H-A-M JTR

H-A-M JTR

Share

HARIPUR, ABBOTTABAD, MANSHERA
STUDENTS
JAMIA TUR RASHEED (KARACHI)

22/04/2026

20 اپریل بروز پیر، کیمپس 2 کے چمن میں JTR المنائی ایسوسی ایشن کے زیر نگرانی علاقائی امراء کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
جس میں مسؤل المنائی ایسوسی ایشن مولانا عالم زیب صاحب اور مولانا نفیس الحق صاحب نے خصوصی شرکت فرمائی۔ اجلاس میں تقریباً 20 اضلاع کے امراء نے شرکت کی۔
اجلاس میں درج ذیل اہم فیصلے کیے گئے:
علاقائی طلباء اپنے اپنے علاقوں میں سالانہ تعارفی نشست اساتذہ کرام اور قدیم و جدید طلباء کے لیے منعقد کریں گے۔
سیرت، ختمِ نبوت اور الحاد کے موضوعات پر ایک تربیتی ورکشاپ علاقائی طلباء کیلئے منعقد کی جائے گی، جس کی تاریخ کا اعلان باہمی مشاورت کے ساتھ جلد کیا جائے گا۔
تمام علاقائی طلباء اپنے اپنے یونٹس کو منظم کرنے کے لیے JTR المنائی ایسوسی ایشن کی جانب سے فراہم کردہ رجسٹریشن فارم حاصل کرکے جمع کروائیں گے، تاکہ تمام سرگرمیاں باقاعدہ اور منظم انداز میں انجام دی جا سکیں۔


