محمد اعجاز احمد بركاتى Aejaz ahmad barkati

  • Home
  • Nepal
  • Koshi
  • محمد اعجاز احمد بركاتى Aejaz ahmad barkati

محمد اعجاز احمد بركاتى Aejaz ahmad barkati وادی یہ کس کی کوہ ہمالہ یہ کس کا ہے
ہر سمت کا سہانا علاق?

06/02/2024

Dhirendra Krishna Shastri, also known as Bageshwar Dham Baba, has recently been embroiled in a controversy.All this started when an anti-superstition organis...

03/02/2024

پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا، جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا، تاکہ تمام طلبا اسےدیکھ لیں۔

‘‘سر کیا آپ وہی فلسفیانہ سوال تونہیں پوچھنا چاہ رہے کہ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ہے’’ ایک طالب علم نے جملہ کستے ہوئے کہا۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھا اور کہا ‘‘نہیں! آج میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا….؟’’

‘‘پچاس گرام’’، ‘‘سو گرام’’، ‘‘ایک سو پچیس گرام’’۔سب اپنے اپنے انداز سے جواب دینے لگے۔

‘‘میں خود صحیح وزن بتا نہیں سکتا، جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کرلوں!….’’ پروفیسر نے کہا۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ‘‘ کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لیے اسی طرح اٹھائے رہوں….؟’’

‘‘کچھ نہیں ہوگا!’’ طالب علموں نے جواب دیا۔

‘‘ٹھیک ہے، اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یوں ہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’ پروفیسر نے پوچھا۔

‘‘آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا۔’’ طلباء میں سے ایک نے جواب دیا۔

‘‘تم نے بالکل ٹھیک کہا۔’’ پروفیسر نے تائیدی لہجے میں کہا۔‘‘اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’

‘‘آپ کا باوزو شل ہوسکتا ہے۔’’ ایک طالب علم نے کہا۔‘‘آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے’’ ایک اور طالب علم بولا، ‘‘آپ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔ آپ کو اسپتال لازمی جانا پڑے گا!’’ ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری گلاس قہقہے لگانے لگی۔

‘‘بہت اچھا!’’ پروفیسر نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر پوچھا ‘‘لیکن اس دوران کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا….؟’’

‘‘نہیں۔’’ طالب علموں نے جواب دیا۔

‘‘تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا….؟’’پروفیسر نے پوچھا۔طالب علم چکرائے گئے۔

‘‘ گلاس کا بہت دیر تک اُٹھائے رکھنا ، بہتر ہوگا کہ اب گلاس نیچے رکھ دیں!’’ ایک طالب علم نے کہا۔

‘‘بالکل صحیح!….’’ استاد نے کہا۔

‘‘ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک لگتے ہیں۔انہیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ آپ کے لیے سر کا درد بن جائیں گے۔ انہیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کردیں گے۔ آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

دیکھیے….!اپنی زندگی کے چیلنجز (مسائل) کے بارے میں سوچنا یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔لیکن…. اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر دن کے اختتام پر سونے سے پہلے ان مسائل کو ذہن سے اُتاردیا جائے۔ اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے۔ اگلی صبح آپ تروتازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہوں گے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو، کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے۔ لہٰذا گلاس کو یعنی مسائل پر غیر ضروری سوچ بچار کو نیچے رکھنا یاد رکھیں۔

02/02/2024

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: دل نے اسے جھوٹ نہ کہا جو (آنکھ نے) دیکھا۔
{ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى: دل نے اس کوجھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔} یعنی سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قلب مبارک نے اس کی تصدیق کی جو چشمِ مبارک نے دیکھا ۔مراد یہ ہے کہ آنکھ سے دیکھا ،دِل سے پہچانا اور اس دیکھنے اور پہچاننے میں شک اور تَرَدُّد نے راہ نہ پائی۔
حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا:
اب رہی یہ بات کہ کیا دیکھا، اس بارے میں بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھا، لیکن صحیح مذہب یہ ہے کہ سَرْوَرِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھا۔ اور یہ دیکھنا کیا سر کی آنکھوں سے تھا یا دل کی آنکھوں سے، اس بارے میں مفسرین کے دونوں قول پائے جاتے ہیں ایک یہ کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے رب عَزَّوَجَلَّ کو اپنے قلب مبارک سے دیکھا۔
اورمفسرین کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے رب عَزَّوَجَلَّ کو حقیقتاً چشمِ مبارک سے دیکھا ۔
یہ قول حضرت انس بن مالک،حضرت حسن اور حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خُلَّت اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کلام اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنے دیدار سے اِمتیاز بخشا۔ حضرت کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دوبار کلام فرمایا اورسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اللہ تعالیٰ کو دو مرتبہ دیکھا (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ والنجم، ۵/۱۸۴، الحدیث: ۳۲۸۹) لیکن حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ

وَسَلَّمَ کے دیدارِ الٰہی کا انکار کیا اوراس آیت کو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے دیدار پر محمول کیا اور فرمایا کہ جو کوئی کہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا اور اس بات کی دلیل کے طور پر یہ آیت ’’ لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ‘‘ تلاوت فرمائی ۔
اس مسئلے کوسمجھنے کے لئے یہاں چند باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا قول نفی میں ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا اِثبات میں اور جب نفی اور اثبات میں ٹکراؤ ہو تو مُثْبَت ہی مُقَدّم ہوتا ہے کیونکہ نفی کرنے والا کسی چیز کی نفی اس لئے کرتا ہے کہ اُس نے نہیں سنا اور کسی چیز کو ثابت کرنے والا اِثبات اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا اور جانا تو علم ثابت کرنے والے کے پاس ہے۔اور ا س کے ساتھ یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے یہ کلام حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے نقل نہیں کیا بلکہ آیت سے جو آپ نے مسئلہ اَخذ کیا اس پر اعتماد فرمایا اوریہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کی اپنی رائے ہے جبکہ درحقیقت آیت میں اِدراک یعنی اِحاطہ کی نفی ہے دیکھ سکنے کی نفی نہیں ہے ۔
صحیح مسئلہ یہ ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دیدارِ الٰہی سے مُشَرَّف فرمائے گئے، مسلم شریف کی حدیث ِمرفوع سے بھی یہی ثابت ہے ،حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا جو کہ حِبْرُ الْاُمَّت ہیں وہ بھی اسی پر ہیں ۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ قسم کھاتے تھے کہ محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شبِ معراج اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا ۔ امام احمد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے تھے کہ حضو رِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا اُس کو دیکھا اُس کو دیکھا۔امام صاحب یہ فرماتے ہی رہے یہاں تک کہ سانس ختم ہوگیا (پھر آپ نے دوسرا سانس لیا)۔(خازن، النجم، تحت الآیۃ: ۱۱، ۱۸، ۴/۱۹۲، ۱۹۴، روح البیان، النجم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۹/۲۲۲، ۲۲۳، ملتقطاً)

02/02/2024

(بخاری، 2/584، حدیث:3887، مسلم،ص87، حدیث:411)
اس حوالے کی حدیث میں کیا مذکور ہے؟

02/02/2024

شب معراج
جنتی وجہنمی اَرواح
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ آدم علیہ السّلام کے دائیں بائیں کچھ لوگوں کو ملاحظہ فرمایا، جب آپ اپنی دائیں جانب دیکھتے تو ہنس پڑتے ہیں اور جب بائیں جانب دیکھتے تو رو پڑتے ہیں۔ حضرت جبریل نے عرض کیا: ان کے دائیں اور بائیں جانب جو صورتیں ہیں یہ ان کی اولاد ہیں، دائیں جانب والے جنتی ہیں اور بائیں جانِب والے جہنمی ہیں۔ (بخاری، 1/140، حديث:349)

https://www.facebook.com/share/G7EZYEQyoP1wuKeV/?mibextid=K8Wfd2
26/01/2024

https://www.facebook.com/share/G7EZYEQyoP1wuKeV/?mibextid=K8Wfd2


विद्यालयको समग्र शैक्षिक तथ्यांक व्यवस्थित गर्ने कार्यको लागि हाल प्रयोग हुदै आएको IEMIS को सम्बन्धमा शिक्षा तथा मानव स्रोत विकास केन्द्रले नयाँ व्यवस्था गरेको छ ।
१. हाल प्रयोग हुदै आएको offline excel emis web page को सट्टा अब online web page प्रयोग गर्नुपर्नेछ ।
२. अब iemis इन्ट्रिकोलागि नयाँ web address: emis.cehrd.gov.np login गर्नुपर्नेछ ।
३. पहिलोपटक user name मा आफ्नो विद्यालयको ९ अंकको विद्यालय कोड र password मा Nepal@123 राख्नु पर्नेछ ।
४. login भएपश्चात पुन:Nepal@123 लाई पुरानो password मानेर नयाँ password राख्नु पर्नेछ ।
५. password पटकपटक गल्ती हानेको खण्डमा web page lock हुनेछ, तसर्थ password सुरक्षित राख्नुपर्नेछ ।
६. यो व्यवस्था लागू भएपछि अब विद्यालयहरुले offline मा तथ्यांक इन्ट्रिगरि online मा upload गर्न मिल्नेछैन, सवै कार्य अनलाइनमा गर्नुपर्ने छ ।

26/01/2024

کیا خیال ہے آپ کا؟؟

26/01/2024

صحيح مسلم» (8/ 141 ط التركية):
81 - (2820) رقم الحديث
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: « كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلَاهُ. قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا .»
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں :رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنماز میں اس قدر قیام فرماتے کہ آپ کے مبارک پاؤں سوج جاتے ۔ (ایک دن) حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ ایسا کر رہے ہیں حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دئیے ہیں!حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’اے عائشہ!(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا)،’’اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا‘‘کیا میں (اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں.

1444ھ4 ،14
12/08/2022

1444ھ4 ،14

11/05/2021

Address

Harinagra Sunsari Koshi
Koshi

Telephone

9810432786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when محمد اعجاز احمد بركاتى Aejaz ahmad barkati posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to محمد اعجاز احمد بركاتى Aejaz ahmad barkati:

Shortcuts

Share