07/02/2024
کل اپنی تقدیر کاسوچ کر فیصلہ کیجئے ‘پھر گلہ نہ کیجئے
کل ہونے والے انتخابات میں 12کروڑ 85لاکھ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ آپ کس کو ووٹ دیں مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ آپ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں۔ آپ اسے ووٹ دیں جس کے بارے میں آپ کا دل گواہی دے کہ اس کے دل میں بھی آپ کا درد ہے۔ خوب غور سے دیکھیں کہ کس نے عوام کو محرومیاں اور تاریکیاں دیں اور کون اس ملک کے عوام کی ہر حال میں خدمت کرتا رہا۔ اسے ووٹ دیں جو اس ملک کے خزانے کو اپنا یا اپنے خاندان کا اثاثہ نہیں بلکہ عوام کی امانت سمجھتا ہے۔
ہمارے ملک کے سیاستدانوں اور فیصلہ سازوں کو اس ملک کے مسائل کا بخوبی اندازہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم ایٹمی قوت ہوتے ہوئے بھی کشکولِ گدائی ہاتھ میں لے کر گلی گلی اور نگر نگر دریوزہ گری کرتے پھرتے ہیں۔یقینا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی بربادی ہے۔مگر یہ بربادی خوش حالی میں صرف اسی وقت بدل سکتی ہے جب ہمارے سارے سٹیک ہولڈرز صدقِ دل سے سیاسی کھیل کے اصول و ضوابط کی پابندی کا فیصلہ کرلیں ۔
یاد رکھئے سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی کا خواب‘ خوابِ پریشاں کے علاوہ کچھ نہیں۔ جب تک اس ملک کی سیاسی و غیر سیاسی مقتدر قوتیں ماضی کی غلطیوں کا ادراک کر کے آئندہ انہیں نہ دہرانے کا فیصلہ نہیں کر لیتیں اس وقت تک ہم اسی طرح گرداب اور بھنور میں گھرے رہیں گے اور آگے بڑھنے کے بجائے اسی دائرے میں چکر کاٹتے رہیں گے۔