Mufti Gowhar Ahmad Qasmi - Official

Mufti Gowhar Ahmad Qasmi - Official Like,Share,Support and Follow us
جزاکم اللہ خیرا

24/05/2026

=========©©©©©************©©©©©========= :00 - Introdu...

22/05/2026
09/05/2026

فقہاء نے جہاں فرض، واجب، سنت، مستحب اور ادب جیسے عناوین سے اسلام کے مزاج، ترجیحات اور توازن کے نظام کو منضبط کرکے محفوظ کیا ہے، وہیں ان مراتب کے درمیان بھی بقول علامہ أنور شاه الكشميري "ذیلی مراتب" کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے، یہ مگر باریک اور لطیف اور بے نام درجات ہیں، اگرچہ فقہ کی کتابوں میں ان کے مستقل اصطلاحی نام ہمیشہ مذکور نہیں ہوتے۔ کہیں کہیں سطور یا بین السطور میں اس طرف لطیف اشارے ضرور مل جاتے ہیں، جیسے کسی حکم کو "سنت قریب بہ واجب"کہہ دیا، مگر بیشتر مقامات پر یہ لطافتیں صرف ایک فقیہ ربانی کی شفاف نگاہ ہی محسوس کر پاتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں فقہائے ربانیین کا "تفقہ"جلوہ گر ہوتا ہے۔ چالیس پچاس سالہ فقہی ریاض کے بعد شریعت کی مزاج شناسی کا ایک ملکہ عطا ہوتاہے، جس کو عطا ہوتاہے۔ یا یوں کہئے کہ ایک "حدس صناعی" پیدا ہو جاتا ہے جو احکام کی ظاہری صورت سے آگے بڑھ کر ان کے درجہ، وزن، محل اور اثرات اور اس کی بناء پر اس کے محل بیان کو بھی محسوس کرتا ہے۔ فقہ کے طالب علم جانتے ہیں کہ بیشتر جزئیات ایسی ہوتی ہے جہاں فقیہ کو کہنا بھی پڑجاتاہے کہ : ھذا مما یعلم ولا یفتی بہ"، یہ تصریح معدودے چند جزئیات میں مل بھی جاتی ہے لیکن زندگی کے مسائل بے شمار ، تقاضے بے شمار، ان نت نئے بے شمار مسائل میں فقیہ ربانی کا ملکہ اس کو محسوس ہی کرتاہے۔ ایک سچا فقیہ ہی جانتا ہے کہ ہر حکم کا ایک مخصوص درجۂ حرارت ہوتا ہے، کوئی حکم نرمی چاہتا ہے، کوئی شدت، کوئی خاموشی میں حسن رکھتا ہے، کہیں کلمہ حق کا اعلان ضروری خیال کیاجاتاہے، کہیں سکوت، کہیں لابنگ کو ضروری خیال کیاجاتاہے۔
پھر کہیں "الفتنۃ اشد من القتل" کا قرآنی اصول، کہیں مصلحتِ عامہ غالب ہوتی ہے، کہیں "تقلیل شر" کہیں دفعِ فساد ، کہیں اہون البلیتین مقدم آ جاتا ہے، ایک طویل سلسلہ ہوتاہے فقہی ترجیحات کا، بعض حضرات نے "فقہ الاولَویات" کے نام سے اس کو کسی درجہ منضبط کرنے کی بھی اپنی سی سعی فرمائی ہے، لیکن یہ الفاظ کے محدود سانچوں سے ماوراء، مصالح ومفاسد، مآلاتِ افعال، اسرار ومقاصد شریعت اور درجنوں لفظی اور غیر لفظی فقہی قواعد کی ایک دنیا ہے، جو مل جل کر فقیہِ ربانی کو حق تک رسائی کی راہ سجھاتے ہیں۔

اس کی حقیقت ہما شما کا روگ نہیں، بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہیں، ہم اس کو درست طور نقل ہی کرپائیں تو غنیمت ہے۔

آج کل دینی نظمِ اجتماعی سے وابستہ آج کل کی "نوخیز ذہنیتیں" جس طریقے حق وباطل کی گردان لگائی ہوئی ہیں، اور اللہ کے خوبصورت دین کو ایک دو خانوں میں بند لکرکے لوگوں کو دین سے متنفر کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں، اللہ کرے وہ اس حقیقت کا ادراک کرسکیں اور اپنے قول و فعل میں اس کا لحاظ رکھ سکیں تو بہت سے فتنے اپنی موت آپ مرجائیں۔
منقول

اگر آپ مدرسہ، مکتب یا اسکول اور کالج میں تعلیم و تدریس کی خدمت سے وابستہ ہیں تو یہ کتاب ضرور مطالعہ میں رکھیں، اور اس کت...
29/04/2026

اگر آپ مدرسہ، مکتب یا اسکول اور کالج میں تعلیم و تدریس کی خدمت سے وابستہ ہیں تو یہ کتاب ضرور مطالعہ میں رکھیں، اور اس کتاب میں بیان کردہ معلِّمِ انسانیت ہمارے آقا حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کے اسالیبِ تعلیم کو اپنانے اور اختیار کرنے کی کوشش کریں۔

اگر آپ بطورِ پیشہ (Profession) تعلیم و تدریس سے وابستہ نہیں ہیں تب بھی اس کتاب کو اپنے سرہانے رکھیں، کیونکہ آپ کسی اور کے نہ سہی، اپنے بچوں اور گھر والوں کے معلم تو ہیں ہی، اس لیے اس کتاب کو سمجھ کر پڑھنا اور برتنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔

الله تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین

( عبد الله ولى )

31/03/2026

ایک ایسا موضوع جو ہمارے اکثر نوجوان احباب سے اوجھل ہے۔💚💚💚
علم حاصل کرنے کے شرائط مدنظر رہنے چاہیے۔
الله يوفقنا ما يحب ويرضى

Donation appeal
21/02/2026

Donation appeal

08/02/2026

Share your videos with friends, family, and the world

Address

Tral

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Gowhar Ahmad Qasmi - Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Mufti Gowhar Ahmad Qasmi - Official:

Shortcuts

Share