04/09/2026
سقراط نے کبھی درس دینے یا لیکچر دینے کا طریقہ نہیں اپنایا، بلکہ وہ بحث و مباحثے اور سوالات کے ذریعے لوگوں کو خود سچائی تک پہنچنے پر مجبور کرتے تھے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سچا علم انسان کے اندر پہلے سے موجود ہوتا ہے، اسے صرف درست سوالات کے ذریعے باہر نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سقراط کا مشہور قول ہے کہ "میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانता"۔ یہ فقرہ ان کے عاجزانہ علمی رویے کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک لاعلمی کا اعتراف ہی علم کی تلاش کا پہلا اور سب سے بڑا زینہ ہے۔
انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب نہیں لکھی۔ ان کے نظریات اور فلسفے کو بعد میں ان کے سب سے بڑے شاگرد افلاطون (Plato) نے اپنی کتابوں (مکالمات) میں تحریری شکل دی۔ اگر وہ کتابیں لکھتے تو شاید فلسفہ ایک بندھے ٹکے نظریے کی شکل اختیار کر لیتا، لیکن سوالات کی شکل میں زندہ رہنے کی وجہ سے یہ ہمیشہ کے لیے ترقی پذیر رہا۔
روایتی علم اکثر بند راستوں اور حتمی جوابات پر ختم ہو جاتا ہے، جبکہ ایک طاقتور سوال انسان کو سوچنے، تحقیق کرنے اور نئے افق تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سوال وہ چنگاری ہے جو تعصبات کے بت توڑتی ہے اور عقل کو بیدار کرتی ہے۔