میرا گاؤں نملی میرا

میرا گاؤں نملی میرا

Share

میرا گاؤں نملی میرا، میرن جانی کی پہاڑی، شرح خواندگی کی روشنی، اور سیاحت کا مرکز پاکستان میں۔ یہاں کی مثبت آواز دنیا تک پہنچاؤں گا۔

13/05/2026

یہ visualization انسانی گردن کے مہروں (Cervical Spine) اور ان سے جڑے اعصاب کے جِسم پر اثرات کو نمایاں کرتی ہے- طِبی اِصطلاح میں گردن کے اِن مہروں کو C1 سے C7 تک نمبر دیے جاتے ہیں جبکہ پیٹھ کا پہلا مہرہ T1 کہلاتا ہے- تصویر کے مطابق، ہر مُہرے کے متاثر ہونے سے جِسم کے مخصوص حصوں میں درد یا دیگر علامات پیدا ہو سکتی ہیں-

سی ون C1، اس مہرے میں خرابی سر درد اور گردن کے اوپری حصے میں تناؤ کا باعث بنتی ہے-

سی ٹو C2، یہاں سے جڑے اعصاب متاثر ہونے پر چکر آنا اور گردن میں درد محسوس ہوتا ہے-

سی تھری C3، اس کا تعلق گردن میں سختی (Neck stiffness) اور پٹھوں کے کھچاؤ سے ہے-

سی فور C4، یہ کندھوں میں تناؤ اور پیٹھ کے اوپری حصے میں درد پیدا کر سکتا ہے-

سی فائیو C5، اس مُہرے پر دباؤ سے کندھوں میں درد اور بازوؤں میں کمزوری محسوس ہوتی ہے-

سی سِکس C6، اس کا اثر انگوٹھے کے سُن ہونے اور بائیسپس (biceps) کے درد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے-

سی سیون C7، اس مُہرے میں مسئلے کی وجہ سے ٹرائیسپس (triceps) میں کمزوری اور درمیانی انگلی سن ہو سکتی ہے-

ٹی ون T1، یہ ہاتھوں کی کمزوری اور جسمانی توازن یا ہم آہنگی (coordination) میں دشواری کا سبب بنتا ہے-

گردن کی ہڈی میں کسی بھی قِسم کی غیرمعمولی تبدیلی یا اعصاب پر دباؤ صرف گردن تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ سَر، کندھوں، بازوؤں اور ہاتھوں کی انگلیوں تک اثر انداز ہوتا ہے- یہ علامات ڈرماٹوم (dermatome) اور مائیوٹوم (myotome) کے ان مستند نقشوں پر مبنی ہیں، جو نیورولوجی اور آرتھوپیڈک میڈیسن میں گردن، کندھوں، بازوؤں اور ہاتھوں میں اعصاب سے متعلق درد، کمزوری اور سُن ہونے کی کیفیت کی شناخت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں- (میو کلینک، کلیولینڈ کلینک، جانز ہاپکنز میڈیسن-

13/05/2026

مراقبہ کے تین مراحل ہیں:
۱۔ ذکر
۲۔ فیض
۳۔ استغراق

۱) مراقبہ کہتے ہیں اللہ کی رحمت اور فیض کے انتظار میں بیٹھنا۔ جب آپ مراقبہ کرتے ہیں انتظار فیض کرتے ہیں تو آپ کو تصور کے ساتھ اپنے لطائف کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے اور اللہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ جس سے وہ لطائف جو پہلے ہی چل رہے ہوتے ہیں مزید تیز ہو جاتے ہیں یا محسوس ہو جاتے ہیں

