Abu Bakar Online Quran Academy

Abu Bakar Online Quran Academy 🌹Abu Bakar Online Quran Academy🌹
💐Learn Online Quran with proper Tajweed & Nimaz Kalimas & Duas.

One to one Online Quran Classes via Skype zoom & Whatsapp For kids & for anyone interested To learn Holly Quran with Correct Tajweed.

27/08/2026

27/08/2026

کامل مومن۔۔

24/08/2026

*اے مسلم نوجواں! امت کی بیٹیاں آپ کو پکار رہی ہیں*

کسی تحقیق کی خاطر، سوشل میڈیا پر کچھ تلاش کر رہا تھا لیکن اس بہن کی سات سال پہلے کی پکار نے مجھے سے وہ تحقیق اور تلاش بھلا دیا جو میں چاہتا تھا۔

نہ جانے یہ بہن بھی اب تک شہادت کی جام پی کر جنت کی مکینہ ہو چکی ہوگی یا اسی بے حس دنیا میں دکھ کی سانسیں لے رہی ہوگی لیکن کیا اس کی بھرے دل کی پکار نے اپنے اسلامی نوجوان اور جوشیلے بھائیوں کے ضمیر کو ذرا سا بھی جھنجوڑ دیا یا نہیں؟

کیا وہ نوجوان کبھی جاگ بھی سکے گا یا نہیں؟

کیا اس نوجوان کا نیند اس بہن کے چیخوں سے حرام ہو چکا ہوگا یا پھر اسے کوئی فرق نہیں پڑتا؟

کیا کبھی اس نوجوان کے کانوں نے قرآن مجید کا یہ آیت سنا ہوگا یا نہیں؟

"وما لكم لا تقاتلون في سبيل الله والمستضعفين من الرجال والنساء والولدان الذين يقولون ربنا اخرجنا من هذه القرية الظالم اهلها واجعل لنا من لدنك وليا واجعل لنا من لدنك نصيرا"

"اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم الله کی راہ میں اور ان مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے؟ جو کہتے ہیں کہ: اے ہمارے رب! ہمیں ظالموں کے اس بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حامی اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار مقرر کر"

کہاں ہے وہ نوجوان؟ جو مسجد میں پانچ وقت اپنے رب کو سر جکا کر کہتا ہے کہ یہ سر آپ نے دیا ہے اور آپ کے لئے ہی قربان ہے۔

کہاں ہے "لا اله الا الله محمد رسول الله" کی پڑھنے والا مومن؟

کیا ہم اس طرح کر اپنے رب کو دھوکا دے سکتے ہیں؟

کیا ہم آخرت کے دن ان جیسے کروڑوں مظلوم بہنوں کو جواب دے سکتے ہیں؟ ہم آخرت کے دن ان کے سامنے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم دنیا میں مسلمان تھے؟ جب ان کے ہاتھوں نے ہمارے گریبانوں کو پکڑے ہوئے ہونگے۔

پیارے نوجواں! منافقت سے اپنے آپ کو نکال کر کے جاگ جاؤ! 🫵

24/08/2026

20/08/2026

18/08/2026
500سال تک دیوار میں چھپا قرآن…یہ اسپین کے صوبہ ملاگا کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوتار (Cútar) کی دلخراش داستان ہے۔ ایک ایسی دا...
17/08/2026

