shia fidhi wa aqayidi masly شیعہ فقہی و عقائدی مسئلے
contact me +9647717176540 online shia knowledge
in Quran
sirate Ahulbait
fiqh
aqayid
Urdu qaida
قرآن ۔سیرت اہلبیت۔فقہی مسائل۔عقائد۔قائدہ تجوید
مزہ آیا
07/03/2026
ایرانی جنرل بہمن کارگر کا کہنا ہے کہ ہم موت سے نہیں ڈرتے بلکہ اسے عزت سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی فوج کا 95٪ حصہ سائنسدانوں اور انجینئروں پر مشتمل ہے۔ وہ کہتے ہیں اگر آج 100 لوگ شہید ہوں تو ہزاروں تیار کھڑے ہیں، اور جب ایران ایک میزائل فائر کرتا ہے تو اسی وقت زیرِ زمین انجینئر نئے ہتھیار تیار کر رہے ہوتے ہیں
07/03/2026
الجولاني تغيرت....
کس قدر بے شرم و دلال انسان ہے۔۔۔۔۔اس کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرایل کےلیے شام کا فضاٸی حدود آذاد ہے ایران پر حملہ کرنے کے لیے۔۔۔۔ایسے منافقین کی وجہ سے مسلمان مشکلات سے دوچار ہیی
07/03/2026
ایران پر عرب ملک حملہ کیوں نہیں کرتے ؟
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ممالک حملہ کرکے ایران کو ایک ساتھ تباہ کر دینگے ؟
ایران میں ادویات کی کمی ہے ؟
ایران میں پانی کی کمی ہے ؟
ایران میں اشیاء خوردونوش ختم ہے؟
ایران کے میزائل ختم ہیں؟
وہ یہ تحریر پوری پڑھ لیں ۔
قطر 99, متحدہ عرب امارات 99, کویت 92, بحرین 85 اور سعودی عرب اپنے ملک کی 60 فیصد پانی کو سمندر کے پانی سے پورا کرتا ہے ۔
پلانٹس لگاکر نمکین پانی کو صاف کرکے اپنے شہریوں کی ضرورت پوری کرتاہے ۔
ایران فی الحال انکے بندرگاہوں پر حملے کرکے اور تیل کی تنصیبات وارننگ حملے کرکے تیل کو بطورِ ہتھیار امریکہ کے خلاف استعمال کررہا ہے اگر ان ملکوں نے ایران پر حملہ کیا تو یہ پانی کے پلانٹس ایران کا ہدف ہونگے اور لاکھوں لوگ پانی کے عدم دستیابی سے مرے گے ۔
جنگی حکمت عملی میں اسے Center of Gravity کہا جاتا ہے۔
دشمن ہمیشہ اس مقام پر ضرب لگاتا ہے جہاں سے مخالف ملک مکمل مفلوج ہو جائے۔
سودی عرب 80, متحدہ عرب امارات 85, قطر 90, کویت 90, اور بحرین اپنی قوم کی ضروریات پورے کرنے کیلئے 90
فیصد خوراک کی اشیاء خوردونوش باہر سے منگواتا ہے ۔
یہ تمام ممالک صرف مچھلی میں خود کفیل ہے جو کہ ملک
کی 5 فیصد آبادی کیلئے ہے
سعودی عرب اور متحدہ عرب مرغیوں میں خودکفیل ہونے کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں ۔
قطر اور سعودی عرب دودھ کی پیداوار پر کام کر رہے ہیں ۔
انکے پاس 3 مہینے سے 6 مہینے تک خوارک گوداموں میں ہوتی ہے ۔
یعنی آبنائے ہرمز بند ہونے سے ان تک کوئی کھانے کی چیز نہیں پہنچ سکتیں جو کہ ایران نے بند کیا ہے ۔
ادویات میں سعودی عرب 35, عراق 20, متحدہ عرب امارات 25, قطر ، عمان کویت 20 فیصد بحرین 10 فیصد ادویات مقامی طور پر بناتا ہے ۔
اور خام مال 100 فیصد تمام ابنائے ہرمز سے گزر کر باہر ملکوں سے ان تک پہنچتا ہے ادویات بنانے کیلئے مال ان کے پاس نہیں ہے ۔
جتنا ایران ہم نے بچپن میں دیکھا، اب انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں یا وہاں رہنے والے قریبی دوستوں سے سنا ہے؛ وہاں زندگی اتنی بھی مشکل نہیں جتنی بتائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی معاملات میں وہاں 'کوسٹ آف لیونگ' پاکستان کے بڑے شہروں سے انتہائی کم ہے۔ اور آمدنی بھی بہرحال اسی تناسب سے کافی کم ہے۔ روٹی، سبزی، گوشت، پھل، بجلی، گیس، تعلیم، علاج اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے ایران 90 فیصد پاکستان سے بہتر ہے۔
جہاں تک فوجی آپریشن کی بات ہے، تو امریکہ اتنے بڑے مشن کے لیے ہمیشہ پلان بی اور سی تیار رکھتا ہے۔ جون 2025 میں اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ پہلے بڑے حملے کے ساتھ ہی فتح حاصل کر لے گا، لیکن حملے کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ یہ اتنا آسان نہیں۔ اس دوران اسرائیل کی دفاعی کمزوریاں بھی سامنے آئیں اور ایران کی 'سرپرائز' دینے کی صلاحیت بھی۔
