاہے تو آٹاگھوندھتے ہوئے ہلتی بہت ہے۔۔۔۔
پہلوان کو اب ساری بات سمجھ میں آئی۔۔۔اس کے داماد کو عادت پڑھ چکی تھی مارنے کی اور لت لگ گئی تھی بیوی پہ رعب جمانے کی۔۔۔کہنے لگا بیٹی۔۔۔۔میں تجھے سب سیکھایا۔۔۔مگر یہ نہیں سیکھایاکہ تو بیٹی کس کی ہے۔۔۔بیٹی حیران ہوئی۔۔۔۔مگر کچھ ناسمجھی۔۔۔۔
چند دن بعد داماد پہلوان کو احساس ہوا کہ بہت عرصہ گزرا نا سسر نا معافی مانگی نا بیٹی واپس بھیجی۔۔۔۔
خیرخبرلینے سسرال کے گھر گیا۔۔۔سسر نے دروازے پہ روک لیااور کہا۔۔۔انہی پیروں پہ واپس چلاجا۔۔۔آج کی تاریخ یاد رکھ لے۔۔۔پورے دوسال بعد آنا اور آکر بیوی لے جانا۔۔۔۔اگر اس سے پہلے مجھے تو یہاں نظر آیا تو ٹانگیں تڑواکر واپس بھیجوں گا۔۔۔داماد کو فکر ہوئی۔۔مگر انا آڑھے آئی۔۔۔اور لوٹ گیا۔۔۔
دن گزرتے رہے۔۔۔پہلوان بیٹی کو منہ اندھیرے کھیتوں میں لے جاتا۔۔۔اور سورج نکلنے پرگھر بھیجتا۔۔۔بیوی نے بارہا پوچھا مگر یہ راز نا کھلا۔۔۔
دوسال گزر گئے۔۔۔۔داماد بیٹی کو لینے آیا۔۔باپ نے خوشی خوشی رخصت کی۔۔۔۔
چند دن گزرے۔۔۔۔پہلوان داماد نے عادت سے مجبور۔۔۔چیخناچلانا شروع کردیا اور مارنے کے لیئے بیوی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔بیوی نے کسی منجھے ہوئے پہلوان کی طرح شوہر کوبازوسے اٹھاکر زمین پر پٹخ دیا۔۔۔۔اور کہا۔۔۔
تو جانتاہے نا میں بیٹی کس کی کی ہوں۔۔۔۔وہ سمجھ گیا کہ اب کی بار دوسال میں باپ نے بیٹی کو کیا سیکھاکربھیجاہے
اور اسکے بعد پہلوان کو دوبارہ بیوی سے اونچی آواز میں بات کرتے نہیں دیکھاگیا۔۔۔۔اور بیٹی کبھی دوبارہ مار کھاکرمیکے نہیں آئی۔۔۔۔
باپ نے بیٹی کو کیاسیکھایا۔۔۔آپ بھی جان گئے ہوں گے۔۔۔
ہرچیز ماں کے سیکھانے کی نہیں ہوتی۔۔۔کچھ باتیں کچھ اعتماد باپ بھی بیٹیوں میں لاتاہے۔۔۔
اس لیئے میں سمجھتی ہوں جو دور جارہاہے۔۔۔اسمیں بیٹیوں کو اپنی حفاظت کرنا۔۔۔ضرور سکھانا چاہیے۔۔۔
مصنف: نامعلوم

18/08/2024

مرزا غالب کا کھلا خط ، ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے پر خیالات کا اظہار
جانِ تمنّا ! یہ کیا ہو گیا کہ ہمارے اور تمھارے درمیان برقی روابط محدود کر دیے گئے ہیں ؟ سنا ہے سماجی رابطوں کے برقی نظام کے آگے آتِشِیں دیوار تعمیر کر دی گئی ہے۔ چینیوں نے تاتاری حملوں کی روک کے واسطے دیوارِ چین تعمیر کی تھی ، مشرقی جرمنوں نے شہر برلن کے بِیچ دیوار بنائی تھی اور اب یہ تیسری دیوار ہے جو ہمارے خرچ پر ہمارے ہی دلوں پر بنائی گئی ہے۔ آگے اطمینان تھا کہ جب ذرا طبیعت مُنَغَّض ہوئی تو تمھیں سامنے لا کر باتیں کر لیں ۔گاہے تحریر پڑھ لی ، گاہے تصویر دیکھ لی۔ بقول منشی موجی رام :
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
اب تو برقی اشاروں کی وصولی کے لیے بار بار بالا خانے پہ جانا پڑتا ہے۔ حاصل مقصود پھر بھی نہیں ہوتا، عکس آتا ہے نہ صَوت آتی ہے :
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ روز و شب و ماہ و سال کہاں
سخت بے چینی کے عالم میں ہوں۔ ملک بھر کے دیوانے سکتے میں ہیں، برقی نظام پر چلتا کاروبار ٹَھپ ہو چکا ہے ، سرمایہ ڈوب چکا ہے ،میرا اٹھارہ صد کا ماہانہ خرچ بھی رائیگاں جا رہا ہے۔ آئندہ اس خرچ کو بچا کر دیدہ زیب کاغذ ، قلم ، روشنائی اور مُصحَف خریدنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ تم بھی یہی کرو اور مكتوب نگاری کی پرانی روایت کی جانب مراجعت کرو ۔
شبِ آدینہ
غالب
محلہ بَلی ماراں ، دلّی

