The Green Space

The Green Space

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Green Space, Education Website, Alipur.

12/02/2026

استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبدالواحد قریشی صاحب حفطہ اللہ کی مختصر کتاب "قاتل عمار کون" کے آنے کے بعد بعض لوگوں کی صفوں میں ماتم کا سماں ہے کیونکہ یہ کتاب ان کے خبث باطن کے لئے سم قاتل کی صورت اختیار کرچکی ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ اہل حق کا لبادہ اوڑھے رکھا اور پس پردہ اہل حق کے خلاف زبان درازیاں کی حق کی ترجمانی میں رخنہ ڈالا اور آستین کے سانپ کا قردار ادا کیا اس سلسلہ میں ایک صاحب ہیں حذیفہ راجکوٹی جن کی تحریر کسی نے بھیجی اور تبصرہ طلب کیا، سب سے پہلے تو اس قسم کے افراد کے لئے میں متنبی کا شعر ذکر کرنا چاہوں گا جس میں ان کے ذہنی استعداد کی مکمل عکاسی موجود ہے.
وَكَم مِن عائِبٍ قَولاً صَحيحاً
وَآفَتُهُ مِنَ الفَهمِ السَقيمِ
رجکوٹی صاحب اپنے خود ساختہ اہل السنہ کے مفاہیم جو حقیقتا روافض کی ترجمانی ہے کیونکہ جس بنیاد سے یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی گرداننے کے درپے ھوئے ہیں انہی بنیادوں حقیقتا ڈھکوسلوں سے روافض اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر تک کرتے آئے ہیں.
اس لئے رجکوٹی صاحب کو اپنی پوزیشن پر نظر بھی کر لینی چاہیے کہ کہاں ٹھہرے ہیں.
تعجیب ہے رجکوٹی صاحب اکابر علمائے دیوبند اور خصوصا اس فیلڈ کے اسپیشل لسٹ 1مولانا ظفر احمد عثمانی، 2مولانا عبدالستار تونسوی، 3مولانا سرفراز خان صفدر، 4مولانا نور الحسن شاہ بخاری، 5 مولانا مہر محمد میانوالوی رحمہم اللہ کا تخطیہ کیا کہ ان کو تو غلطی ھوئی اور درست بات ان صاحب تحریر کو پتہ چلی ہے.
واہ کیا تحقیق ہے بظاہر جناب نے بہتی گنگا میں منہ دھونے کی کوشش کی ہے حقیقت یہ کہ کتاب کا مطالعہ تک نہیں کیا.......
فیا للعجب.
اور رجکوٹی صاحب اس پر مصر ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی ہی مانا جائے حالانکہ اکابر علماء دیوبند کے ترجمان ادارہ جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی کا فتوی صراحتا اس کے خلاف ہے جو ھدیہ ناظرین ہے.
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی سمجھنے والے سے نکاح کا حکم
سوال
ایک شخص ہے جو تمام صحابہ کو مانتا ہے لیکن حضرت امیر معاویہ کو کاتب وحی نہیں مانتا،اس کا کا کہنا ہے کہ حضرت امیر معاویہ کے کارنامے ٹھیک نہیں تھے۔ان کا تعلق ایک باغی قوم سے تھا۔اس میں وہ عمار بن یاسر کی حدیث پیش کرتا ہے۔ کیا ایسے شخص سے نکاح ٹوٹ جائے گا؟نکاح کے وقت نہیں پتا تھا کہ اس کی ایسی سوچ ہے۔

