Hafiz Roh Ullah Ibrahim

Hafiz Roh Ullah Ibrahim https://youtube.com/? my YouTube channel

مبارکباد وخراج تحسینیہ امرِ مسرت ہے کہ میرے چھوٹے اور اکلوتے بھائی جواد علی نے میٹرک کے امتحان میں سوات بورڈ سے 1008 نمب...
05/08/2026

مبارکباد وخراج تحسین

یہ امرِ مسرت ہے کہ میرے چھوٹے اور اکلوتے بھائی جواد علی نے میٹرک کے امتحان میں سوات بورڈ سے 1008 نمبرات حاصل کر کے خاندان کا نام روشن کیا۔
اس شاندار کامیابی پر میں انہیں دلی مبارکباد و خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ ان کے علم و عمل میں برکت دے۔ آمین

منجانب : حافظ روح اللہ ابراہیم

جمعیت طلبہ عربیہ ضلع مردان کی اجتماع ارکان میں اسلام اور جدید نظریات کے موضوع پر خطاب کی سعادت حاصل کی۔
04/08/2026

جمعیت طلبہ عربیہ ضلع مردان کی اجتماع ارکان میں اسلام اور جدید نظریات کے موضوع پر خطاب کی سعادت حاصل کی۔

آج بعد نماز عشاء ان شاءاللہ تعالیٰ
02/08/2026

آج بعد نماز عشاء ان شاءاللہ تعالیٰ

اختتامی تقریب روزانہ اجتماعی ترجمہ قرآن مجید27 جولائی پیر صبح 9:00 بجےبمقام : جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن مردانزیرصدارت :...
26/07/2026

اختتامی تقریب روزانہ اجتماعی ترجمہ قرآن مجید
27 جولائی پیر صبح 9:00 بجے
بمقام : جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن مردان
زیرصدارت : نمونہ اسلاف بقیۃ السلف شیخ الشیوخ مولانا عبدالقدوس صاحب (شیخ الحدیث جامعہ تفہیم القرآن مردان)
مدرس : وکیل ختم نبوت داعی اتحاد امت شیخ ابن شیخ مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمٰن صاحب (مدیر جامعہ تفہیم القرآن مردان ونائب امیر جماعت اسلامی پاکستان)
آپ سب کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے ۔
حافظ روح اللہ ابراہیم (طالب علم جامعہ تفہیم القرآن مردان)

22/07/2026
17/07/2026

قرض کی ادائیگی میں تاخیر - ہمارا المیہ!
مولانا صاحب کا دل کو چھو لینے والا بیان۔

مولانا صاحب نے بہت خوبصورتی سے اس المیے کی نشاندہی فرمائی ہے کہ یہ ہم پشتونوں کی ایک عام کمزوری بن چکی ہے۔ الا ماشاءاللہ۔

آپ سے درخواست ہے کہ اس دو منٹ کے کلپ کو ضرور سماعت فرمائیں۔

  محترم جناب نور زمین صاحب اللہ تعالی جس قوم کو عروج دینا چاہتا ہے اسے ایسے لوگ عطا کرتا ہے جو اپنی ذات سے بڑھ کر قوم کا...
14/07/2026


محترم جناب نور زمین صاحب

اللہ تعالی جس قوم کو عروج دینا چاہتا ہے اسے ایسے لوگ عطا کرتا ہے جو اپنی ذات سے بڑھ کر قوم کا سوچتے ہیں۔ شانگلہ کی وادی پورن نے بھی ایسے ہی ایک عظیم استاد کو جنم دیا جن کا نام محترم جناب نورزمین صاحب ہے۔

پورن شانگلہ میں سائنسی تعلیم کی تاریخ لکھی جائے تو جناب نورزمین صاحب کا نام سرفہرست میں آئے گا۔ وہ اس علاقے کے سب سے پہلے میتھس کے بہترین ماہر ہے۔ ایک وقت تھا جب میتھس کو بچے سب سے مشکل مضمون سمجھتے تھے۔ لیکن نورزمین صاحب نے اپنی محنت، حکمت اور آسان اندازِ تدریس سے میتھس کو بچوں کی پسندیدہ کتاب بنا دیا۔

وہ صرف میتھس تک محدود نہیں تھے۔ سائنسی مضامین خصوصاً فزکس اور جنرل سائنس پر بھی ان کی غیر معمولی گرفت ہے۔ وہ مشکل نظریات کو روزمرہ کی مثالوں سے سمجھاتے تھے۔ ان کے سینکڑوں شاگرد آج ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور افسر بن کر ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔

علم کے ساتھ کردار ہو تو انسان امر ہو جاتا ہے۔ نورزمین صاحب کی سب سے بڑی پہچان ان کی سادگی اور عاجزی ہے۔ شہرت نے کئی بار ان کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن وہ شہرت سے ہمیشہ دور رہے۔ نہ بڑے دعوے، نہ نمائش۔ ان کا کہنا تھا "استاد کا کام چراغ کی طرح جلنا ہے، روشنی دینا ہے"۔

محترم جناب نورزمین صاحب کی ایک اور عظیم خصوصیت ان کا قرآن سے گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی شوق اور بے پناہ محنت سے 50 سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور آج بھی وہ اسے مکمل یاد رکھے ہوئے ہیں۔ وہ تلاوتِ قرآن کے بہت شوقین ہیں اور نماز باجماعت کے پابند ہیں۔ مطالعے سے انہیں بے حد لگاؤ ہے۔ اسی مطالعے اور تدبر کی برکت سے انہوں نے ترجمہ، تفسیر اور دیگر دینی فنون میں بھی غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔

نورزمین صاحب انتہائی محنت کش اور ڈیوٹی کے پابند انسان ہیں۔ وہ وقت کی قدر کو عبادت سمجھتے تھے۔ ان کا مشہور جملہ تھا: "ایک لمحہ وقت ضائع کرنا قوم کے مستقبل سے کھیلنا ہے"

وہ سکول ٹائم سے پہلے حاضر اور ٹائم کے بعد تک طلبہ کے لیے دستیاب۔ فری پیریڈ میں بھی وہ بچوں کو ایکسٹرا میتھس کرواتے یا سائنسی تجربے کراتے۔ انہی کی محنت کا نتیجہ ہے کہ پورن کے بچوں نے ضلع بھر میں میتھس اور سائنس میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔

آج جب نوجوان شارٹ کٹ اور شہرت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، نورزمین صاحب کی زندگی ہمارے لیے آئینہ ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ: نام بڑا کرنے کے لیے شور نہیں، خدمت چاہیے۔

محترم جناب نورزمین صاحب صرف ایک استاد نہیں، وہ پورن شانگلہ کی علمی تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔ وہ خاموش مجاہد ہیں جنہوں نے قلم، تختی اور بلیک بورڈ سے نسلوں کی تقدیر بدلی۔

اللہ تعالی ان کی عمر میں برکت دے، صحت و عافیت عطا فرمائے اور ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔

  محترم جناب عمرسلطان صاحب پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول گھڑی کنڈو پورنقوموں کی تقدیر کلاس رومز میں لکھی جاتی ہے اور اسے لکھن...
13/07/2026


محترم جناب عمرسلطان صاحب
پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول گھڑی کنڈو پورن

قوموں کی تقدیر کلاس رومز میں لکھی جاتی ہے اور اسے لکھنے والے استاد ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اساتذہ کی قدر کی وہ دنیا کی امامت کے منصب پر فائز ہوئیں۔ آج کے دور میں جب سرکاری تعلیم زوال کا شکار ہے، ایسے میں محترم جناب عمرسلطان صاحب جیسی شخصیات امید کی کرن بن کر سامنے آتی ہیں۔ وہ صرف ایک پرنسپل نہیں، بلکہ ایک ادارے، ایک سوچ اور ایک تحریک کا نام ہیں۔

