09/10/2016
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
سنابلی کو دعوت مباہلہ شرعی
اپنے آپ کو اھل سنت اور اھل حدیث کہلوانے والے کچھ لوگ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے خطر ناک اور خطر منہ نظریات رکھتے ہیں
* سیدنا حسین باغی تھے
* ان کو قتل کرکے یزید نے امت پر عظیم احسان کیا
* ان کا قتل از روئے حدیث درست ہے نعوذ باللہ
* وہ اقتدار کے طالب تھے
* اگر وہ تین شرائط پیش نہ کرتے تو ان کی حرام موت ہوتی
* سیدنا حسین رضی اللہ عنہ صحابی نہیں
* ان کے فضائل کی روایات جو بخاری و مسلم اور اہل سنت کے مسلمہ اصول حدیث کے مطابق صحیح ہیں وہ عجمی سازش اور منگھڑت ہیں
* ہم یزید کا دفاع اس لیے کرتے ہیں تاکہ صحابہ کرام پر طعن کا دروازہ بند رہے(محض خوشنما جملہ) اور خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی گستاخیاں کرتے نہیں تھکتے
* یزید حدیث قسطنطنیہ کا مصداق ہے اصحاب بدر کی طرح وہ پکا جنتی ہے
* برصغیر پاک و ہند میں منکرین حدیث کفار یزید کے سب سے بڑے حامی ہیں حمایت کی وجہ کہ محدثین اس کے خلاف ہیں منکرین حدیث کفار نے محدثین کی دشمنی میں یزید کو ہیرو بنا کر پیش کیا
اسی سلسلے کی کڑی کفایت اللہ سنابلی کی کتاب ہے جو کہ جھوٹوں اور ہفوات کا مجموعہ ہے اور کفایت اللہ کا موقف ٹھیٹھ کفار منکرین حدیث والا ہے وہ اپنی کتاب پر میرے ساتھ مباہلہ شرعی یاں مناظرہ کر لے
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين