Umman Asghar official

Umman Asghar official

Share

Umman Asghar
Motivational Speaker
Educationist

entrepreneur

05/03/2024

پرانے زمانے کی بات ھے کہ ایک بادشاہ تھا جو اپنی رعایا پر بڑا مہربان تھا۔ اس نے 100 کلومیٹر لمبی سڑک تعمیر کرنے کا حکم دیا۔
جب سڑک تعمیر ھو گئی اور اس کے افتتاح کا وقت آیا تو اس نے اپنے تین وزیروں سے کہا کہ ایک بار پوری سڑک کا جائیزہ لیکر آو تاکہ پتہ چل سکے کہ کہیں کوئی نقص تو باقی نہیں رہ گیا؟
تینوں وزیر چلے گئے
شام میں پہلا وزیر واپس آیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت پوری سڑک بہت شاندار بنی ھے۔ مگر سڑک پر ایک جگہ کچرا پڑا نظر آیا اگر وہ اٹھا لیا جائے تو سڑک کی خوبصورتی کو چارچاند لگ جائیں گے۔
دوسرا وزیر آیا تو اس نے بھی بالکل یہی احوال سنایا کہ سڑک پر ایک جگہ کچرہ ھے اگر وہ اٹھا لیا جائے تو سڑک پر انگلی اٹھانے کی گنجائیش باقی نہیں رھے گی۔
تیسرا وزیر آیا تو وہ بہت تھکا ھوا نظر آیا اور پسینے سے اسکے کپڑے گیلے ھو رھے تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک تھیلا بھی تھا۔ بادشاہ کو ان نے بتایا کہ بادشاہ سلامت سڑک تو بہت عالیشان بنی ھے مگر سڑک پر مجھے ایک جگہ کچرا پڑا نظر آیا جسکی وجہ سے سڑک کی خوبصورتی ماند پڑ گئی تھی۔ میں نے اسکو صاف کر دیا ھے۔ اب سڑک کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے ہیں۔
اور وہاں یہ ایک تھیلا بھی تھا شاید کوئی بھول گیا ھوگا۔ بادشاہ یہ سن کر مسکرایا اور کہا۔
یہ کچرا میں نے رکھوایا تھا اور یہ تھیلا بھی۔ اس تھیلے میں پیسے ہیں جو تمھارا انعام ھے اور پھر بادشاہ نے بلند آواز میں کہا
دعوے تو سب کرتے ہیں اور خامیاں بھی سب نکالتے ہیں۔ چاہتے سب ہیں کہ سب کچھ اچھا ھو جائے مگر عملدرآمد کوئی نہیں کرتا۔ ہم اگر چاھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سب اچھا ھو تو ہمیں خود کو بدلنا ھوگا۔ اور اپنے معاشرے کو روشن بنانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ھوگا

04/12/2023

والد مخترم کوہم سے بچھڑے ہوئے پورے آٹھ سال گزر گئے۔۔۔۔
05-12-2015
05-12-2023
مجھ کو چھائوں میں رکھا خود جلتا رہا دھوپ میں
میں نے دیکھا ہے ایک فرشتہ باپ کے روپ میں
کبھی کبھی والدکی جدائی کے غم کے بارے میں کسی دوست یا رشتہ دار سے بات کرنے اور رونے سے بھی دل ہلکا ہوجاتا ہے۔ مگردوسروں کے لئے یہ سمجھنامشکل ہوتاہےکہ یہ انسان باربارایک ہی بات کیوں دھراتاہے مگریہ میرے غم کے کم ہونے اوراس پرقابوپانے کاایک ذریعہ ہوتاہے تاکہ دل کاغبارنکلے۔ میرے دل کے ہرخانوں میں ہر وقت والدمحترم کا ہنستا مسکراتا چہرہ سمایا رہتا ہے ایسے لگتا ہےجیسے زندگی کا سارا حُسن ان دلکش لوگوں کی وجہ سے تھا۔میرے والدمخترم ایسے ملنسار،محبت کرنے والے شفیق باپ تھے جن کا بیٹا ہونے پر مجھے ہمیشہ فخر رہےگا ۔ خیالات اورالفاظ جتنے بھی حسین بامعنی اوراخترام سے بھرے ہوئے ہوںوالد محترم کی جدائی کا غم قلم کی گرفت میں نہیں آسکتا ۔ اگرحقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو زندگی چیزوں اور سہولتوں کا نام نہیں بلکہ زندگی احساسات اور جذبات کا نام ہے، اگرچہ زندگی بہت کچھ پا کر کھونے کا نام ہے مگر کبھی کبھی جذبات والد کی جدائی پر آنکھوں کو پانی پانی کر دیتے ہیں۔

قبلہ گاہ، ابو جی، باپ، والد اور جس نام سے بھی یاد کیا جائے تو ایک ایسی شخصیت کا روپ سامنے آتا ہے جواپنے اولاد کے لیے شفقت، پیار اور تحفّظ کی سب سے بڑی علامت ہے۔ والد وہ واحد ہستی ہے جو اپنے بچوں کو تر قی کرتے ہوئے دیکھنے کا خواہش مند ہوتاہے۔بچے کی پیدائش کے بعدمعاشرے میں اعلیٰ مقام دلانے کیلئے باپ اپنی ہستی کو مٹی میں ملانے سے بھی دریغ نہیں کرتا اولادکی ترقی خوشحالی کی وجہ سے معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کیلئے وہ ساری زندگی سر جھکا کر محنت کرتا ہے۔باپ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم ترین نعمت ہے۔خوش نصیب اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں یہ عظیم نعمت میسر ہے۔