عالمی انویسٹرز ٹیرف کی جنگ کے منجن کے بعد اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ تیل کے بحران کو فوری برداشت کر پاتے، اسی لیے سیز فائر کیا گیا۔ ایٹمی پلانٹس پر B-21 کی بمباری کے باوجود IAEA نے صاف کہا کہ کوئی تابکاری نہیں ملی، جس کا مطلب ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت اور یورینیم تباہ نہیں ہوا تھا۔
اب ایسا لگتا ہے کہ کسی بڑے پلان پر کام ہو رہا ہے کہ اگر زمینی فوج اتارنی پڑے تو بیس کہاں ہوگی؟ غالباً اسی لیے افغانستان میں بگرام بیس کو آزاد کروانے کا ٹاسک پاکستان کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے۔ مذاکرات تو کبھی مقصد تھے ہی نہیں؛ اس عرصے میں اسرائیل نے اپنی تیاری مکمل کی جبکہ ایران نے بھی میزائلوں اور ڈرونز کا اسٹاک ریپلینش (دوبارہ جمع) کیا۔ تاہم، یہ وقت ایئر فورس اور ایئر ڈیفنس کو مستحکم کرنے کے لیے ناکافی تھا۔ دوسری طرف اندرونی 'ریجیم چینج' کی کوشش بھی کی گئی لیکن IRGC کی فائر پاور اور طاقت کے سامنے یہ ممکن نہ تھا۔ سعودی عرب نے بھی حالات کو بھانپتے ہوئے اپنے دفاع کے لیے پاکستان کو ساتھ ملا لیا ہے، جبکہ باقی عرب ممالک خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
یہ تو تھی اب تک کی کہانی میری زبانی، لیکن آگے کیا ہونے والا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ تازہ خبر یہ ہے کہ 88 رکنی اجلاس کے بعد ووٹنگ کے دوران عمارت پر حملہ ہوا ہے، یعنی عین اس وقت نئے سپریم لیڈر کا انتخاب جاری ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ "امریکہ اور اسرائیل کل خواہش کریں گے کہ کاش خامنہ ای کو نہ ہٹایا جاتا"، کیونکہ وہ بہرحال 'ویپن آف ماس ڈسٹرکشن' اور 3000 کلومیٹر سے زائد کے میزائل پروگرام کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
60 فیصد افزودہ یورینیم کو ہتھیاروں کے لیے مطلوبہ 90 فیصد تک لے جانا اب ایک ہفتے سے بھی کم کا کام ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اسے بم میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پہلے سے موجود ہو۔ اگر نیا سپریم لیڈر 'حالتِ جنگ' میں ایٹمی طاقت بننے کا حکم دے دے، تو ایرانی یہ کر گزریں گے۔ حالات اندازے سے کہیں زیادہ نازک لگ رہے ہیں۔
اب آتے ہیں دفاعی نظام پر ۔
ایران ڈرونز ، بحری جہاز ، سب میرین ، میزائل ، سیٹلائٹ اور لانچر سب کچھ 100 فیصد خود بناتا ہے اور یہ تمام ممالک امریکی اسحلہ پر کھڑے ہیں انکے پاس اپنی کوئی مینوفیکچرنگ نہیں ہے ۔
ایران کے پاس پانی اور خوراک کے قدرتی ذرائع موجود ہیں، اس لیے وہ طویل جنگ برداشت کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔
ایران اپنی ضروریات کی 2 فیصد پانی سمندر سے حاصل کرتاہے ۔
ایران اپنی خوراک کی کل ضروریات کا تقریباً 90% حصہ خود پیدا کرتا ہے۔
اگر ان ممالک کے درمیان جنگ چھڑتی ہے، تو ایران طبی لحاظ سے سب سے زیادہ دیر تک مزاحمت کر سکے گا۔
ایران اپنی 97 فیصد ادویات بنانے میں خود کفیل ہے ۔
اور ان ادویات کیلئے خام مال 70 فیصد خود تیار کرتاہے ۔
ایران میں میزائل و ڈرونز ، پانی ، ادویات اور اشیاء خوردونوش کی کی کوئی کمی نہیں ہوگی ۔
اور ان عرب ملکوں کا تمام تر انحصار آبنائے ہرمز پر ہے جسے ایران بند کرچکاہے ۔
ایسا ہر گز نہیں کہ یہ عرب ملک یعنی امریکی اڈے ایران پر حملہ اسی لیے نہیں کر رہے کہ یہ اچھے ہیں پُرامن ہیں یا صبر کر رہے ہیں ۔
اس
بلکہ انکے وجود کو خطرہ لاحق ہے ۔
ایران ایک محصور قلعہ کی طرح ہے جو اپنی ضرورت کی چیزیں خود بنا کر سالوں تک لڑ سکتا ہے۔
عرب ممالک ایک جدید شیش محل کی طرح ہیں، جو باہر سے دیکھنے میں بہت طاقتور ہیں، لیکن اگر ان کی سپلائی لائن کٹ جائے تو ان کا پورا ڈھانچہ 3 مہینے میں بیٹھ سکتا ہے.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7bbp0HwXb8Wmv3Yo2u
Click here to claim your Sponsored Listing.