معلومات

معلومات Informazioni di contatto, mappa e indicazioni stradali, modulo di contatto, orari di apertura, servizi, valutazioni, foto, video e annunci di معلومات, Bolzano.
(741)

معلومات پیج ایک ایسا بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں آپ کو معلوماتی مواد کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزا اور موٹیویشنل کہانیاں بھی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ جہاں معلوماتی حقائق کے ساتھ ساتھ فکر انگیز مواد بھی پیش کیا جاتا ہے۔ معلومات پیج سے جڑیں رہیں اور اس کو فالو کریں https://www.facebook.com/Dilchasp.info

دلچسپ معلومات: زبردست اور حیرت انگیز معلومات پر مبنی اردو پیج ہے۔ اوپر دیئے گئےپیج کے لنک کو ایک دفعہ وزٹ ک

ریں۔ اگر پسند آئے تو ضرور اس پیج کو لائک کریں تاکہ آپ کو اس پیج کی روزانہ دلچسپ اور حیرت انگیز پوسٹ ملتی رہیں۔ شکریہ

اگر آپ ( دلچسپ و عجیب معلومات) پیج کو پسند کرتے ہیں۔ تو اپنی فرینڈ لسٹ کو بھی اس کی دعوت دیں۔
دعوت کا طریقہ۔
نیچےاس لنک پر کلک کر کے دلچسپ معلوما ت کے پیج پر جائیں۔
https://www.facebook.com/Dilchasp.info
اور
Invite Your Friends to Like This Page
پر
Invite
کے بٹن کو دبا کر اپنے فرینڈز کو دعوت دیں۔ شکریہ

سقراط نے کبھی درس دینے یا لیکچر دینے کا طریقہ نہیں اپنایا، بلکہ وہ بحث و مباحثے اور سوالات کے ذریعے لوگوں کو خود سچائی ت...
04/09/2026

سقراط نے کبھی درس دینے یا لیکچر دینے کا طریقہ نہیں اپنایا، بلکہ وہ بحث و مباحثے اور سوالات کے ذریعے لوگوں کو خود سچائی تک پہنچنے پر مجبور کرتے تھے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سچا علم انسان کے اندر پہلے سے موجود ہوتا ہے، اسے صرف درست سوالات کے ذریعے باہر نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سقراط کا مشہور قول ہے کہ "میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانता"۔ یہ فقرہ ان کے عاجزانہ علمی رویے کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک لاعلمی کا اعتراف ہی علم کی تلاش کا پہلا اور سب سے بڑا زینہ ہے۔

انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب نہیں لکھی۔ ان کے نظریات اور فلسفے کو بعد میں ان کے سب سے بڑے شاگرد افلاطون (Plato) نے اپنی کتابوں (مکالمات) میں تحریری شکل دی۔ اگر وہ کتابیں لکھتے تو شاید فلسفہ ایک بندھے ٹکے نظریے کی شکل اختیار کر لیتا، لیکن سوالات کی شکل میں زندہ رہنے کی وجہ سے یہ ہمیشہ کے لیے ترقی پذیر رہا۔

روایتی علم اکثر بند راستوں اور حتمی جوابات پر ختم ہو جاتا ہے، جبکہ ایک طاقتور سوال انسان کو سوچنے، تحقیق کرنے اور نئے افق تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سوال وہ چنگاری ہے جو تعصبات کے بت توڑتی ہے اور عقل کو بیدار کرتی ہے۔

گتا ہے رہنما صاحب جب یہ بیان دے رہے تھے، تو ان کا موازنہ بھی "کمزور بصارت" والے کسی مریض کے چشمے کے ذریعے کیا گیا تھا، ج...
04/09/2026

گتا ہے رہنما صاحب جب یہ بیان دے رہے تھے، تو ان کا موازنہ بھی "کمزور بصارت" والے کسی مریض کے چشمے کے ذریعے کیا گیا تھا، جس کے ذریعے ایک بوسیدہ وارڈ کو سویڈن کا فائیو سٹار کلینک نظر آ رہا تھا۔
جب برطانوی وزیر صحت یہ تصویر دیکھیں گے، تو وہ فوراً اپنا استعفیٰ دے دیں گے کہ "بھائی، ہم سے ایسا 'شاندار' نظام نہیں بن سکتا جیسا کہ سندھ میں ہے!"

