**“خطبۂ حجۃ الوداع کے سبق ہمیں کیوں یاد نہیں رہے؟”**
آج میں ایک ایسے موضوع کو اُجاگر کرنا چاہتا ہوں جو ہمیں پہلے ایک اچھا انسان اور پھر ایک اچھا مسلمان بننے میں مدد دے سکتا ہے، اِن شاء اللہ۔ کچھ عرصہ پہلے مجھ سے ایک ایسے شخص نے، جو آٹھ سال بھارت میں رہ چکا تھا، نہایت معصوم انداز میں سوال کیا: *“فاروٖق، آپ لوگ تو مسلمان ہیں، کیا پاکستان میں بھی ذات پات کا نظام موجود ہے؟ اور کیا اسی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ عزت یا سختی کا برتاؤ کیا جاتا ہے؟”* میں نے وہاں کوئی جھوٹ نہیں بولا، بلکہ اپنے گاؤں کی مثال دے کر اُسے حقیقت سمجھانے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں اگر آپ کو “اچھی ذات” سے جوڑ دیا جائے تو آپ خود بخود معتبر سمجھے جاتے ہیں؛ جرگے کے مشران بن سکتے ہیں، آپ کی رائے کو وزن دیا جاتا ہے، چاہے آپ کے خیالات واقعی معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوں یا نہ ہوں۔ اس کے برعکس اگر آپ کو “کم تر ذات” سے جوڑ دیا جائے تو آپ کو اپنی قابلیت، کردار اور محنت سے بار بار خود کو منوانا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ دنیا میں عزت کما بھی لیں، تب بھی اپنے گاؤں یا علاقے میں وہ مقام نہیں ملتا، صرف اس لیے کہ آپ کی ذات کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔
کوریـا آ کر مجھے شدت سے احساس ہوا کہ اصل “اچھی ذات” کوئی نسل یا برادری نہیں، بلکہ کردار، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ یہاں میں نے لوگوں کو ذات کی بنیاد پر لڑتے نہیں دیکھا، بلکہ ظلم کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوتے دیکھا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی زندگیاں بہتر بنائیں بلکہ ہمارے جیسے ہزاروں غیر ملکیوں کے لیے بھی روزگار اور عزت کے مواقع پیدا کیے۔ یہی وجہ ہے کہ جن ممالک میں آج بھی ذات پات کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کی جاتی ہے، انہی ممالک کے لوگ یہاں آ کر اس معاشرے کی زبان، ثقافت اور نظام سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں خود کوریـن لینگویج کلاس میں تھا جہاں میرے ساتھ بھارتی اور بنگلہ دیشی طلبہ بھی موجود تھے—سب ایک ہی صف میں، ایک ہی حیثیت کے ساتھ۔ یہ منظر خود ایک خاموش سبق تھا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں خطبۂ حجۃ الوداع یاد آتا ہے، جس میں رسولِ اکرم ﷺ نے واضح فرما دیا کہ کسی عربی کو عجمی پر، اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ آج وقت آ گیا ہے کہ ہم ذات پات کے فرسودہ خ*ل سے نکل کر ایک ایسا نظام قائم کریں جو انسان کو اس کے عمل، اخلاق اور کردار کی بنیاد پر پرکھے۔ یہی انسانیت کی بقا ہے اور یہی دینِ اسلام کا اصل تقاضا۔ اگر ہم نے یہ سبق نہ سیکھا تو ہم نہ اچھے انسان بن سکیں گے اور نہ ہی سچے مسلمان۔
Engr Farooq Khan
Mechanical Engineer, PhD scholar, Loves talking about life experiences, sports, politics, religion.
