Kucch Pal hamare saath

Kucch Pal hamare saath

Share

Islamic knowledge and technical

12/03/2024
25/02/2024

Shabe barat ki fazilat

25/02/2024

Deoband ne islam ka parcham

25/02/2024
22/02/2024

شب برات کے متعلق غلط فہمیاں اور اسکا ازالہ ۔
شعبان المعظم کا مہینہ چل رھا ھے اور 15ویں شعبان المعظم یعنی شب برات کی آمد آمد ہے چونکہ اس رات کے سلسلے میں بہت افراط وتفریط کا معاملہ ہو رھا ھے کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو اس سلسلے میں بہت تشدد سے کام لیتے ہیں اور اس کی اہمیت وفضیلت اور برکات کو بدعت قرار دیتے ہیں اور ایک طبقہ ایسا ہے کہ وہ اسکی اہمیت وفضیلت اور برکات کے حاصل کرنے میں ایسے کام کرتے ہیں جسکا ثبوت کہیں سے نہیں ہے ۔

تو ضرورت تھی کہ افراط وتفریط کو جانتے ہیں تاکہ حقیقت کو پیش کیا جائے ۔

آئیے جانتے ہیں اس معاملے کے افراط وتفریط کو۔ایک وہ طبقہ ہے جو منکر شب برات ہے انکا کہنا ہے کہ شب برات کی حقیقت نہیں ہے تو اسکو ہم قرآن وحدیث بتلانے کی کوشش کرتے ہیں

قرآن کریم سے شب برأت کا استدلال

قرآن کریم میں ارشاد ہے (حم والكتاب المبين انا أنزلناه في ليلة مباركة انا كنا مندرين. فيها يفرق كل أمر حكيم )

( الدخان) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مفسرین کی دو جماعت ہے ایک جماعت جسمیں حضرت عکرمہ رحمت اللہ جو ائمہ تفسیر میں شمار کئے جاتے ہیں وہ تابعین میں سے ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں ان کا کہناہے کہ اسمیں لیلہ مبارکہ سے مراد شب برات ہے۔

انکے پاس بھی اپنے دلائل ہیں وہ(فيها يفرق كل أمر حكيم)

اس آیت کریمہ سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ اس رات کو انسان کے اعمال و فضائل کا حساب وکتاب کیا جاتاہے اور تقدیر کے متعلق باتیں کی جاتی ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے

اور انکے ساتھ بعض مفسرین کی رائے ہے کہ لیلہ مبارکہ سے مراد شب برات ہے اور انکے بھی اپنے دلائل ہیں کہ اس آیت کی تصدیق دیگر احادیث سے ہوتی ہے۔ جسمیں اس رات کی فضیلت کو بتلایا گیا ہے ۔

لیکن آیت بالا کی تفسیر میں حضرات مفسرین کی تحقیقات یہ ہے کہ اس سے مراد شب قدر کی رات ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرے میں پایاجاتاہے اور انکے پاس اپنے دلائل ہیں کہ آیت بالا کی تصدیق قرآن مجید کی دوسری آیات سے ہوتی ہے جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (انا أنزلناه في ليلة القدر )یعنی قرآن کریم کی اس آیت کا مطلب جس رات میں اسکو نازل کیا گیا وہ لیلۃ القدر ہے اور اسکی تصدیق قرآن مجید کی دوسری آیت (شه‍ر رمضان الذي انزل فيه القرآن )یعنی جس مہینہ میں نازل کیا گیا وہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لیلہ مبارکہ سے مراد شب برات نہیں بلکہ شب قدر ہے ۔ اسی کو راجح قرار دیا گیا ہے ۔

نوٹ ۔یہاں پر ایک بات ذہن نشین کرائی جائے کہ ابھی یقینی طور شب برات کا انکار کردینا صحیح نہیں ہے

کیونکہ اگر چہ قرآن کریم کا نزول رمضان المبارک کے آخری عشرے میں یعنی لیلۃالقدر میں ہے لیکن اسکا آغاز یہ حساب وکتاب کا سلسلہ پندرہویں شعبان المعظم یعنی شب برات سے ہوتی ہے

علامہ قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک قول یہ بھی ہے کہ اگرچہ حساب وکتاب اور تقدیر کا معاملہ شب قدر کو ھے لیکن لوح محفوظ سے نقل کرنے کا آغاز شب برأت سے ہوتی ہے

نوٹ ۔ یہاں پر شبہ ہو سکتاہے کہ لوح محفوظ میں سب چیز پہلے سے محفوظ ہے تو نقل کرنا چہ معنی دارد تو اسکا جواب بلا شبہ محفوظ ہے لیکن ان تمام امور کو نقل کرکے تمام امور حساب وکتاب پر مقرر فرشتے کو دیا جاتاہے ۔

