433
طلباء دارالقرآن چھپکی
اس پیج کو لائک کریں
assalamo alaikum
اردو ویکیپیڈیا:
*دخیل الفاظ بمقابلہ جناتی زبان*
انتخاب محمد اقبال ندوی
اصل چیز زبان کا مزاج ہے۔ جو لفظ زبان کے مزاج کے مطابق ہے خواہ وہ ہندی کا ہو، عربی یا فارسی کا ہو یا انگریزی کا وہ بالکل مناسب ہے اور ادبا اپنی تحریروں میں ایسے الفاظ نگینے کی طرح جڑتے آئے ہیں۔ ان الفاظ سے زبان کو پاک کرنے کی کوشش کرنا وقت اور صلاحیتوں کا ضیاع ہے۔ البتہ جو الفاظ زبان کے مزاج کے خلاف ہے، جیسے عربی فارسی دانوں کی تحریروں یا انگریزی تعلیم یافتہ افراد کی گفتگو میں مستعمل جناتی زبان اس کی شدت سے مخالفت ہونی چاہیے۔
اس *جناتی زبان* کی دو مثالیں پیش خدمت ہیں:
*پہلی مثال*
"۔۔۔واضح ہو کہ باتفاق صوفیاء کرام کشوف کونیہ و خوارق عادات در عالم خلق مقاصد تصوف سے نہيں ہیں نہ اس پر مدار افضلیت و مدار اقربیت الی اللہ ہے۔ بعض حضرات کو کشوف کونیہ مخلوقات یا کشف حقائق عالم امر پیش نہیں آتا حرف مقدمات یقین و مراتب تنزیہ کی راہ سے وصول الی اللہ ہوتا ہے جیسا کہ صحابہ کرام و تابعین کے زمانہ میں اکثر یہی طریقہ وصول تھا۔ استقامت فی الدین و کشف شرائع اس کے آثار ہیں الاستقامۃ فوق الکرامۃ ظہور حقائق و مقامات قرب بعض حضرات کو کشفی ہوتا ہے بعض کو احسانی یا وجدانی ہوتا ہے جن کو ظہور کشفی ہوتا ہے ان کا مآل کار مقامات محصلہ سابقہ میں وجدان پر ہوجاتا ہے۔ جن حضرات نے اسی راہ سلوک و مقامات قرب کو اول سے بطریق احسان یا وجدان طے فرمایا ہے بحکم "کہ برند از راہ پنہاں بحرم قافلہ را" ان کے کمالات کا پورا حال سوائے حق تعالی کے اور کوئی نہیں جانتا، الا من شاء اللہ۔ خصوصاً ان حضرات میں سے جن کو فناء اتم و بقاء اکمل ہو کر مرتبہ صحو میں تجلی ذاتی دائمی مقام ہوگیا ہے اور مصداق انا کا ان کی نظر بصیرت سے اٹھ گیا ہے۔ یہ حضرات بحکم "الیہ یرجع الامر کلہ" کل کمالات کو راجع طرف ذات ذی کمال وحدہ لا شریک لہ کی دیکھتے ہیں بوجہ غلبہ تجلی ذاتی دائمی کے اپنے میں کوئی کمال نہیں پاتے بلکہ اسی مرتبہ ذی کمال ذو العظمۃ و الجلال کے مقابلے میں جس قدر کوتاہی اپنے میں دیکھتے ہیں اسی قدر مجمع نقائص اپنے وجود بشری کو جانتے ہیں، الخ"
(مکاتیب رشیدیہ)
*دوسری مثال*
"پہلا نوجوان: ہیلو مسٹر جعفری ہاؤ ڈو یو ڈو میں فرائی ڈے اور سیٹرڈے آپ کے سیکشن میں گیا تھا۔ دونوں دن آپ کی چیئر خالی دیکھی کیا کہیں گئے ہوئے تھے؟