جواب
واضح رہے کہ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین( بشمول معاویہ رضی اللہ عنہ) عدول ہیں اور اللہ تعالی ان حضرات سے راضی ہونے کا پروانہ ان کو دنیا میں دے چکے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آپس کے اختلاف کے بارے میں اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ ان واقعات پر ایک مسلمان کو تبصرہ نہیں کرنا چاہیے اور صحابہ کے درمیان فیصل نہیں بننا چاہیے، بلکہ سکوت اختیار کرنا چاہیے اور ان واقعات کو اجتہادی خطا پر محمول کرنا چاہیے، یعنی دونوں فریق کو دین کی بہتری اور سر بلندی مطلوب تھی اور اسی میں ایک فریق سے اجتہادی خطا ہونے کی وجہ سے اختلاف کی نوبت آئی؛ لہذا کسی صحابی پر طعن نہیں کرنا چاہیے اور جب ان سب اختلاف کے باوجود اللہ ان سے راضی ہے تو ان کے متعلق بد کلامی کر کے اپنی آخرت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ نظریہ رکھنے والا شخص گمراہ اور بدعتی ہے، کافر نہیں ہے؛ لہذا اس شخص سے نکاح نہیں ٹوٹے گا، البتہ اس کو سمجھایا جائے، وہ اگر اس گمراہ نظریہ سے توبہ کرلے تو بہت اچھی بات ہے، ورنہ پھر مذکورہ شخص کی بیوی کو چاہیے کہ اس سے طلاق کا مطالبہ کر کے علیحدہ ہوجائے؛ تاکہ اس شخص کی بدعت اور گمراہی سے خود کو اور اولاد کو بچا سکے۔
سنن ترمذی میں ہے:
"حدثنا محمد بن يحيى قال: حدثنا أبو مسهر، عن سعيد بن عبد العزيز، عن ربيعة بن يزيد، عن عبد الرحمن بن أبي عميرة، وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لمعاوية: اللهم اجعله هاديًا مهديًا واهد به.
هذا حديث حسن غريب."
(ابواب المناقب ج نمبر ۶ ص نمبر ۱۶۹، دار الغرب الاسلامی)
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"وعن عبد الله بن مغفل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الله الله في أصحابي لا تتخذوهم غرضا من بعدي فمن أحبهم فبحبي أحبهم ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم ومن آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب."
(کتاب المناقب و الفضائلباب مناقب الصحابہ ج نمبر ۹ ص نمبر ۳۸۸۰، دار الفکر)
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا: لعنة الله على شركم. رواه الترمذي"
(کتاب المناقب و الفضائلباب مناقب الصحابہ ج نمبر ۹ ص نمبر ۳۸۸۱، دار الفکر)
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"وعن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " سألت ربي عن اختلاف أصحابي من بعدي فأوحى إلي: يا محمد إن أصحابك عندي بمنزلة النجوم في السماء بعضها أقوى من بعض ولكل نور فمن أخذ بشيء مما هم عليه من اختلافهم فهو عندي على هدى " قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم» . رواه رزين."
(کتاب المناقب و الفضائ، باب مناقب الصحابہ ج نمبر ۹ ص نمبر ۳۸۸۲، دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"لما في الاختيار اتفق الأئمة على تضليل أهل البدع أجمع وتخطئتهم وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا، لكن يضلل إلخ. وذكر في فتح القدير أن الخوارج الذين يستحلون دماء المسلمين وأموالهم ويكفرون الصحابة حكمهم عند جمهور الفقهاء وأهل الحديث حكم البغاة. وذهب بعض أهل الحديث إلى أنهم مرتدون. قال ابن المنذر: ولا أعلم أحدا وافق أهل الحديث على تكفيرهم، وهذا يقتضي نقل إجماع الفقهاء. وذكر في المحيط أن بعض الفقهاء لا يكفر أحدا من أهل البدع. وبعضهم يكفرون البعض، وهو من خالف ببدعته دليلا قطعيا ونسبه إلى أكثر أهل السنة، والنقل الأول أثبت وابن المنذر أعرف بنقل كلام المجتهدين، نعم يقع في كلام أهل المذهب تكفير كثير ولكن ليس من كلام الفقهاء الذين هم المجتهدون بل من غيرهم، ولا عبرة بغير الفقهاء، والمنقول عن المجتهدين ما ذكرنا اهـ."
(کتاب الجہاد ج نمبر ۴ ص نمبر ۲۳۷،ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144311101853
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
اب رجکوٹی صاحب سمجھ جائیں تو بہتر وگرنہ یہ فتوی رجکوٹی صاحب کے سسر صاحب کو بھی دکھا دینا چاہیے تاکہ وہ اپنی بچی کی عاقبت برباد ھونے سے بچا سکیں.
بہر حال اکابر علماء دیوبند رحمہ اللہ کا موقف اس بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے باغی کی نفی کا ہے اور جن حضرات سے ثبوت ہے تو وہ لغة باغی ماننے کا ہے نہ کے اصطلاحا.
ففہم و تدبر
بہتر اس میں یہ ہے کہ اکابر کی تشریحات لی جائیں اور رجکوٹی جیسےلوگوں سے صرف نظر کی جائے تاکہ امت کا ایمان سلامت رہے.
آخر میں رجکوٹی صاحب سے سوال کرنا چاہوں گا کہ
1سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے قتال باغی ھونے کی وجہ سے کیا تھا پھر یہ قتال روکا کیوں جبکہ ابھی تک حَتَّىٰ تَفِیۤءَ إِلَىٰۤ أَمۡرِ ٱللَّهِۚ نہیں ھوا تھا .
رجکوٹی صاحب یہ تو روافض کی ترجمانی میں خوارج کو دلیل دینا ہے کہ دیکھیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قرآنی فرمان کی خلاف ورزی کی ہے.
2 کیا باغی کے موقف کو باقی رکھتے ھوئے صلح کرنا درست بھی تھا.
3 حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بھی آگے سے مکمل حکومت باغیوں کو کیوں دی.
کتبہ محمد عمرفاروق
مدیر: دارالشیبانی للافتاء والتحقیق پہاڑپور ڈیرہ اسماعیل خان

18/02/2025

استاد محترم کے محبت بھرے تاثرات ❤️

15/02/2025

نکاح✨
الحمدللہ علی ذالک

08/02/2025

استاد محترم ✨

04/02/2025

مرشد❤️

Want your school to be the top-listed School/college in Alipur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Alipur