انہوں نے Statistics کے مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے حالانکہ ان کا مضمون شماریات ہے، مگر وہ ہر مضمون میں ماہر ہیں۔ ریاضی، سائنس، انگریزی سے لے کر کمپیوٹر تک، ہر شعبے میں طلباء کی رہنمائی کرتے ہیں۔

دنیاوی تعلیم کے ساتھ وہ قرآن وحدیث ، صرف ونحو کے بھی گہرے عالم ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ علم کے متلاشی ہیں۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ "میں مختلف علماء کرام کی صحبت اور یوٹیوب کے ذریعے روزانہ کچھ نہ کچھ نیا سیکھتا ہوں"۔ یہی شوقِ تعلم انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔

جب سے جناب عمرسلطان صاحب نے گورنمنٹ ہائی سکول گھڑی کنڈو کے پرنسپل کا چارج سنبھالا ہے، ادارے میں بہتری کی ایک نئی داستان رقم ہوئی ہے۔ان کی قیادت میں سکول کا ماحول مکمل طور پر بدل گیا۔ نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور تدریس کے جدید طریقوں کی بدولت طلباء کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے سرکاری سکول کیساتھ ساتھ علاقہ میں پائنیر ایجوکیشن اکیڈمی کے نام سے ایک معیاری ادارہ قائم کیا ہے۔ اس ادارے میں میٹرک تک کے طلباء کو پرائیویٹ سکولز کے طرز پر جدید سہولیات کے ساتھ تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد علاقے کے والدین کو مہنگے پرائیویٹ سکولز کی طرف جانے سے بچانا اور کم فیس پر تعلیم بحال کرنا ہے۔

دورِ جدید کا سب سے بڑا تقاضا ٹیکنالوجی ہے۔ جناب عمرسلطان صاحب نے پیاس کے پلیٹ فارم کے ذریعے کمپیوٹر اور جدید مضامین کا آغاز کروایا۔ آج پورن جیسے پسماندہ علاقے کے بچے بھی کمپیوٹر، کوڈنگ اور ڈیجیٹل دنیا سے جڑ رہے ہیں۔

جناب عمرسلطان صاحب کی شخصیت کئی خوبیوں کا مجموعہ ہے وہ اپنے آپ کو صرف ایک سرکاری ملازم نہیں بلکہ علاقے کے بچوں کا خادم سمجھتے ہیں۔ غریب طلباء کی فیس، کتابیں اور وردی کا انتظام خود کرتے ہیں۔

صبح سب سے پہلے سکول آتے ہیں اور سب سے آخر میں جاتے ہیں۔ ان کی محنت کا ثمرہ ہے کہ آج والدین فخر سے کہتے ہیں "ہمارا سکول کسی پرائیویٹ سکول سے کم نہیں"۔

جناب عمرسلطان صاحب پورن کے علاقے کے لیے اللہ کی ایک بڑی نعمت ہیں۔ انہوں نے ثابت کردیا کہ اگر نیت صاف ہو اور ہمت بلند ہو تو سرکاری وسائل میں رہ کر بھی ترقی کیے جاسکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے سینکڑوں بچوں کا مستقبل محفوظ ہو رہا ہے جو ورنہ تعلیم سے محروم رہ جاتے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جناب عمرسلطان صاحب کو صحت، لمبی عمر اور مزید ترقیاں عطا فرمائے۔ ان کے علم و عمل میں برکت دے اور ان کو قوم و ملت کی خدمت کا اور زیادہ موقع عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

  مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحبلیکچرر ڈیپارٹمنٹ اسلامک اینڈ عربک سٹڈیز یونیورسٹی آف سوات قوموں کی پہچان ان کے اساتذہ ...
10/07/2026


مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحب
لیکچرر ڈیپارٹمنٹ اسلامک اینڈ عربک سٹڈیز یونیورسٹی آف سوات

قوموں کی پہچان ان کے اساتذہ سے ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے معلمین کی عزت کرتی ہیں وہ دنیا میں سرخرو ہوتی ہیں ہمارے دور میں مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحب اس عظیم روایت کے امین اور علم و عمل کا حسین نمونہ ہیں۔ وہ صرف لیکچر نہیں، وہ دلوں کے معمار ہیں۔

