Allama Iqbal School and Girls College

Allama Iqbal School and Girls College Información de contacto, mapa y direcciones, formulario de contacto, horario de apertura, servicios, puntuaciones, fotos, videos y anuncios de Allama Iqbal School and Girls College, Escuela, HMC Road Near Over Head Bridge Taxila, Taxila.

Allama Iqbal Public High School provide quality of teaching to its students through a network of experienced and talented staff,latest teaching techniques,Audio video teaching aids and multimedia projector facilities.

17/09/2026

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس ایک بابرکت اور روحانی محفل ہے، جس میں نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
ایسی محافل ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اپنی زندگی سنوارنے کا پیغام دیتی
ہیں۔
یہ خوبصورت تقریب محبتِ رسول ﷺ اور اسلامی تعلیمات سے وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔


17/09/2026

لفظوں کا سفر ، جدوجہد ۔۔۔ اور دوستی لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں خود نوشت یا سو...
16/09/2026

لفظوں کا سفر ، جدوجہد ۔۔۔ اور دوستی

لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو

مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

خود نوشت یا سوانح عمری محض کسی
فرد کی زندگی کا احوال نہیں ہوتی ، بلکہ اپنے اندر ایک پورے عہد کی دھڑکن سموئے ہوتی ہے ۔ کچھ لوگ زندگی بسر کرتے ہیں ، اور خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ، مگر کچھ لوگ اپنی جدوجہد ، مشاہدات ، شکست و ریخت ، خوابوں اور تجربات کو لفظوں میں ڈھال کر انے والی نسلوں کے لیے چراغ جلا جاتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کی عظیم خود نوشتیں محض کتابیں نہیں رہتی ، بلکہ وقت کا ائینہ بن جاتی ہیں ۔ ان میں قاری اپنے ماضی کی خوشبو ، اور معاشرے کا عکس ، اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق تلاش کرتا ہے ۔ ایک سچی خود نوشت دراصل انسان کے باطن کی وہ اواز ہوتی ہے جس میں بناوٹ کم اور زندگی زیادہ ہوتی ہے ۔

اپنا زمانہ اپ بناتے ہیں اہل دل

ہم وہ نہیں جن کو زمانہ بنا گیا

چھ مئی 2026 کی سہ پہر اکادمی ادبیات پاکستان اسلام اباد میں ایک ایسا دلاویز منظر دیکھنے کو ملا ، جس نے ذہن و دل پر گہرا نقش چھوڑا ۔ جناب منظور حسین حسرت کی کتاب "صفر کا سفر" کی تقریب پذیرائی گویا لفظوں ، یادوں ، محبتوں اور زندگی کی سچی کہانیوں کا جشن تھی۔

ہال اس قدر بھرا ہوا تھا ، کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر شخص اپنے حصے کی کوئی یاد ، کوئی جذبہ ، کوئی خواب لیے وہاں موجود ہو ۔ اہل قلم ، دوست ، احباب اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ایسے شخص کو خراج تحسین پیش کرنے جمع ہوئے تھے ، جس نے اپنی زندگی کے طویل سفر کو محض یادوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے لفظوں کا پیراہن پہنا کر دوسروں کے لیے بھی قابل مطالعہ بنا دیا۔

یہ محفل رسمی تقاریر کا مجموعہ نہیں تھی ، بلکہ احساسات کی ایک روشن کہکشاں تھی ۔ ہر مقرر نے اپنے انداز میں منظور حسین حسرت کی شخصیت اور تحریر میں موجود سچائی ، درد ، محنت ، دیانت اور انسان دوستی کو خراج تحسین پیش کیا ۔

ان کی خود نوشت کا سب سے نمایاں پہلو میرے نزدیک یہی ہے ، کہ اس میں زندگی کو بناوٹ کے بغیر بیان کیا گیا ہے ۔ کہیں غیر ضروری مبالغہ نہیں ، کہیں اپنی ذات کو غیر معمولی ثابت کرنے کی کوشش نہیں ، بلکہ ایک ایسے شخص کی سچی کہانی ہے ، جس نے زندگی کے نشیب و فراز کو قریب سے دیکھا ، زمانے کے تھپیڑے برداشت کیے ، اور اپنی محنت ، دیانت اور استقامت سے اپنے لیے راستے بنائے ۔