28/07/2026

جذباتی نعرے، تاریخی ہیرا پھیری اور قوموں کا واقعی استحکام

ہماری تاریخ اور عوامی بیا نیے میں ٹیپو سلطان کو بہادری، غیرت اور شجاعت کے ایک ایسے ناقابلِ فراموش کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کا ہر لفظ ہماری جذباتی تربیت کا حصہ رہا۔ "شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے" کا نعرہ سن کر نہ جانے کتنی نسلیں پروان چڑھیں اور ہم سب نے زندگی بھر محض ایک دن کی جذباتی شجاعت کی خاطر طویل الميعاد تدبیر اور پائیدار حکمتِ عملی کو پسِ پشت ڈال دیا۔ لیکن اگر تعصب اور جذباتی لگاؤ سے ہٹ کر تاریخ کا گہرا اور ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دشمن ہمیشہ براہِ راست جنگ کے ساتھ ساتھ حریف کو نفسیاتی جال میں الجھانے کی کاوشیں بھی کرتا ہے۔ سر کیمپبل اور جان کیناوے جیسے بیرونی چالاک کارندے اور ان کے اندرونی ہم نوا مسلسل حریف کو بہادری کا پٹ پڑھاتے رہے تاکہ وہ جذباتی ہو کر تنہا میدان میں کود پڑے اور اپنے دفاعی تدبر اور طویل الميعاد حکمتِ عملی کو بھول جائے۔ مائیسور کے حکمران نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا، لیکن حقیقت کی دنیا کا قانون انتہائی سخت اور تلخ ہے۔ تنہا اور اندرونی و بیرونی دشمنوں کے گھیرے میں گھرا ہوا انسان، خواہ کتنا ہی بہادر کیوں نہ ہو، بلآخر شکست کا شکار ہو جاتا ہے۔ 4 مئی 1799ء کو جب وہ معرکہ ختم ہوا تو دنیا نے بہادری کی سند اور شیر کا لقب تو عطا کر دیا، مگر اس کا بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کی ایک سب سے طاقتور اور منظم ریاست کا وجود ہمیشہ کے لیے مٹ گیا اور غیر ملکی تسلط کا راستہ دہلی تک صاف ہو گیا۔

اگر تاریخ کو واپس موڑ کر دیکھا جائے اور جذبات کے بجائے عقل و دانش کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر محض فرد کی بہادری کا نعرہ لگانے کے بجائے تمام تر توجہ ریاست کی داخلی بنیادوں پر دی جاتی، عسکری قوت کو جدت سے آراستہ کیا جاتا، عوام کی معاشی خوشحالی یقینی بنائی جاتی اور علاقائی یکجہتی قائم کر کے اندرونی غداروں کا سدِ باب کیا جاتا، تو کیا مٹھی بھر بیرونی طاقتیں پورے برصغیر پر قابض ہو سکتیں؟ ہرگز نہیں! لیکن جب دشمن حریف کو مسلسل "شیر" کہہ کر اس کا غرور ابھارتا رہے اور وہ خود کو شیر ثابت کرنے کی دھن میں تمام تر سیاسی اور سفارتی تدابیر کو نظر انداز کر دے، تو انجام وہی ہوتا ہے جو تاریخ نے دیکھا۔