17/08/2024

محمد عزیز، ایک 72 سالہ کتاب فروش ہیں، جو مراکش کے شہر ربا میں رہتے ہیں۔ وہ روزانہ 6 سے 8 گھنٹے کتابیں پڑھنے میں صرف کرتا ہے۔ انہوں نے فرانسیسی، عربی اور انگریزی میں 5000 سے زائد کتابیں پڑھی ہیں۔ وہ 43 سال سے اسی پوزیشن پر ہیں۔ وہ ربا میں سب سے قدیم کتاب فروش کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جب ان سے کتابیں باہر رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کہاں چوری ہو سکتی ہیں تو انہوں نے جواب دیا:
جو پڑھ نہیں سکتے وہ کتابیں نہیں چراتے اور جو کتابیں پڑھتے ہیں وہ چور نہیں ہوتے۔

17/08/2024

ﺍﻟﺴَّـــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ
ربِ ذوالجلال آپ کو دنیا اور آخرت میں وه مرتبہ، شان و شوكت اور عزت عطا فرماۓ جو آپ کے تصور سے بهی بالاتر هو۔
تمام عبادات اور مانگی گئی هر دعا قبول فرمائے۔
رحمتوں اور برکتوں کی بارش عطا کرے۔
مالک ارض و سماء آپ کا‎ ‏ہمیشہ نگہبان هو۔
آپ کو صحت، تندرستی اور کامیابی عطاء فرماۓ‎۔
رب العزت هر مرض، قرض،‎‏ رسوائی،‎‏ تنگ دستی اور ناگہانی آفات سے محفوظ رکھے‎۔
آَمِيّـٍـِـنْ يَآرَبْ آلٌعَآلَمِِيِن

Photos from ArifWala.Net Page's post 14/08/2024

تمام اہلیان پاکستان اور مسلمانوں کو یوم آزدی مبارک۔
اللہ تعالی ہمارے ملک کو امن و آشتی اور محبت و اخوت کا گہوارہ بنائے ۔۔ اور ترقی و تعمیر کا استعارہ بنائے۔ دنیا بھر کے مظلوموں کا ساتھی اور نجات دہندہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ اسے جدید اسلامی فلاحی ریاست بنائے ۔ آمین
عزم عالی شان ۔ارض پاکستان 🌹🌹🌹
عثمان کمپیوٹر قبولہ۔

12/08/2024

حاجی صاحب مالش کرنے والے سے مالش کروا رہے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا:
" کیا حال ہے حاجی صاحب... آپ نظر نہیں آتے آج کل؟ "
حاجی صاحب نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی. وہ بندہ کہنے لگا:
" حاجی صاحب... میں آپ کی سائیکل لے کے جا رہا ہوں"
وہ سائیکل مالشی کی تھی. کافی دیر ہو گئی تو مالشی کہنے لگا:
" حاجی صاحب... آپ کا دوست آیا نہیں ابھی تک واپس میری سائیکل لے کر؟ "
حاجی صاحب بولے :
" وہ میرا دوست نہیں تھا"
مالشی بولا:
" مگر وہ تو آپ سے باتیں کر رہا تھا"
حاجی صاحب بولے:
" میں تو اس کو جانتا ہی نہیں ہوں.
میں تو سمجھا تھا کہ وہ تمہارا دوست ہے"
مالشی بولا:
" حاجی صاحب... میں غریب آدمی ہوں. میں تو لٹ گیا"
حاجی حاحب بولے:
" اچھا تو رو مت. میں تجھے نئی سائیکل لے دیتا ہوں. تم سائیکل والی دوکان پر جا کے پسند کر لو
مالشی نے ایک سائیکل پسند کی
اور چکر لگا کے دیکھا. واپسی پر آکر کہنے لگا کہ حاجی صاب یہ سائیکل زرا ٹیڑھی چل رہی ہے
حاجی نے کہا:
"جا یار نئی سائیکل ہے. یہ ٹھیک ہے. دکھاو میں چیک کرتا ہوں"
حاجی صاحب سائیکل پر چکر لگانے گئے اور واپس آئے ہی نہیں.
مالشی کو اس سائیکل کے پیسے بھی دینے پڑ گئے 🤔🤣😂😂🤣
آج ایسا ہی حال پاکستانی قوم کے ساتھ ہو رہا ہے. ہر نیا آنے والا حکمران حاجی ہے اور عوام مالشی 🤷🏻‍♂️

Want your school to be the top-listed School/college in Arifwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Arifwala