حقانی صاحب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بیک وقت مدرسہ اور یونیورسٹی دونوں دنیا کے تاجدار ہیں۔

وہ جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے فاضل ہونے کیساتھ ساتھ حافظِ قرآن بھی ہے ہیں۔ قرآن کا نور ان کے سینے میں ہے اور دینی علوم میں گہری بصیرت رکھتے ہیں۔

وہ یونیورسٹی آف سوات کے ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک اینڈ عربک سٹڈیز میں لیکچرر ہیں اور پی ایچ ڈی سکالر بھی ہیں۔

اسی امتزاج کی بدولت ان کے لیکچر میں مدرسے کی روحانیت بھی ملتی ہے اور یونیورسٹی کی تحقیق بھی۔

آپ کی ایک گھنٹہ کی کلاس چند سیکنڈ بن جاتے ہیں آپ روایتی استاد نہیں ان کی کلاس میں بوریت داخل نہیں ہو سکتی۔

سیرت، اصولِ فقہ اور اقبالیات پر ان کو خصوصی دسترس حاصل ہے۔ مشکل سے مشکل مسئلہ وہ سادہ مثال سے سمجھا دیتے ہیں۔

اللہ نے انہیں اردو، پشتو، انگلش، عربی اور کوہستانی زبانوں پر مکمل عبور دیا ہے۔ ہر طالب علم کی ذہن میں آسانی سے بات سمجھا دیتے ہیں۔

آپ کی کلاس کی انذار بہت دلنشین ہے آپ کبھی قرآن کی آیت، کبھی حدیث، کبھی اقبال کا شعر، کبھی تاریخی قصہ، کبھی لطیفہ، کبھی ضرب المثل۔ ان کے یہ "تدریسی ہتھیار" سبق کو دل میں اتار دیتے ہیں۔طلبہ کا جملہ مشہور ہے "سر کی کلاس میں گھڑی کی سوئی نہیں چلتی، علم کی شمع جلتی ہے"

آپ کی شخصیت میں دو رنگ ہیں جو مل کر کمال بنتے ہیں۔ وہ وقت کے بہت پابند ہیں۔ شاگردوں کے غیر حاضر ہونے یا لیٹ آنے پر انہیں حقیقی تکلیف ہوتی ہے۔ ان کا اصول ہے: علم کی عزت وقت کی پابندی سے شروع ہوتی ہے۔ کلاس کے اندر وہ فوکس اور سنجیدگی کے استاد ہیں۔کلاس سے باہر وہی استاد شفیق والد بن جاتا ہے۔ وہ ہر طالب علم کو نام سے جانتے ہیں۔ ان کی مجلس میں طنز و مزاح، خندہ پیشانی اور رہنمائی کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔

آپ طلباء کو یہ سکھاتے ہیں کہ علم صرف ڈگری نہیں، کردار ہے۔ تحقیق صرف کتاب نہیں، سیرت ہے۔انہوں نے ثابت کیا کہ ایک معلم صرف نصاب نہیں پڑھاتا، وہ نسل سنوارتا ہے۔

مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحب ہمارے لیے فخر ہیں۔ وہ علم کے سمندر، ادب کے پیکر اور اخلاص کی مثال ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ان کے علم، عمر اور عمل میں برکت عطا فرمائے۔ ان کی محنتوں کو صدقہ جاریہ بنائے اور ہمیں ان جیسے اساتذہ کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین

  استادِ محترم شکیل احمد صاحب قوموں کی ترقی کا راز اساتذہ کی محنت میں چھپا ہوتا ہے۔ ایک استاد نسلوں کا معمار ہوتا ہے۔ ای...
09/07/2026


استادِ محترم شکیل احمد صاحب

قوموں کی ترقی کا راز اساتذہ کی محنت میں چھپا ہوتا ہے۔ ایک استاد نسلوں کا معمار ہوتا ہے۔ ایسے ہی معماروں میں ایک نام استادِ محترم شکیل احمد صاحب کا ہے۔ وہ صرف استاد نہیں تھے، وہ امید تھے، وہ انقلاب تھے۔