جیساکہ میں نے حضرت عکرمہ رحمت اللہ کی رائے پیش کی تھی اس سلسلے میں اللہ کے رسول کی حدیث ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے شعبان المعظم کی پندرہویں تاریخ کی رات یعنی شب برأت کے متعلق پوچھا کیا تم اس رات کے بارے جانتی ہو تو انہوں نے کہا آپ ہی بتادیں تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس رات میں بنی آدم پیدا ہونے والے زندگی ،موت،رزق،گویا کہ پورے سال کی فہرست تیار کی جاتی ہے ۔

شب برأت کی فضیلت میں احادیث

ویسے شب برات کی فضیلت میں بہت ساری احادیث ہیں اگرچہ سنداً ضعیف ہے ۔دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے موجود ہے لیکن یہ بات یاد رھے کہ محدثین کا یہ اصول ہے کہ اگر ایک حدیث ضعیف ہو اور اسکی تائید اگر کئی احادیث سے ہوتی ہو تو وہ صحیح کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے اور اعمال و فضائل میں وہ قابل قبول ہو جاتاہے ہے لہذا اس رات کو عبادت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس رات قبرستان جانا ثابت ہے اور بھی دیگر فضائل آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے۔جیسا کہ آگے آرہا ہے

اللہ کے رسول نے فرمایا (اذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليله‍ا وصوموا يومه‍ا فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس الي سماء الدنيا فيقول

الا ه‍ل من مستغفر فا غفرله

الا من مسترزق فارزقه

الا من مبتلى فاعافيه

الا كذا الا كذا حتى يطلع الفجر) ابنِ ماجہ وترغیب٢/٣٦٠

کہ پندرہویں شعبان المعظم کی رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ اللہ آفتاب غروب ہونے کے بعد آسمان دنیا پر پر آتا ہے اور اعلان کرتاہے کوئی ہے جو استغفار کی طلب کریں اسکی مغفرت کردی جاۓ ،کوئی ہے رزق کا طالب ہے جسے رزق عطا کی جائے، کوئی مصیبت زدہ ہے جسکی مصیبت دور کر دی جائے۔

یہ آواز مسلسل دی جاتی ہے یہاں تک کہ فجر کا وقت ہو جاتاہے

اور بھی احادیث درج ذیل ہیں ۔

حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول کی باری میرے پاس تھی لیکن جب میں رات کو جاگی تو پایا کہ آپ بستر پر نہیں ہے تو میں نے سوچا کہ کہیں آپ دوسری اہلیہ کے پاس گئے ہوں چنانچہ میں نے پیچھا کیا تو آپکو جنت البقیع میں پایا پھر آپ نےفرمایا کہ اے عائشہ کیا تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے ساتھ زیادتی کرونگا اسوقت آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ عائشہ یہ ایسی رات ہے جسمیں اللہ تعالی آسمان دنیا پر آتا ہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بال کے برابر لوگوں کی مغفرت فرماتاہے (إن الله ينزل ليلة النصف من شعبان إلي سماء الدنيا فيغفر لاكثر من عدد شعر غنم كلب)یہ حدیث ترمذی ،ابن ماجہ ،مشکوہ اور دیگر کتب احادیث میں ذکر ہے اور شارحین نے فرمایا کہ یہ حدیث اتنے اسناد کے ساتھ مروی ہے کہ درجہ صحت کو پہنچ گئی ۔

بہرحال یہ ان گروہ کے لئے ہے جو سرے سے انکار کرتے ہیں شب برأت کا جو کہ صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے ۔

نوٹ ۔ یہاں پر ایک بات ذہن نشین کرائی جائے کہ لوگ مفتی طارق مسعود صاحب پاکستان کے کلماتو بیانات کو لیکر دلائل دیتے ہیں کہ تمہارے مسلک کے عالم کی بھی یہی رائے تو اطلاعا عرض ہے کہ وہ انکی اپنی ذاتی راۓ اور موقف ہے لیکن وہ بھی اسکا انکار نہیں کرتے ہیں وہ بھی مفسرین ومحدثین کی رائے کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں لہذا اس وجہ سے انکے کلپ کو کاٹ چھانٹ کر لوگوں میں گمراہی پھیلانا یا اسکا انکار جہالت اور کم علمی اور ناقص العقل والفہم ہونے کی دلیل ہے ۔

اب رھے وہ لوگ جو اس میں غلو کرتے ہیں حد سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے بلکہ جو چیز نبی سے جیسے ثابت ہے اسکو وہیں تک رکھنی چاہئے ۔ اور اپنی طرف سے کمی بیشی کرنا بدعت ہے ۔