یہ ایک عالمگیر سچائی ہے کہ قوموں اور ملکوں کا وجود محض نعروں، نام نہاد معجزاتی تحفظ کے دعووں یا ماضی کی داستانوں سے قائم نہیں رہتا۔ قدرت کا قانون بلا امتياز ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ حقائق کی دنیا اتنی سخت ہے کہ ماضی کی بڑی بڑی عظیم الشان سلطنتیں اور تمدن صرف اس وقت ختم ہو گئے جب انہوں نے اپنے اندرونی استحکام، عدل، معیشت اور اتحادی صلاحیتوں کو کھو دیا۔ جذباتی نعروں اور بیانیے کی آڑ میں حقیقت سے آنکھیں چرانا ہمیشہ تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔

آج بھی دنیا کی بڑی طاقتیں اور چالاک سفارت کار کمزور یا جذبات سے مغلوب قوموں کو ان کے عظیم ماضی، ناقابلِ تسخیر ہونے اور تاریخ ساز حیثیت کا فرضی یقین دلا کر انہی کے ہاتھوں ان کی تباہی کا سامان کرتی ہیں۔ انہیں ایک لایعنی جنگ یا بے سمت مہم جوئی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے تاکہ وہ معاشی اور سیاسی طور پر اتنے کمزور ہو جائیں کہ ان کے تمام قدرتی وسائل، تیل، گیس اور جغرافیا پر بیرونی طاقتیں قابض ہو سکیں۔ عراق ہو، ایران ہو یا دنیا کی دیگر اقوام، جب بھی کوئی قوم حقیقت پسندی چھوڑ کر محض جذباتی نعروں اور فتح کے موہوم خوابوں پر تکیہ کرتی ہے، تو وہ ان چالاک نیولوں کا شکار بن جاتی ہے جو پسِ پردہ بیٹھ کر کھیل تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

اگر قومیں اور ریاستیں واقعی اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی ہیں تو انہیں "اللہ کی خاص حفاظت" کی غلط فہمی یا محض غیبی معجزوں کی امید پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے بجائے اپنے اندرونی حالات کی اصلاح کرنا ہوگی۔ ملکی دفاع کو مضبوط بنانا، معاشی خود کفالت حاصل کرنا، اندرونی نفاق کا خاتمہ کرنا اور واقعی ایک متحد و منظم قوم بننا ہی بقا کی واحد ضمانت ہے۔ وگرنہ جب تک قومیں جذباتی بیانیوں کا شکار ہو کر اصل کام یعنی معاشی و سیاسی استحکام سے غافل رہیں گی، وہ ہمیشہ تاریخ کی ان غلطیوں کا اعادہ کرتی رہیں گی جہاں شجاعت کے داستانوی قصے تو باقی رہ جاتے ہیں مگر ریاستیں نقشے سے مٹ جاتی ہیں۔

لامین یامال (Lamine Yamal) ہسپانوی فٹ بال کے ایک ابھرتے ہوئے نوجوان اسٹار ہیں جو ہسپانوی قومی ٹیم (Spain) اور ایف سی بار...
20/07/2026

لامین یامال (Lamine Yamal) ہسپانوی فٹ بال کے ایک ابھرتے ہوئے نوجوان اسٹار ہیں جو ہسپانوی قومی ٹیم (Spain) اور ایف سی بارسلونا (FC Barcelona) کے لیے کھیلتے ہیں۔ ان کا خاندانی پس منظر اور پیدائش انتہائی دلچسپ ہے کیونکہ وہ 13 جولائی 2007 کو اسپین کے شہر بارسلونا میں پیدا ہوئے لیکن ان کی جڑیں کثیر الثقافتی دنیا سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے والد منیر نصراوی کا تعلق مراکش سے ہے جبکہ ان کی والدہ شیلا ایبانا کا تعلق ایکواٹوریل گنی سے ہے، جس کی وجہ سے انہیں ایک متنوع ثقافتی ماحول ملا۔ ان کا پورا نام لامین یامال نصراوی ایبانا ہے اور یہ نام عربی زبان سے ماخوذ ہے، جہاں لامین کا مطلب الامین یعنی امانت دار یا سچا ہے اور یامال دراصل جمال کے معنی میں آتا ہے جس کا مطلب خوبصورتی یا رعنائی ہے۔

ان کی اسلامی شناخت اور عقیدے کے حوالے سے بات کی جائے تو لامین یامال ایک باعمل مسلمان ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر بھی فخر سے اس کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ ایک مسلمان ہیں اور ان کا ایمان ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ وہ اکثر فٹ بال میچز کے دوران گول اسکور کرنے کے بعد میدان میں سجدہ ریز ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں، جو عالمی سطح پر ان کی مسلم شناخت کو نمایاں کرتا ہے اور دنیا بھر کے مسلم شائقین کے لیے ایک متاثر کن منظر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پیشہ ورانہ فٹ بال کی سخت مصروفیات اور جسمانی تقاضوں کے باوجود رمضان المبارک کے روزے رکھنے اور مساجد میں جا کر سکون حاصل کرنے کے حوالے سے کھل کر بات کرتے ہیں جو ان کے پختہ عقیدے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی دادی کا نام فاطمہ ہے۔ لامین یامال اس وقت نہ صرف دنیا کے باصلاحیت ترین نوجوان فٹ بال کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، بلکہ وہ یورپ کے کھیلوں کے میدانوں میں اپنی مسلم اقدار اور ثقافت کی ایک مضبوط پہچان بن کر ابھرے ہیں اور نئی نسل کے لیے ایک بہترین مثال بن رہے ہیں۔

27/06/2026
...
12/06/2026

...

خوشخبری! غربت اب صرف ایک "سوچ" کا نام ہے: حکومت کا انقلابی فارمولا
حکومتِ وقت نے قوم کو ایک ایسی خوشخبری سنائی ہے کہ سن کر یقین نہیں آتا، بلکہ اسے سن کر تو جی چاہتا ہے کہ غربت کے مارے لوگ خوشی سے چھلانگیں لگانا شروع کر دیں۔ حکومت نے غربت ختم کرنے کا وہ قدیم، فرسودہ اور "تکلیف دہ" طریقہ ترک کر دیا ہے جس میں انسان کو پیٹ بھر کر کھانے اور تن ڈھانپنے کی فکر کرنی پڑتی تھی۔ اب نیا اور جدید طریقۂ کار متعارف کرا دیا گیا ہے: "صرف 8,483 روپے!"
جی ہاں، آپ نے بالکل درست پڑھا۔ اگر آپ کی ماہانہ آمدنی 8,483 روپے اور ایک پیسہ بھی ہے، تو مبارک ہو! آپ سرکاری ریکارڈ میں "غریب" نہیں رہے۔ آپ تو اشرافیہ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اب اگر آپ کے پاس گاڑی نہیں، گھر کا کرایہ نہیں، بچوں کی فیس نہیں اور ہانڈی میں گوشت تو دور کی بات، دال بھی مشکل سے پکتی ہے، تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ حکومت کے جدید کمپیوٹرز میں آپ کی "غربت" کا سافٹ ویئر ڈیلیٹ ہو چکا ہے۔
ماہرینِ معاشیات سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ یہ فارمولا نکالا کیسے گیا؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے غربت کا پیمانہ ناپنے کے لیے انچی ٹیپ (measuring tape) کے بجائے کوئی جادوئی چھڑی استعمال کی ہے۔
اس نئے معیار کے تحت اب ملک کی صرف 28.9 فیصد آبادی غریب ہے۔ مطلب یہ کہ باقی کے لوگ یا تو سونے کے چمچ کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں یا پھر وہ حکومت کی اس "ریاضیاتی کرشمہ سازی" سے اتنے متاثر ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنی غربت کو شرم کے مارے کہیں چھپا دیا ہے۔
اس نئے نظام کے بعد ملک میں غربت کا خاتمہ محض چند کلکس کی دوری پر ہے۔ اب آپ کو غربت مٹانے کے لیے معیشت ٹھیک کرنے، مہنگائی کم کرنے یا روزگار پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بس دفتر میں بیٹھیں، پیمانہ تبدیل کریں، اور لیجئے! ایک رات میں لاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے اوپر آ گئے۔
کاش کہ یہ فارمولا پیٹ کے لیے بھی کارآمد ہوتا۔ اگر حکومت یہ بھی حکم دے دیتی کہ "جس نے 8,483 روپے سے زیادہ کما لیے، اسے بھوک نہیں لگے گی"، تو کتنا اچھا ہوتا!
ماہرین کی بے بسی اور حکومتی "جدت"
ماہرین کہہ رہے ہیں کہ غربت تو معیار بدلنے سے بدل جاتی ہے، لیکن پیٹ کی آگ؟ اس کا کیا ہوگا؟ لیکن حکومت نے ان ماہرین کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ: "بھائی، ہمیں زمینی حقائق سے کیا لینا دینا؟ ہمیں تو بس کاغذوں میں اعداد و شمار کو خوبصورت بنانا ہے۔"
ہم حکومت کی اس تخلیقی صلاحیت کو داد دیتے ہیں۔ جس طرح انہوں نے غربت کی تعریف کو "غیر روایتی" انداز میں تبدیل کیا ہے، امید ہے کہ جلد ہی وہ مہنگائی کو بھی اسی طرح ختم کریں گے کہ "جو چیز آپ خرید نہیں سکتے، وہ دراصل مہنگی ہے ہی نہیں!"
تو جناب، خوش ہو جائیے! اب اگر آپ کی جیب میں 8,484 روپے ہیں، تو آپ غریب نہیں، بلکہ "امیروں کی فہرست میں شامل ہونے والے خواہشمند افراد" کے کالم میں فٹ بیٹھتے ہیں۔ مبارک ہو!
آپ کا اس "انقلابی" غربت کم کرنے کے فارمولے کے بارے میں کیا خیال ہے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئے گی؟