دل یہ کہتا ہے یہی دستور ہونا چاہیے

سچ کے ہاتھوں جھوٹ کو مجبور ہونا
چاہیے

واقعی کچھ لوگ کتابیں نہیں لکھتے ، اپنی زندگی رقم کرتے ہیں ۔۔۔ اور منظور صاحب انہی لوگوں میں سے ہیں ۔

منظور صاحب سے میری شناسائی بھی قدرت کے حسین اتفاقات میں سے ایک ہے۔ میں اپنی زندگی کے تراسی برس کے سفر میں ہوں اور وہ 87 برس کے وقار کے ساتھ زندگی کی شاہراہ پر رواں ہیں ۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی علاقے میں رہتے ہوئے تقریبا چھ دہائیوں تک ہماری ملاقات نہ ہو سکی ، شاید کچھ رشتے وقت کی کسی خاص ساعت کے منتظر ہوتے ہیں ۔ اور جب وہ ساعت اتی ہے ، تو برسوں کی اجنبیت چند ملاقاتوں میں اپنائیت میں بدل جاتی ہے ۔

جون 2024 میں انگلینڈ میں قیام کے دوران ، دوستوں کے اصرار پر میں نے اپنی خود نوشت و سفر نامہ " میں اور جہان رنگ و بو " لکھنا شروع کیا ، ساڑھے تین ماہ کی مسلسل محنت کے بعد یہ کتاب برطانیہ اور امریکہ میں اپنی بیٹیوں عنبر ستار اور ڈاکٹر صدف ارشاد کہ گھروں میں مکمل ہوئی ۔ وطن واپسی پر اشاعت کا مرحلہ ایا اور جنوری 2025 میں اس کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی ۔ اس حوالے سے جناب منظور حسین حسرت ، جناب طالب انصاری کے ہمراہ میرے اسکول تشریف لائے ، اور یوں ایک ایسی شناسائی کا اغاز ہوا ، جو بہت جلد مخلص دوستی میں بدل گئی ۔

میری دوستی ہمیشہ محدود لوگوں سے رہی ہے ۔ مگر منظور صاحب سے ذہنی ہم اہنگی شاید اس لیے جلد پیدا ہوئی کہ ہماری زندگیوں میں جدوجہد کی بہت سی مشترک کڑیاں ہیں ، ہم دونوں نے حالات سے شکوہ کرنے کے بجائے ، اپنے راستے بنانے کی کوشش کی ۔ شاید جن لوگوں کے پاؤں میں سفر کی ایک جیسی دھول ہو ، انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے بہت زیادہ الفاظ کی ضرورت نہیں پڑتی ۔

میرے اسکول میں منعقد ہونے والے مختلف انٹر اسکول مقابلوں میں منظور صاحب بطور خصوصی مہمان شریک ہوتے رہے ، ان کی شگفتہ طبیعت ، شفقت اور محبت بھرے انداز نے اساتذہ ، طلبہ اور اسٹاف سب کو متاثر کیا ۔ اب ہماری ادبی اور سماجی تقریبات میں ایک دوسرے کی موجودگی ایک خوبصورت روایت بن چکی ہے ۔

جب بھی نظر اؤ گے ہم تمہیں پکاریں گے

چاہو تو ٹھہر جانا ، چاہو تو گزر جانا

زندگی کا حسن شاید یہی ہے ، کہ انسان عمر کے کسی مرحلے پر خواب دیکھنا ، سیکھنا ، اور تخلیق کرنا نہ چھوڑے ۔

