Abu baseer karvaan j&k

Abu baseer karvaan j&k

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Abu baseer karvaan j&k, Jammu and Kashmir.

20/10/2025

HEART TOUCHING WORDS

15/10/2025



14/10/2025

🚨 Emergency Appeal 🚨

Aamir Altaf, a young boy from Surasyar, is fighting for his life.
He needs a liver transplant , but his family cannot afford the surgery.

We request everyone to please help, share, and pray.
Even a small contribution can save a life. ❤️

Donation Details:
👤 Sohail Altaf (Brother)
🏦 J&K Bank, Surasyar Branch
💳 0722041000000396
🏦 IFSC: JAKA0SURAAS
📱 PhonePe / Google Pay: 9906705043

Let’s come together and save Aamir’s life!

14/10/2025

Need At AIIMS Hospital Delhi 📞+916006228619 case closed alhamdulillah

13/10/2025

تیری تہذیب نے اتارا ہے ترے سر سے حجاب
میری تہذیب نے مری نظروں کو جھکا رکھا ہے

10/10/2025

Bear in Nadigam Dagapora Area shopian

09/10/2025

عشر اور کشمیری قوم

مفتی عادل حسین جامعی صاحب

30/09/2025

at Check Sidik khan area of imamsahib , where an unknown vehicle hit a minor boy,who was shifted to Hospital where doctors declared him brought .

25/09/2025

آپ سب کو اللہ کا واسطہ سچ کا ساتھ دیں کیا اس بندے نے یہ کتاب پڑھی ہوگی جسکو کتاب کا نام پڑھنا نہیں آتا ہے

24/09/2025

ایک پرانی کلپ جسمیں فیاض رضوی کا قرآن سنا گیا اگر یہ شیخ الحدیث ہے پھر دیوبندی مدرسے کا باورچی بھی شیخ الحدیث ہے کیونکہ وہ اس سے اچھا قرآن پڑھتا ہے

24/09/2025

احمد رضا خان بریلوی انگریز کا نمک خور پٹهو اور انگریز کا ایجنٹ اور مرزا غلام احمد قادیانی کیطرح انگریز کے اشارے پر دین کا حلیه بگاڑنے والا تها, ذرا خود پڑهیے اس تحریر میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم

بریلویت استعمار کی طرف سے ایجاد کردہ ایک سیاسی تحریک
قارئین کرام !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!!! پیش نظر ویب سائٹ اس تحریک کی داستاں خوچکاں ہے جس نے ملت اسلامیہ کے قلب میں ایسا ناسور پیدا کردیا جس کا اندمال بہ ظاہر اسباب تا قیامت مشکل ہی نہیں اشد محال ہے ۔میری مرا د اس سے ’’بریلوی تحریک‘‘ ہے جو کسی بھی حال میں ابن سبا اور ابن صباح کی تحریک سے مختلف نہیں ۔جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ایک خود ساختہ مذہب میں قوم کو الجھا کر انگریز ایسے دشمن اسلام کی سیاسی اغراض و مقاصد کو پورا کرنے کیلئے اٹھی تھی۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ دینی نزاع ہے حاشا و کلا !ایسا نہیں باللہ العظیم یہ ایک جاسوسی اور مخبری کرنے والی سیاسی جماعت و تحریک ہے جو انگریزوں نے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے پیدا کی اور دامے درمے قدمے سخنے ہر طرح سے مدد کرکے پروان چڑھایا۔
چنانچہ خود انگریز مورخ سر فرانسس رابنس اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ :
ان (احمد رضاخان صاح) کا معمول کا طریقہ کار حکومت کی حمایت کرنا تھا اور جنگ عظیم اول اور تحریک خلافت میں انھوں نے مسلسل حکومت کی حمایت جاری رکھی اور 1921 ؁ ء میں بریلی میں ترک موالات کے مخالف علماء کی ایک کانفرنس منعقد کی ان کا عوام پر خاطر خواہ اثر تھالیکن مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کی حمایت حاصل نہ تھی۔(سپیرٹزم امنگ انڈین مسلم، ص 443 ،کیمبرج یونیورسٹی 1947
اسی طرح کانپور کے ایک بریلوی رسالے ’’استقامت ‘‘ نے مفتی اعظم نمبر شائع کیا اس کے ص ۲۳ پر ہے کہ :
جن دنوں ہندوستان میں تحریک خلافت اور ہندو مسلم اتحاد اور انگریزوں کی حکومت کے خاتمہ کی تحریک زوروں پر تھی رجب ۱۳۳۹ ؁ھ کا واقعہ ہے کہ خادم آستان بریلی شریف حاضر ہوا اس وقت یہ عام تحریک چل رہی تھی کہ ہندوستان میں ایک قومی حکومت قائم ہوگی اور اس سلسلے میں ایک بہت بڑا جلاس بریلی میں زیر صدارت ابو الکلام آزاد منعقد ہوا اس اجلاس میں اعلحضرت کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر انھوں نے اس جلسے میں شرکت نہیں فرمائی بلکہ اجلاس کے غیر شرعی ہونے پر ستر سوالات بھیج دئے۔(استقامت کانپور کامفتی اعظم نمبر ،ص۲۳ ،رجب ۱۴۰۳ ؁ھ ،شمارہ ۴)
غور فرمائیں کہ انگریز کو نکالنے کی تحریک زوروں پر تھی اس تحریک میں حصہ نہ لینا بلکہ اس کے غیر شرعی ہونے پر فتوے دینا آخر کس کی نمک حلالی کے ثبوت دے رہے ہیں۔۔؟؟۔
انگریز مورخ سر فرانسس رابنس اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ :
The Mashriq of Gorakhpur and all-bashir usually took not of the Pro- Government "Fatwas" of Ahmed Raza Khan. [The Separation Among India Muslim . Page No. 268 ]
مشرق اور البشیر اخبارات میں اکثر احمدرضاخان صاحب کے انگریز کے حق میں دئے گئے فتوے شائع ہوتے رہتے۔
یہی انگریز مورخ لکھتا ہے کہ
ایک پڑھے لکھے اور لچیلے شخص احمد رضا خان بریلوی کے ایکشن اور کام ہمارے نتائج کو بہت اچھی طرح پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک ہی وقت میں پوری قوت اور زور و شورر کے ساتھ برطانوی نوآبادیاتی حکومت کو سپورٹ کیا، جنگ عظیم کے دوران خلافت تحریک ، مہاتما گاندھی الائنس کی قوم پرست تحریک کے ساتھ دینے، اوربرطانوی حکومت کے خلاف عدم تعاون کی تحریک کی مخالفت کی۔
( علماء فرنگی محل اینڈاسلامک کلچر صفحہ ۲۶۳ )
The actions of One learned man ,the very influcntional Ahmed Rada Khan (1855,1921) of barielly,present our conlusion yet more Clearly....at the same time he Support the colonial Government loudly and vigorousily through world warI,and through the khilafat Movement when he opposed mahatma Gnadhi allaince with tha nationalist movement and and non-Cooperation with the british(ulam farange Mehal and Islamic culture page 263 )