08/06/2026

فرمان مصطفیٰ ﷺ
"اپنے آپ کو بددعا نہ دو، اپنی اولاد کو بددعا نہ دو، اور اپنے مال کو بددعا نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بددعا ایسی گھڑی میں نکل جائے جب اللہ تعالیٰ سے مانگی گئی دعا قبول کی جا رہی ہو، اور تمہاری بددعا قبول ہو جائے۔"
حوالہ: Sahih Muslim، حدیث نمبر 3009

مختصر تشریح:
غصے، پریشانی یا مایوسی میں انسان بعض اوقات اپنے لیے، اپنی اولاد کے لیے یا اپنے مال کے لیے برے الفاظ کہہ دیتا ہے۔ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات دعاؤں کو قبول فرماتا ہے، اور ممکن ہے ایسی بددعا قبول ہو جائے جس پر بعد میں انسان خود پچھتائے۔

ٹرمپ کا "ذہنی کارنامہ": 120 میں سے 30 نمبر اور ذہانت کا دعویٰ!کاش انٹرنیٹ پر "آن لائن چھتر مارنے" کا کوئی بٹن ہوتا، تو ڈ...
03/06/2026

ٹرمپ کا "ذہنی کارنامہ": 120 میں سے 30 نمبر اور ذہانت کا دعویٰ!

کاش انٹرنیٹ پر "آن لائن چھتر مارنے" کا کوئی بٹن ہوتا، تو ڈونلڈ ٹرمپ کی "ذہانت" پر آج پوری دنیا لائن میں لگ کر اپنی بھڑاس نکال رہی ہوتی!

حال ہی میں ایک دلچسپ تصویر سامنے آئی ہے جو کسی مزاحیہ فلم کے منظر سے کم نہیں ہے۔ اس تصویر میں ٹرمپ صاحب کا دعویٰ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے: "میں نے 120 سوالوں کے ٹھیک جوابات دے کر پورے 30 نمبر حاصل کیے، صدر ٹرمپ کا انتہائی ذہین ہونے کا دعویٰ!"

