29/09/2026
سجدہ زمین کو دو تو یہ دیتی ہے نواع جاں
مٹی میں مل کے دیکھو ہے زرخیزی جہاں
بنجر تھی جو زمین میرے مغلوب خوں سے آج
شاداب ہوگئی ہے عجب ہے یہ ماجرا
مٹی کی محبت میں جو قطرہ بھی گرا ہے
اس دشت کی قسمت میں ہریالی کا صلہ ہے
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
فلاحی تنظیم کھر کے جوانوں، بزرگوں، ماؤں اور بہنوں نے آج سے چند سال پہلے یہ علاقہ جنگلات اور غیر پھلدار درختوں سے بھرا ہوا تھا کاٹ کر مٹی کو زرخیز بنایا گیا۔
اس وقت اس زرخیز مٹی سے ہر طرح کے سبزے، پھل اور میوے بہت اچھے اور بہتر کوالٹی کے ساتھ اگتے ہیں۔
اس کامیابی کا سہرا بزرگوں،جوانوں، ماؤں بہنوں کی محنت، قربانی اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
اللہ پاک اس دھرتی کو یوں ہی ہرابھرا اور سرسبز و شاداب رکھے۔ آمین۔
منجانب،
فلاحی تنظیم کھر سرموں پاکستان
ہیڈ آفس، کھر سرموں، ضلع گانچھے بلتستان
برانچز،
اسلام آباد۔ | لاہور۔ | کراچی۔ | امریکہ