اب ذار اسی کتاب کے اینڈکس کی ایک سرخی بھی ملاحظہ فرمالیں
Khan ahmed rada of bareilly and Support for the British (Index37,37 & 47,58,67,196 ulma farangi ، , mehal and Islamic Culture page 263)
صرف یہی نہیں احمد رضاخان صاحب کاپورا خاندان انگریز کا نمک حلال تھا چنانچہ ان کے دادا کاظم علی نے حکومت کی پولیٹیکل خدمات انجام دیں اور بدلے میں کئی جاگیریں وصول کیں۔(بحوالہ اقبال کے ممدوح علماء ص ۱۸ و،اعلحضرت اعلی سیرت)
مولوی احمد رضاخان کے خسر شیخ فضل حسین،نواب کلب علی خان والی رام پور کے مشیروں میں سے تھے اور نواب صاحب انگریزوں کے نہایت معتمد اور خاص آدمی تھے۔احمد رضاخان نے دھوکہ دہی کرکے جب مکہ و مدینہ کے علماء سے اہلسنت کے خلاف کفر کے فتوے حاصل کئے تو نواب صاحب کے دربار سے ان کو ۵۰۰ روپے انعام دیا گیا۔(ہفت روزہ چٹان لاہور،ص ۱۰، ۲۲اکتوبر ۱۹۶۶)
ماہنامہ اعلحضرت منظراسلام بریلوی کے ص ۴۲۳ پر ہے کہ سرکار عالی جا کی طرف سے مدرسہ کیلئے ۲۰۰ روپے ماہوار مقرر کیا گیا جس سے مدرسےکے جملہ اخراجات کی ایک مستقل صورت پیدا ہوگئی۔
غور فرمائیں یہ امدادیں اس وقت مل رہی تھیں جب گندم ڈیڑھ روپے من اور بکرے کا گوشت تین آنے سیر ملتا تھا۔
مولوی احمد رضاخان کا بیٹا اور بریلویوں کا مفتی اعظم ہند مولوی مصطفی رضاخان نے انگریز کے خلاف جہاد کے حرام ہونے کے متعلق ایک رسالہ لکھا اس میں انگریزکے خلاف جہاد کے ناجائز ہونے کے جواز میں پانچ مقدمات پیش کئے جس کے بعد لکھتے ہیں کہ:
ان مقدمات سے ظاہر ہوا کہ جو حکم انسانی قوت و طاقت بشری وسعت و استطاعت سے باہر ہو وہ ہر گز حکم شریعت مطہرہ کا نہیں جس حکم میں کوئی فائدہ نہ ہو عبث ولغو ہو وہ ہر گز ہماری پاک شرع کا حکم نہیں جس حکم میں بے فائدہ اتلاف جان و اہلاک نفس ہو وہ اس شرع مبین کا حکم نہیں یونہی جس حکم سے فتنے جاگیں فساد برپا ہوں وہ کبھی مقدس اسلام کا حکم نہیں ہوسکتا اب یہ خود دیکھ لو کہ یہاں اس وقت حکم جہاد میں تکلیف مالا یطاق ہے یا نہیں؟اس میں کوئی فائدہ ہے یاسرار مضرت ؟جانوں کی بے وجہ ہلاکت ہے یا حفاظت فتنہ و فسادکی اثارت ہے یااماتت ؟اس میں مسلمانوں کی عزت ہے یاذلت ؟یہ حکم قبل از وقت ہے یا خاص وقت پر؟ان امور پر غور کرلینے کے بعد مسئلہ بالکل صاف ہوجائے گااصلا خفاء نہ رہے گا۔(طرق الہدی والارشاد ص۲۹)
غور فرمائیں کس دیدہ دلیری سے انگریز کے خلاف جہاد کو فتنہ و فساد کہاجارہا ہے العیاذباللہ ۔
جب انگریزنے ترک خلافت اسلامیہ کوختم کیا اور اس کے خلاف مسلمانوں نے تحریک خلافت کاآغاز کیا تو عین اس تحریک کے زمانے میں مولوی احمد رضاخان نے ’’دوام العیش‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں فتوی دیاکہ ترکی خلافت ،خلافت اسلامیہ نہیں ترکوں کومسلمانوں پر حکومت و خلافت کرنے کاکوئی حق نہیں اور اس کے دفاع کیلئے مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ۔حالانکہ یہ وہی ترکی خلافت تھی جوجو چار(۴) سو سال سے چلی آرہی تھی اس عرصہ میں سینکڑوں فقہاء علماء اور بزرگان دین گزرنے کسی نے بھی اس قسم کافتوی نہ دیا۔اور سب نے اس خلافت کو خلافت اسلامیہ تسلیم کیا۔اس خلافت کے خاتمہ کے تباہ کن نتائج آج پوری امت مسلمہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی کہ ہر جگہ امت مسلمہ کفار کے ہاتھوں ذلیل وخوار ہے۔ اس رسالے کے نام پر بھی غور فرمائیں ’’دوام العیش‘‘ یعنی ہمیں ہمیشہ کا چین و سکون اسوقت ملے گاجب ترکی خلافت ختم ہوگی اور انگریزی حکومت آئے گی۔
غرض ان حوالہ جات کو پیش کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ بریلوی کوئی ’’مذہبی جماعت یاگروہ یافرقہ ‘‘ نہیں بلکہ خالص ’’انگریزی تحریک‘‘ ہے جسے انگریز نے اپنے مقاصد کیلئے چلایا اپنے خلاف لڑنے والے غیور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے پیدا کیا۔انگریز کو بھی علم تھا کہ ہماری یہ سازش اس وقت تک عوام میں مقبول نہیں ہوسکتی جب تک اس کو مذہب اور عقیدت کا رنگ نہ دے دیاجائے چنانچہ اس خالص استعماری تحریک کو ’’اہلسنت والجماعت ‘‘ کانام دے کر عوام میں متعارف کروایا گیا کہ ایک طرف تو یہ ہماری کاسہ لیس ہوگی تو دوسری طرف مسلمانوں میں ایک مذہبی بھونچال پیدا کردیا جائے گا اور اس مذہبی بھونچال کے سبب ہمارے مخالفین کا سارا دھیان سارا زور اور توانائیاں ان مذہبی جھگڑوں پر خرچ ہوجائیں گی خود مولوی احمد رضاخان کو بھی اس بات کا علم تھا کہ میری قائم کردہ یہ جماعت شائد میرے بعد زیادہ عرصہ نہ چل سکے اس لئے مرتے وقت اپنے متعلقین کو یہ وصیت کر گئے کہ
میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔(وصایا شریف،ص ۹)۔

