Urdu department ایوانِ اردو

Urdu department ایوانِ اردو

Share

ایوانِ اردو

01/05/2026

فرمانِ خدا

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقیں سے
کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو

حق را بسجودے صنماں را بطوافے
بہتر ہے چراغ حرم و دیر بجھا دو

میں ناخوش و بے زار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

تہذیب نوی کار گہہ شیشہ گراں ہے
آداب جنوں شاعر مشرق کو سکھا دو

علامہ محمد اقبال
1 مئی یومِ مزدور

17/04/2026

اردو ادب کے لازوال شاعر جنہیں شاید کم ہی لوگ جانتے ہیں ڈاکٹر بیدل حیدری اصل نام ( عبد الرحمٰن) تھا، 1924 میں پیدا ہوئے 2004 لاہور میں وفات پائی، آپ نے ہمیشہ تنگ دستی و غربت کو اپنا موضوع بنایا۔
چند اشعار درج ذیل ہیں:

دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا
پیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا

وہ ٹاٹ کی قبا تھی کہ کاغذ کا پیرہن
جیسا بھی مل گیا ہمیں ویسا پہن لیا

فاقوں سے تنگ آئے تو پوشاک بیچ دی
عریاں ہوئے تو شب کا اندھیرا پہن لیا

گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے
سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

بھونچال میں کفن کی ضرورت نہیں پڑی
ہر لاش نے مکان کا ملبہ پہن لیا

بیدلؔ لباس زیست بڑا دیدہ زیب تھا
اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا

-------------------------------------------------------------

ہم کبھی شہر محبت جو بسانے لگ جائیں
کبھی طوفان کبھی زلزلے آنے لگ جائیں

انتظار اس کا نہ اتنا بھی زیادہ کرنا
کیا خبر برف پگھلنے میں زمانے لگ جائیں

آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں تجھے دن میں ہم لوگ
شب کو کاغذ پہ ترا چہرہ بنانے لگ جائیں

ہم بھی کیا اہل قلم ہیں کہ بیاض دل پر
خود ہی اک نام لکھیں خود ہی مٹانے لگ جائیں

عجب انسان ہیں ہم بھی کہ خطوں کو ان کے
خود ہی محفوظ کریں خود ہی جلانے لگ جائیں

وہ ہمیں بھولنا چاہیں تو بھلا دیں پل میں
ہم انہیں بھولنا چاہیں تو زمانے لگ جائیں

ان مکانوں پہ خدا اپنا کرم فرمائے
جن میں خود ان کے مکیں نقب لگانے لگ جائیں

نہیں جلتا تو اترتا نہیں قرض ظلمت
جلنا چاہوں تو مجھے لوگ بجھانے لگ جائیں

گھر میں بیٹھوں تو اندھیرے مجھے نوچیں بیدلؔ
باہر آؤں تو اجالے مجھے کھانے لگ جائیں

Photos from ‎Urdu department ایوانِ اردو ‎'s post 17/04/2026

(اردو ادب کے نو جوان شاعر مصطفیٰ زیدی جوانی میں ہی پر اسرار موت مرے تھے)
مصطفیٰ زیدی کی لا زوال نظم "کوہِ ندا" پیشِ خدمت ہے

اَیہُّاالنّاس چلو کوہ ِ ندا کی جانب
کب تک آشفتہ سری ہو گی نئے ناموں سے
تھک چکے ہو گے خرابات کے ہنگاموں سے
ہر طرف ایک ہی انداز سے دن ڈھلتے ہیں
لوگ ہر شہر میں سائے کی طرح چلتے ہیں
اجنبی خوف کو سینوں میں چُھپائے ہوئے لوگ
اپنے آسیب کے تابوت اُٹھائے ہوئے لوگ
ذات کے کرب میں ، بازار کی رُسوائی میں
تم بھی شامل ہو اس انبوہ کی تنہائی میں
تم بھی ایک بادیہ پَیما ہو خلا کی جانب

خود ہی سوچو کہ ہر اک در سے ملا کیا آخِر
کار آمد ہوئی فریاد کہ ناکام ہُوئی
اپنی گلیوں میں سے کس کس نے ستایا تم کو
دشت ِ غربت میں کہاں صبح ، کہاں شام ہوئی
کس نے سوئے ہوئے اسبابِ فغاں کو چھیڑا
کس نے دُکھتے ہوئے تارِ رگ ِ جاں کو چھیڑا
کس نے سمجھائیں تمہیں عشرت ِ غم کی باتیں
کون لایا تمہیں اندوہ ِ وفا کی جانب

اب کدھر جاؤ گے ، کیا اپنا وطن کیا پردیس
ہر طرف ایک سی سَمتوں کا نشاں مِلتا ہے
اپنی آواز بکھر جاتی ہے آوازوں میں
اپنا پندار ملول و نگراں ملتا ہے
پھونک کر خود کو نظر آتی ہے احساس کی راکھ
وقت کی آنچ پہ لمحوں کا دھواں ملتا ہے
راستے کھوئے چلے جاتے ہیں سناٹوں میں
مشعلیں خودبخود آتی ہیں ہوا کی جانب

کب تک افسانہ و افسوں کی حشیشی راتیں
طلب ِ جنس و تلاش ِ شب ِ امکاں کب تک
ذہن کو کیسے سنبھالے گی بدن کی دیوار
درد کا بوجھ اٹھائے گا شبستاں کب تک
دیر سے نیند کو ترسی ہوئی آنکھوں کے لیے
خواب آور نشۂ عارض و مژگاں کب تک
کتنے دن اور پُکارے گی تمہیں جسم کی پیاس
نغمہ و غمزہ و انداز و ادا کی جانب

