AsK UU about Japan

AsK UU about Japan My name is Dr. Umair Umer(UU). A Researcher currently residing in Japan. "Do SoMeThInG tHaT mAkEs YoUr PeOpLe PrOuD"

۔۔۔میری سوچ دستاویزات کی تصدیق اور حقیقتجب بھی کوئی پاکستانی بیرونِ ملک جاتا ہے، سب سے بڑا جھنجھٹ دستاویزات کی تصدیق ہوت...
13/10/2025

۔۔۔میری سوچ
دستاویزات کی تصدیق اور حقیقت
جب بھی کوئی پاکستانی بیرونِ ملک جاتا ہے، سب سے بڑا جھنجھٹ دستاویزات کی تصدیق ہوتا ہے
سرٹیفیکیٹ، ڈگری، پیدائش کے کاغذات — ہر چیز کو مختلف اداروں سے اٹسٹ کروا کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ لوگ روتے ہیں، شکایت کرتے ہیں: "اتنا پیچیدہ کیوں؟ اتنے پیسے کیوں دینا پڑتے ہیں؟"
کچھ غصہ بھی کرتے ہیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں یہ ضروری ہے۔
جاپان 🇯🇵: ہر تعلیمی اور شناختی کاغذ کی تصدیق لازمی
امریکہ 🇺🇸: ڈگریز اور سرٹیفیکیٹس verify کروانے پڑتے ہیں
چین 🇨🇳: قانونی یا تعلیمی دستاویزات notarization اور embassy attestation سے گزرتی ہیں
برطانیہ 🇬🇧: رسمی عمل کے بغیر سرٹیفیکیٹ قبول نہیں ہوتا
یورپ 🇪🇺: ہر ڈگری، ویزا یا قانونی دستاویز کی تصدیق لازمی ہے
یہ attestation صرف کسی ملک کو مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں، بلکہ دنیا بھر میں آپ کی قابلیت اور شناخت کو معتبر بنانے کے لیے ہے۔
پاکستان نے اپنی پروسیس میں بہتری کی ہے، مگر ہم فوراً الزام لگاتے ہیں، خود کو مظلوم یا کمزور دکھاتے ہیں اور رونا دھونا کرتے ہیں۔
حل آسان ہے: اپنی اصل دستاویزات اسکین کریں، ویب سائٹ سے مراحل اور فیس چیک کریں، معتبر کنسلٹنٹ یا وکیل کی مدد لیں، رسید اور ثبوت محفوظ رکھیں، آن لائن سہولت استعمال کریں اور رونا چھوڑ کر خود ذمہ داری اٹھائیں۔
شکوہ عام، حل کم! دنیا میں سب ایسا کرتے ہیں، تم انوکھی نہیں… لیکن تم اپنے فیصلوں میں ذمہ دار اور مضبوط ضرور ہو سکتے ہو!
فقط ڈاکٹر عمیر عمر

میری سوچ ۔۔۔جاپانی مہمان اور پاکستانی دسترخوان کچھ دن پہلے ایک جاپانی دوست میری دعوت پر پہلی بار میرے گھر آیا۔ وہ اپنی ب...
25/08/2025

میری سوچ ۔۔۔
جاپانی مہمان اور پاکستانی دسترخوان
کچھ دن پہلے ایک جاپانی دوست میری دعوت پر پہلی بار میرے گھر آیا۔ وہ اپنی بیگم جو امریکہ نیشنل ہےکے ساتھ تھا۔ ہم سب ایک ساتھ بیٹھےگھپ شپ لگائی،اور پھر کھانا شروع ہوا تو باتوں ہی باتوں میں اس نے ایک ایسی بات کہہ دی کہ میرے دل کو جیسے کسی نے جھنجھوڑ دیا۔
وہ بولا:
"میں نے اپنی زندگی میں آج تک جاپان میں کوئی غریب انسان نہیں دیکھا۔"
میری ہنسی نکل گئی، لگا شاید وہ مزاق کر رہا ہے۔ لیکن اس کی آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ 36 سال کا ہے، دنیا دیکھی ہے، نوکری کی ہے، بہت ممالک کا سفر کیا ہے، مگر کبھی اس نے جاپان میں کوئی بھیک مانگتا ہوا، سڑک پر سوتا ہوا یا بھوکا انسان نہیں دیکھا۔
یہ سن کر میرے دل میں طوفان آگیا۔ ہمارے ہاں تو ہر موڑ پر غربت ہمیں منہ چڑھاتی ہے۔ لیکن جاپان میں غربت ہے، پر چھپی ہوئی۔ وہاں حکومت سہارا دیتی ہے، لوگ اپنی عزت نفس کو بچاتے ہیں۔ ان کی غربت ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔
پھر اس نے دوسری بات کہی، جو اور زیادہ حیران کن تھی:
"میں نے اپنی زندگی میں بچپن سے لے کر آج تک اپنے کسی بہترین دوست کے گھر کھانا نہیں کھایا۔"
یہ الفاظ میرے دل میں تیر کی طرح لگے۔ سوچو36 سال کی زندگی، درجنوں دوست، اتنی ملاقاتیں۔ مگر ایک بار بھی کسی دوست کے گھر جا کر کھانا نہ کھایا؟
ہمارے ہاں تو معاملہ بالکل الٹ ہے۔ بچپن سے دوستوں کے گھروں میں دوڑ لگتی ہے، ماں کے ہاتھ کے پراٹھے، دوست کی امی کے ہاتھ کا سالن، سب کی یادیں زندگی کا سرمایہ بن جاتی ہیں۔ ہمارے لیے دسترخوان پر پیار بانٹنا سب سے بڑی خوشی ہے۔
اس دن مجھے احساس ہوا:
جاپان نے اپنے لوگوں کو غربت سے بچا لیا، بھوک سے بچا لیا، مگر ہم پاکستانیوں نے ایک اور بڑی دولت پائی ہے. محبت بانٹنے کی دولت، رشتوں کو سینے سے لگانے کی دولت، اپنے گھروں کے دروازے دوسروں کے لیے کھولنے کی دولت۔
ہوسکتا ہے ہمارے پاس دولت کم ہو، سہولتیں کم ہوں، لیکن ہمارے پاس وہ خوشی ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں، کاش ہم جاپانیوں کی ترقی سیکھ لیں، اور وہ ہماری محبت بانٹنے کی روایت اپنا لیں۔
دنیا شاید تب ایک جنت کا روپ دھار لے۔

فقط:ڈاکٹر عمیر عمر

08/08/2025

میری سوچ ۔۔۔
اینیمی، روبوٹس، ٹیکنالوجی؟ یہی ہے جاپان؟
نہیں… اصل جاپان آج کچھ اور مانگ رہا ہے!
جاپان کی سڑکوں پر چہل پہل ہے، مگر…
دفتروں میں خالی کرسیاں
فیکٹریوں میں سناٹا
کھیتوں میں بوڑھے ہاتھ
اسپتالوں میں کم نرسیں
اور حکومت… نوجوانوں کو آواز دے رہی ہے!
آج کی حقیقت:
جاپان کی 30.4% آبادی 60 سال سے زائد عمر کی ہو چکی ہےیعنی3کروڑ 35لاکھ بوڑھی آبادی۔
ہر سال لاکھوں لوگ ریٹائر ہو رہے ہیں اور ملک کے پاس اتنے نوجوان نہیں کہ سسٹم چلا سکیں۔
ملک میں کام کرنے والوں سے زیادہ پنشن لینے والے ہو گئے ہیں۔
اگلے 10 سالوں میں جاپان کو لاکھوں غیر ملکی ورکرز کی ضرورت ہو گی
اِس وقت 47% لوگ 50 سال سے اوپر ہیں
2035 تک یہ تعداد 60% سے بھی اوپر ہو جائے گی
کمانے والے کم، پنشن لینے والے زیادہ
جاپان کو تمہاری ضرورت ہے!
ورک ویزا آسان
زبان کی شرط کچھ شعبوں میں ختم
اسکالرشپس کی لائن
گورنمنٹ خود سپورٹ دے رہی ہے
اور ہم؟
ہم کہتے ہیں "ہمارا پاسپورٹ کمزور ہے"
"ہم جا نہیں سکتے"
"بس نصیب نہیں"
نہیں بھائی!
یہ کمزور پاسپورٹ نہیں…
یہ کمزور ارادہ ہے!
وہی پاکستانی جو کچھ کرنا چاہے،
اسی پاسپورٹ پر دنیا گھوم لیتا ہے، تعلیم حاصل کرتا ہے، دوہری شہریت لے لیتا ہے۔
یہ وقت ہے جاگنے کا!
جاپان صرف فلموں کا خواب نہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے…
جو تمہیں پکار رہی ہے۔
فقط Dr.UU