2008 کی بات ہے۔ ہم پرائمری سکول چاگم نمبر 1 میں کلاس 4 کے طالبعلم تھے۔ اس وقت سرکاری سکولوں کا حال بہت خراب تھا۔"اس دور میں تعلیم کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ اکثر اساتذہ اپنے فرائض سے غافل تھے۔ کچھ تو سالوں تک سکول کا رخ ہی نہیں کرتے تھے، اور کچھ اپنی ڈیوٹی کے عوض معمولی اجرت پر کسی دوسرے کو مقرر کر دیتے تھے۔ اگر کوئی مجبوراً سکول آ بھی جاتا تو وہ صرف حاضری لگانے آتا تھا، پڑھانے نہیں۔ نتیجہ یہ تھا کہ بچے اپنا نام تک نہیں لکھ سکتے تھے۔ انگلش تو بہت دور کی بات، اردو اور پشتو کی املاء بھی بہت مشکل تھی۔ کیونکہ اس وقت پرائمری کا نصاب پشتو میں اور میٹرک تک اردو میں تھا۔اسی مایوسی کے عالم میں اللہ نے ہمارے سکول کو شکیل احمد صاحب کی صورت میں نعمت عطا کی۔

استاد محترم نے آتے ہی سب سے پہلے بنیاد مضبوط کی۔
بچے پہلے لکھنا سیکھیں گے، پھر اڑنا سیکھیں گے یہ ان کا اصول تھا۔

انہوں نے اردو اور پشتو کی املاء پر دن رات محنت کی۔ جو بچہ اپنا نام نہیں لکھ سکتا تھا، چند ہفتوں میں وہ مشکل الفاظ درست لکھنے لگا۔ ان کا طریقہ بہت پیارا تھا:
پہلے روزانہ کی بنیاد پر 3 الفاظ، پھر 5 الفاظ، پھر کچھ عرصہ بعد پورا پیراگراف لکھنا شروع کیا تھا۔
روزانہ کی بنیاد پر مشق کرواتے۔ ڈانٹ نہیں، محبت سے سمجھاتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مشکل سے مشکل لکھنا ہمارے لیے کھیل بن گیا۔

شکیل احمد صاحب صرف کتاب نہیں پڑھاتے تھے، وہ زندگی کے آداب بھی سکھاتے تھے۔ ہمیں محنت، نظم و ضبط، سچائی اور ایک دوسرے سے محبت کا درس دیتے تھے۔

ان کی سب سے بڑی قربانی ان کا سفر تھا۔ سکول کا سب سے دور دراز علاقہ ان کا تھا۔ نہ سواری، نہ سہولت۔ روزانہ پیدل ایک گھنٹے سے زیادہ کا سفر طے کر کے وہ اسمبلی سے پہلے سکول میں موجود ہوتے۔ گرمی ہو یا سردی، وہ کبھی لیٹ نہیں ہوئے۔ وہ ہمیں عمل سے سکھاتے تھے کہ "کامیابی کے لیے بہانے نہیں، محنت چاہیے"۔

آج ہم جو بھی ہیں، جیسے بھی اردو لکھ لیتے ہیں، املاء جانتے ہیں، گرائمر سمجھتے ہیں، بول لیتے ہیں یہ سب شکیل احمد صاحب کے مرہونِ منت ہے انہوں نے ہمیں صرف حروف نہیں سکھائے، انہوں نے ہمیں "انسان" بنایا۔

استاد وہ شمع ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔ شکیل احمد صاحب واقعی وہ شمع تھے۔ انہوں نے ایک ویران سکول کو علم کا باغ بنادیا۔ ایک کمزور نسل کو باہمت بنا دیا۔

اللہ تعالیٰ استادِ محترم کو صحت، لمبی عمر اور جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کی محنت کا مان رکھ سکیں۔ آمین یارب العالمین

Address

Shangla Khyber Pakhtunkhwa
Aloch

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Roh Ullah Ibrahim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share