🌹بسم اللہ الرحمن الرحیم🌹

(((احمد رضا کہیں شیعہ تو نہیں.؟)

جناب احمد رضا کے خاندان کے متعلق صرف اتنا ہی معلوم ہوسکا کہ ان کے والد اور دادا کا شمار احناف کے علماء میں ہوتا ہے۔ البتہ جناب بریلوی صاحب کے مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ ان کا تعلق شیعہ خاندان سے تھا۔ انہوں نے ساری عمر تقیہ کیے رکھا اور اپنی اصلیت ظاہر نہ ہونے دی' تاکہ وہ اہل سنت کے درمیان شیعہ عقائد کو رواج دے سکیں۔ ان کے مخالفین اس کے ثبوت کے لیے جن دلائل کا ذکر کرتے ہیں' ان میں سے چند ایک یہاں بیان کیے جاتے ہیں۔

👈🏾 (1)جناب احمد رضا کے آباء اجداد کے نام شیعہ اسماء سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان کاشجرہ نسب ہے: احمد رضا بن نقی علی بن رضا علی بن کاظم علی۔( حیات اعلیٰ حضرت ص ٢)

👈🏾(2) بریلویوں کے اعلیٰ حضرت نے امّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے خلاف نازیبا کلمات کہے ہیں۔ عقیدہ اہلسنت سے وابستہ کوئی شخص ان کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اپنے ایک قصیدے میں لکھا ہے :
تنگ و چست ان کا لباس اور وہ جوبن کا ابھار
مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک
لے کر یہ پھٹا پڑتا ہے جوبن مرے دل کی صورت
کہ ہوئے جاتے ہیں جامہ سے بروں سینہ وبر
(حدائق بخشش جلد ٣ ص ٢٣)

👈🏾 (3) انہوں نے مسلمانوں میں شیعہ مذہب سے ماخوذ عقائد کی نشر و اشاعت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ( فتاویٰ بریلویہ ص ١٤) کوئی ظاہری شیعہ اپنے اس مقصد میں اتنا کامیاب نہ ہوتا' جتنی کامیابی احمد رضا صاحب کو اس سلسلے میں تقیہ کے لبادے میں حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے اپنے تشیع پر پردہ ڈالنے کے لیے چند ایسے رسالے بھی تحریر کیے جن میں بظاہر شیعہ مذہب کی مخالفت اور اہل سنت کی تائید پائی جاتی ہے۔
شیعہ تقیہ کا یہی مفہوم ہے' جس کا تقاضا انہوں نے کماحقہ ادا کیا۔
🔨(((احمد رضا اور شیعی روایات)))