۔۔۔میری سوچ پاسپورٹ کمزور نہیں ہوتا، نظر کمزور ہوتی ہے!میں ایک پاکستانی ہوں۔میرے ہاتھ میں سبز پاسپورٹ ہے۔جسے دنیا کمزور ...
07/08/2025

۔۔۔میری سوچ
پاسپورٹ کمزور نہیں ہوتا، نظر کمزور ہوتی ہے!
میں ایک پاکستانی ہوں۔
میرے ہاتھ میں سبز پاسپورٹ ہے۔
جسے دنیا کمزور کہتی ہے،
اور اپنے ہی لوگ تو مذاق بناتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں "پاسپورٹ کمزور ہےاس کی کوئی دنیا میں پہچان نہیں"،
اصل میں وہ اپنے خوابوں سے بھاگے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔
انہیں ویزہ نہیں چاہیے،
انہیں بس ایک بہانہ چاہیے ۔ہار ماننے کا۔
لیکن میرے جیسا عام آدمی،
جس نے نہ سفارش دیکھی، نہ سہولت۔
بس چپ چاپ محنت کی...
اسے کوئی سرحد نہیں روک سکی۔لیکن یہ پاسپورٹ میرے باپ کے خوابوں کی علامت ہے۔
یہ اس ماں کی دعاؤں کی پہچان ہے،
جس نے بیٹے کو رخصت کیا تھا صرف یہ کہہ کر:
"بیٹا، عزت سے جینا۔ کسی کا محتاج نہ ہونا!"
لوگ کہتے ہیں "یہ پاسپورٹ کچھ نہیں"،
مگر میں نے اسی پاسپورٹ پر
علم سیکھا اور بانٹا،
اور دنیا کو دکھایا کہ:
پاکستانی محنت سے نہیں ڈرتے۔
وہ جو بہانے ڈھونڈتے ہیں،
وہ پاسپورٹ کو الزام دیتے ہیں۔
اصل میں، انہیں اپنی نیت پر یقین نہیں ہوتا۔
یہ سبز رنگ صرف کاغذ کا نہیں۔
یہ امید کا رنگ ہے،
یہ قربانیوں کی مہک ہے،
یہ میرے وطن کی مٹی کی خوشبو ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے:
جس نے چلنا سیکھا،
اسے کوئی سرحد روک نہیں سکی۔
"کمزور پاسپورٹ" کہنا آسان ہے،
مگر کچھ کر کے دکھانا وہ حوصلے والوں کا کام ہے۔
اگر تم بھی اُن لوگوں میں سے ہو
جو اپنے خوابوں کو قوم کا فخر بنانا چاہتے ہیں۔
تو اپنے آپ سے وعدہ کرو:
بہانے نہیں، کوشش کریں گے۔
شکوے نہیں، عمل کریں گے۔
فقط Dr.UU

03/08/2025

میری سوچ۔۔۔
"ایک ووٹ ۔۔۔ ایک فرق"
کچھ دن پہلے جاپان میں الیکشن ہوئے۔
کسی کو پتا بھی نہیں چلا۔
نہ کوئی لاؤڈ اسپیکر،
نہ گلی گلی نعرے،
نہ دیواروں پر رنگین وعدے،
نہ سروں پر رنگ رنگ کے جھنڈے۔
بس لوگ آئے،
خاموشی سے ووٹ دیا،
اور اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
اور پھرمیرے دل نے سوال کیا...
"کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے؟
کیا ووٹ بغیر شور کے بھی دیا جا سکتا ہے؟"
یاد آیا...
اپنے پیارے پاکستان میں تو الیکشن ایک تہوار ہوتا ہے،
جہاں آواز اونچی ہو تو سمجھا جاتا ہے بات سچی ہے۔
ہر طرف شور،
ہر طرف ہنگامہ،
جذبات بہت،
لیکن سوچ... شاید کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔
سچ پوچھو...
تو ہم صرف ووٹ نہیں دیتے،
ہم ایک خواب دیتے ہیں ۔ اپنے بچوں کے لیے،
ایک دعا دیتے ہیں ۔ اپنے کل کے لیے۔
تو پھر سوال یہ ہے:
کیا وہ خواب بھی نعرے میں دفن ہو جانا چاہیے؟
یا سکون سے، سوچ سے، یقین سے اسے چننا چاہیے؟
میرا دل کہتا ہے...
ہمیں جاپانی بننے کی ضرورت نہیں۔
بس اپنے اندر وہ خاموشی اور تھوڑا صبر پیدا کرنے کی ضرورت ہے،
جو ہمیں خود سے سچ سنوا سکے۔
ووٹ دو، ضرور دو۔
لیکن صرف نعرے سن کر نہیں،
بلکہ دل کی آواز سن کر۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا:
ہم تب بدلیں گے،
جب ہم ووٹ کو "ایمانت" سمجھ کر ڈالیں گے۔
نہ کسی کے خلاف،
بلکہ اپنے بچوں کے کل کے حق میں۔
فقط Dr. UU