JTR Alumni Association Official

19/04/2026

🌟 الملتقی: ہزارہ کے نوجوانوں کی نئی صبح، ایک مسلسل فکری سفر 🌟
قلم: عمر افضل
یہ شام ’’الملتقی‘‘ کی تھی، H.A.M (ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ) اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی سالانہ محفل، جو محض ایک تقریب نہیں، بلکہ امید کا استعارہ، اجتماعیت کی خوشبو اور مستقبل کی ایک واضح پیش گوئی تھی۔
کراچی کا یہ ہنگامہ خیز اور بے قرار شہر، جہاں ہر قدم کے ساتھ کہانیاں جنم لیتی ہیں اور ہر سانس نئے خوابوں کو ہوا دیتی ہے، دسمبر کی ایک شام ایک ایسے نویدِ مسرت کی صورت میں جلوہ گر ہوئی۔ یہ محفل گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اپنے پورے حسن، نفاست اور روحانی جلال کے ساتھ جلوہ گر ہوئی، مگر اس مرتبہ پختگیٔ آواز، نظم کی مضبوطی اور نئے عزم کی بالیدگی نمایاں تھی۔
جامعۃ الرشید کا ماحول خود احتسابی اور تربیت کا ایسا پرفیض دریا ہے جس کے کناروں پر کھڑے لوگ محض پانی نہیں دیکھتے، بلکہ اس کے بہاؤ میں کردار سازی کی روشنی محسوس کرتے ہیں۔ ہزارہ ڈویژن سے آنے والے یہ نوجوان اسی دریا کے مسافر ہیں، وہ مسافر جن کے دلوں میں اپنے علاقے کا درد، اپنے مستقبل کی طلب اور اپنے معاشرے کی بہتری کا وہ شوق ہے جو زمانوں کو بدل دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ کراچی کے شور میں بھی یہ نوجوان اپنی شناخت ایسے محفوظ رکھتے ہیں جیسے سخت آندھی میں بھی کوئی چراغ اپنی لو کو سنبھالے کھڑا ہو۔
🕌 سیشن اول: رہنمائی، تربیت اور فکری شعور کی تخم ریزی 💎
محفل کا آغاز تلاوتِ قرآن سے ہوا تو ایسا لگا جیسے دلوں کی زمین پر پہلا نور اتر رہا ہو۔ نعتِ رسول ﷺ نے اس نور کو ریشمی سکون میں بدل دیا۔ استقبالیہ کلمات نے یہ احساس تازہ کیا کہ یہ اجتماع ’’رسم‘‘ نہیں، ’’رہنمائی‘‘ ہے؛ یہ تقریب ’’نمائش‘‘ نہیں، ’’تربیت‘‘ ہے؛ یہ محفل ’’خوشی‘‘ نہیں، ’’ذمہ داری‘‘ ہے۔
اس موقع پر جو مقاصد بیان کیے گئے وہ کسی تنظیمی نشست کے خشک نکات نہیں تھے، بلکہ وہ خواب تھے جو دلوں سے پھوٹ کر لفظوں میں ڈھل گئے تھے:
نئے طلبہ کی حوصلہ افزائی۔
ان میں تنظیمی و فکری شعور کی تخم ریزی۔
انہیں جامعہ کی تربیتی فضا سے روشناس کروانا۔
یہ فہم عطا کرنا کہ علم صرف ڈگری نہیں، بلکہ وہ روشنی ہے جو قلب و کردار کے راستے کو منور کرتی ہے۔
عیسیٰ اور عادل جدون جیسے طلبہ کی تقاریر دو مشعلوں کا سا حکم رکھتی تھیں جو ایک ساتھ روشن ہوئیں اور ہر مشعل اپنے حصے کے فکری و عملی تاریکی کو کم کرتی چلی گئی۔ ان کی گفتگو میں صرف الفاظ نہیں تھے، ایک درد تھا، ایک سوچ تھی، ایک عزم تھا۔ محسوس ہوتا تھا کہ یہ نوجوان محض اپنے مستقبل کی بات نہیں کر رہے، بلکہ اپنے علاقے کے مژدۂ کل کو اپنے دلوں میں محفوظ رکھ کر گامزن ہیں۔
💡 سیشن دوم: اجتماعیت، قیادت اور مسائل کو سر کرنے کا عزم 🤝
نمازِ مغرب کے بعد دوسرا سیشن شروع ہوا تو فضا میں ایک سنجیدہ اور بارُعب سکوت طاری ہو گیا، ایک ایسی خاموشی جس میں ذہن کے خلوت خانے غور کرتے ہیں اور دل فکری گہرائی کو سمجھتا ہے۔ جامعہ کے تعلیمی نظام پر مبنی ڈاکیومنٹریز نے پردۂ اسکرین کو گویا کھڑکی بنا دیا، جس سے طلبہ نے ایک ایسی دنیا میں جھانکا جہاں علم صرف پڑھایا نہیں جاتا، بلکہ جیا جاتا ہے؛ جہاں تربیت صرف نصاب کا حصہ نہیں، بلکہ ہر سانس کا حصہ ہے؛ جہاں نظم بے زنجیر بھی ہو تو بے قابو نہیں ہوتا۔
اجتماعیت، قیادت اور علاقائی مسائل کے موضوعات پر نوجوانوں کی گفتگو اس محفل کا دل تھی۔
عبداللہ کی گفتگو: ’’اجتماعیت کی ضرورت‘‘ پر تھی۔ انہوں نے بتایا کہ قومیں تنہائی کے بل پر نہیں اٹھتیں؛ کارواں کے ساتھ اٹھتی ہیں۔
مولانا قاضی طلحہ: علاقائی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مسائل اُن پہاڑوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں چند لوگ مل کر ہی سر کر سکتے ہیں۔
محفل کا روحانی اور فکری نقطۂ کمال وہ لمحہ تھا جب مفتی رشید احمد خورشید صاحب نے سیرتِ طیبہ ﷺ کو نوجوانوں کی تربیت کا مرکزی محور و منہج بنا کر پیش کیا۔ ان کی گفتگو دلوں کو اس طرح گرم کرتی گئی جیسے سرد شب میں کسی نے کمرے کے بیچوں بیچ الاؤ روشن کر دیا ہو۔
اس کے بعد دکھائی گئی آرگنائزیشن کی سالانہ ڈاکیومنٹری تنظیم کے اُن گوشوں کو سامنے لائی جو روز مرہ کی زندگی میں نظر نہیں آتے مگر تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں: بیمار ساتھی کی تیمارداری، نئے آنے والے طلبہ کی رہنمائی، مشکل میں ہاتھ تھامنا، تعلیمی مسائل میں ایک دوسرے کا سہارا بننا۔
💫 اختتامی سیشن: ایک بڑے سرپرستانہ حوصلے کی مہر 🔑
تقریب میں سجاد سواتی صاحب اور مفتی حنیف تنولی صاحب کی شرکت گویا اس بات کی مہر تھی کہ یہ نوجوان صرف طلبہ نہیں، علاقے کا مستقبل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ کی پہاڑیوں میں جتنی خنکی ہے، ان نوجوانوں کے دلوں میں اتنی ہی حرارت ہے۔
پروگرام کے اختتام پر امیر آرگنائزیشن گل شیر ملک نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اعزازی شیلڈز کی تقسیم اس محفل کی وہ روشنی تھی جس نے ہر نوجوان کے دل میں یہ احساس تازہ کیا کہ سعی رائیگاں نہیں جاتی۔
آخر میں مولانا عالم زیب کی دعا نے فضا کو ایک روحانی حصار میں لپیٹ دیا۔ پر تکلف عشائیہ کے ساتھ محفل اپنے ظاہری اختتام کو تو پہنچی، مگر اس کے اثرات دلوں میں وہ چراغ روشن کر گئے جو جلد بجھنے والے نہیں۔
’’الملتقی‘‘ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ ہزارہ کا نوجوان اب محض پڑھنے والا نہیں، سوچنے والا بھی ہے؛ محض سننے والا نہیں، کرنے والا بھی ہے۔ یہ نوجوان صرف اپنے لیے نہیں جی رہے، بلکہ اپنے علاقے، اپنی قوم اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے راستے تراش رہے ہیں۔ یہی ’’الملتقی‘‘ کا اصل پیغام ہے کہ سفر
جاری ہے، چراغ روشن ہیں اور منزل قریب ہے۔

