08/06/2026
#چــــــــــــــراغِ_راہ
استاد محترم ماہرالفنون فضیلۃ الشیخ مولانا عصمت علی حقیار صاحب حفظہ اللہ مدرس جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات
تعارف اساتذہ کرام " سلسلہ نمبر 08 "
علماءِ ربانیین وہ چراغِ ہدایت ہیں جن سے زمانے کے اندھیرے روشن ہوتے ہیں۔ ان کی زندگیاں علم، عمل، تقویٰ، اخلاص، اور تسلسلِ خدمت کا دل نشین مرقع ہوتی ہیں۔ انہی چـــــراغــوں میں سے ایک درخشندہ نام استادِ محترم مولانا عصمت علی حقیار صاحب حفظہ اللہ کا ہے۔
آپ کا تعلق ایک عظیم علمی و فکری خانوادے سے ہے۔ آپ شیخ التفسیر والحدیث مولانا شیخ خسرو شاہ صاحب رحمہ اللہ کے جانشین اور فرزند ارجمند ہیں۔
یہ خانوادہ علم، تقویٰ، بصیرت اور تدریس کی تاریخ رکھتا ہے، اور مولانا عصمت علی حقیار صاحب اسی علمی وراثت کے امین ہیں۔
آپ نے ابتدائی تعلیم جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات میں حاصل کی اورمختلف علوم و فنون اور علمائے راسخین کے دامن سے وابستہ ہو کر دینی علوم میں خوب مہارت حاصل کی۔ بعد ازاں آپ نے معروف و مشہور علمی و فکری معیاری دینی درسگاہ جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات جیسے عظیم علمی مرکز سے سندِ فراغت حاصل کی۔ آپ نے اکثر وبیشتر کتب اپنے والد محترم سے سیکھی ہے جامعہ میں آپ کو شیخ قاری لطیف اللہ حفظہ اللہ، شیخ شیرزادہ صاحب , مفتی اعظم سوات مفتی سراج الدین وہاج صاحب جیسے اجلّہ مشائخ و اساتذہ کی صحبت نصیب ہوئی ہے۔
آپ نے اپنے والد مرحوم ومغفور استاذ المشائخ مولانا خسرو شاہ رحمہ اللہ جیسی عظیم شخصیات سے مختلف علوم و فنون کی کتابیں پڑھ کر فنون میں خوب مہارت حاصل کی۔
فراغت کے بعد آپ نے اپنے آپ کو درس و تدریس سے وابستہ رکھا اس وقت جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات کے ممتاز اساتذہ میں شامل ہیں۔ آپ درسِ نظامی کے کئی اہم اور دقیق مضامین جیسے بیضاوی ، الفوز الکبیر ، شرح العقائد ، مختصر المعانی ، قطبی ، کافیہ ، حسامی ، ہدایہ (نکاح) اور فلکیات کے ساتھ ساتھ احادیث کی عظیم کتابیں بھی پڑھا رہے ہیں جن میں خاص طور پر مشکوٰۃ المصابیح شامل ہیں۔ آپ کا ایک اہم علمی کارنامہ جامعہ میں شعبہ فلکیات ہے اس شعبے میں آپ نہ صرف تدریسی فرائض سرانجام دیتے ہیں بلکہ نوجوان علماء کو امت کے شرعی مسائل کی رہنمائی کے قابل بناتے ہیں۔ فنون میں آپ کی بصیرت، دقتِ نظر، اور فقہی عمق قابلِ تحسین ہے۔
مولانا صاحب کا اندازِ تدریس محققانہ، سادہ، جامع اور دل نشین ہے۔ وہ ہر سبق کو بڑی تحقیق اور علمی انداز میں پڑھاتے ہیں، اور طلبہ کے قلوب و اذہان میں علم کو بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کی شخصیت علم و وقار، ادب و حلم کی جامع تصویر ہے۔ نہایت سنجیدہ، متواضع اور ہردلعزیز استاذ ہیں۔
مولانا صاحب اس وقت جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات میں مدرس ہونے کیساتھ ساتھ جامعہ حلیمہ سعدیہ للبنات سنگوٹہ کے مدیر اور مدنی مسجد جمال آباد سنگوٹہ کے امام وخطیب بھی ہے۔
مولانا صاحب کی مشہور اساتذہ میں مولانا قاری محمد رحمن فاضل جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک ، شیخ فضل ربی کوہستانی مرحوم مدرس جامعہ خیرالمدارس مینگورہ ، شیخ ھدایت اللہ صاحب شیخ الحدیث جامعہ عالیہ احیاء العلوم بلامبٹ ،شیخ عبد اللہ چارباغی صاحب شیخ الحدیث جامعہ منار التوحید مٹہ سوات ، مفتی سیف اللہ مروت رحمہ اللہ رئیس دارالافتاء جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک ، مفتی محمد شعیب شاگرد شیخ موسیٰ عراقی ، شیخ ابو سعید مرحوم بن شیخ عبد السلام رستمی رح ، شیخ قاری لطیف اللہ صاحب بن شیخ منیر رح ڈسٹرکٹ خطیب سوات ، شیخ شیرزادہ صاحب صدر مدرس جامعہ حقانیہ سنگوٹہ ، مفتی اعظم سوات مفتی شیخ سراج الدین وہاج صاحب ، نائب مہتمم ونائب شیخ الحدیث جامعہ حقانیہ سنگوٹہ وشیخ الحدیث جامعہ ریاض الجنہ مینگورہ سوات ، مفتی شیر محمد صاحب مدیر جامعہ اسلامیہ دارالعلوم چارباغ سوات ، مفتی محمد رفیق صاحب مدیر جامعہ روضۃ الاسلام منگلور سوات بطورِ خاص شامل ہیں۔
راقم نے ان سے علم الصیغہ ، ہدایۃ النحوا ، کافیہ ، شرح الوقایہ (بیوع) ، نور الانوار ، مختصر المعانی ، ہدایہ (صلوٰۃ) ، حسامی اور شرح العقائد کی کتابیں سیکھی ہیں۔
مولانا عصمت علی حقیار صاحب حفظہ اللہ ایک ایسا گلِ نایاب ہیں جن کی خوشبو علم، تقویٰ، حکمت، اور خدمت کے چمن میں مہک رہی ہے۔ ان کی علمی بصیرت، خاندانی عظمت، اور تدریسی خدمات عظیم سرمایہ افتخار ہیں۔
دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول فرمائے، علم و عمل اور عمر میں برکت عطاء فرمائے، آمین۔۔!
منجانب : حافظ روح اللہ ابراہیم شاگرد رشید مولانا حافظ عصمت علی حقیار صاحب
02/06/2026
28/05/2026
26/05/2026
26/05/2026
26/05/2026
23/05/2026