29/07/2025

میری سوچ۔۔۔
ایک عام پاکستانی کی خاص کہانی 🇵🇰
آج بھی ہمارے لوگ...
بجلی نہ ہونے پر اندھیرے میں بھی ہنسنا نہیں بھولتے،
سارا دن مزدوری کے بعد بھی فجر میں اٹھتے ہیں،
اور رات کو بچوں کے سروں پر ہاتھ رکھ کر دعا کرتے ہیں کہ
"اے اللہ! کل کا دن آج سے بہتر ہو۔"
یہی ہے ہمارا صبر۔ جو ہمیں ٹوٹنے نہیں دیتا،
یہی ہے ہماری روحانیت۔جو ہر اندھیرے میں امید کا چراغ جلاتی ہے۔
ہم شاید سڑکوں پر اچھی ڈرائیونگ نہ کرتے ہوں.
شاید قطار میں کھڑا ہونا نہ سیکھ سکے ہوں.
یا وقت کی پابندی ابھی تک مکمل نہ ہو.
لیکن ہمارے دلوں میں ایک طاقت ہے۔
جو ہر مشکل کو سہنا جانتی ہے،
جو ہار ماننے سے انکار کرتی ہے۔
یہی بات ہمیں دنیا سے مختلف بناتی ہے:
ہم جیتنے کے لیے دوسروں کو ہرانا نہیں چاہتے۔
ہم جیتنے کے لیے صرف خود کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن صرف امید کافی نہیں۔وقت آ گیا ہے کہ ہم خود کو بھی بدلیں۔ علم حاصل کریں، سوچ بدلیں، سوال کریں، سمجھیں۔
کیونکہ وقت بدلے گا۔
لیکن تب ہی،جب ہم خود کو بدلنے کا فیصلہ کریں گے۔

فقط Dr. UU

میری سوچ۔۔بارش آئی، گلیاں بھر گئیں، نالے اُبل پڑے، بیماریاں پھیل گئیں... مگر قصور وار کون؟ہم فوراً کہتے ہیں: "حکومت ناکا...
28/07/2025

میری سوچ۔۔

بارش آئی، گلیاں بھر گئیں، نالے اُبل پڑے، بیماریاں پھیل گئیں... مگر قصور وار کون؟
ہم فوراً کہتے ہیں: "حکومت ناکام ہو گئی!"
لیکن ذرا سوچئے.
کیا حکومت نے ہر بندے سے کہا تھا کہ:

کچرا نالے میں پھینکو؟
پلاسٹک بیگ گٹر میں بہاؤ؟
ریپرز، بوتلیں اور پھلوں کے چھلکے سڑک کنارے پھینکو؟

توجواب ہے نہیں! یہ سب ہم خود کرتے ہیں ۔ اور پھر روتے ہیں کہ سیلاب آ گیا، گلیاں ڈوب گئیں، بچے بیمار ہو گئے۔

اب ذرا جاپان کی مثال دیکھیں:
جاپان میں لوگ صرف اپنے گھروں کی نہیں بلکہ گلی، سڑک، اسکول، پارک ۔ ہر جگہ کی صفائی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
وہ نہ صرف کچرا الگ کرتے ہیں بلکہ کبھی نالے، گٹر یا کھلی جگہ پر نہیں پھینکتے۔
ان کے یہاں گندگی صرف نظر آنا نہیں — سوچ سے بھی ناقابلِ قبول ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ:
نالوں میں بہنے والا کچرا ہم نے پھینکا ہوتا ہے،
سڑک پر جمع ہونے والا پانی ہم نے خود راستہ بند کیا ہوتا ہے،
اور بیماریوں کے جو جال پھیلتے ہیں، وہ ہماری لاپرواہی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

اب وقت ہے بیدار ہونے کا۔
اگر ہر شخص صرف یہ عہد کر لے کہ:

کچرا صرف کچرا دان میں ڈالے گا
نالے میں کچھ نہیں پھینکے گا
گلی، سڑک اور نالی کو بھی اپنے گھر کا حصہ سمجھے گا

