Allama Iqbal Public School and college

Allama Iqbal Public School and college

Compartir

Información de contacto, mapa y direcciones, formulario de contacto, horario de apertura, servicios, puntuaciones, fotos, videos y anuncios de Allama Iqbal Public School and college, Escuela, HMC Road Near Over Head Bridge Taxila, Taxila.

Allama Iqbal Public High School provide quality of teaching to its students through a network of experienced and talented staff,latest teaching techniques,Audio video teaching aids and multimedia projector facilities.

Photos from Allama Iqbal Public School and college's post 18/06/2026

کربلا ایک جنگ نہیں ۔۔۔بقائے انسانیت کا ابدی استعارہ ہے۔

جب بھی ضمیر و ظرف کا سودا ہو دوستو
قائم رہو حسین کے انکار کی طرح

اگر دنیا سے تمام جنگوں کی تاریخ مٹا دی جائے ، تو شاید انسان بہت کچھ بھول جائے ۔ لیکن اگر کربلا کا نام تاریخ سے نکال دیا جائے ، تو انسانیت اپنے ضمیر کا ایک روشن باپ کھو دے گی ۔

اخر ایسا کیا ہے کہ 14 صدیوں کے بعد بھی ایک تپتے ہوئے صحرا کا ذکر دلوں کو ہلا دیتا ہے ۔
کیا یہ صرف ایک تاریخی واقعہ ہے ؟

اگر ایسا ہوتا تو کربلا بھی تاریخ کی سینکڑوں دوسری جنگوں کی طرح کتابوں کے بوسیدہ صفحات میں دفن ہو چکی ہوتی ۔
لیکن کربلا زندہ ہے ۔
اس لیے زندہ ہے کہ یہ تلواروں کی جنگ نہیں تھی ، یہ انسان کے ضمیر کا مقدمہ ہے

تاریخ انسانی جنگوں ، معرکوں ، اور خون خرابے کی داستانوں سے بھری پڑی ہے ۔ زمین کے سینے پر ہزاروں لشکر اترے ، تلواریں چمکی ، خاک و خون کا کھیل کھیلا گیا ، لیکن ان تمام جنگوں کے پیچھے کیا تھا ،کہیں ملک فتح کرنے کی ہوس ، کہیں مال و دولت لوٹنے کی سستی خواہش ۔ کہیں زر اور زن کا فتنہ ، تو کہیں طاقت اور سپرمیسی یعنی بڑے پن کا جھوٹا غرور ۔
یہ وہ لڑائیاں کی جو زمین کے ٹکڑوں کے
لیے لڑی گئی ، پھر مٹی میں مل گئی ۔

لیکن دنیا کی تاریخ میں ایک معرکہ ایسا بھی ہوا جس کا جاہ و جلال ، مقصد ، اور انجام دنیا کی ہر جنگ سے مختلف تھا۔ وہ معرکہ : معرکہ کربلا ہے ۔ یہ زمین جیتنے کا نہیں ، ضمیر جیتنے کی جنگ ہے ۔ یہ حق و باطل ،اور رحمانیت کی شیطانیت پر وہ ابدی فتح تھی ، جس نے تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لیے بدل دیا ۔

اگر غور کیا جائے تو ضرورتوں ،اور حقوق کے لیے لڑنا تو کائنات کا عام اصول ہے ۔جب تک یہ دنیا قائم ہے ، انسان ، چرند ، پرند اور درندے اپنی بقا ، خوراک ، اور دفاع کے لیے لڑتے ائے ہیں ۔ لیکن کربلا ان سب سے منفرد اور بلند مقام پر کھڑی ہے۔

کیوں ؟
اس لیے کہ کربلا کسی ایک قوم ، ایک ملک، یا ایک نسل کی ازادی کی مہم نہیں تھی ۔ کربلا تو انسانی ، اصول پسندی اور انصاف کی بقا کا وہ عالمگیر معرکہ تھا، جو تپتے صحرا پر خون جگر سے لکھا گیا۔

تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمین

ظلمتوں کی شام میں ایک روشنی ہے کربلا

امام عالی مقام نے جب ظلم اور جبر کے سامنے سر جھکانے پر انکار کیا ، تو وہ در اصل انے والی نسلوں کو یہ درس دے رہے تھے ، کہ اصول پر انچ ائے تو سمجھوتہ نہیں کیا جاتا ، چاہے سامنے وقت کا سب سے بڑا فرعون کیوں نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کا اثر صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہا۔ یہ کسی ایک مسلک یا مذہب کی جاگیر نہیں ، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مشترکہ مشعل راہ ہے ۔ دنیا کا ہر وہ انسان جو ظلم کے خلاف سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی رنگ نسل یا مذہب سے ہو وہ کربلا کے اس چشمہ ہدایت سے سیراب ہوتا ہے ۔

مگر کربلا کا عجیب معاملہ ہے ۔
یہاں نہ کوئی سلطنت فتح ہوئی ، نہ کوئی خزانہ ہاتھ ایا، نہ کوئی تخت حاصل ہوا ، لیکن پھر بھی یہ واقعہ تاریخ کا سب سے بڑا فاتح ٹھہرا۔
کیوں ؟
کیونکہ دنیا کی اکثر جنگیں جیتنے کے لیے لڑی جاتی ہیں ،جبکہ کربلا سچائی کو زندہ رکھنے کے لیے لڑی گئی تھی ۔کربلا ہمیں بتاتی ہے ،کہ حق ہمیشہ اکثریت کا محتاج نہیں ہوتا ، بعض اوقات سچائی چند نفوس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ، اور باطن پورے لشکر کے ساتھ، مگر تاریخ اخر کار تعداد نہیں ،کردار کا فیصلہ لکھتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ کربلا مسلمانوں کا صرف ایک تاریخی ورثہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا اخلاقی سرمایہ ہے ۔
جب کوئی شخص ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے، وہاں کربلا زندہ ہو جاتی ہے ۔
جب کوئی صحافی سچ لکھنے کی قیمت ادا کرتا ہے وہاں کربلا زندہ ہو جاتی ہے۔

جب کوئی استاد حالات کی سختیوں کے باوجود ، سچائی اور کردار کا درس دیتا ہے ، وہاں کربلا زندہ ہو جاتی ہے ۔
یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی ، لمبی عمر، بڑا عہدہ ، یا زیادہ دولت نہیں ، اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے اصولوں کو کسی بھی قیمت پر بیچنے سے انکار کر دے ۔
اس لیے وقت کربلا کو پرانا نہیں کر سکا۔

کیونکہ زمانے بدلتے ہیں ، انسان نہیں بدلتا۔
اج بھی ظلم موجود ہے ، اج بھی مفاد پرستی ہے اج بھی حق اور طاقت کی کشمکش جاری ہے ،اس لیے اج بھی کربلا کی ضرورت ہے۔
کربلا صرف تاریخ کا واقعہ نہیں ، بلکہ انسانی ضمیر کی بیداری کا نام ہے، حق ، انصاف ، استقامت ، اور اصول پسندی کی وہ روشن مثال ہے ،جو رہتی دنیا تک انسانیت کو راستہ دکھاتی رہے گی ۔

دریائے فرات اج بھی بہ رہا ہے ،مگر کربلا ہمیں یاد دلاتی ہے ،کہ تاریخ میں پانی سے زیادہ اصول ہوتے ہیں ۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
سید ارشاد نبی

17/06/2026

محرم الحرام کے آغاز پر بچوں کو نئے اسلامی سال کی دعا سکھائی گئی۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سال میں خیر، برکت، امن اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔

Photos from Allama Iqbal Public School and college's post 16/06/2026

کیا تصاویر زندگی کا اثاثہ ہیں ؟

تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی

یہ تیری طرح مجھ سے تو شرما نہ سکے گی
میں بات کروں تو یہ خاموش رہے گی

سینے سے لگا لوں جو تو یہ کچھ نہ کہے گی
"بعض تصویریں بولتی نہیں مگر پوری داستان سنا جاتی ہیں "

کبھی کسی پرانی تصویر کو خاموشی سے دیکھا ہے ؟
کبھی کسی زرد پڑ چکی تصویر کو ہاتھ میں لے کر چند لمحوں کے لیے وقت کی قید سے ازاد ہوئے ہیں ؟
کبھی کسی تصویر میں موجود ایسے چہرے کو دیکھا ہے جو اب اس دنیا میں نہیں مگر جس کی مسکراہٹ اج بھی دل کے کسی گوشے میں زندہ ہے ؟

اگر ہاں تو پھر اپ جانتے ہیں کہ تصاویر صرف رنگوں اور روشنیوں کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ وقت کے سینے میں محفوظ وہ امانتیں ہیں جو نسلوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہیں ۔

سوال یہ ہے کیا تصاویر زندگی کا اثاثہ ہیں؟ اور کیا یادیں تصاویر کی مرہون منت ہیں ؟
شاید ان سوالوں کا کوئی حتمی جواب موجود نہیں ، لیکن اتنا ضرور ہے کہ انسان جب سے اس دنیا میں ایا ہے وہ اپنے احساسات، خوابوں ، محبتوں اور یادوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اج ہمارے ہاتھوں میں جدید کیمرے اور اسمارٹ فونز ہیں ۔ مگر ہزاروں سال پہلے بھی انسان چٹانوں پر نقش و نگار بناتا تھا، غاروں کی دیواروں پر تصویریں بناتا تھا ، اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو کسی نہ کسی شکل میں محفوظ کر لیتا تھا ۔

میں نے یونہی راکھ میں پھیریں تھیں انگلیاں
دیکھا جو غور سے تیری تصویر بن گئی

یہی ارٹ بعد میں مجسمہ سادی بنا، یہی مصوری بنی ، یہی خطاتی بنی ، اور یہی تہذیبوں کی پہچان قرار پائی ۔

علامہ اقبال کا کا کا ایک شعر یاد اتا ہے۔

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

انسان نے اپنے دل کی دھڑکنوں کو کبھی رنگوں میں ،کبھی لفظوں میں ، اور کبھی تصویروں میں محفوظ کیا ۔ شاید اسی لیے ارٹ کو روح کی زبان بھی کہا جاتا ہے۔

اج دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں ،اپ کو عجائب گھر ،ارٹ گیلریاں، لائبریریاں ، اور تاریخی مراکز ضرور ملیں گے ،ان کی دیواروں پر اویزاں تصویریں ، اور محفوظ فن پارے دراصل قوموں کی اجتماعی یادداشت ہوتے ہیں ۔ یہی تصویریں ہمیں بتاتی ہیں ، کہ ہمارے بزرگ کیسے رہتے تھے ، کیا پہنتے تھے ، کن خوابوں کے ساتھ زندگی گزارتے تھے ۔ اور کن راستوں پر چل کر اج کی دنیا تک پہنچے ۔
تصویریں صرف تاریخ کا ریکارڈ نہیں ہوتیں ، یہ جذبات کا سرمایہ بھی ہوتی ہیں۔
تیری تصویر سے گلہ ہے مجھے
یہ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی

ایک پرانی خاندانی تصویر میں کبھی دادا جان کی جوانی جھلکتی ہے ، کبھی کسی ماں کی ممتا ، کبھی کسی باپ کی محنت ، اور کبھی بچپن کی وہ شرارتیں جو وقت کے ساتھ کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں ۔