500سال تک دیوار میں چھپا قرآن…
یہ اسپین کے صوبہ ملاگا کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوتار (Cútar) کی دلخراش داستان ہے۔ ایک ایسی داستان جس نے سقوطِ اندلس کی دلخراش یاد تازہ کر دی ہے۔ ساتھ مسلمانوں کی قرآن سے وابستگی اور ایک عجیب تاریخی اتفاق ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
1492ء میں سقوطِ غرناطہ کے بعد اسپین میں مسلمانوں کے لیے حالات بتدریج دشوار ہوتے گئے۔ اسی زمانے میں کوتار کے ایک مسلمان فقیہ اور امام محمد الجیّار رحمہ اللہ کو بھی ایک مشکل فیصلہ درپیش تھا: یا تو اپنا دین چھوڑ دے یا اپنا وطن۔
انہوں نے جلاوطنی کو ترجیح دی۔
مگر رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے اپنی قیمتی کتابیں گھر ہی میں ایک محفوظ جگہ پر چھپا دیں۔ اس امید پر کہ شاید حالات کبھی سازگار ہوں گے اور وہ واپس آکر اپنی کتابیں دوبارہ نکال لیں گے۔
مگر وہ واپس نہ آسکے۔ وقت گزرتا رہا… ایک نسل گئی، دوسری آئی، پھر تیسری، چوتھی… مکان کے مالک بدلتے رہے، مگر دیوار کے اندر چھپی وہ امانت وہیں محفوظ رہی۔
اب اس کی ملکیت ایک عیسائی عورت Magdalena Santiago کے پاس ہے۔ اس نے اس صدیوں قدیم گھر کو جو کبھی ایک مسلمان فقیہ کا تھا، گرا کر نئے سرے سے تعمیر کرنے کا ارادہ کیا۔ جب گھر گرایا گیا تو مزدوروں کو دیوار کے اندر ایک چھپی ہوئی جگہ ملی تو وہاں سے تین قدیم عربی مخطوطات برآمد ہوئے۔ ایک قرآن کریم کا نسخہ اور باقی دو مخطوطے خود محمد الجیّار کی تحریریں تھے، جن میں اس دور کے حالات اور ان کے اپنے فقیہانہ کام سے متعلق معلومات ملتی ہیں۔ ان میں 1492ء میں غرناطہ کے سقوط اور 1494ء کے ملاگا کے زلزلے جیسے واقعات کا بھی ذکر ملتا ہے۔
ان میں قدیم قرآنِ کریم کا یہ قدیم ترین نسخہ بھی تھا۔ ایک مسلمان عالم کی صدیوں پرانی امانت تقریباً 500 سال بعد دوبارہ دنیا کے سامنے آگئی۔ لیکن اس داستان میں ایک حیرت انگیز بات اور بھی ہے۔
یہ قرآن خود صرف 500 سال قدیم نہیں تھا۔ یونیورسٹی آف گریناڈا کی تحقیق کے مطابق اس کا تعلق غالباً نصری سلطنتِ غرناطہ سے تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 12ویں یا 13ویں صدی کا نسخہ ہے، یعنی یہ محمد الجیّار کے زمانے سے بھی کئی صدیوں پہلے لکھا گیا تھا۔ اس طرح دیوار کے اندر چھپایا جانے والا یہ قرآن دراصل تقریباً 800 سال قدیم تاریخی ورثہ تھا۔
غور کیجیے!
ایک قرآن جو صدیوں پہلے کسی مسلمان کاتب کے ہاتھ سے لکھا گیا… پھر نسلوں کے ہاتھوں سے گزرتا ہوا ایک مسلمان عالم کے گھر تک پہنچا… سقوطِ غرناطہ کے بعد اسے اپنے گھر کی دیوار میں چھپا دیا گیا… اور پھر تقریباً 5 صدیوں تک اندلس کی خاموش دیوار اپنے سینے میں اسے محفوظ کیے رہی۔
مکان کے اندر رہنے والے لوگ بدل گئے، زبانیں بدل گئیں، مذہب بدل گیا، زمانے بدل گئے، مگر دیوار کے اندر قرآن اپنی جگہ موجود رہا۔
اب جب وہ دیوار ٹوٹی تو گویا اندلس کی ایک بھولی ہوئی آواز پھر سے سنائی دینے لگی اور مسلمانوں کے زخم پھر تازہ ہوگئے۔
تحقیق کے بعد ان تینوں مخطوطات کو محفوظ اور مرمت کیا گیا اور آج وہ صوبائی تاریخی آرکائیو ملاگا (Archivo Histórico Provincial de Málaga) میں محفوظ ہیں۔
یہ صرف ایک پرانی کتاب کی دریافت نہیں ہے۔ یہ اندلس کی ایک زندہ یاد ہے۔ ایک ایسی یاد جو بتاتی ہے کہ تاریخ کے طوفان بہت کچھ مٹا سکتے ہیں، مگر انسان کے سینے اور کبھی کبھی اس کے بنائے ہوئے گھر کی دیواریں بھی ایسی امانتیں محفوظ رکھ لیتی ہیں جنہیں زمانہ ختم نہیں کرپاتا۔
محمد الجیّار واپس نہ آسکے… مگر ان کا قرآن 500 سال بعد بھی وہیں موجود تھا۔ کیوں کہ قرآن صرف ایک کتاب نہیں۔ یہ نسلوں سے نسلوں تک منتقل ہونے والی ایک امانت ہے
۔

17/08/2026

16/08/2026

Address

Abbottabad
22010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abu Bakar Online Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category