۲) جب آپ کو فیض/توجہ ملنے لگتی ہے تو آپ کو لطائف متوجہ ہو کر تیزہو کر اس فیض کو ریسیو کرنے لگتے ہیں جیسے لطائف کو گرپ میں لے کر تیز کردیا گیا ہو۔ اس فیض/توجہ کے حصول کے ساتھ ہی آپ کے لطائف رسپانس دینے لگتے ہیں اور ٹھنڈک، حدت، خوشبو وغیرہ محسوس ہونے لگتی ہے ۔ اسی حد تک ذکر مراقبہ کا حکم ہے۔ان دو کیفیات کے ساتھ آپ تصور میں اپنے آپ کو ڈوبتا محسوس کرتے ہیں کہ تصور میں کعبہ کا طواف کر رہا ہوں، حجراسود کے بوسے دے رہا ہوں یا روضہ رسول کے ساتھ ہوں۔

۳) مندرجہ بالا دو کیفیات ذکر و فیض کے بعد اچانک آپ کا ذہن ایک خاص لمحہ میں بالکل خیالات سے پاک ہو کر خالی/blank ہو جاتا ہے اور آپ استغراق کی حالت میں یا مشاھدہ میں چلے جاتے ہیں یا نیند کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

یاد رکھیں لطائف آپ کے اندر ہیں ان کو آپ کی توجہ ہی سے چلنا ہے، جب کہ فیض خارج سے /باہر سے آنا ہے جو آپ کی چاہت طلب اور مانگنے اور تصور پر منحصر ہے۔اصل مطلوب ذکر و فیض ہے۔

سورہ ق میں بہت خوبصورت انداز میں سمجھایا گیا ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْب’‘ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَھُوَ شَھِیْد’‘ (سورہ ق:37)
ترجمہ:بیشک اس میں انتباہ اور تذکر ہے اس شخص کے لیے جو صاحب دل ہے(یعنی غفلت سے دوری اور قلبی بیداری رکھتا ہے)یا کان لگا کر سنتا ہے (یعنی توجہ کویک سو اور غیر سے منقطع رکھتا ہے) اور وہ (باطنی) مشاہدہ میں ہے (یعنی حسن و جمال الوہیت کی تجلیات میں گم رہتا ہے)۔

مراقبہ کا مقصد عین الیقین اور حق الیقین حاصل کرنا ہے۔ قران کریم اس علم کے ادراک کو بیدار کرنے کے لئے جو مختصر اور جامع طریقہ بتاتا ہے اس کے تین اجزاء ہیں:

۱۔ وہ اس علم کی چاہت طلب والا دل تو رکھے۔روحانی مشاھدوں کا شوقین اور اس کی فہم کا طالب صادق تو ہو۔اللہ اور اس کے حبیب کی محبت کی طلب اس کے دل کے گوشے میں کہیں موجود تو ہو۔محض یکسر مسترد کر دینے والا نہ ہو جو بغیر ثبوت حاصل کئے اور ان کی تگ دو کئے بغیر انکاری نہ

