Bright Hall Education system iqbal campus Abbottabad
educational institute
17/02/2026
Atoms
ALLAH PAK ky 99 name
04/05/2025
SOLAR SYSTEM !!
There are eight (8) planets in the solar system
2. Jupiter is the biggest planet of the solar system
3. Mercury is the smallest planet of the solar system
4. Jupiter is the heaviest planet of the solar system
5. Mercury is the lightest planet of the solar system
6. Urains is the coldest planet of the solar system
7. Venus is the hottest planet of the solar system
8. Neptune is the farthest planet from the sun
9. Mercury is the closest planet from the sun
10. Venus is the brightest planet
11. Jupiter is the darkest planet
13. Earth is the blue planet (In some books Neptune is also)
14. Mars is the Red planet
15. Earth is the most colorful planet
16. Venus is the planet with the longest day time (225 earth days)
17. Jupiter is the planet with shortest day time (10 hours)
18. Mercury is the fastest revolving planet
19. Neptune is the slowest revolving planet
20. Jupiter is the fastest rotating planet (on its axis)
21. Venus is the slowest rotating planet (on axis)
22. Mercury and Venus are planets with no Moons or Satellites
23. Venus is called the Morning Star
24. Earth is the only planet with Life
25. Jupiter is the planet with maximum number of Moons or Satellites (79)
چند ضروری گذارشات:
● گرمیوں میں کپڑوں کے نیچے بنیان لازما“ پہنیں، پتلون پہننے کی صورت میں انڈرویئر پہننے کو اپنا معمول بنائیں چاہے آپ گھر میں ہوں یا باہر۔ اس سے اوپری لباس پسینے کی بدبو سے بچنے کے علاوہ پوشیدہ اعضاء کا پردہ بھی مناسب طور پر ہوتا ہے۔
●دانتوں کی صفائی کا اہتمام کریں۔
برش یا مسواک کے علاوہ Tooth Pick، مضبوط دھاگے یا Dental Floss سے دانتوں کے خلال کو اپنا معمول بنائیں۔
اگر آپکے منہ سے بدبو آتی ہے تو مسجد یا کسی بھی اجتماع میں جانے سے پہلے Mouth Freshener کا استعمال کریں۔ منہ کی بدبو دور کرنے کیلئے مٶثر علاج کروائیں۔ بیوی/خاوند اور دیگر گھر والوں کو بھی اپنے منہ کی بدبو سونگھنے کی اذیت سے نجات دلائیں۔
● کپڑے صاف اور بدبو سے پاک پہنیں۔
●جرابیں پہنیں تو روزانہ تبدیل کریں۔
●خوشبو کے استعمال کو اپنا معمول بنائیں۔ خوشبو یا عطر کپڑوں کے علاوہ اپنے کالر، داڑھی یا گردن کے بالوں پر بھی لگائیں۔ یہ آپکی اپنی ناک کے قریب ترین ہے اور دوسروں سے معانقہ کرنے کی صورت میں ان پر خوشگوار اثرات مرتب کرنے کا باعث بھی بنتا ہے۔
بغلوں وغیرہ کی بدبو دور کرنے کیلئے Deodorant وغیرہ کا استعمال کریں یا نہانے کے بعد بدبو سے بچنے کیلئے پھٹکڑی کے ہلکے محلول کا ان جگہوں پر استعمال کریں۔
● روزانہ نہانے اور صاف ستھرا رہنے کی عادت اپنائیں۔