اس تخلیقی سفر کی ایک خوبصورت تازہ کڑی یہ ہے ، کہ منظور حسین حسرت صاحب نے اپنی دوسری کتاب ، ناول ، "کوئل کا گیت " بھی مکمل کر لیا ہے ۔ جو زیر اشاعت ہے ، اور عنقریب قارئین کے ہاتھوں میں ہوگا ۔ ادھر میں نے بھی اپنی نئی کتاب " زندگی کے رنگ ۔۔۔مشاہدات کے سنگ ۔۔۔ دیکھا ، جیا ، اور لکھ دیا "۔ مکمل کر لی ہے۔ اس کے 28 مضامین اب اپنی حتمی شکل میں ہیں ، اور کمپوزنگ و طباعت کے مراحل کے بعد ، انشاء اللہ توقع ہے ،کہ اکتوبر 2026 کے اوائل میں یہ کتاب بھی قارئین کے سامنے ہوگی ۔

یہ محض دو نئی کتابوں کی تیاری نہیں ، میرے لیے اس میں ایک اور خوش گوار پیغام بھی پوشیدہ ہے ۔۔۔ 87 اور 83 برس کی عمر میں بھی دو دوستوں کے ہاتھوں میں قلم ہے ، ذہن میں نئے خیال ہیں ، اور سامنے نئی تخلیقی سفر موجود ہیں ۔

ہماری یہ رفاقت مجھے بار بار یہ احساس دلاتی ہے ، کہ ریٹائرمنٹ زندگی سے ریٹائرمنٹ کا نام نہیں ۔ بڑھتی عمر ، جسم کی رفتار ضرور کم کر سکتی ہے ، مگر تجربے ، شعور اور تخلیقی صلاحیت کو ختم نہیں کرتی ۔ کتاب ، قلم ، دوست ، محفل ، اور کوئی بامقصد مصروفیت انسان کے اندر زندگی کی حرارت قائم رکھتے ہیں۔

مشکلوں سے نکل کے ایا ہوں
ہر مصیبت میں ڈھل کے ایا ہوں
میں خساروں سے کامیابی تک
اپنے پیروں پہ چل کے ایا ہوں

کبھی کبھی سوچتا ہوں ، کہ اگر ہم دونوں نے اپنی اپنی زندگی کے تجربات کو لفظوں میں نہ ڈھالا ہوتا ، تو شاید ہمارے راستے ایک دوسرے سے نہ ملتے ۔

گویا لفظوں نے دو مسافروں کے درمیان ایک پل تعمیر کر دیا ۔

83 اور 87 برس کی عمر میں قائم ہونے والی یہ دوستی ، میرے لیے اس حقیقت کی خوبصورت گواہی ہے ، کہ نئے تعلقات ، نئے خواب اور نئی تخلیق کی مسافت کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی ۔

دوستی کے لیے جوان ہونا ضروری نہیں ، دل کا زندہ ہونا ضروری ہے ۔

قلم ابھی ہاتھ میں ہے ، لفظ بھی ساتھ ہیں ، دوستوں کی محفل ابھی اباد ہے ، اور زندگی سے محبت ابھی باقی ہے ۔

اور جب یہ سب باقی ہو ۔۔۔ تو بڑھتی ہوئی عمر سے شکایت کیسی ؟

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

جو یاد نہ ائے بھول کے پھر ، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

سید ارشاد نبی
لیوٹن ۔ یو کے

15/09/2026

I got over 500 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

15/09/2026
15/09/2026

بارش کی بوندوں نے اسکول کو اور بھی حسین بنا دیا، 🌧️🌿
ہرے بھرے پودوں نے جیسے قدرت کا رنگ سجا دیا۔
"برستی بوندوں میں چھپی ہے قدرت کی مسکان،
ہریالی کے دامن میں بستا ہے سکون کا جہان۔" ✨

15/09/2026


Dirección

HMC Road Near Over Head Bridge Taxila
Taxila
47080

Teléfono

+923075174479

Página web

Notificaciones

Sé el primero en enterarse y déjanos enviarle un correo electrónico cuando Allama Iqbal School and Girls College publique noticias y promociones. Su dirección de correo electrónico no se utilizará para ningún otro fin, y puede darse de baja en cualquier momento.

Contacto La Escuela/facultad

Enviar un mensaje a Allama Iqbal School and Girls College:

Atajos

Compartir

Categoría