احمد فراز کے یہ اشعار جیسے تصویروں کے لیے ہی کہہ گئے ہوں ۔

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

واقعی بعض تصویریں بھی سوکھے ہوئے پھولوں کی مانند ہوتی ہیں ، خاموش مگر خوشبو سے بھرپور ۔
اج شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو ،جس کے موبائل فون ، کمپیوٹر یا گھر کے کسی کونے میں تصویروں کا خزانہ موجود نہ ہو۔ شادی بیاہ کی تقریبات ، دوستوں کی محفلیں ، تعلیمی کامیابیاں ، سفر کی یادیں ، عید کی خوشیاں ، اور روز مرہ زندگی کے بے شمار لمحے انہی تصویروں میں قید ہو جاتے ہیں ۔
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت
ہم جہاں میں تیری تصویر لئے پھرتے ہیں

وقت گزرتا رہتا ہے ، لوگ بدل جاتے ہیں ، شہر بدل جاتے ہیں ، حالات بدل جاتے ہیں، مگر تصویریں ایک عجیب سی وفاداری کے ساتھ ماضی کو سنبھالے رکھتی ہیں ۔

میر تقی میر کا یہ شعر بھی دل کو چھو جاتا ہے ۔
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
بلکل اسی طرح بعض تصویریں بھی ہمارے وہ حالات جانتی ہیں جو شاید ہم خود بھی بھول چکے ہوتے ہیں

اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھے

میرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے

اس تحریر کے ساتھ میں اپنے خاندانی چند نایاب تصاویر بھی پیش کر رہا ہوں ، یہ تصاویر میرے لیے محظ کاغذ پر چھپے ہوئے عکس نہیں ، بلکہ میری شناخت ، میری جڑوں ، اور میرے خاندانی ورثہ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ان کے ساتھ اپنے چند عزیز دوستوں کے ساتھ گزاری گئی خوبصورت یادوں کی تصاویر بھی شامل ہیں ، تاکہ ماضی اور حال ایک ہی فریم میں سمٹ کر زندگی کے سفر کی خوبصورتی کو بیان کر سکیں ۔

زندگی دراصل لمحوں کا نام ہے ، اور لمحے وقت کے دریا میں بہتے چلے جاتے ہیں ، انسان کی سب سے بڑی خواہش یہی رہی ہے ، کہ وہ ان خوبصورت لمحوں کو تھام لے ، انہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لے ۔ شاید اسی خواہش نے تصویر کو جنم دیا۔

تصویریں وقت کو روک تو نہیں سکتی ، مگر وقت کے گزر جانے کے بعد ان کی خوشبو ضرور محفوظ رکھ لیتی ہیں ۔

جب انے والی نسلیں ہمارے بعد ان تصویروں کو دیکھیں گی ، تو شاید وہ ہمارے چہروں سے زیادہ ، ہمارے جذبوں کو پڑھیں گی ، ہماری مسکراہٹوں میں چھپی کہانیاں تلاش کریں گی ، اور جانیں گی کہ ہم کون تھے، کیسے جیتے تھے ، اور کن لوگوں سے محبت کرتے تھے ۔

تیری تصویر ہے سامنے آنکھ نم سی ہے
تیرے ساتھ گزارا ہر پل یاد بھی ہے
ان یادوں کے سہارے تو جی رہا ہوں
زندگی کی امید تیرے بعد بھی ہے

اس لیے تصویریں صرف تصویریں نہیں ہوتیں۔

یہ ماضی کی سانسیں ، حال کی مسکراہٹیں اور مستقبل کے لیے چھوڑی گئی خاموش وصیتیں ہوتی ہیں ۔

تصویر وقت کے ہاتھوں لکھی ہوئی وہ تحریر ہے جسے نہ موسم مٹا سکتے ہیں ، نہ فاصلے دھندلا سکتے ہیں اور نہ ہی برسوں کی گرد اس کی معنویت کو کم کر سکتی ہے ۔
اور شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ:

"انسان فانی ہے ، لمحے عارضی ہیں ، مگر یادوں کی تصویر ہمیشہ زندہ رہتی ہے "

مجھ کو اکثر اداس کرتی ہے
ایک تصویر مسکراتی ہوئی

سید ارشاد نبی

15/06/2026

آنکھوں پر پٹی، دل میں جوش!
بچوں نے خوشی اور دلچسپی کے ساتھ باسکٹ گیم میں حصہ لیا۔ 🎉🏀