جناب احمد رضا نے اپنی تصنیفات میں ایسی روایات کا ذکر کثرت سے کیا ہے جو خالصتاً شیعی روایات ہیں اور ان کا عقیدہ اہلسنت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
👈🏾 مثلاً: "انّ علیّا قسیم النار۔" یعنی"حضرت علی رضی اللہ عنہ قیامت کے روز جہنم تقسیم کریں گے۔
(الامن والعلی مصنفہ احمد رضا بریلوی ص ٥٨)
👈🏾"انّ فاطمۃ سمّیت بفاطمۃ لانّ اللہ فمھا و ذریّتھا من النّار۔" اور "حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کی اولاد کو جہنم سے آزاد کردیا ہے۔( ختم نبوت از احمد رضا ص ٩٨)

👈🏾شیعہ کے اماموں کو تقدیس کا درجہ دینے کے لیے انہوں نے یہ عقیدہ وضع کیا کہ اغواث (جمع غوث' یعنی مخلوقات کی فریاد رسی کرنے والے ) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوتے ہوئے حسن عسکری تک پہنچتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وہی ترتیب ملحوظ رکھی' جو شیعہ کے اماموں کی ہے۔( ملفوظات ص ١١٥)

👈🏾 احمد رضا نے باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوڑ کر حضرت علی کو مشکل کشا قرار دیا اور کہا: "جو شخص مشہور دعائے سیفی (جو شیعہ عقیدے کی عکاسی کرتی ہے) پڑھے' اس کی مشکلات حل ہوجاتی ہیں۔" دعائے سیفی درج ذیل ہے:

ناد علیّا مظھر العجا ئب تجدہ عونالّک فی النّوائب کلّ ھمّ وغمّ سینجلّی بولیتک یا علی یا علی

یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکارو جن سے عجائبات کا ظہور ہوتا ہے۔ تم انہیں مددگار پاؤگے۔ اے علی رضی اللہ عنہ آپ کی ولایت کے طفیل تمام پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں۔( الامن والعلی ص ١٢'١٣)

🔨(((پنجتن پاک)))🔨

اسی طرح انہوں نے پنجتن پاک کی اصطلاح کو عام کیا اور اس شعر کو رواج دیا:

لی خمسۃ اطفی بھا حرّالوباء الحاطمۃ المصطفٰی المرتضٰی و وابناھما و الفاطمۃ

یعنی پانچ ہستیاں ایسی ہیں جو اپنی برکت سے میری امراض کو دور کرتی ہیں۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ' علی رضی اللہ عنہ، حسن رضی اللہ عنہ، حسین رضی اللہ عنہ، فاطمہ رضی اللہ عنہا!( فتاویٰ رضویہ جلد ٦ ص ١٨٧)

جناب بریلوی نے ایک اور شیعہ روایت کو اپنے رسائل میں ذکر کیا ہے کہ : "امام احمد رضا (شیعہ کے آٹھویں امام ) سے کہا گیا کہ کوئی دعا ایسی سکھلائیں جو ہم اہل بیت کی قبروں کی زیارت کے وقت پڑھا کریں' تو انہوں نے جواب دیا کہ قبر کے قریب جاکر چالیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر کہو السلام علیکم یا اہل البیت ' اے اہل بیت میں اپنے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے آپ کو خدا کے حضور سفارشی بنا کر پیش کرتا ہوں اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے براء ت کرتا ہوں۔ ( حیاۃ الموات درج شدہ فتاویٰ رضویہ از احمد رضا بریلوی جلد ٤ ص ٢٤٩)

یعنی شیعہ کے اماموں کو مسلمانوں کے نزدیک مقدس اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ اہل سنت سے افضل قرار دینے کے لئے انہوں نے اس طرح کی روایات عام کیں۔ حالانکہ اہل تشیع کے اماموں کی ترتیب اور اس طرح کے عقائد کا عقیدہ اہل سنت سے کوئی ناطہ نہیں ہے۔

جناب احمد رضا شیعہ تعزیہ کو اہل سنت میں مقبول بنانے کے لیے اپنی ایک کتاب میں رقمطراز ہیں: "تبرک کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مقبرے کا نمونہ بناکر گھر کے اندر رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(ماخوذ از کتاب "بریلویت"

اللہ تعالٰی ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے. آمین

Want your school to be the top-listed School/college in Jammu and Kashmir?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Culinary Team

Attire

Website

Address


Jammu And Kashmir