مراقبہ کے فوائد:-

مراقبہ کرنے والے بندے کو مندرجہ ذیل فوائدحاصل ہوتے ہیں -
1) خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں-
2) روحانی علوم منتقل ہوتے ہیں -
3) اللہ تعالی کی توجہ اور قرب حاصل ہوتا ہے-
4) منتشر خیالی سے نجات مل جاتی ہے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے-
5) اخلاقی برائیوں سے ذہن ہٹ جاتا ہے -
6) مسائل حل ہوتے ہیں -پریشانیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے -
7) مراقبہ کرنے والا بندہ بیمار کم ہوتا ہے -
8) مراقبہ کے ذریعے بیماریوں کا علاج قدرت کا سربستہ راز ہے -
9) اللہ تعالی پر یقین مستحکم ہو جاتا ہے -
10) اپنے خیالات دوسروں کو منتقل کئے جاسکتے ہیں -
11) صاحب مراقبہ روحانی طور پر جہاں چاہے جاسکتا ہے -
12) مراقبہ کرنے والوں کو نیند جلدی اور گہری اتی ہے وہ جلد سوجاتا ہے -
13) فراست میں اضافہ ہوتا ہے -
14) کسی بات یا مضمون کو بیان کرنے کی اعلی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے-
15) صاحب مراقبہ بندہ عفو و درگزر سے کام لیتا ہے-دل نرم اور گفتگو لطیف ہوجاتی ہے-
16) بلا تخصیص مذہب وملت اللہ کی مخلوق کو دوست رکھتا ہے اور خدمت کرکے خوش ہوتا ہے -
17) ماں سے والہانہ محبت کرتا ہے ،باپ کا احترام کرتا ہے ،بڑوں کے سامنے جھکنا ہے ،چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتا ہے-
18) مراقبہ کرنے والا بندہ سخی اور مہمان نواز ہوتا ہے -
19) اپنے پرانے سب کے لئے دعا کرتا ہے -
20) مراقبہ کرنے والے کی روح سے عام لوگ فیض یاب ہوتے ہیں -
21) تواضع اور انکساری اس کی عادت بن جاتی ہے -
22) صاحب مراقبہ سالک کو پراگندہ خیالات بوجھ اور وقت کا ضیاع نظر آتے ہیں اور وہ ہر حال میں ان سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کرتا ہے-انبیاء اور اولیاء اللہ کی روحوں سے امداد کا طالب ہوتا ہے ،اور اس کی بے قراری کو قرار آجاتا ہے -
23) نماز میں حضور ی ہو جاتی ہے-رکوع کرنے والوں کیساتھ رکوع کرتے ہوئے آور سجدہ کرنے والوں کیساتھ سجدہ کرتے ہوئے فرشتوں کو صف بہ صف دیکھتا ہے-
24) آسمانوں کی سیرکرتا ہے اور جنت کے باغات اسکی نظروں کے سامنے آجاتے ہیں -
25) کشف القبور کے مراقبے میں اس دنیا سے گزرے ہوئے لوگوں سے ملاقات ہو جاتی ہے -
26) سچے خواب نظر آتے ہیں -
27) شریعت و تصوف پر کاربند انسان کو سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت نصیب ہو تی ہے -

کتاب احسان و تصوف خواجہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی مدظلہ العالی

Photos from ‎میرا گاؤں نملی میرا‎'s post 12/05/2026
11/05/2026

نملی میرا گاوں سے واپس جانا ایسا ہی ہے جیسے پردیس میں جانا

10/05/2026

" میں اپنی ماں کی تصنیف ہوں "
ماں کی ساری زندگی ایک چھوٹے سے جملے میں قید ہے ،
وہ پیدا ہوئ اس نے تکلیفیں برداشت کی اور مر گئ ۔
گاوں نملی میرا محلہ ہل سے ۔

10/05/2026

بگنوتر سے نملی میرا ک روڈ کا سفر صوفیانہ کلام کیساتھ، پہاڑ اور درختوں سے انسانی روح کا رشتہ ہوتا ہے ، ہر گاوں اپنے ہر فرد کے لیے ایک کشش رکھتا ہے ، اور ہر احساس طعبت انسان اپنے گاوں کی مٹی سے باتیں کرتا ہے ۔
کسی نے لکھا تھا کہ شہروں کا انسان بناتے ہیں اور گاوں کو فرشتے بناتے ہیں ۔
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے رہے یہی دو پشت، چار پشت

10/05/2026

ہر شخص کو لگتا ہے ٹھکانے پہ کھڑی ہے
دنیا تو تباہی کے دہانے پہ کھڑی ہے
خیرت ہے مجھے وہ بھی گرانے پہ لگے ہیں
وہ جن کی عمارت میرے شانے پہ کھڑی ہے

10/05/2026

اپنے گاوں کے گھر کی طرف پیدل جاتے ہوئے کچھ احساس و خیال کی باتیں جو فکر دعوت زندگی ہیں ۔
سلامت رہے میرا گاوں

06/05/2026
Want your school to be the top-listed School/college in Abbottabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Hill Namli Maira Abbottabad
Abbottabad
22010