Photos from Allama Iqbal Public School and college's post 11/06/2026

اسلام اباد سے لندن تک ۔۔ ایک سفر جب راستے دعاؤں سے روشن ہوں ۔

ائے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے
زندگی کیا ہے سفر کی بات ہے

کہتے ہیں انسان دو چیزوں سے کبھی سیر نہیں ہوتا : ایک علم ،اور دوسرا سفر ۔

علم انسان کی سوچ کو وسعت دیتا ہے اور سفر اس کی نظر کو ۔ کتابیں ہمیں دنیا کے بارے میں بتاتی ہیں لیکن سفر ہمیں دنیا سے ملواتا ہے ۔
شاید اسی لیے قدرت نے بھی کائنات کو حرکت میں رکھا ہے ، سورج سفر میں ہے ، چاند سفر میں ہے ، ستارے سفر میں ہیں ، دریا سفر میں ہیں، ہوائیں سفر میں ہیں ، اور انسان بھی پیدائش سے موت تک ایک مسلسل سفر ہی تو کر رہا ہے ۔
میرے نزدیک سفر محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا نام نہیں ، بلکہ یہ دل اور دماغ کی کھڑکیاں کھولنے کا عمل ہے ۔ انسان جب اپنے ماحول سے نکل کر دوسری سرزمینوں میں جاتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ دنیا کتنی وسیع ، کتنی رنگا رنگ اور کتنی حیرت انگیز ہے ۔

11 جون 2026 کی رات بھی میرے لیے ایک ایسا ہی لمحہ تھی ۔

اسلام اباد کی روشنیاں اہستہ اہستہ رات کے سناٹے میں تحلیل ہو رہی تھیں، اور میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک نئے سفر کی تیاری میں مصروف تھا ۔ ہماری دو بیٹیاں عنبر ستار جو برطانوی شہری ہے ،اور ڈاکٹر صدف ارشاد جو امریکی شہری ہیں ، اپنے خاندانوں سمیت ہمارے ساتھ تھیں ۔ یوں ہم نو افراد پر مشتمل ایک خوشگوار قافلے کی صورت میں لندن کے گیٹ وک ایئرپورٹ کی جانب روانہ ہو رہے تھے ۔