تو یقین کریں، ہم خود سیلاب، گندگی اور بیماریوں کو شکست دے سکتے ہیں . بغیر حکومت کو برا کہے۔

تبدیلی حکومت سے نہیں، عوام سے شروع ہوتی ہے! میرے کچھ جانیوالے@ Nabeel Aamer Sheikh اور اُن کی ٹیم بار بار پیغام دیتے ہیں ماحول صفائی کا۔وہ اپنا کام بنا کسی کی مدد کیے کر رہے آپ بھی اُن کا ساتھ دیں اور ماحول کو بہتر بنائیں ۔
اور یاد رکھیں: "صفائی نصف ایمان ہے" — یہ صرف قول نہیں، عمل ہے۔

فقط Dr.UU

27/07/2025

میری سوچ ۔۔۔

موازنہ شرمندگی نہیں، بیداری کی علامت ہے 🇵🇰 🇯🇵

اکثر میرے لوگ مجھے کہتے ہیں: "جاپان سے کیوں
موازنہ کرتے ہو؟ کیا ہم واقعی اتنے برے ہیں؟"

نہیں نہیں ! یہ موازنہ کسی کو کمتر ثابت کرنے کے لیے،بلکہ یہ ایک اپنے آپ کو دیکھنے كا آئینہ ہے۔جو ہمیں وہ دکھاتا ہے جو ہم خود دیکھنا نہیں چاہتے۔

جاپان نے بھی جنگ، تباہی اور غربت دیکھی، مگر پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ علم، اصول، دیانت، اور اجتماعی شعور سے خود کو دوبارہ کھڑا کریں
گے۔

وہاں بچے اسکول میں صرف نصاب نہیں، بلکہ اخلاق، صفائی، وقت کی پابندی اور ذمہ داری سیکھتے ہیں۔

لوگ قانون سے ڈرتے نہیں، بلکہ اس کا احترام کرتے ہیں۔

تعلیم وہاں صرف نمبرز کی دوڑ نہیں بلکہ شخصیت سازی ہے۔

ہر شہری چھوٹے چھوٹے کام خود کرتا ہے ۔صفائی ہو، نظم ہو یا انصاف۔

اور ہم؟
ہم میں بے پناہ صلاحیت ہے، مگر ہم نے سوال تو اٹھائے ۔حل نہیں دیے، تنقید تو کی ۔ مگر اصلاح میں پیچھے رہے۔
اب وقت ہے کہ ہم صرف سوال نہ کریں، خود کو جواب بنائیں۔
قومیں آئینہ دیکھ کر شرمندہ نہیں ہوتیں، سنبھلتی ہیں، سنورتی ہیں اور آگے بڑھتی ہیں۔

اگر آج ہم نے سوچ بدلی تو کل ہمیں کوئی موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی — دنیا خود ہم سے سیکھے گی۔

فقط UU

27/07/2025

علم خریدا نہیں جا سکتا بلکہ کردار بناناپڑتا ہے
اگر ہم تعلیم کو محض نمبرات، جعلی ڈگریوں یا
خریدی ہوئی کامیابیوں تک محدود کر دیں، تو نہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی تاریک کر رہے ہیں
دنیا میں ترقی اُن قوموں نے کی جنہوں نے تعلیم کو صرف ڈگری یا نوکری کا ذریعہ نہیں، بلکہ ذمہ داری، دیانت اور خدمتِ خلق کا ہنر سمجھا۔

جاپان جیسے معاشروں میں نظام میں اگر خامی بھی ہو، تو لوگ شور نہیں مچاتے۔خاموشی سے اصلاح کرتے ہیں۔ ہم کب سیکھیں گے؟
کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم خود احتسابی کریں، اور سوچیں:
ہم نے علم کو عبادت سمجھا یا تجارت؟
ہم نے اپنی ڈگری سے خدمت کی یا صرف نوکری حاصل کی؟
آئیں، تعلیم کو عزت دیں.
علم خریدنے کے بجائے حاصل کریں، تاکہ سچائی، قابلیت اور انصاف پر مبنی معاشرہ پروان چڑھ سکے۔

住所

Hokkaido
Sapporo-shi, Hokkaido

ウェブサイト

アラート

AsK UU about Japanがニュースとプロモを投稿した時に最初に知って当社にメールを送信する最初の人になりましょう。あなたのメールアドレスはその他の目的には使用されず、いつでもサブスクリプションを解除することができます。

ショートカット

  • 住所
  • アラート

共有する

カテゴリー