حرفِ “ کاف اور تاء” میں صفتِ ہمس کی آواز کے بارے میں (خصوصاً جب یہ دونوں حرف ساکن ہوں) بعض اذہان اس مغالطے میں رہتے ہیں کہ ہمس میں چونکہ صرف جریانِ نفَس یعنی سانس کا اخراج ہوتا ہے اس لیے اس کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی آواز کا ظہور غلط ہے ، اس لیے کسی بھی ادائیگی میں ( اگرچہ وہ ادا کسی متقن و مستند ماہرِ فن قاری کی ہی کیوں نا ہو) یہ حضرات ہلکی سی صوت یا باریک سی ہوا کی حرکت محسوس کرتے ہیں تو وہ اسے فوراً “ کھ اور تھ” کی آواز سے متّہم کر دیتے ہیں۔ اور کمالِ جرت کے ساتھ اس پر تخریبِ حرف جیسا شدید حکم بھی لگا دیتے ہیں،
در اصل مسئلہ یہ ہے کہ بعض احباب کے پاس صحیح تلقّی، مشافہہ اور استاد سے براہِ راست سیکھنے کا مضبوط تجربہ نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے وہ بعض کتبِ تجوید میں صفتِ ہمس کی تشریح کو پڑھ کر محض اپنی فہم اور غلط قیاس کی بنیاد پر خود سے ہی ایک خاص کیفیت متعین کر لیتے ہیں جو کہ اصول تلقی کے سراسر خلاف و غیر معتبر ہے، جو حضرات مشافہہ اور تلقّی کے ذریعے اس فن کو سیکھتے ہیں، ان کے لیے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ یہ کوئی “کھ اور تھ” کی آواز نہیں بلکہ حرفِ “کاف و تاء” ہی میں صفت ہمس کی ادائیگی کے ثمرے میں پیدا ہونے والی ہوا کی ایک نہایت لطیف صوتی کیفیت ہے جسے جدید آلاتِ صوت مائکروفون وغیرہ سامعین تک واضح انداز میں پہنچانے کا کام کرتے ہیں، لیکن جس کے پاس یہ بنیادی تربیت اور شیوخِ تجوید کے پاس رہ کر عملی مشق کا تجربہ نہ ہو وہ اپنی کمزور فہم اور قیاسی اندازے سے اسے غلط سمجھ لیتا ہے۔
جبکہ حقیقتاً آج کےجدید سائنسی ترقی کے دور میں تو یہ بات بالکل بھی کسی مخفی یا مشتبہ امر کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ عملی مشاہدے اور جدید صوتی آلات کی روشنی میں روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کیوں کہ آج کل ایسے ایسے جدید ہائی کوالٹی کے مائکروفون دستیاب ہیں جو بولنے والے کی سانس تو دور اس کے گرد و پیش کی ہوا کو بھی سامعین تک منتقل کر دیتے ہیں اور سامعین کو وہ آوازیں واضح انداز میں سنائی بھی دیتی ہیں تو جو سانس حرفِ “کاف و تاء” میں صفتِ شدت کی وجہ سے پہلے محبوس اور مقید ہو، وہ جب صفت ہمس کے ثمرے میں اچانک لطیف اور نرم انداز میں خارج ہوگی تو اس کی باریک صوتی کیفیت تو بدرجۂ اولیٰ قابلِ ادراک ہوگی، بلکہ جدید مائیکروفون اور حساس آلاتِ ریکارڈنگ اسے باقاعدہ طور پر سامعین پر واضح بھی کر دیتے ہیں۔ اور یہ بات ہر ذی شعور جانتا ہے کہ دباؤ کے بعد خارج ہونے والی لطیف آواز کا سنائی دینا یا ریکارڈ ہو جانا کوئی عجیب بات نہیں۔
اس لیے اگر کوئی شخص اس کے باوجود اسے غلط سمجھے تو یہ اس کے فہم یا عملی مشق کی کمی ہے، نہ کہ اصل حقیقت میں کوئی اشکال، اس انکار کی کوئی مضبوط علمی بنیاد نہ پہلے کبھی تھی اور نہ آج جدید مشاہدات اور صوتی تحقیق کی روشنی میں اس کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے۔
مزید یہ کہ اس مسئلے سے متعلق غلط فہمیوں کے پیشِ نظر راقم نے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ بھی تصنیف کیا ہے، جس میں ائمۂ فنِ تجوید و قراءت کی تصریحات، علمُ الأصوات کے مسلمہ اصول، جدید صوتی تجزیات اور حساس آلاتِ ریکارڈنگ کے مشاہدات کی روشنی میں اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اور درجنوں عربی مصادر و مراجع سے ائمۂ فن کے واضح نصوص و دلائل جمع کیے گئے ہیں،
ان شاء اللہ یہ رسالہ جلد ہی منظرِ عام پر آئے گا، جس کے بعد شائقینِ فن اس کا مطالعہ کر سکیں گے۔امید ہے کہ اس رسالے کے مطالعے کے بعد اس موضوع سے متعلق بہت سے شبہات اور غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں گی اور مسئلہ اپنی اصل علمی اور فنی حیثیت کے ساتھ اہلِ علم کے سامنے واضح ہو جائے گا۔
آلِ حسن ازہری رامپوری
خادم القراءات العشر الصغریٰ والکبریٰ
مرکزی دار القراءت جمشیدپور، جھارکھنڈ ۔
Qari Aley Hasan Azhari قــاری آلِ حســــن ازہری
official page of Qari Aley Hasan Azhari
13/06/2026
منتخب امیدواران براے فائنل
آل انڈیا انعامی مسابقۂ حسن قراءت 2026
#قرآن_كريم
07/06/2026
منتخب امیدواران براے مرحلۂ ثانیہ
آل انڈیا انعامی مسابقۂ حسن قراءت 2026
#قرآن_كريم
مرکزی دارالقراءت، جمشیدپور جھارکھنڈ کی جانب سے عرسِ نوری وامین شریعت کے موقع پر تيسرے عظیم الشان کل ھند مسابقۂ حسنِ قرأت 2026 کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ 🕌✨
🏆 پہلا انعام ₹50,000
🥈 دوسرا انعام ₹30,000
🥉 تیسرا انعام ₹20,000
📌 رجسٹریشن کے لیے آدھار کارڈ اور ترتیل انداز میں 3 منٹ کی تلاوت کی آڈیو 5 جون 2026 تک ارسال کریں۔
📍 دوسرا مرحلہ: 13 جون 2026 (Google Meet)
📍 گرانڈ فائنل: 12 جولائی 2026، بروز اتوار
شرکت کے لیے عمر 25 سال سے زائد نہ ہو۔
13/05/2026
مرکزی دار القراءت جمشیدپور کا تیسرا سالانہ “ آل انڈیا انعامی مسابقہ حسن قراءت 2026-2027” .
امیدوار اپنا نام ۵ جون تک ضرور درج کروا لیں ۔
۔