یہ برطانیہ کا ہمارا پہلا سفر نہیں تھا ۔ 2013 سے کرونا کے مختصر وقفے کو چھوڑ کر تقریبا ہر سال ہمیں اپنی بیٹیوں کی محبت اور اصرار پر برطانیہ اور امریکہ جانے کا موقع ملتا رہا ہے ۔ وہ ہماری ٹکٹوں کا انتظام کر دیتی ہیں اور یوں ہمیں دنیا دیکھنے اور اپنوں سے ملنے کا ایک حسین بہانہ مل جاتا ہے ۔
مگر اس مرتبہ کا سفر گزشتہ تمام اسفار سے کچھ مختلف تھا ۔
شاید اس کی وجہ وہ محبتیں تھیں جو روانگی سے پہلے میرے دامن میں ڈال دی گئی تھیں۔
گزشتہ سال واہ کینٹ میں مجھے اہل علم ، اہل قلم اور اصحاب تجربہ پر مشتمل ایک منفرد و با وقار حلقہ احباب " سینیئر فرینڈز " کا رکن بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ اس محفل میں شعر و ادب کے شناور، ماہرین تعلیم ، بینکرز ، انجینیئرز ، وزارت دفاع کے ریٹائرڈ افسران ، اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات شامل ہیں ۔
جب میرے دوبارہ برطانیہ روانہ ہونے کی خبر ان دوستوں تک پہنچی تو انہوں نے جس محبت ، اپنائیت ، اور خلوص کا اظہار کیا ، وہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا ۔
سینیئر وائز پریزیڈنٹ حبیب بینک جناب سلیم انور صاحب اور معروف مصنف و صنعت کار جناب منظور حسین حسرت صاحب نے میرے اعزاز میں ہائ ٹی اور عشائیہ کا اہتمام کیا ، میرے مخلص دوست جناب تقی شاہ صاحب نے ارڈیننس کلب میں ایک پرتکلف ڈنر دیا ۔جناب علام الدین صاحب اپنی تنظیم قندیل کے رفقاء کے ساتھ میرے اعزاز میں ایک میوزیکل پروگرام منعقد کرنا چاہتے تھے مگر شادیوں کے سیزن کے باعث مناسب ہال دستیاب نہ ہو سکا ، اور یہ پروگرام نہ ہو سکا ۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان سفر میں سامان کم اور محبتیں زیادہ ساتھ لے کر چلتا ہے، اور میں بھی اپنے دوستوں کی دعاؤں ، نیک تمناؤں کا سرمایہ ساتھ لیے روانہ ہو رہا تھا ۔
شام ساڑھے اٹھ بجے ہم ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے ، امیگریشن اور دیگر مراحل طے کرتے ہوئے رات ساڑھےگیارہ بجے مسافروں کے لاؤنج میں پہنچے ، 12 بجے بورڈنگ کا اغاز ہوا ، اور رات 12 بج کر 20 منٹ پر ہماری پرواز لندن کے لیے روانہ ہو گئی ۔
برٹش ایئر ویز کا وسیع و عریض بوئنگ طیارہ ، تقریبا ساڑھے سات سو مسافروں کی گنجائش رکھتا تھا ، اور حیرت انگیز طور پر تقریبا مکمل طور پر پاکستانی مسافروں سے بھرا ہوا تھا اندازآ 98 فیصد مسافر پاکستانی تھے ۔ جبکہ باقی کے چند افراد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے تھے ۔ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی جب ایک جمع ہو جائیں تو ماحول خود بخود رنگین ہو جاتا ہے ۔ ہر طرف گفتگوؤں کی گونج ، ہنسی مذاق ، بچوں کی شرارتیں ، اور رونے کی اوازیں ایک ایسا منظر پیش کر رہی تھیں، جیسے فضا میں کوئی میلہ سجا ہو۔
دو دن سے زکام اور بخار کی وجہ سے میری طبیعت کچھ ناساز تھی ، شور اتنا تھا ، کہ بہت اوقات کانوں میں اوازیں ہیں واضح سنائی نہیں دیتی تھیں ،ایسے میں مجھے خیال ایا ، کہ جب تقریبا تمام مسافر پاکستانی ہیں تو ان کے ذوق کے مطابق کھانے کا انتظام بھی ہونا چاہیے ۔ گزشتہ سال چاول ، چکن ، سبزی اور دال پیش کی گئی تھی ۔ لیکن اس مرتبہ ولایتی کھانا پیش کیا گیا ، جو کہ مسافروں کی پسند کے مطابق نہ تھا۔ چنانچہ اکثر لوگ بمشکل ہی کچھ کھا سکے ۔
رات بھر کا سفر جاری رہا ، اور اخر صبح پانچ بجے ، ہمارا طیارہ گیٹ ویک ایئرپورٹ پر اترنے لگا ۔
یہاں ایک لمحے کے لیے میں پائلٹ کی مہارت کا معترف ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔
میں نے زندگی میں بے شمار ایئر لائنز کے ذریعے سفر کیا ہے ، لیکن اتنی نرم ، متوازن ، اور شاندار لینڈنگ شاید ہی کبھی دیکھی ہو ۔ ایسا محسوس ہوا ، جیسے جہاز زمین پر اترا ہی نہیں بلکہ کسی نرم بادل پر اہستگی سے رکھ دیا گیا ہو ۔