**“کاش تم پیدا نہ ہوتے” سے “شکر ہے تم پیدا ہوئے تھے” تک کا سفر**
یہ تحریر اُن والدین کے لیے ہے جن کی اولاد اس وقت 15 سے 25 سال کی عمر کے درمیان ہے۔ میرے ایک جاننے والے ہیں، نام اس لیے نہیں لے رہا کہ بات ذاتی نہ ہو جائے، جنہوں نے پاکستان سے باہر تقریباً پچیس تیس سال گزارے ہیں۔ جب میں پاکستان سے باہر آ رہا تھا تو اُن کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ایک نہایت قیمتی بات کہی جو میرے خیال میں ہر گھر کے بڑے کو جاننی چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ 15 سے 25 سال کی عمر میں بچہ غلطیاں کرتا ہے، مختلف قسم کی غلطیاں—کبھی ناسمجھی میں، کبھی جذبات میں، اور کبھی ماحول کے اثر میں۔ اسی دوران بعض اوقات والدین کے منہ سے یہ تلخ جملہ بھی نکل جاتا ہے کہ “تم پیدا ہی کیوں ہوئے تھے؟” مگر یہی بچہ جب 25 سے 35 سال کی عمر میں داخل ہوتا ہے، ذرا سنجیدگی اور پختگی آتی ہے، تو وہی اولاد والدین کا نام روشن کر دیتی ہے، اور پھر وہی والدین دل سے کہتے ہیں: “شکر ہے تم پیدا ہوئے تھے۔”
آج میری عمر تیس سال ہے اور روزانہ میں کسی نہ کسی دوست کی پوسٹ دیکھتا ہوں۔ کوئی اپنے والدین کو عمرے پر لے جا رہا ہے، کوئی اُن کا خوابوں کا گھر بنا رہا ہے، اور کوئی خاموشی سے اُن کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے اُن کے نوجوانی کے دن یاد آ جاتے ہیں—وہی دن جب کچھ دوست نشے کی طرف مائل تھے، کچھ لاپرواہ تھے، اور کچھ تعلیم میں کمزور سمجھے جاتے تھے۔ شاید اُس وقت اُن کے والدین بھی مایوس ہو کر سخت باتیں کہہ بیٹھے ہوں گے۔ مگر آج وہی بچے اپنے والدین کا سہارا ہیں، اُن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں، اُن کے ہاتھ اور پاؤں بن چکے ہیں۔ آج والدین کو اُن کی پیدائش پر فخر ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صبر کریں، وقت کو وقت دیں، اور اپنی اولاد کو غلطیوں کے مرحلے میں رد نہ کریں—کیونکہ یہی مرحلہ اکثر ایک روشن مستقبل کی بنیاد بنتا ہے۔
ہماری سوسائٹی میں بائیکاٹ عموماً اُس وقت کیا جاتا ہے جب کسی سے ذاتی جھگڑا ہو جائے، جائیداد کا تنازع کھڑا ہو جائے یا کسی اور لین دین میں اختلاف پیدا ہو جائے۔ مگر افسوس کہ ہم نے کبھی اخلاقیات، سچائی یا اسلامی اصولوں کی بنیاد پر کسی کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ حالانکہ کسی معاشرے میں بائیکاٹ کا ہونا اور کیا جانا بے حد ضروری ہے، کیونکہ اس سے برائی کرنے والے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، اس سے پہلے کہ قانون اُسے سزا دے۔
میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ فرض کریں ایک شخص بجلی چوری کرتا ہے اور پورے گاؤں کو معلوم ہے کہ وہ بجلی چور ہے۔ ایسے میں لوگوں کو چاہیے کہ اُس کا سماجی بائیکاٹ کریں۔ جب وہ آپ کے گھر آئے تو اُس کے منہ پر صاف کہا جائے کہ آپ بجلی چوری کرتے ہیں، کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟
چلیے، بجلی چوری تو ایک نسبتاً چھوٹی بات ہے۔ مگر جب کوئی شخص جیل سے رہا ہو کر آتا ہے تو ہم اُس کے گھر مبارک دینے چلے جاتے ہیں کہ شکر ہے آپ کا بیٹا جیل سے چھوٹ گیا، یہ سوچے بغیر کہ وہ جیل کیوں گیا تھا۔ میرے خیال میں اگر کوئی شخص بے گناہ جیل گیا ہو تو واقعی اُس کی حوصلہ افزائی بنتی ہے اور اُس کے گھر جا کر تسلی دینا درست ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اسمگلر ہو، منشیات بیچتا ہو یا غنڈہ گردی اور ظلم کی وجہ سے جیل گیا ہو تو اُس کی رہائی پر خیر مقدم کرنا اور پھولوں سے استقبال کرنا ہماری سوسائٹی کی پستی کی عکاسی کرتا ہے۔
خدارا اپنی سوچ کو بدلیں، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک ایسی سمت میں آگے بڑھیں جہاں اُن کا مستقبل تاریک نہ ہو بلکہ روشن ہو۔