اف خدایا۔۔۔۔آج سے8 سال قبل 5دسمبر 2015 رات20 :12پہ جب میں اِس عظیم ترین نعمت سے محروم ہو گیا۔ جب مجھ بدنصیب کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا، پاؤں تلے زمین نکل گئی، یہ وہ سیاہ دن تھا میرے لئے جب میرے والد محترم اس فانی دنیا سے رخصت فرما کر مالک حقیقی سے جا ملے۔ زندگی جہاں بہاریں ہی بہاریں تھیں، وہاں اک ایسی خزاں نے ڈھیرا ڈالا کہ خوشیاں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے روٹھ گئیں، یوں میرے خوشیوں اور مسرتوں پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس وقت والد محترم کی وفات میرے لئے ایک چیلنج بن کر سامنے آگئی۔زندگی میں وہ دن کبھی نہیں بھولایا جائے گا جب کوئی محبت کرنے والا جدا ہوا ہو۔ والد کا رشتہ ماں کے بعد تمام انسانی رشتوں میں مقدس اور اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے ۔ میرے والد کا شمار بھی ایسے ہی عظیم لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اپنی اولاد کی تربیت اور محبت کے لئے وقف کیا تھا۔والدکی زندگی میں اولاد معاشرے کے رسم رواج کے بندھن سے آزادہوتے ہیں ۔ اُن کی نیک دعائیں ہمیشہ ہمارے پاس ہوتے ہیں۔
والد محترم نے اپنے عمرکے تقریباً 52 سال علاقے کے لوگوں کی خدمات میں گزارے ہیں جس کی وجہ سے علاقے کے مکین اُن کی جدائی کو علاقے کے لئے ناقابل تلفی نقصان قرار دیتے ہیں۔ والد محترم کو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری نعمتوں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ عاجزی اور انکساری کی بہت بڑی دولت عطاء کی تھی۔ 5دسمبر 2015 کو میرے والد محترم ہم سے بچھڑ گئے مگر ان کی یادیں اور اُن کی جدائی کا درد آج بھی تازہ ہے۔ اُن کی محبت اور یادیں اس درد بھرے دل کو کبھی آنسوؤں کی طوفان میں بہاتے ہیں کبھی خشک صحر اکے دھوپ میں جلاتے ہیں۔ والد محترم گھر کی تمام رنگینوں کو اپنے ساتھ ہی لیکر گئے۔

یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دْکھ عابی
سنا ہے باپ زندہ ہوتو کانٹے بھی نہیں چبھتے

اگرچہ یہ دنیا عارضی ہے او راس کو سب نے ایک نہ ایک دن چھوڑنا ہی ہے۔ لیکن کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن میں والد خاص طور پر شامل ہیں ان کی اچانک جدائی کا سوچ کر سب کچھ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ لوگوں کی زبانی یہ سن کر مجھے خوشی ہوتی ہے کہ میں ایک ایسے باپ کا بیٹا ہوں جس نے اپنی محنت، لگن، شوق، دیانت داری اور وفاداری کے ساتھ ساتھ اپنے قائم کردہ اصولوں، خیالات، سوچ، فکر، اخلاقی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بھر پور زندگی گزاری ہے اور اس کا عملی اعتراف علاقے کے ہربچہ بچہ سبھی کرتے ہیں۔

والدمحترم کوکئی بارخواب میں دیکھا وہ سفیدکپڑوں اورسرپرسفیدٹوپی رکھ کرمسکراہتے ہوئے میرے سامنے کھڑے نظرآتے ہیں ۔میں اُن سے لپٹ کرکتنے باتین کی گلے شکوے کئے اوربہت روئیا ۔مگراسی لمحے آنکھوں کا کھل جانے کالمحہ کسی سزاسے کم نہیں ہوتا۔میرے پیارے پیارے والد محترم آپ کابیٹا ہر لمحہ آپ کو دعاؤں میں یاد رکھتاہے ،بارگاہ الہی میں آپ کے بڑے درجات اوراونچے مرتبوں پہ فائز ہونے کی دعاکرتاہوں ۔اس وقت میں اپنے آپ کوتنہا اوراداس محسوس کرتاہوں مگرمیں ذاتی طور پر آج جو کچھ بھی ہوں، جو عزت ملی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فضل کرم اور میرے والد کی محنت اوردعاوں کانتیجہ شامل ہے۔ میرا سرفخرسے بلند ہوتاہے جب لوگ شاندار الفاظ میں میرے والد کی خدمات، شفقتوں اور محبّتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں وہ ایک درویش انسان تھے۔ پورے علاقے میں ان کی حیثیت ایک بزرگ کی تھی۔ میرے سب سے التجاء ہے کہ جن خوش بخت لوگوں کے والد ابھی حیات ہیں، وہ اْن کی قدر کریں،اْن کی خدمت کریں،اْن کی فرمانبرداری کریں، اْنکو ہر حال میں خوش رکھیں۔اللہ تعالیٰ والدمحترم کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے آمین
بقول قتیل شفائی
آج تک دل کو ہے اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
لاکھ چاہا کہ اس کو بھول جائوں قتیلؔ
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی جگہ

Want your school to be the top-listed School/college in Abdul Hakim?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Multan Road Abdul Hakim
Abdul Hakim
58270