اگر سوشل میڈیا پر واقعی "ورچوئل چھتر" (Virtual Chhatar) بھیجنے کا آپشن ہوتا، تو ٹرمپ کے نوٹیفکیشنز کا انبار لگ جاتا۔ لوگ اپنے جذبات کا اظہار شاید اس طرح کرتے:

ٹرمپ صاحب، آپ کی اس "ذہانت" کو دیکھ کر تو نیوٹن اور آئن سٹائن بھی اپنی قبروں میں سوچ رہے ہوں گے کہ کاش انہوں نے بھی 30 نمبر لے کر ذہین ہونے کا اعلان کر دیا ہوتا، تو آج ان کی زندگی کتنی آسان ہوتی!

خیر، یہ تصویر تو انٹرنیٹ پر ہنسی کا ایک نیا سامان لے کر آئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلی بار ٹرمپ صاحب کون سا نیا "ذہین کارنامہ" سرانجام دیتے ہیں!

کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس طرح کے مزاحیہ تبصرے سیاستدانوں کی مقبولیت پر اثر انداز ہوتے ہیں؟
اپنی رائے کا اظہار نیچے ضرور کریں

امیروں کا سستا پٹرول
01/06/2026

امیروں کا سستا پٹرول

اشرافیہ کا سستا ایندھن اور عام آدمی کا مہنگا سفر

پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین اکثر معاشی بحثوں کا مرکز رہتا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے اعداد و شمار نے عوام میں شدید غم و غصے اور بے چینی کو جنم دیا ہے۔ یہ خبر کہ اشرافیہ اور سرکاری حکام کے زیر استعمال جیٹ ایندھن (JP-8) کی قیمت عام آدمی کی موٹر سائیکل میں ڈلنے والے پیٹرول سے نمایاں طور پر کم ہے، ایک ایسے معاشرتی تضاد کو عیاں کرتی ہے جہاں بوجھ کا نچوڑ صرف ایک طبقے پر ہے۔

اگر ہم موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں، تو یہ تفریق انتہائی واضح ہو جاتی ہے:

اشرافیہ کا ایندھن (جیٹ فیول): اطلاعات کے مطابق ایوی ایشن کے لیے استعمال ہونے والا ایندھن تقریباً 283 روپے فی لیٹر کے آس پاس ہے۔

اس کے برعکس، ایک عام شہری اپنی موٹر سائیکل میں جو پیٹرول ڈلوانے پر مجبور ہے، اس کی قیمت 381 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔

یہ 98 روپے فی لیٹر کا واضح فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری معاشی ترجیحات اور ٹیکس کا نظام کس قدر غیر منصفانہ بنیادوں پر قائم ہے۔

یہ تضاد صرف ایندھن کی قیمت تک محدود نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے سیاسی اور سماجی نظام کی گہرائیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

جب ملک کا غریب طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہو اور روزگار کے لیے دفتر یا کام پر جانے کے لیے اپنی موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کے لیے پیسے نہ رکھتا ہو، تب ایلیٹ کلاس کا سستے ایندھن پر سفر کرنا اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

عام آدمی پیٹرول پر بھاری ٹیکس اور لیویز ادا کرتا ہے، جو درحقیقت حکومت کے اخراجات کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ دوسری جانب، طاقتور طبقے کو مراعات اور سبسڈی کی صورت میں رعایتیں دی جاتی ہیں۔

جب عام آدمی یہ دیکھتا ہے کہ اس کی کمائی کا ایک بڑا حصہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نکل جاتا ہے، تو اس کا ریاست پر اعتماد کمزور پڑتا ہے۔ یہ احساس کہ "قانون اور سہولتیں صرف اشرافیہ کے لیے ہیں" معاشرے میں مایوسی پھیلاتا ہے۔

پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی بحران میں یہ ضروری ہے کہ پالیسی ساز ادارے "سادگی اور انصاف" کے اصول کو اپنائیں۔ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، تو ایندھن کی قیمتوں میں یہ امتیازی سلوک ختم کرنا ہوگا۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی شاہانہ اخراجات میں کٹوتی کرے اور اشرافیہ کی مراعات پر نظرثانی کرے۔ جب تک عام آدمی کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ حکمران طبقہ بھی اسی مشکل کا حصہ ہے جس کا وہ خود شکار ہے، تب تک معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اشرافیہ کی مراعات ختم کر کے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں فوری کمی کرنی چاہیے؟

جہاز کے پائلٹوں سے ملاقات کے لئے ٹرمپ آرہے ہیں جنہوں نے رافیل گرائے تھے۔ ہا ہا ہا
21/04/2026

جہاز کے پائلٹوں سے ملاقات کے لئے ٹرمپ آرہے ہیں جنہوں نے رافیل گرائے تھے۔ ہا ہا ہا

ٹرمپ صاحب اور "کربلائی" مولوی صاحب کا قصہ
ایک مولوی صاحب تھے جن کا ہنر ہی الگ تھا؛ وہ چاہے مریخ پر پانی ملنے کی خبر سنائیں یا مہنگائی پر روئیں، گھوم پھر کر گاڑی کا رخ واقعہ کربلا کی طرف موڑ دیتے تھے۔ سامعین تنگ آ گئے، سوچا کہ آج ایسا ٹاپک دیں گے کہ مولوی صاحب کا "جی پی ایس" (GPS) فیل ہو جائے۔

چنانچہ "شبِ معراج" کا عنوان فائنل ہوا اور ہاتھ جوڑ کر تاکید کی گئی: "مولانا، آج اوپر کی سیر ہے، زمین پر ہی رہیے گا!"

مولوی صاحب منبر پر بیٹھے، آیت پڑھی اور مائیک سنبھالا:

"میرے دوستو! پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے گئی۔ سبحان اللہ! اور وہ کون عظیم نبی تھے؟ وہ تھے امام حسین کے نانا! اور حسین کون؟ وہی جو کربلا کے تپتے صحرا میں..."

لو جی! معراج کی فلائٹ ابھی ٹیک آف ہی ہوئی تھی کہ مولوی صاحب نے پیراشوٹ سے کربلا میں لینڈنگ کر لی!

اب ذرا ٹرمپ صاحب کا حال دیکھیں!
آج کل یہی حال ہمارے ڈونلڈ ٹرمپ چاچا کا ہے۔ دنیا بھر میں کہیں بھی کوئی مسئلہ ہو، وہ اسے گھما پھرا کر انڈیا کے گرے ہوئے جہازوں اور "ایبٹ آباد کی چائے" کی طرف لے آتے ہیں۔

ان کے لیے مشرقِ وسطیٰ کا تنازع ہو یا آبنائے ہرمز کی ٹینشن، ہر بات کا انجام وہی ہے:

"دیکھو بھئی، میں پاکستان جاؤں گا تو ان پائلٹس سے ضرور آٹو گراف لوں گا جنہوں نے انڈیا کے 'مائٹی' جہازوں کو ایسے گرایا جیسے میں بچپن میں ایئر گن سے چھپکلیاں مارتا تھا۔"

دنیا پریشان ہے کہ کہاں آبنائے ہرمز کے تپتے سمندر اور کہاں انڈیا کے گرے ہوئے جہازوں کا ملبہ! پر ٹرمپ صاحب کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے۔ لگتا ہے ٹرمپ نے بھی اسی مولوی صاحب سے "تقریر کا کورس" کیا ہے!

Indirizzo

Bolzano

Sito Web

Notifiche

Lasciando la tua email puoi essere il primo a sapere quando معلومات pubblica notizie e promozioni. Il tuo indirizzo email non verrà utilizzato per nessun altro scopo e potrai annullare l'iscrizione in qualsiasi momento.

Contatta La Scuola/università

Invia un messaggio a معلومات:

Scelte rapide

Condividi