آج کے دور میں میں اکثر لوگوں کو یہ شکوہ کرتے سنتا ہوں کہ میرے دوست بےوفا نکلے، میرا پارٹنر دھوکہ دے گیا، یا میرے اپنے ہی گھر والے مجھے نقصان پہنچا گئے۔ ایسے لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ عقل مندی، سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا اور ہر شخص پر اندھا اعتماد نہ کرنا بھی مومن کی نمایاں صفات میں شامل ہے۔ اعتماد ایک خوبصورت جذبہ ہے، مگر اسے حکمت کے بغیر استعمال کرنا خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوتا ہے۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے والد صاحب کے ساتھ ساتھ تین بڑے بھائی ملے جنہوں نے ہر قدم پر باپ جیسی تربیت دی اور یہ سکھایا کہ دنیا میں اچھا ہونا ضروری ہے، مگر سادہ ہونا نہیں۔
میں اپنی زندگی کی ایک مثال اس لیے شیئر کرتا ہوں تاکہ دوسروں کو سیکھنے کا موقع ملے۔ ایک بار جب میں یو ای ٹی پشاور میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو ایک غریب دوست نے مجھ سے مالی مدد مانگی۔ میں نے بھائی کو فون کر کے بتایا کہ دوست کے لیے پیسے چاہیے ہیں۔ بھائی نے صرف ایک سوال کیا: کیا وہ واپس کر سکے گا؟ میں نے کہا، وہ غریب ہے۔ بھائی نے فوراً کہا، پھر اتنے ہی پیسے دینا جن کے واپس نہ آنے کی صورت میں تمہیں کوئی مسئلہ نہ ہو۔ میں نے اپنی جیب خرچ سے اس دوست کی مدد کی، اور وہ پیسے واپس نہ کر سکا۔ لیکن چونکہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا، اس لیے نہ دل میں کڑواہٹ آئی اور نہ کسی کو الزام دینے کی نوبت۔ اگر میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر مدد کر دیتا تو آج شاید میں بھی یہی کہہ رہا ہوتا کہ لوگ بےوفا ہیں۔ اس لیے زندگی میں ہر فیصلہ تھوڑا رک کر، پرکھ کر اور عقل کے ساتھ کریں—یہی ذہانت ہے، یہی تحفظ ہے۔
پاکستان میں ایک بڑا سماجی المیہ یہ ہے کہ بچوں کو اس وقت تک کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی جب تک وہ بی ایس یا سولہ سالہ تعلیم مکمل نہ کر لیں۔ والدین خلوصِ نیت سے انہیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ پیسے کمانے اور مالی دباؤ سے آزاد ہو کر صرف تعلیم پر توجہ دینا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ مگر جیسے ہی تعلیم مکمل ہوتی ہے، اچانک انہی نوجوانوں سے روزگار اور آمدن کی توقع باندھ لی جاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ معاشی بدحالی میں نہ تو معیاری اور باعزت نوکریاں دستیاب ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کے پاس کم سرمایہ لگا کر خود روزگار شروع کرنے کی صلاحیت یا تجربہ ہوتا ہے، کیونکہ انہوں نے کبھی پیسہ کمانے کے بارے میں عملی طور پر سوچا ہی نہیں ہوتا۔ یوں تعلیم یافتہ نوجوان ایک ایسے خلا میں پھنس جاتا ہے جہاں ڈگری تو ہوتی ہے مگر ہنر، تجربہ اور مواقع ناپید ہوتے ہیں۔
اس صورتحال میں تمام ذمہ داری والدین پر ڈالنا بھی درست نہیں، کیونکہ پاکستان میں کم عمری میں بچوں کے لیے محفوظ اور باوقار پارٹ ٹائم یا موسمی روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بازاروں اور غیر منظم شعبوں میں کام کرنے سے بچوں کو منشیات، جرائم اور ہراسانی جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اسی خوف کے باعث والدین انہیں کام سے دور رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں سہولت اسٹورز، کیفے، ریسٹورنٹس اور دیگر شعبوں میں باعزت پارٹ ٹائم نوکریاں عام ہیں، جہاں نوجوان تعلیم کے ساتھ کام سیکھتے اور خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نصاب کے ساتھ عملی مہارتیں، مالی فہم، ڈیجیٹل اسکلز اور محفوظ یوتھ ایمپلائمنٹ کے مواقع پیدا کریں۔ حکومت، تعلیمی ادارے، نجی شعبہ اور خاندان—سب کو مل کر نوجوانوں کا حوصلہ بڑھانا ہوگا تاکہ انہیں صرف ڈگری نہیں بلکہ بہتر اور روشن مستقبل کا راستہ بھی مل سکے۔
