02/06/2017
اردو ویکیپیڈیا:
*دخیل الفاظ بمقابلہ جناتی زبان*
انتخاب محمد اقبال ندوی
اصل چیز زبان کا مزاج ہے۔ جو لفظ زبان کے مزاج کے مطابق ہے خواہ وہ ہندی کا ہو، عربی یا فارسی کا ہو یا انگریزی کا وہ بالکل مناسب ہے اور ادبا اپنی تحریروں میں ایسے الفاظ نگینے کی طرح جڑتے آئے ہیں۔ ان الفاظ سے زبان کو پاک کرنے کی کوشش کرنا وقت اور صلاحیتوں کا ضیاع ہے۔ البتہ جو الفاظ زبان کے مزاج کے خلاف ہے، جیسے عربی فارسی دانوں کی تحریروں یا انگریزی تعلیم یافتہ افراد کی گفتگو میں مستعمل جناتی زبان اس کی شدت سے مخالفت ہونی چاہیے۔
اس *جناتی زبان* کی دو مثالیں پیش خدمت ہیں:
*پہلی مثال*
"۔۔۔واضح ہو کہ باتفاق صوفیاء کرام کشوف کونیہ و خوارق عادات در عالم خلق مقاصد تصوف سے نہيں ہیں نہ اس پر مدار افضلیت و مدار اقربیت الی اللہ ہے۔ بعض حضرات کو کشوف کونیہ مخلوقات یا کشف حقائق عالم امر پیش نہیں آتا حرف مقدمات یقین و مراتب تنزیہ کی راہ سے وصول الی اللہ ہوتا ہے جیسا کہ صحابہ کرام و تابعین کے زمانہ میں اکثر یہی طریقہ وصول تھا۔ استقامت فی الدین و کشف شرائع اس کے آثار ہیں الاستقامۃ فوق الکرامۃ ظہور حقائق و مقامات قرب بعض حضرات کو کشفی ہوتا ہے بعض کو احسانی یا وجدانی ہوتا ہے جن کو ظہور کشفی ہوتا ہے ان کا مآل کار مقامات محصلہ سابقہ میں وجدان پر ہوجاتا ہے۔ جن حضرات نے اسی راہ سلوک و مقامات قرب کو اول سے بطریق احسان یا وجدان طے فرمایا ہے بحکم "کہ برند از راہ پنہاں بحرم قافلہ را" ان کے کمالات کا پورا حال سوائے حق تعالی کے اور کوئی نہیں جانتا، الا من شاء اللہ۔ خصوصاً ان حضرات میں سے جن کو فناء اتم و بقاء اکمل ہو کر مرتبہ صحو میں تجلی ذاتی دائمی مقام ہوگیا ہے اور مصداق انا کا ان کی نظر بصیرت سے اٹھ گیا ہے۔ یہ حضرات بحکم "الیہ یرجع الامر کلہ" کل کمالات کو راجع طرف ذات ذی کمال وحدہ لا شریک لہ کی دیکھتے ہیں بوجہ غلبہ تجلی ذاتی دائمی کے اپنے میں کوئی کمال نہیں پاتے بلکہ اسی مرتبہ ذی کمال ذو العظمۃ و الجلال کے مقابلے میں جس قدر کوتاہی اپنے میں دیکھتے ہیں اسی قدر مجمع نقائص اپنے وجود بشری کو جانتے ہیں، الخ"
(مکاتیب رشیدیہ)
*دوسری مثال*
"پہلا نوجوان: ہیلو مسٹر جعفری ہاؤ ڈو یو ڈو میں فرائی ڈے اور سیٹرڈے آپ کے سیکشن میں گیا تھا۔ دونوں دن آپ کی چیئر خالی دیکھی کیا کہیں گئے ہوئے تھے؟
نو وارد: آئی ایم کوائٹ ویل مسٹر رانا۔ بٹ تھرس ڈے جب میں فیملی کے ساتھ بریک فسٹ لے رہا تھا ۔۔۔۔ سے فون آگیا۔ میرے بردر ان لا نے بتایا کہ اس کے ڈیڈی ہاسپیٹل میں ایکسپائر ہو گئے ہيں۔ میں نے اسی وقت تین دن کی سی ایل کے لیے ایپلیکیشن لکھ کر مسٹر نواز کو دی جو میرے سیکشن میں ہے اور میری ہی سٹریٹ میں رہتا ہے۔ وائف نے چیزیں سمیٹیں بچوں کو تیار کیا اور اسی وقت بائی بس ۔۔۔۔ کے لیے روانہ ہو گئے۔ موٹروے سے گئے تھے اس لیے ہم لاسٹ پریر سے ایک گھنٹہ پہلے پہنچ گئے۔
پہلا نوجوان: ویری سیڈ کیا ایج تھی آپ کے فادر ان لا کی؟ سروس میں تھے یا ریٹائر ہو چکے تھے؟ ڈیزیز کیا ہوئی تھی؟
نو وارد: ہی واز بٹوین ففٹی ففٹی فائیو۔ ہوم ڈپارٹمنٹ میں سیکشن آفیسر تھے۔ سکس منتھ بیک ان کو ہارٹ انلارجمنٹ کی ٹربل ہو گئی تھی۔ سپیشلسٹ سے ٹریٹمنٹ کراتے رہے۔ پھر ۔۔۔۔۔ میں ایڈمٹ ہو گئے۔ جہاں تھرس دے مارننگ ایکسپائر ہو گئے۔ یار رانا لائف تو پیورلی گاڈ کے ہاتھ میں ہے۔ جب اس کی ول وش ہوتی ہے دیتھ ہو جاتی ہے۔ مین از نتھنگ۔
پہلا نوجوان: یس یو آر رائٹ مسٹر جعفری۔۔۔۔۔"