نو وارد: آئی ایم کوائٹ ویل مسٹر رانا۔ بٹ تھرس ڈے جب میں فیملی کے ساتھ بریک فسٹ لے رہا تھا ۔۔۔۔ سے فون آگیا۔ میرے بردر ان لا نے بتایا کہ اس کے ڈیڈی ہاسپیٹل میں ایکسپائر ہو گئے ہيں۔ میں نے اسی وقت تین دن کی سی ایل کے لیے ایپلیکیشن لکھ کر مسٹر نواز کو دی جو میرے سیکشن میں ہے اور میری ہی سٹریٹ میں رہتا ہے۔ وائف نے چیزیں سمیٹیں بچوں کو تیار کیا اور اسی وقت بائی بس ۔۔۔۔ کے لیے روانہ ہو گئے۔ موٹروے سے گئے تھے اس لیے ہم لاسٹ پریر سے ایک گھنٹہ پہلے پہنچ گئے۔
پہلا نوجوان: ویری سیڈ کیا ایج تھی آپ کے فادر ان لا کی؟ سروس میں تھے یا ریٹائر ہو چکے تھے؟ ڈیزیز کیا ہوئی تھی؟
نو وارد: ہی واز بٹوین ففٹی ففٹی فائیو۔ ہوم ڈپارٹمنٹ میں سیکشن آفیسر تھے۔ سکس منتھ بیک ان کو ہارٹ انلارجمنٹ کی ٹربل ہو گئی تھی۔ سپیشلسٹ سے ٹریٹمنٹ کراتے رہے۔ پھر ۔۔۔۔۔ میں ایڈمٹ ہو گئے۔ جہاں تھرس دے مارننگ ایکسپائر ہو گئے۔ یار رانا لائف تو پیورلی گاڈ کے ہاتھ میں ہے۔ جب اس کی ول وش ہوتی ہے دیتھ ہو جاتی ہے۔ مین از نتھنگ۔
پہلا نوجوان: یس یو آر رائٹ مسٹر جعفری۔۔۔۔۔"
ہمارے علاقے میں کچھ لوگ قادری القاب کے ساتھ گھسے ہین بدعتیوں کی طرح نماز وآذان دیتے ہیں مگر انہوں نے کافی جائداد اکٹھی کرلی ہے علاقے کے بڑے بڑے افسران سے انکے اچھے روابط ہیں ہمارے سلام کا جواب نہیں دیتے ہیں بس صرف مصافحہ کرنے ہاتھ بڑھاو تو مصافحہ منھ سکڑ کر کرتے ہین برائے کرم قادیانیوں کے اوصاف اور انکے خواص علامت بتائین تاکہ ان سے مناظرہ کیا جائے آبادی سے الگ لوگوں سے اختلاط بھی بالکل نہین ہے بیس پچیس ہزار نیپالی انکے ماہواری تنخواہ ہے مکمل مراعات کے ساتھ انکے خدام بھی سارے مراعات سے محظوظ ہوتے ہین حتی کہ انکے بچیوں کی شادی بھی کروادیا ...سب سے بڑی بات یہ ہیکہ جب تک مین نے آرام سے ڈیڑھ رکعت پڑھی تب تک انہوں نے چار رکعت نماز بیٹھ کر پڑھ لیا ..چند بچے وہ اپنے علاقے ہی سے لائے ہین جنکی تعداد پانچ ہے دو اسٹاف ہے تقریبا پانچ کیلومیٹر مربع مہنگی زمین پرقابض ہیں اس علاقے مین مسلمان ہر اعتبار سے کمزور ہین
ﮧ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺱ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻓﺮﻕ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ؟ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻗﺮﯾﻨﮧ ﻋﺰﺕ ﮨﮯ۔
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﻭﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺎ ﺧﺎﮎ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ؟
مرد ہمیشہ عورت سے قربانی کا طلبگار رہا ہے اور اکثر و بیشتر مشاہدہ سے بات سامنے آئی ہے کہ لڑکیوں کو نام نہاد محبت کے جھانسے میں پھنسا کر اور جھوٹی تسلیاں دے کر مرد ان سے اپنی ہر بات منوا لیتے ہیں اور اکثر لڑکیاں ان کی جھوٹی محبت میں آکر غلط قدم اٹھا لیتی ہیں..اور اپنا وقار و عزت کھو بیٹھتی ہیں.
ﯾﮧﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﺎﮨﺮﺍﺅﮞ ، ﭘﺎﺭﮐﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﭨﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﺮﺩﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ۔
کاش اس بات کو سمجھ سکیں کہ محبت کا جواب محبت نہیں عزت ہوا کرتی ہے
جو اپنی "گرل فرینڈ "سے شادی نہیں کرتے وہ کسی اور کی "گرل فرینڈ" کو بیاہ لاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فقرہ آپ نے کئی بار فیس بک پر پڑھا ہوگا۔ کچھ نے اسے بطور مزاح لیا اور کچھ نے اسے حقیقت سمجھ کر قبول کرلیا۔ میں نے اس فقرے کے بعد اکثر کمنٹس یہی دیکھے ہیں کہ سو فیصد متفق ہوں وغیرہ وغیرہ۔
مزاح کا رنگ لیے ہوئے اس فقرے کے پیچھے جو گھناؤنی سوچ چھپی ہوئی ہے اس کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ اس فقرے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ تمام لڑکیوں کا کردار مشکوک ہے۔ وہ شادی سے پہلے کسی نہ کسی لڑکے سے دوستی ضرور رکھتی ہیں۔ ان کا کسی نہ کسی سے ضرور چکر ہوتا ہے لیکن بعض کسی اور سے شادی کرکے دھوکہ دیتی ہیں۔ یعنی جو لڑکی محبت کی شادی کرے وہ تو درست ہے کیونکہ اس نے جس سے دوستی کی اسی سے ہی شادی کرلی لیکن جو لڑکی گھر والوں کی مرضی سے شادی کرے وہ لڑکی غلط ہے کیونکہ اس نے دوستی کسی اور سے کی اور شادی کسی اور سے کرلی۔
یہ فقرہ لکھنے اور اسے صحیح سمجھنے والوں کی نظر میں ان لاکھوں لڑکیوں کا کردار داغدار ہے جو ساری عمر اپنی اور اپنے گھر والوں کی عزت کا خیال کرتے ہوئے کسی نامحرم کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی۔ یہ ان پاکباز لڑکیوں پر ایک بہتان ہے جو اپنی عزت کو اپنی جان سے زیادہ قیمتی سمجھتی ہیں۔
ایسی باتیں شاید وہی لوگ کرتے ہیں جن کے گھروں میں بہن یا بیٹی کے "بوائے فرینڈ" کے آنے کو برا نہ سمجھا جاتا ہو۔ جس گھرانے کی لڑکیاں اپنے مرد دوستوں کا اپنے والدین کو فخر سے تعارف کرواتی ہوں۔ ایسے لوگوں کو میں ایک ہی بات کہنا چاہتی ہوں کہ آپ جس "سوسائٹی" میں رہتے ہیں اس کے بارے میں تو شاید آپ کی یہ سوچ درست ہو لیکن الحمدللہ مسلم معاشرے میں بہت سی لڑکیاں ہیں جو اپنے جذبوں کو، اپنی محبت کو اپنے ہونے والے شوہر کے لیے سنبھال کررکھتی ہیں اور اس میں خیانت نہیں کرتیں۔ ویسے ایک مشورہ ہے آپ کے لیے۔ آپ اپنی جس "گرل فرینڈ" سے شادی کرکے خوش ہورہے ہیں کبھی تحقیق تو کریں کہ وہ آپ سے پہلے کتنوں کی "گرل فرینڈ" رہی ہے۔
"بے پردگی دین کی کھلی بغاوت ہے"
بے پردگی اعلانیہ گناہ ہے ۔ یعنی کھلی بغاوت ہے۔ رسول صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ”میری پوری امت معافی کے لائق ہے مگر اعلانیہ گناہ کرنے والے معافی کے لائق نہیں۔“
“دیوث جنت میں داخل نہیں ہو گا”
حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہوں گے۔
دیوث
مردوں کی طرح شکل بنانے والی عورتیں
ہمیشہ شراب پینے والا
صحابہ رضوان الله علیہم اجمعین نے عرض کیا ”دیوث کون ہے ؟“
فرمایا : وہ شخص جس کو اس کی پروا نہیں کہ اس کے گھر کی عورتوں کے پاس کون شخص آتا ہے اور کون جاتا ہے ۔ ( رواہ الطبرانی فی الکبیر مطولا)
ایک موقع پر حضرت سعد بن عبادہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنی بیوی کو کسی غیر مرد ( نامحرم) کے ساتھ دیکھوں تو اس کو اپنی تلوار سے قتل کردوں گا۔
آخر میں'میری تمام نوجوانوں سے گزارش ہے کہ کسی لڑکی کو اپنے جھوٹے پیار میں پھنسانے'اُسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے' بلیک میل کرنے یا اُس کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ کل کوآپ کی بہن'بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔اس بارے میں ہر ایک کو ضرور سوچنا چاہئے
محمد اقبال ندوى
+9779817776797
واٹسپ
لفظ غيرمقلد
غیرمقلدین کے قرآن کی گرامر الفاظ
پر تحقیق کے بعد
28/02/2016
11/02/2016
Ham sabko Aamal karnake tofek aata farmaya aamen.
Bjp tum jitna ek dusre ki dharam kibeijzati karte ho n musalmano ko dekhlena 2019//ki loksabha Election me kiya hindustan tumhara hi adhikar hai hindusta me sab zatibhas bhashi ko bolne ki adhikar hai parzatattar me kish ke uper pawandi nhi hai Raha khan pan ki bat tum log sarb pite ho musalmano ko koitaklif nahi hai islsme g*i khana halal hai Aur sarab pina haram hai lekin log pita hai aur khata bhi kisi ko taklif nhi lekin bjp ko kiyo hai zelas musalmano se khara hokar pisab pirte ho pure badan napak Rahte ho islam me p**i achha hai sahal kar bat karo ezatse Achha man sama hogaa
17/10/2015
Salam f
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Kathmandu
SAPTARI