*عبادات کے متعلق چند باتیں

١ ۔آپ کو بھی عبادات کرنی ہو توتنہائی اور خلوت میں کریں ۔

٢۔ اس دن روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے اور جو حدیث ہے اس سلسلے میں وہ بھی ضعیف ہے لہذا اگر کوئی خصوصی طورپر اس دن کی وجہ سے روزہ رکھے وہ صحیح نہیں ہے ہاں مگر یہ نیت کو کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کثرت سے اس مہینے میں روزہ رکھا کرتے تھے اور چونکہ ایام بیض یعنی ١٣,١٤،١٥ کا ہر ماہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے تو گنجائش ہے ورنہ نہیں ۔

٣۔ قبرستان میں بھی جانا آپ صلّی اللہ علیہ وسلم سے پوری زندگی میں ایک مرتبہ ثابت ہے لہٰذا پوری زندگی میں ایک مرتبہ جائیں لیکن تنہا پورے جم غفیر کے ساتھ نہیں اور ہمیشہ جانے کا معمول نہ بنائیں

٤۔ اور دیگر رسم ورواج سے اجتناب کریں ۔

٥۔ پوری رات جاگ کر عبادت کرنا ضروری نہیں ہے ، دلچسپی کے ساتھ تھوڑی دیر عبادت کریں اور سوجائے ایسا نہ ہوکہ پوری رات جاگے اور فجر کی نماز ترک کر دیں۔

خلاصۂ کلام یہ کہ اس رات کی شب قدر کے بعد شب برات کی ہی فضیلت ہے لہٰذا انکار یا غلو کی گنجائش نہیں ، آپ کو کرنا ہے کریں ورنہ جو لوگ کر رہے ہیں انہیں برا بھلا نہ کہیں یا اس میں حد سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے۔

امید ہے کہ آپکو بات قرآن وحدیث کی روشنی میں سمجھ آگئی ہوگی ۔

نوٹ ۔ جس طرح اس زمانے میں شب برأت کو منانے یا عبادت کا جو غلط طریقہ رائج ہے وہ بالکل درست نہیں ہے جیساکہ لڑکیوں کا اس رات اپنے گھروں سے سج دھج کر نکلنا اور دیگر رسم ورواج حلوہ پوری پکانا وغیرہ ۔

آخر میں اپنی بات کہ اگر کسی کو لگے کہ مجھے ٹارگیٹ کیا گیا ہے تو اپنی سوچ میں کشادگی پیدا کریں اور حق کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور اگر کوئی غلطی ہو تو اصلاح کریں ۔

آپکا ممنون و مشکور رہونگا ۔

فقط والسلام

از قلم ۔ عبد الواحد صدیقی چترویدی ✍️

22/02/2024
20/02/2024

سوریہ نمسکار اور اسلامی تعلیمات

سوریہ نمسکار ناقابلِ قبول

اسلام میں صرف ایک خدا کا تصور ہے۔ وہی سب کا خالق ، وہی سب کا مالک اور وہی سب کا سب کچھ ہے۔ دیگر ادیان و مذاہب میں وحدت الہ کا تصور مفقود ، مبہم یا بہت پیچیدہ ہے۔ وہاں مخلوقات کو بھی رب ، الہ اور معبود تصور کر لیا گیا ہے۔ کوئی آگ کو خدا مانتا ہے۔ کوئی سورج کو خدا مانتا ہے۔ کوئی کسی بشر کو ہی خدا جانتا ہے۔ اور کوئی کسی اور چیز کو خدا کا درجہ دیے بیٹھا ہے۔

پچھلے دنوں راجستھان حکومت نے اسکول کے ہر ہر طالب علم کے لیے "سوریہ نمسکار" کو لازم قرار دیا۔ اس فیصلے کے بعد ہی ریاست کے مسلمانوں میں خصوصا اور ملک کے مسلمانوں میں عموما تشویش کا ماحول پیدا ہوا ، اور یہ جائز رد عمل تھا۔ اس فیصلے کا مسلمانوں نے بائیکاٹ کیا اور اس کی مخالفت کی۔ خصوصا جمعیت علماء راجستھان نے اس کی سخت مخالفت کی اور بروقت اس سلسلے میں مسلمانوں کی راہ نمائی کی ، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ریاست کے اس فیصلے کو کورٹ میں لے گئی اور اس کے خلاف درخواست داخل کی۔ لیکن ذرائع کے مطابق جمعیت کی اس درخواست کو کورٹ نے مسترد کر دیا ، اور شنوائی نہیں کی گئی۔ ادھر دوسری طرف یہ خبر بھی ہے کہ ایم آئی ایم نے بھی بعد کو اس فیصلے کے خلاف کورٹ میں عرضی داخل کی ؛ لیکن کورٹ نے اس پر سماعت کی تاریخ آگے ٹال دی۔