آج کے دور میں خواتین کی تعلیم اور جدید مہارتیں محض ایک انتخاب نہیں بلکہ معاشرے کی ضرورت بن چکی ہیں۔ ماضی میں عورت گھر کے اندر بے شمار ذمہ داریاں نبھاتی تھی—کھانا پکانا، کپڑے دھونا، جانوروں کی دیکھ بھال، بچوں کی پرورش—اور یہ سب اس زمانے میں ہوتا تھا جب نہ جدید مشینیں تھیں اور نہ سہولتیں۔ اگر کوئی مشین ہوتی بھی تو وہ سادہ اور غیر ذہین ہوتی تھی۔ آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ گھروں میں اے آئی پر مبنی مشینیں، خودکار آلات اور جدید ٹیکنالوجی داخل ہو رہی ہیں جنہوں نے خواتین کی جسمانی محنت کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ ایسے میں اگر عورت کی صلاحیتیں صرف پرانے گھریلو کاموں تک محدود رہیں تو وہ اپنی پوری ذہنی و تخلیقی طاقت استعمال نہیں کر پائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمارے گھریلو چھوٹے معاشی نظام بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ وہ وقت تھا جب عورت بھینس، گائے، بکریوں اور مرغیوں کی دیکھ بھال کرتی تھی، دودھ، مکھن اور دہی گھر میں تیار ہوتا تھا، کپڑے خود سیتی تھی، دستکاری میں مہارت رکھتی تھی، اور یوں گھر کے اندر رہتے ہوئے بھی کماتی اور بچت کرتی تھی۔ مرد اگر باہر سے روزی کماتا تھا تو عورت اندر سے گھر کی معیشت کو مضبوط بناتی تھی۔ آج یہ توازن ٹوٹ چکا ہے—نہ وہ گھریلو صنعتیں رہیں اور نہ وہ معاشی کردار۔ ایسے میں ہمیں مستقبل کے لیے عورت کے کردار پر سنجیدگی سے ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔ تعلیم، ڈیجیٹل اسکلز، جدید ہنر، آن لائن کاروبار، مالی فہم اور فیصلہ سازی میں شمولیت کے بغیر نہ عورت بااختیار ہو سکتی ہے اور نہ معاشرہ مستحکم۔ مستقبل کی مضبوط سوسائٹی وہی ہوگی جہاں عورت کو صرف گھر کی ذمہ داری نہیں بلکہ علم، ہنر اور قیادت کا حصہ بھی سمجھا جائے۔
آج کے دور میں ہماری سوشل میڈیا اکاؤنٹس محض تفریح یا وقتی اظہار کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ یہ ہماری ڈیجیٹل ڈائری بن چکے ہیں۔ ماضی میں لوگ اپنی زندگی کے تجربات ڈائریوں میں محفوظ کیا کرتے تھے، جو وقت کے ساتھ ضائع بھی ہو جاتی تھیں، مگر آج ہماری تحریریں، تبصرے اور پوسٹس برسوں تک محفوظ رہتی ہیں۔ ایک لمحے میں غصے، جذبات یا لاپرواہی میں لکھی گئی بات ہمیشہ کے لیے ہمارے نام کے ساتھ جُڑ جاتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی سوشل میڈیا موجودگی کی حفاظت کریں، الفاظ چنتے وقت سوچیں، اور یہ سمجھیں کہ ہر پوسٹ ہماری سوچ، تربیت اور اقدار کی عکاس ہوتی ہے۔
اگر ہم سوشل میڈیا کو شعور، مقصد اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں تو یہی پلیٹ فارمز آنے والی نسلوں کے لیے سیکھنے کا خزانہ بن سکتے ہیں۔ کل جب ہمارے بچے اور پوتے ہماری ٹائم لائنز کو اسکرول کریں گے تو انہیں محض شور، نفرت یا فضول بحثیں نہیں بلکہ زندگی کے تجربات، سیکھے گئے سبق اور مثبت سوچ نظر آنی چاہیے۔ با مقصد تحریر، مہذب اختلاف اور ذمہ دارانہ رویہ نہ صرف آج کے معاشرے کو بہتر بناتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک فکری ورثہ بھی چھوڑ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر لکھا گیا ہر لفظ دراصل تاریخ کا ایک صفحہ ہے—یہ ہم پر ہے کہ ہم اس تاریخ کو کیا شکل دیتے ہیں۔