رات بھر جاگتے رہتے ہیں دکانوں کے چراغ
دل وہ سنسان جزیرہ کہ بجھا رہتا ہے
لیکن اس بند جزیرے کے ہر اک گوشے میں
ذات کا باب ِ طلسمات کھلا رہتا ہے
اپنی ہی ذات میں پستی کے کھنڈر ملتے ہیں
اپنی ہی ذات میں اک کوہ ِ ندا رہتا ہے
صرف اِس کوہ کے دامن میں میسر ہے نجات
آدمی ورنہ عناصر میں گِھرا رہتا ہے
اور پھر ان سے بھی گھبرا کے اٹھاتا ہے نظر
اپنے مذہب کی طرف اپنے خدا کی جانب
اَیہُّاالنّاس چلو کوہ ِ ندا کی جانب

05/04/2026

ن م راشد کی نظم "حسن کوزہ گر" سے چند سطریں 🥀

05/12/2023
Photos from ‎Urdu department ایوانِ اردو ‎'s post 05/12/2023

بزم فکر اقبال ایبٹ آباد اور شعبہ اردو گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد کے اشتراک سے یوم اقبال کی پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں ڈاکٹر قمر اقبال مرکزی صدر بزم فکر اقبال پاکستان کا خصوصی لیکچر بعنوان "فکر اقبال کی موجودہ دور میں اہمیت و افادیت"تھا۔
اس مجلس کی صدارت صدر نشین شعبہ اردو ڈاکٹر محمد امتیاز تھے اور مہمانِ اعزاز پروفیسر عادل شاہ تھے۔ اس تقریب میں بی ایس اردو کے طلبا اور طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عامر سہیل، ڈاکٹر قمر زمان، سہیل احمد صمیم، قریش زادہ حب محمد کے علاوہ شعبہ اردو کے پروفیسر صاحبان پروفیسر مظہر اقبال، پروفیسر دل نواز، پروفیسر کاشف میر، پروفیسر محسود بھی شریک تھے۔ نظامت کے فرائض اسامہ پرویز نے ادا کیے۔ ڈاکٹر قمر اقبال کی خصوصی گفت گو سے پہلے پروفیسر عادل شاہ نے تحریک پیش کی اور ڈاکٹر قمر اقبال۔کا تعارف بھی کرایا۔ڈاکٹر قمر اقبال نے تفصیل سے اپنے موضوع کو پیش کیا اور طلبہ اور دیگر شرکا نے بہت سراہا۔ سیر حاصل گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ آج کی نسل اقبال کی امیدوں کی محور ہے اور اقبال اسلام کی نشاہ ثانیہ کا فریضہ اسی نسل کو سونپتے ہیں جو شاہین کی صفات اپنے اندر پیدا کرے گی۔ لیکچر کے بعد سوال جواب کا ایشن ہوا ۔ ڈاکٹر عادل سعید قریشی نے شرکا۔کا شکریہ ادا کیا اور بزم فکر اقبال پاکستان کے مرکزی صدر ، پروفیسر عادل شاہ، راشد شاہ کے علاوہ پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد، صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد امتیاز،پروفیسر کاشف میر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ خطبہ صدارت میں ڈاکٹر محمد امتیاز نے ڈاکٹر قمر اقبال کی۔آمد پر خوش آمدید کہا اور ان کی گفتگو کی تعریف کی، طلبہ و طالبات کو فکر اقبال کی روح سے خود کو روشناس کرانے پر اصرار کیا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانان گرامی پرنسپل پروفیسر سعید شاہ کے دفتر میں تشریف لے گئے اور پھر وہاں سے کانفرنس روم۔کہ جہاں پرتکلف چائے کا اہتمام تھا۔ شریک۔مہمانان گرامی کے ساتھ پرنسپل پروفیسر سعید شاہ ایک گروہی تصویر بھی بنائی گئی۔
Qamar Iqbal Sab

Photos from ‎Urdu department ایوانِ اردو ‎'s post 17/11/2023

پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد سعید شاہ صاحب اقبال کے تین بنیادی مقاصد
مذہب
سیاست
اور تعلیمی نظام
پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔

17/11/2023

ڈاکٹر محمد امتیاز صاحب خوبصورت انداز میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے فلسفۂ خودی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے

17/11/2023

صدر نشین شعبۂ اردو ڈاکٹر محمد امتیاز صاحب یومِ اقبال کے موقع پر تقریب سے خطاب کر رہیں ہیں۔

Photos from ‎Urdu department ایوانِ اردو ‎'s post 17/11/2023

یومِ اقبال 9 نومبر

شعبۂ اردو گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد کی ادبی تنظیم "ایوانِ اردو" کی جانب سے اور پروفیسر کاشف میر صاحب کی زیرِ نگرانی
١٤.١١.٢٠٢٣ بروز منگل کو یومِ اقبال کے حوالے سے تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں شعبۂ اردو اور دیگر شعبہ جات کے طلبا نے بھرپور شرکت کی۔ اور اس کے علاوہ
پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد سید سعید شاہ صاحب اور صدر نشین شعبہ اردو گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد ڈاکٹر محمد امتیاز صاحب، پروفیسر کاشف میر صاحب ، پروفیسر مظہر اقبال صاحب ، پروفیسر شکیل صاحب اور وزیٹنگ لکچرار عمر شہزاد صاحب نے بھی شرکت کی۔
اور آخر میں ڈاکٹر محمد امتیاز صاحب نے طلبا کی کارکردگی کو سراہا اور اقبال کی زندگی پر اظہارِ خیال کیا۔
اس کے بعد پرنسپل سید سعید شاہ صاحب نے بھی اقبال کے مقاصد پر بات کی۔

تصویری جھلکیاں

Want your school to be the top-listed School/college in Abbottabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر 1 ایبٹ آباد
Abbottabad