ایئرپورٹ پر واکسہال کمپنی کی دو بڑی گاڑیاں ہمارا انتظار کر رہی تھی ۔ کیونکہ میں اور میری اہلیہ اس عمر میں ہیں جہاں اتنے وسیع ایئرپورٹس پر تیز پیدل چلنا اسان نہیں ، اس لیے ویل چیئرز کا انتظام کیا گیا تھا ۔
ایک جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہمیں لینے کے لیے ایا ، اس نے ویل چیئر پر ہمیں مسافروں کے حصے سے نکالا ، اور پھر اپنی بیٹری سے چلنے والی بگی ، کے ذریعے پارکنگ ایریا تک پہنچایا ۔ اس کی خدمت اور خوش اخلاقی سے متاثر ہو کر میں نے اسے دس پاؤنڈ دینا چاہے ، لیکن وہ انکار کرتا رہا بڑی مشکل سے اس نے وہ پاؤنڈ لیے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ میں ٹپ لینے کا رواج نہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس امریکہ میں اکثر لوگ ٹپ کی توقع رکھتے ہیں ، اور بعض اوقات خود ہی مانگ بھی لیتے ہیں ۔ جبکہ برطانیہ میں اصولوں کی پابندی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔
تقریبا دو گھنٹے کے سفر کے بعد ہم گھر پہنچ گئے ، اگرچہ ہیتھرو ایئرپورٹ ہمارے گھر سے صرف 40 منٹ کی مسافت پر واقع ہے ۔ لیکن گیٹ وک کی ایئرپورٹ ہمارے گھر سے تقریبا دو گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے ۔
گھر پہنچ کر سب سے پہلے موسم نے استقبال کیا ، اندر کا درجہ حرارت 16 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، بیٹی نے فورا ہیٹینگ سسٹم آن کیا ، اور تقریبا دو گھنٹے کے بعد درجہ حرارت 19 ڈگری تک پہنچ سکا ۔
مجھے بے اختیار ہے پاکستان یاد اگیا ، چند گھنٹے پہلے ہم ایسے ماحول سے روانہ ہوئے تھے ، جہاں گرمی اپنے عروج پر تھی ۔ اور 42 ڈگری ٹمپریچر تھا ، اور اب ایک ایسے موسم میں تھے ، جہاں ٹھنڈی ہوا انسان کو سویٹر یاد دلانے لگتی ہے ۔ قدرت بھی کتنی عجیب مصور ہے ،کہ چند گھنٹوں میں موسم ، مناظر ، لوگ ، اور ماحول سب بدل جاتے ہیں ۔
گیٹ وک ایئرپورٹ سے گھر تک پہنچتے پہنچتے سفر تو ختم ہو گیا ، لیکن اس کے نقوش دل میں باقی رہ گئے۔
میں نے زندگی کے مختلف ادوار میں بے شمار سفر کیے ہیں ، کوئی سفر سرکاری ذمہ داریوں کے تحت ہوئے ، کچھ علمی وادبی سرگرمیوں کے باعث ، اور کچھ اولاد کی محبت میں ، لیکن ہر سفر نے مجھے ایک نئی بات سکھائی ۔
میں نے دیکھا کہ دنیا کے مختلف رنگ ہیں، لیکن محبت کی زبان ہر جگہ ایک جیسی ہے ، مسکراہٹ کا ترجمہ نہیں کرنا پڑتا، خلوص کو کسی لغت کی ضرورت نہیں ہوتی ، اور دعا کی خوشبو سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی ،
سفر انسان کو صرف نئے شہر نہیں دکھاتا بلکہ نئے زاویے فکر عطا کرتا ہے ۔ جو لوگ سفر کرتے ہیں ، وہ صرف میلوں کا سفر طے نہیں کرتے بلکہ اپنی سوچ کے دریچے بھی کھولتے ہیں ۔ نئے چہرے، نئی ثقافتیں، نئے موسم ، اور نئے تجربات ، انسان کے اندر ایک نئی روشنی پیدا کرتے ہیں ۔

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا۔۔
ستاروں سے اگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