ہم پاکستانی ایک دوسرے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، اسی لیے ہم روز صبح اٹھ کر کسی نہ کسی کام کے لیے کسی دوست یا رشتہ دار سے رابطہ کرتے ہیں کہ میرا فلاں کام کروا دو۔ اکثر اوقات وہ دوست یا رشتہ دار وہ کام کر بھی دیتا ہے، لیکن بعض اوقات کسی مجبوری کے تحت وہ بیچارہ وہ کام نہیں کر پاتا، جس سے تلخیاں جنم لیتی ہیں اور لوگ دل ہی دل میں ناراض ہو جاتے ہیں۔**
میں آپ کو چند مثالوں کے ذریعے یہ بات سمجھانا چاہتا ہوں، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ یا تو ہم ایک دوسرے سے کام نکلوانے والے کلچر کو ختم کر دیں، یا پھر جن لوگوں سے ہم مدد مانگتے ہیں، انہیں انسان سمجھتے ہوئے ان کی کمی کوتاہی کو معاف کرنا سیکھیں۔
**چند مثالیں کچھ یوں ہیں:**
1. میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ فری لانسنگ پلیٹ فارم کے لیے ایک جعلی آئی ڈی بناؤ اور مجھے جعلی آرڈر بھیجو۔ جب میں نے یہ کام کرنے سے انکار کیا تو شاید وہ ناراض ہو گیا۔
2. کچھ دوستوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ ٹک ٹاک لائٹ پر ہمارے دیے گئے لنک سے رجسٹر کرو تاکہ ہمیں پیسے ملیں۔ میں یہ کام بھی نہ کر سکا، کیونکہ پہلے ہی ایک دوست کی درخواست پر یہ کر چکا تھا۔
**اب وہ مثالیں جہاں میں نے خود دوستوں سے کام کروانا چاہا، مگر وہ نہ ہو سکا، اور میں کافی عرصہ ناراض رہا:**
1. پاکستان سے ایک دوست کوریا آ رہا تھا، میں نے اس سے کہا کہ میرے لیے ایک کلو مقامی مٹھائی لیتا آنا۔ وہ نہ لا سکا اور میں ناراض ہو گیا۔
2. ایک دوست کوریا سے پاکستان جا رہا تھا، میں نے اس سے کہا کہ میرے بھانجے کے لیے لیپ ٹاپ لیتا جانا۔ وہ یہ بھی نہ لے جا سکا اور میں اس پر بھی ناراض ہو گیا۔
اوپر دی گئی تمام مثالوں پر اگر غور کیا جائے تو ہر جگہ ہر شخص اپنی جگہ درست ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ہم کسی سے مدد مانگیں اور وہ اسے پورا نہ کر سکے تو رشتوں اور دوستیوں کو خراب کرنے کے بجائے سامنے والے کی مجبوری کو سمجھنا چاہیے۔
AOA,
Welcome to my page, please follow and be part of this beautiful journey.
میں پاکستان میں پیدا ہوا، وہیں خواب دیکھے، اور آج جنوبی کوریا میں رہتے ہوئے اُن خوابوں کو سمجھنے اور بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ دو مختلف معاشروں میں جینا انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ترقی صرف عمارتوں سے نہیں آتی، بلکہ نظم، ذمہ داری اور اجتماعی شعور سے جنم لیتی ہے۔ کوریا میں رہتے ہوئے روزانہ یہ احساس ہوتا ہے کہ مسائل ہر ملک میں ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ کچھ قومیں مسائل کو حل کرتی ہیں اور کچھ انہیں معمول بنا لیتی ہیں۔
میں یہاں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہوں اور اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ یہ سفر آسان نہیں تھا، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ اسی یقین کے ساتھ میں یہ صفحہ بنا رہا ہوں تاکہ وہ سب کچھ شیئر کر سکوں جو میں نے سیکھا—تعلیم کے راستے، انجینئرنگ کی عملی سوچ، زندگی کے تلخ و شیریں تجربات، اور وہ مواقع جو اکثر معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہم کھو دیتے ہیں۔
یہاں گفتگو صرف بیرونِ ملک جانے تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ سوچ بدلنے، خود انحصاری سیکھنے اور بہتر انسان بننے کی کوشش ہوگی۔ ہم تعلیم، انجینئرنگ، دین، سیاست، مواقع، پاکستان و کوریا کے سماجی فرق، اور کھیل—خاص طور پر کرکٹ 🏏—پر بات کریں گے، کھل کر مگر احترام کے ساتھ۔
اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں، سوال کرنا چاہتے ہیں، یا اپنی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی کی تلاش میں ہیں تو آپ درست جگہ پر ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.