15/06/2026
📋 اگر خلا میں گولی چلائی جائے تو کیا ہوگا؟
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
ذرا تصور کیجیے کہ آپ خلا میں تیر رہے ہیں۔ آپ کے سامنے نہ ہوا ہے، نہ بادل، نہ پہاڑ، نہ کوئی درخت، بس ہر طرف خاموشی ہی خاموشی ہے۔ اچانک آپ ایک پستول نکالتے ہیں اور خلا میں گولی چلا دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ گولی کہاں جائے گی؟ کیا وہ چند کلومیٹر بعد رک جائے گی؟ کیا وہ خلا میں گم ہو جائے گی؟ یا واقعی ہمیشہ سفر کرتی رہے گی؟ جواب حیران کن ہے۔
جب ہم زمین پر گولی چلاتے ہیں تو اس پر دو بڑی قوتیں اثر انداز ہوتی ہیں، جن میں ہوا کی مزاحمت (Air Resistance) اور کششِ ثقل (Gravity) شامل ہیں۔ ہوا گولی کو مسلسل سست کرتی رہتی ہے جبکہ کششِ ثقل اسے زمین کی طرف کھینچتی رہتی ہے، اسی لیے گولی کچھ فاصلے کے بعد زمین پر گر جاتی ہے۔
خلا میں یہ فرق ہے کہ وہاں تقریباً کوئی ہوا موجود نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب ہے کہ وہاں نہ ہوا کی مزاحمت ہے، نہ رگڑ، اور نہ ہی رفتار کم کرنے والی عام قوتیں موجود ہیں، اس لیے گولی اپنی رفتار بہت لمبے عرصے تک برقرار رکھ سکتی ہے۔ یہی بات نیوٹن کے پہلے قانونِ حرکت سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ کوئی جسم اپنی حالتِ حرکت برقرار رکھتا ہے جب تک اس پر کوئی بیرونی قوت اثر انداز نہ ہو۔
یہاں ایک دلچسپ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ خلا میں گولی ہمیشہ سیدھی لائن میں سفر کرتی رہے گی، مگر حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے کیونکہ خلا مکمل طور پر خالی نہیں۔ پورے نظامِ شمسی میں سورج کی کششِ ثقل موجود ہے، سیاروں کی کشش موجود ہے، چاند کی کشش موجود ہے، اور حتیٰ کہ دور دراز ستارے بھی کشش پیدا کرتے ہیں، اس لیے گولی کا راستہ بدل سکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ کسی سیارے سے ٹکرا جائے، کسی چاند کی کشش میں پھنس جائے، سورج کی طرف کھنچ جائے، کسی مدار میں داخل ہو جائے یا لاکھوں سال خلا میں سفر کرتی رہے۔
اب ذرا معاملہ اور دلچسپ ہو جاتا ہے۔ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (ISS) زمین کے گرد تقریباً 28,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کرتا ہے۔ یہ رفتار اتنی زیادہ ہے کہ ISS صرف 90 منٹ میں زمین کا ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ اگر خلا باز گولی ISS کی حرکت والی سمت میں چلائے تو گولی کی رفتار اس میں جمع ہو جائے گی اور زمین کے حساب سے گولی کی رفتار تقریباً 29,000 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ اس کے برعکس، اگر وہ مخالف سمت میں گولی چلائے گا تو رفتار کم ہو کر 27,000 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ جائے گی۔
حیران کن حقیقت یہ ہے کہ اگر ISS سے گولی غلط زاویے پر چلائی جائے تو بعض حالات میں وہ بعد میں اپنے مدار میں گھوم کر دوبارہ ISS کے راستے میں بھی آ سکتی ہے، اسی لیے خلا میں معمولی سی چیز بھی خطرناک بن سکتی ہے۔ آج زمین کے گرد لاکھوں چھوٹے بڑے ٹکڑے گردش کر رہے ہیں، جن میں پرانے سیٹلائٹ، ٹوٹے ہوئے راکٹ، دھات کے چھوٹے ٹکڑے اور حتیٰ کہ رنگ (Paint) کے ذرات بھی شامل ہیں۔ یہ خلائی ملبہ ہزاروں کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور اگر ان میں سے کوئی ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی کسی خلائی جہاز سے ٹکرا جائے تو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
فرض کریں کہ گولی نہ کسی سیارے سے ٹکرائے، نہ کسی ستارے سے اور نہ کسی چاند سے، تب وہ لاکھوں بلکہ کروڑوں سال تک خلا میں سفر کر سکتی ہے۔ لیکن کائنات میں کششِ ثقل ہر جگہ موجود ہے، اس لیے "ہمیشہ سیدھی لائن میں سفر" والی بات عملی طور پر تقریباً ناممکن ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خلا میں گولی زمین کی نسبت بہت زیادہ دور تک جا سکتی ہے کیونکہ وہاں ہوا موجود نہیں ہوتی، لیکن یہ تصور کہ گولی ہمیشہ سیدھی لائن میں ہمیشہ کے لیے چلتی رہے گی، مکمل طور پر درست نہیں۔ کائنات کششِ ثقل سے بھری ہوئی ہے، اور یہی کشش گولی کے راستے کو بدل سکتی ہے، اسے کسی مدار میں قید کر سکتی ہے یا کسی سیارے، چاند یا ستارے تک پہنچا سکتی ہے۔
یہی چیز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کائنات بظاہر خاموش اور خالی نظر آتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ نہایت پیچیدہ قوانین کے تحت چلنے والا ایک عظیم نظام ہے، جس کی تصدیق قرآن کی روشنی میں بھی ہوتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴾
ترجمہ:
"اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔" (سورۃ یٰسین: 40)
آج فلکیات ہمیں دکھاتی ہے کہ خلا میں کوئی چیز بھی مکمل طور پر آزاد نہیں، بلکہ ہر جسم کسی نہ کسی کشش اور مدار کے نظام کا حصہ ہے۔
#خلا #گولی #فلکیات #سائنس #کائنات