27/06/2025
*سانحہ سوات: جب ریاست تاخیر سے پہنچی اور موت پہلے*
سوات، جسے کبھی پاکستان کا "سویٹزرلینڈ" کہا جاتا تھا، آج وہاں انسانیت کی لاش پڑی تھی—بے حس حکومتی اداروں، مردہ ضمیر والی انتظامیہ، اور لاپرواہ ریسکیو سروسز کے قدموں میں۔ دریائے سوات میں بائی پاس روڈ کے قریب پیش آنے والا حادثہ محض پانی میں ڈوبنے کا واقعہ نہیں، یہ ریاستی ناکامی، انتظامی غفلت، اور دعووں کی قلعی کھول دینے والا سچ ہے۔
ایک سیاح، عینی شاہد، جب یہ کہتا ہے:
*> "ریسکیو والے دو گھنٹے بعد آئے اور کہا کہ ہمارے پاس انہیں بچانے کا کوئی بندوبست نہیں، اور چلے گئے!"*
تو سوال صرف یہ نہیں کہ 15 افراد کیوں مرے؟ سوال یہ ہے کہ ریاست کہاں تھی؟
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں عورتوں، بچوں اور مردوں کو موت کے دہانے پر بے بسی سے بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ نگاہیں جو حکومتی اداروں کی طرف امید سے اٹھیں، آخرکار پانی میں غرق ہو گئیں۔ دریا میں صرف انسان نہیں، ریاستی بے حسی، حکومتی دعوے، اور ضلعی نظام کا اصل چہرہ ڈوبا۔
پاکستان تحریکِ انصاف گزشتہ 12 سال سے خیبرپختونخوا میں برسرِ اقتدار ہے۔
سیاحت کو معیشت کا ستون قرار دیا گیا، مگر
ٹوارزم پولیس کہاں تھی؟
ریسکیو 1122 کے پاس "بندوبست" کیوں نہیں تھا؟
ضلعی حکومت محض تنخواہیں لینے تک محدود کیوں ہے؟
ادارے، جنہیں عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا، آج محض اشتہاری مہمات اور سوشل میڈیا بیانات تک محدود ہو گئے ہیں۔
یہ محض حادثہ نہیں، قتل ہے
جب ریاستی ادارے اپنی بنیادی ذمے داریاں پوری نہ کریں،
جب "ریسکیو" صرف بینرز پر ہو،
جب "ٹورازم" صرف رپورٹوں میں ہو،
تو ایسے سانحات حادثے نہیں، قتل ہوتے ہیں۔
*> اب سوال یہ نہیں کہ یہ لوگ کیسے مرے؟*
سوال یہ ہے کہ ان کا قاتل کون ہے؟
قاتل وہ نظام ہے جو بے حسی کا مجسمہ بن چکا ہے۔
قاتل وہ حکومتی دعوے ہیں جو بحران میں چاک ہو جاتے ہیں۔
قاتل وہ رویے ہیں جو غفلت کے باوجود بھی شرمندہ نہیں ہوتے۔
کیا سوات کے دریا میں بہہ جانے والی وہ جانیں صرف اعداد و شمار ہیں؟
یا وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں:
* ہم حکومت سے کچھ نہیں چاہتے تھے… صرف مدد چاہتے تھے!
سوال ابھی زندہ ہے… اور شاید اگلا واقعہ اس کا جواب ہو، اگر ہم خاموش رہے۔
✒ تحریر: ک۔ م۔ ن
23/06/2025
23/06/2025
01/04/2025