یاد رکھیں ۔۔۔۔ دوسروں کو بدبو سونگھنے کی اذیت میں مبتلا کرنا مذہب اور اخلاقیات دونوں کے خلاف ہے۔
● بچوں کیلئے 8 سے 10 اور بالغ کیلئے 6 سے 8 گھنٹے کی نیند جسم کی بنیادی ضرورت ہے۔ دن میں طبیعت فریش نہ رہتی ہو تو اپنی نیند کا جائزہ ضرور لیں۔
●آئینہ دیکھتے ہوئے کان اور ناک کے بالوں کا جائزہ بھی لے لیا کریں اور بڑھے ہوئے ہوں تو انھیں کاٹ یا اکھاڑ دیا کریں۔ ناک کے بال اکھاڑنے کیلئے عوامی مقامات مناسب جگہ نہیں، برائے مہربانی یہ فریضہ گھر پر انجام دیں۔ دوسرے لوگوں کو اس فعل سے گِھن آتی ہے جس کا آپ کو احساس نہیں ہوتا۔
● اسی طرح عوامی مقامات پہ ناک اور کان میں انگلی گھما کر صفائی کا اہتمام کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے، مزید یہ کہ ایسی حرکات کرنے کے بعد جب آپ دوسرے لوگوں سے مصافحہ کا شوق فرماتے ہیں تو آپ ان کو انتہائی آکورڈ صورتحال میں مبتلا کر رہے ہوتے ہیں۔
● کرنسی نوٹ گنتے ہوئے اپنے لعاب کا بے دریغ استعمال کرنا بند کریں اگر ضرورت ہو تو پانی کا استعمال کریں۔ ویسے بھی آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ نوٹ کن کن جگہوں اور کتنے گندے ہاتھوں سے ہو کر آپ تک پہنچتے ہیں۔۔
● گاڑی چلاتے وقت تنگ سڑکوں پر اوورٹیکنگ سے اجتناب کریں۔ گاڑی پارک کرتے وقت اتنا خیال رکھیں کہ دوسرے لوگ اس سے کسی تکلیف کا شکار نہ ہوں اور بلاوجہ اس طرح پارک نہ کریں کہ دو گاڑیوں کی جگہ گھیر کر کھڑے ہو جائیں۔
● اپنے والد، بھائی یا کسی عزیز کے عہدے کی وجہ سے نا جائز Privileges یا مفادات لینے سے باز رہیں اور پبلک سروس کے محکموں میں دوسروں کو کیڑے مکوڑے اور حقیر ہونے کا احساس نہ دلائیں۔
● نماز اور روزے وغیرہ کا تعلق آپ کے اور آپ کے معبود کے درمیان ہے، اپنے زعمِ تقویٰ میں دوسروں کے ساتھ حقارت سے پیش نہ آئیں۔۔۔۔۔۔۔ اپنے باطن کی بدبو سے بھی دوسروں کو بچائیں۔
لوگوں سے ان کی عبادات کے متعلق بے جا سوالات مت کریں کیونکہ لوگوں کے اعمال کا حساب رکھنے کا فریضہ آپ کو تفویض نہیں کیا گیا۔
● لوگوں کی ذاتی و نجی زندگی سے متعلق سوالات کرنے کا آپ کو کوئی حق نہیں اور نہ ہی ان کی آمدنی جاننے کا اختیار ۔ ایسے سوالات لوگوں کو کوفت میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ مثلاً ابھی تک آپ کے بچے کیوں نہیں ؟ آپ کے بچے فلاں سکول میں کیوں نہیں پڑھتے؟ آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟؟ وغیرہ ۔
● جگہ جگہ تھوکنے، کھانے پینے کی چیزوں کے خالی ریپرز اور چھلکے سڑک یا عوامی مقامات پر پھینکنے سے اجتناب کریں۔ گاڑی میں ایک بڑا شاپنگ بیگ رکھ لیں اور چیزیں اس میں اکھٹی کرتے رہیں اور مناسب جگہ پر ڈمپ کریں۔
● اپنے گھر، آفس یا پبلک ٹوائلٹس کو اس طرح سے استعمال کریں اور اس حالت میں چھوڑیں جیسے آپ اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔
پبلک ٹوائلٹس کسی بھی قوم کی اجتماعی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہاں پر صفائی کا مناسب انتظام رکھیں،اپنی خطاطی، ادبی ذوق ، سیاسی و مذہبی منافرت، خواتین کے ناموں کی بے حرمتی یا + 18 پینٹنگز کے نمونے مت چھوڑیں۔ یہ نفسیاتی بیماری کی نشانی ہے۔۔۔
● جسم کے پرائویٹ اعضاء پر بلاجواز یا عادتاً خارش کرنے سے پرہیز کریں۔ عوامی مقامات پر انتہائی ضرورت پڑنے پر ایک سائیڈ پہ ہو کے اطمینان سے کرلیں۔
● اپنے ناخن مناسب وقت پر کاٹیں اور ان میں پھنسا ہوا میل کچیل نکالتے رہیں۔ یہ حفظان صحت کےلئے بھی ضروری ہےاور اپنی شخصیت کا تاثر قائم رکھنے کے لئے بھی اہم ہے۔
● زیر ناف اور بغلوں کے بال چالیس دن میں ایک بار ضرور کاٹ لیں اور ان مقامات کی مناسب صفائی رکھیں۔
● اگر آپ شادی شدہ ہیں تو خواہ آپ عورت ہیں یا مرد، اپنے زندگی کے ساتھی کیلئے ضروری بناٶ سنگار کا اہتمام رکھا کریں۔ اسے آسودہ اور خوش رکھیں۔ اسے خوش رکھ کر حقیقت میں آپ اپنی ہی خوشی کا سامان کر رہے ہوتے ہیں۔
● اسی طرح اپنے والدین، سسرال، بہن بھائیوں، اولاد اور احباب کی Care کیجئے اور انکو اپنے اچھے طرزِ عمل سے ظاہر کیجئے کہ آپ ان کے لئے محبت کے جذبات رکھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ یاد رکھیے۔۔۔۔ دل میں دوسروں کیلئے جائز محبت رکھنا اور انکی Care کرنا ضروری ہے مگر دوسروں پر اس محبت کو آشکار کرنا اور اس کا اظہار بھی اسی قدر ضروری ہے۔
● کسی بھی دوسرے شخص کو زیرِ بحث لائیں تو اس بات کا جائزہ لیتے رہیں کہ کہیں آپ غیبت یا بہتان تراشی کے مذموم فعل کا شکار تو نہیں ہو رہے۔۔۔۔۔ معاشرے کو بھی بدبودار ہونے سے بچائیں۔
● دوسروں کی بہنوں، بیٹیوں، بیویوں اور ماٶں کو تاکنے اور انکے جسموں کا اپنی نظروں سے X-Ray کرنے سے اجتناب کریں۔ ایسا کام نہ کریں جو آپ اپنے گھر والوں کیلئے پسند نہ کریں۔
● نیکی اور پارسائی والا راستہ اپنائیے۔ بے حیائی کے طریقوں سے نیک خاوند یا بیوی ڈھونڈنے کی کوشش خام خیالی ہے۔ ایسے میں آپ کو پارٹنر بھی وہی ملے گا جو آپ سے بھی دو ہاتھ آگے ہو گا۔ برائی کے راستوں پر چلتے ہوئے اس راستے پر چلنے والے ہی ملیں گے۔
● دوستوں اور تعلق داروں کی کال کا لازمی جواب دیں۔۔ انتہائی مصروفیت میں اپنی مصروفیت بتاکر معذرت کرسکتے ہیں یا اپنی مصروفیت کا پیغام چھوڑ دیں اور بعد میں وقت ملنے پر کال کر لیں۔ لیکن دوست بناکر یا تعلق رکھ کر نظر انداز کرنا تکبر کی نشانی ہے۔۔۔ یاد رکھیں وہ دوسرا اس تحقیر کا آپ سے بدلہ ضرور لے گا۔۔ ہاں طریقۂ انتقام مختلف ہوسکتا ہے۔۔
● خریداری سے قبل بیوی/خاوند یا دوست کو مشورہ ضرور دیں لیکن ضد کرکے اپنا مشورہ نہ منوائیں۔۔ خریداری کے بعد منفی کمنٹس کرکے ان کے چوائس پر اعتراض سے پرھیز کریں۔۔۔
● اگر آپ بیوی ہوں تو خاوند کے گھر آنے سے پہلے مناسب بناٶ سنگار کریں اور اسکا مسکراہٹ کیساتھ استقبال کریں اور محبت کا اظہار کریں ۔ نیز ابتدائی آدھ گھنٹہ میں اسے گھر کے مسائل بتانے سے اجتناب کریں۔