راجستھان حکومت نے 15/فروری (2024) کو اسکولوں کے لیے "سوریہ نمسکار" کو لازم قرار دیا۔ چناں چہ آج فروری کی 20 تاریخ ہے ، اور بعض ویڈیو سامنے آئی ہیں ، جن میں صاف طور پر دکھایا گیا ہے کہ کوئی اسکول ہے ، اور اس میں باضابطہ طور پر "سوریہ نمسکار" کا عمل کرایا جا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر بہ خدا دل میں بڑی غیرت آئی۔ بڑا کرب محسوس ہوا۔ مردوں اور ہندو عورتوں کے ساتھ صف بہ صف بہت سی باپردہ مسلم لڑکیاں اہتمام کے ساتھ اس عمل میں شریک تھیں ، اور اس عمل کے مختلف ارکان مختلف طرز و انداز میں ادا کر رہی تھیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ مسلم نما بچیاں اس میں زیادہ نظر آئیں۔ غیر مسلم تو بہت کم نظر آئے۔ ہر غیرت مند جو اس طرح کی تصاویر دیکھے گا ، اپنی بے بسی ، قوم کی پستی اور غیروں کی بالاتری کے احساس سے دل میں بڑا کرب محسوس کرے گا۔

سوریہ نمسکار کوئی محض ورزشی عمل نہیں ہے کہ جس پر مسلمانوں کو خاموش رہنا چاہیے ، اور چپ چاپ اس کو قبول کر لینا چاہیے ؛ بلکہ یہ ایک ہندوانہ تصور کا مظہر ہے۔ ہندو قوم سورج کو خدا کا درجہ دیتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے سورج کی پرستش کی جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران بعض اشلوک یا منتر بھی پڑھے جاتے ہیں ، جو بالکل غیر اسلامی اور کفریہ و شرکیہ ہیں۔ چناں چہ اس سلسلے میں مفتی فیاض عالم قاسمی کے ایک مضمون کا مختصر اقتباس نقل کیا جاتا ہے ، جو جمادی الثانی–رجب المرجب 1443 مطابق جنوری–فروری 2022 کو ماہ نامہ دارلعلوم (دیوبند) کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ لکھا ہے : "سوریہ نمسکار کے معنی سورج کی سلامی ہے ؛ لیکن اب یہ ایک اصطلاح بن گئی ہے ، اور سورج کی عبادت اور پوجا کرنے کا نام "سوریہ نمسکار" ہوگیا ہے ، جس میں بارہ منتر ہیں۔ اس کو یوگا کے ساتھ جوڑ کر بارہ ایسی ہیئتیں اور شکلیں متعین کی گئی ہیں کہ ہر شکل اور ہیئت میں سورج کو مخاطب کرتے ہوئے ایک منتر پڑھا جاتا ہے۔ یہ منتر اور کلمات واضح طور پر کفر اور شرک پر مشتمل ہیں۔ جیسے اس کے منتر نمبر 6 میں ہے : "اے طاقت و قوت دینے والے!" —— منتر نمبر 8 میں ہے : "اے صبح کے مالک!" —— منتر نمبر 10 میں ہے : "اے کائنات کے مالک!" —— منتر نمبر 11 میں ہے : اے وہ ذات ، جو ہر قسم کی تعریف کی مستحق ہے"۔

بہ شکریہ :darululoom-deoband.com

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے "سوریہ نمسکار" کا عمل کتنا غیر اسلامی اور کفریہ و شرکیہ ہے۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے اسکول ، کالج اور تعلیمی ادارے جہاں جبرا مسلم بچوں سے اس طرح کے اسلام مخالف عمل کرائے جاتے ہوں ، وہاں اپنے بچوں کو نہ بھیجیں۔ یا تو خاص اس دن نہ بھیجیں ، جس دن یہ عمل کرائے جاتے ہوں ، یا کبھی بھی ایسے اداروں میں نہ بھیجیں ، اور ان کے متبادل دیگر تعلیمی اداروں میں ان کی تعلیم و تربیت کو یقینی بنائیں۔ ہمارے بچے اور بچیاں جاہل اور ان پڑھ رہ جائیں ، یہ گوارا ہے ؛ لیکن یہ گوارا نہیں کہ تعلیم کے نام پر ہم اپنے بچوں اور بچیوں کو ایمان کے سودے کی راہ پر ڈال دیں! ایمان کے مقابلے میں ہماری ان عصری تعلیم اور غیر یقینی قلیل دنیوی منافع کی کوئی اہمیت نہیں۔ ایمان ہی ہم مسلمانوں کا سب سے اہم ، سب سے مقدم اور سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ایمان کے باب میں کسی طرح کا کوئی سمجھوتا ، نرمی یا روا داری نہیں۔

20/02/2024

Traveling Bihar to Mumbai

20/02/2024

Sare Jahan se achcha Hindustan hamara

20/02/2024

Yun to sare Nabi mukarram hai magar

Want your school to be the top-listed School/college in Sitamarhi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Jamiul Uloom Rashidiya Indarwa
Sitamarhi
843324