پریس ریلیز
فرنٹیئر میڈیکل کالج اور ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج دونوں ایک ہی شہر میں، ایک دوسرے کے پڑوس میں واقع ہیں۔ اس کے باوجود فرنٹیئر میڈیکل کالج میں ہاؤس آفیسرز کو 75,600 روپے جبکہ ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں صرف 65,000 روپے تنخواہ دی جا رہی ہے۔
۔PMDC کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج کے ہاؤس آفیسرز کو بھی دیگر سرکاری و نجی میڈیکل کالجز کی طرح مکمل اور مقررہ تنخواہ دی جانی چاہیے۔ ہاؤس آفیسرز کے یہ مطالبات مکمل طور پر جائز اور قانونی ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) فرنٹیئر میڈیکل کالج، ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج کے ہاؤس آفیسرز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور انتظامیہ کو خبردار کرتی ہے کہ ہاؤس آفیسرز کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرتے ہوئے مکمل تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع اور شدید کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
ترجمان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA)
فرنٹیئر میڈیکل کالج
Private Medical Colleges KPK
One goal education for all!
16/05/2026
ایبٹ آباد۔ روزمرہ مہنگاہی اور ٹیکسوں کی بھرمار سے تنگ آئے ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں نے مانسہرہ روڈ کو بلاک کر دیا۔
ڈاکٹروں نے انتظامیہ کے کاروباری کرتوت بے نقاب کر دیئے۔
کالج اور ہسپتال انتظامیہ کی لوٹ مار کیخلاف مکمل ہڑتال، نعرے بازی اور دھرنا۔
ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی انتظامیہ ڈاکٹروں کی تنخواہوں سے دس ہزار روپے ماہانہ کاٹ لیتی ہے۔روزانہ الگ سے کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔
طلبہ سے مختلف بہانوں کے تحت اضافی فیسیں اور بھاری جرمانے وصول کیے جاتے رہے
چار فیصد ڈسکاؤنٹ جیسے قواعد کو دانستہ طریقے سے نظر انداز کیا گیا۔
داخلہ اور فارم جمع کروانے کے عمل میں طلبہ پر لاکھوں روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہاؤس آفیسرز کو سرکاری میڈیکل کالج (ایوب میڈیکل کالج) کے برابر 75,600 روپے وظیفہ (سٹائپنڈ) ملنا چاہیے۔
تاہم انہیں صرف تقریباً 64,400 روپے دیے جا رہے ہیں، جو کہ PMDC قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ:
انتظامیہ کی جانب سے بغیر نوٹس کے کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔
معمولی امور پر بھی جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔
طلبہ اور ڈاکٹرز کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹروں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ انہیں "کاروبار کا ذریعہ" سمجھتی ہے اور ان کے حقوق کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ:
اگر ان کے مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ:
ہم کوئی غیر قانونی مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف اپنے آئینی اور قانونی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور جب تک انصاف نہیں ملتا، احتجاج جاری رہے گا۔
15/05/2026
Best Opportunity For HOs , TMOs And Fresh Graduates
14/05/2026
✅According To PMDC 50% mdcat marks and 60% fac marks are necessary for admission in Foreign Medical Colleges otherwise no license will be issued after graduation
11/05/2026
A doctor trained to heal hunger, pain, and despair now goes to bed hungry himself.
Years of sleepless nights, endless exams, and sacrifices… reduced to tea and biscuits for survival.
This isn’t just unemployment.
This is the quiet breaking of those who once carried the hope of others.
حکومت کی کچھ دلال اگر یہ پوسٹ دیکھ رہے اور کچھ غیرت باقی ہے تو ڈوب مریں۔
What Should Be The Salary?
HO:-?
TMO:-?
11/05/2026
*یہ اختیار نہیں، طلبہ کی روح پر ظلم ہے*
یہ کتنی تکلیف دہ اور شرمناک بات ہے کہ Naseer Khattak کے خلاف طلبہ کے ساتھ بدتمیزی، دھمکیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات پہلے بھی سامنے آ چکی ہیں۔ یہ معاملہ کوئی سنی سنائی بات نہیں؛ خیبر میڈیکل کالج کے ڈین نے خود اس رویے کی نشاندہی کی، معاملہ جامعہ کی اعلیٰ سطح تک پہنچا، اور وائس چانسلر کی طرف سے بھی اس پر کارروائی کی توثیق کی گئی۔
مگر افسوس! ایسے شخص کو روکنے کے بجائے کوہاٹ میں مزید اختیار دے دیا گیا۔ آج وہی اختیار طلبہ کے خلاف خوف، دباؤ، ذہنی اذیت اور تذلیل کا ہتھیار بن چکا ہے۔ طلبہ کو ڈرانا، ان کی آواز دبانا، ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کا تاثر دینا، اور ادارے کے ماحول کو زہریلا بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
یہ صرف Naseer Khattak کا مسئلہ نہیں؛ یہ اس نظام کا سوال ہے جو ثابت شدہ شکایات کے باوجود ایسے لوگوں کو طاقت دیتا ہے۔ اگر طلبہ اپنے ہی اداروں میں محفوظ نہیں، اگر شکایت کرنے پر انہیں مزید دباؤ اور اذیت کا سامنا کرنا پڑے، تو پھر انصاف کہاں ہے؟
طلبہ کی عزت، ذہنی سکون اور مستقبل کسی بھی شخص کے اختیار سے زیادہ قیمتی ہیں۔ اب خاموشی صرف خاموشی نہیں، ظلم کا ساتھ ہے۔
We, the House Officers of Abbottabad Medical Complex, are facing repeated salary deductions without any prior notice or clear policy.
On 24th April, after the Eid holidays, Rs. 5,000 was deducted along with additional absence cuts, bringing the total deduction to around Rs. 7,100. These leaves were already approved by the concerned department and the Medical Superintendent, yet deductions were still imposed.
Furthermore, deductions are now being made for going outside the hospital for meals, even though the hospital café has been non-functional for months.
We strongly request transparent policies and proper written notifications before any such actions.
If this issue is not resolved fairly, we will be compelled to raise our concerns through official forums, including peaceful protest.
House Officers
Abbottabad Medical Complex
Pakistan Medical & Dental Council
New Salary
HO (Center) :- 75k
HO (Periphery):- 86k
TMO :-105k
Shame on Those Celebrating 15% increase in HOs TMOs Stipend… Ye Be Sirf Proposal Hai Increase Hogi Ya Nahi Koyi Guarantee nahi hai. We want 50% increase 🫂
Click here to claim your Sponsored Listing.