● اگر آپ شوہر ہیں تو باہر کے مسائل اور پریشانیوں کو گھر جاتے ہی Discuss کرنے یا اپنے کو افسردہ ظاہر کرنے سے اجتناب کریں۔ مسکراتے چہرے سے گھر داخل ہوں اور گھر والوں کو سلام کہیں۔ اس سے گھر کا ماحول اچھا رہے گا۔
● بچوں اور بیوی کو دن میں 5 منٹ ضرور دیں۔ انکی مصروفیات اور مسائل جانیں اور انکو حل کریں۔ بیوی کے گھر کے کاموں میں ممکنہ طور پر مدد کرنے کی عادت کو اپنائیں۔
● بیوی، خاوند، بچوں یا احباب کی تھوڑی سی توجہ یا Help پر اپنے دل سے شکریہ ادا کرنے کی عادت کو اپنائیں۔
یاد رکھیں۔۔خالق ہو یا اسکی مخلوق،
شکریہ ہر ایک کو اچھا لگتا ہے! اس سے نعمتوں میں اضافہ اور قلبی سکون ملتا ہے۔
یہ گزارشات و ہدایات معاشرتی اصلاح کی نیت سے شیئر کی جا رہی ہیں۔ خود عمل کرکے دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔۔۔ صدقہ جاریہ ہے!
اللہ ہمیں اپنی اصلاح کرکے اپنے آپ سے تبدیلی کا آغاز کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
29/04/2025
𝗧𝗛𝗘 𝟭𝟭𝟴 𝗘𝗟𝗘𝗠𝗘𝗡𝗧𝗦 𝗢𝗙 𝗧𝗛𝗘 𝗠𝗢𝗗𝗘𝗥𝗡 𝗣𝗘𝗥𝗜𝗢𝗗𝗜𝗖 𝗧𝗔𝗕𝗟𝗘 - 𝘙𝘌𝘗𝘖𝘚𝘛
𝘋𝘪𝘥 𝘺𝘰𝘶 𝘬𝘯𝘰𝘸?
In 1869, Russian chemist Dmitri Mendeleev created the framework that became the modern periodic table, leaving gaps for elements that were yet to be discovered. While arranging the elements according to their atomic weight, if he found that they did not fit into the group he would rearrange them.
In 1913, English physicist Henry Moseley used X-rays to measure the wavelengths of elements and correlated these measurements to their atomic numbers. He then rearranged the elements in the periodic table on the basis of atomic numbers. This helped explain disparities in earlier versions that had used atomic masses.
𝗙𝗔𝗖𝗧𝗦:
• Father of the Modern Periodic Table is Dmitri Mendeleev (published his periodic table in 1869).
• Dmitri Mendeleev laid the foundation of the modern periodic table.
• He organized elements into groups and rows according to their physical and chemical behaviour.
• Mendeleev arranged elements based on their atomic mass and physical properties.
• Mendeleev also predicted some properties of unidentified elements that were expected to fill gaps within the table. Most of his forecasts proved to be correct.
• "The physical and chemical properties of an element are the periodic function of their atomic number" This is known as the modern periodic law proposed by Moseley.
• Moseley arranged the elements in the periodic table based on the atomic number.
• Ernest Rutherford discovered the nucleus of the atom in 1911.
• James Chadwick discovered the neutron in 1932.
Brilliant speech by Bright Hallian
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Abbottabad
2210