یہ شعر صرف بلندیوں کی تلاش کا پیغام نہیں دیتا ، بلکہ انسان کو مسلسل اگے بڑھنے ، نئی منزلیں تلاش کرنے اور نئے افق دریافت کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے ۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر پرندے اپنے گھونسلوں سے باہر نہ نکلیں ، تو موسموں کی تبدیلی سے کیسے اشنا ہوں ؟ اگر دریا بہنا چھوڑ دیں تو سمندر تک کیسے پہنچیں ؟ اور اگر انسان سفر ترک کر دے تو دنیا کی رنگا رنگی اور اس کے حسن سے کیسے واقف ہو ؟
مجھے ہمیشہ ابن انشا کا یہ خیال پسند ایا ہے۔ کہ سفر انسان کے اندر کہ زنگ کو اتار دیتا ہے ۔ واقعی جو لوگ سفر کرتے ہیں وہ عمر کے ساتھ بوڑھے نہیں ہوتے بلکہ تجربات کے ساتھ جوان ہوتے جاتے ہیں ۔

اج جب اس سفر کی روداد قلم بند کر رہا ہوں ، تو دل میں اپنے تمام دوستوں ، خیر خواہوں ، اور اہل خانہ کے لیے تشکر کے جذبات موجزن ہیں ،جن کی محبتیں ، دعائیں ، اس سفر میں میرے ساتھ رہیں ۔ اس سفر کی روداد لکھنے کے لیے میرے دوست محترم جناب امجد محمود نے خواہش ظاہر کی تھی ۔
الحمدللہ یہ سفر بھی اللہ تعالی کے فضل و کرم ، دوستوں کی محبتوں ، اور عزیزوں کی دعاؤں ، کے سائے میں بخیر خوبی اختتام پذیر ہوا ۔
آخر میں اپنے احساسات کو چند مصروں میں سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں ۔

سفر کرنے لگا ہوں بیٹھے بیٹھے
تمہارا نام منزل رکھ لیا ہے
محبت میں تیرا دل رکھ لیا ہے
مگر مضمون مشکل رکھ لیا ہے

اور اخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا :

گھر سے نکلنے والا ہر شخص صرف مسافر نہیں ہوتا ، بعض لوگ راستوں سے کہانیاں چن کر لاتے ہیں ، بعض لوگ تجربات ، اور بعض لوگ یادیں ۔ خوش نصیب وہ ہیں جو سفر سے واپس ا کر پہلے سے بہتر انسان بن جائیں ۔
اس لیے جب بھی موقع ملے سفر کیجئے ۔

نئی راہوں پر چلیے ، نئے چہروں سے ملیے ، نئی ثقافتوں کو سمجھیے ، اور نئی زمینوں کو دیکھیے ۔
کیونکہ زندگی کی خوبصورتی منزلوں میں نہیں ، راستوں میں پوشیدہ ہوتی ہے ۔

بقول شاعر :
مسافر ہیں ہم بھی ، مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

اور شاید زندگی کا سب سے بڑا حسن بھی یہی ہے ، کہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، صرف منزلیں بدلتی رہتی ہیں ۔

کیونکہ منزلیں ختم ہو جاتی ہیں ، لیکن اچھے سفر ہمیشہ یاد رہتے ہیں ۔

Photos from Allama Iqbal Public School and college's post 11/06/2026

Parts of Speech Learning Activity

Students enjoyed learning Parts of Speech through an interactive and engaging activity. 📚✨
They explored nouns, verbs, adjectives, and other parts of speech, enhancing their English language skills in a fun way. 😊🌟

11/06/2026

Three letter words
For kids

Photos from Allama Iqbal Public School and college's post 10/06/2026

Worksheets for playgroup

10/06/2026

Kids learning activity

09/06/2026
¿Quieres que tu escuela/facultad sea el Escuela/facultad mas cotizado en Taxila?

Haga clic aquí para reclamar su Entrada Patrocinada.

Localización

Categoría

Teléfono

Página web

Dirección

HMC Road Near Over Head Bridge Taxila
Taxila
47080