JTR Alumni Association Official Friends of Hazara

Send a message to learn more

15/04/2026

#مانسہرہ #ہزارہ

14/04/2026

🌟 سفرِ علم و عمل: پروقار تقریبِ دستارِ فضیلت و تعارف H-A-M اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن 🌟
الحمدللّٰہ! مورخہ 24 مارچ بروز منگل، مجمع العلوم الاسلامیہ مانسہرہ کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان اور ایمان افروز تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ 🕋✨
🎖️ قیادت و سرپرستی:
یہ بابرکت محفل مفتی محمد حنیف تنولی صاحب (مسئول مجمع العلوم الاسلامیہ مانسہرہ، CEO ادارہ بیت الحکمہ و مدیر المرکز الاسلامیہ تناول) کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی، جس میں علمِ دین کی شمع روشن کرنے والے فارغ التحصیل طلبہ کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
🎓 دستارِ فضیلت کی سعادت:
روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے خوش نصیب فضلاءِ کرام کی دستار بندی کی گئی۔ یہ یادگار لمحہ ان کی سالہا سال کی محنت اور اساتذہِ کرام کی مخلصانہ تربیت کا ثمر تھا۔ 📜🤝
🎤 بصیرت افروز خطابات:
تقریب میں جید علمائے کرام اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ معزز مقررین میں شامل تھے:
✅ مفتی عبیدالرحمن صاحب (صدر مجمع العلوم الاسلامیہ)
✅ مفتی احسان الحق تبسم صاحب (سابق استاذ جامعہ الرشید کراچی)
✅ صدر سیرت النبی ﷺ کمیٹی و دیگر معزز مہمانانِ گرامی۔
مقررین نے جامعہ الرشید کے عظیم مشن پر روشنی ڈالی اور نئے فضلاء کو معاشرے میں اخلاص، محنت اور استقامت کے ساتھ خدمتِ دین کا جذبہ بیدار رکھنے کی تلقین کی۔ 📢💎
📢 خصوصی تعارف: HAM اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (JTR)
پروگرام کے دوران جامعہ میں متحرک H-A-M اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کا تفصیلی تعارف اور اس کے اغراض و مقاصد پیش کیے گئے، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔
✨ اختتامی دعا:
تقریب کے اختتام پر فضلاء کو قیمتی نصائح سے نوازا گیا اور ان کے روشن مستقبل کے لیے رقت آمیز دعا کی گئی۔ اللہ پاک ان تمام فضلاء کو دین و دنیا کی حقیقی کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین! 🤲 شہادتِ حق کا سفر جاری رہے گا۔۔۔ ان شاء اللہ!
#مانسہرہ #ہزارہ

04/04/2026

#مانسہرہ
JTR Alumni Association Official Idara Bait Ul Hikmah Mansehra Friends of Hazara Hazara1 Tv

03/04/2026

#مانسہرہ
JTR Alumni Association Official Friends of Hazara

03/04/2026

#مانسہرہ

Want your school to be the top-listed School/college in Abbottabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Abbottabad
75190