Darululoom-deoband

Darululoom-deoband

Share

It is an ISLAMIC Institute for all الجامعة الإسلامية دار العلوم بديوبند‎‎) is the Darul uloom Islamic school in India where the Deobandi Islamic movement began.

It is located at Deoband, a town in Saharanpur district, Uttar Pradesh. The school was founded in 1866 by the ulema (Islamic scholars) Muhammad Qasim Nanotvi, Rasheed Ahmed Gangohi and 'Abid Husaiyn.

02/05/2022
Photos from Darululoom-deoband's post 02/05/2019
08/10/2015
11/07/2015
Photos 27/05/2015

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’قرآنِ مجید‘‘ کا ساتھ نصیب فرمائے…دنیا میں بھی…مرتے وقت بھی…قبر میں بھی،حشر میں بھی…اور جنت میں بھی…قرآن مجید نور ہے،ہدایت ہے،روشنی ہے، رحمت ہے، امام ہے، رہنما ہے… بچانے والا ہے، بڑھانے والاہے،ساتھ نباہنے والا ہے… چھڑانے والا ہے… دلکش،دلربا اور مونس ساتھی اور ہمسفر ہے…
ہمیں سوچنا چاہیے کہ…مرتے وقت ہم اپنے ساتھ کتنا ’’قرآن مجید‘‘ لے کر جاتے ہیں…
مجاہدین کرام کے نام
کامیاب مجاہدین کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ…جیسے ہی ’’رجب‘‘ کا مہینہ ختم ہوا، انہوں نے قرآن اور جہاد کو تھام لیا…شعبان میں محنت کی اور رمضان المبارک میں فتوحات پائیں …ماشاء اللہ ،جہاد کا نور اب ہر طرف پھیل چکا ہے…جہاد کے دوست اور دشمن سب نمایاں ہو کر سامنے آ چکے ہیں…جہاد کے بری،بحری اور پہاڑی محاذ کھل چکے ہیں…قدیم اسلحہ اور گھوڑوں سے لے کر جہاز اور ٹینک تک مجاہدین کے پاس موجود ہیں…جہاد کا مسئلہ اب چند سال پہلے کی طرح ’’اجنبی‘‘ نہیں رہا…جہاد کے موضوع پر کتابیں، بیانات اور دیگر دستاویزات ہر جگہ مہیّا ہیں…دشمنانِ اسلام جہاں بھی مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں…وہاں انہیں مجاہدین کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے …اَقوامِ متحدہ نام کا ادارہ اب آخری ہچکیاںلے رہا ہے… سوویت یونین نام کا اِتحاد بکھر چکا ہے …اور دہشت کا نشان امریکہ اب ’’اُبامہ‘‘ ہوتا جا رہا ہے… کمزور، رسوا، بدنام، غیر مقبول…اور بے رُعب…اور یورپی اِتحاد اپنے وجود کو بچانے کی آخری کوششیں کر رہا ہے…جہاد نے گذشتہ پندرہ سال میں دنیا کے حالات اور دنیا کے نقشے کو بدل ڈالا ہے اور تبدیلی کا یہ عمل تیزی سے جاری ہے…مجاہدین کو چاہیے کہ قرآن مجید کو مضبوط تھام لیں…پھر ان کی فتوحات کا دائرہ بہت وسیع ہو جائے گا…کیونکہ قرآن مجید کا آغاز ہی سورۂ فاتحہ سے ہوتا ہے…ماضی کے کئی اسلامی لشکروں نے سورۂ فاتحہ کی برکت سے بڑے بڑے شہر اور قلعے فتح کئے…اور اسی قرآن مجید میں سورہ ’’الفتح‘‘ موجود ہے… یہ سورت مجاہدین کو ’’فاتح جماعت‘‘ بنانے کا طریقہ سکھاتی ہے…اور اسی قرآن مجید میں سورہ ’’النصر‘‘ موجود ہے…جو زمین پر اللہ تعالیٰ کی نصرت اُتارنے کا طریقہ بتاتی ہے…مجاہدین کے معاشی مسائل کے حل کے لئے سورہ ’’اَنفال‘‘ موجود ہے…اور مجاہدین کو پہاڑوں جیسا حوصلہ دِلانے والی سورۂ توبہ بھی ہمارے سامنے ہے…
’’مجاہد‘‘ جس قدر ’’قرآن‘‘ سے جڑے گا،اسی قدر اس کا جہاد کامیاب اور شاندار ہو گا… شعبان شروع ہو چکا…قرآن مجید کو سینے سے لگا لیجئے… محاذوں کی گرمی ہو یا ریاضت و تربیت کی سرگرمی …دعوت کی بھاگ دوڑ ہو یا کسی مہم کی محنت … قرآن مجید آپ کے ساتھ رہے…جن کو درست پڑھنا نہ آتا ہو وہ فوراً سیکھنا شروع کر دیں…جو پڑھنا جانتے ہوں وہ تلاوت میں اضافہ کردیں … جو حفاظ ہیں وہ حفظ کو پختہ کر یں…اور سب مل کر قرآن مجید زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کریں…
قرآن،شعبان ،رمضان
قرآن مجید کو اپنے ساتھ لینے اور قرآن مجید کی خدمت کرنے کا میدان بہت وسیع ہے…سب سے پہلے اپنے دل میں ’’قرآن مجید‘‘ کی عظمت بٹھائیں کہ یہ کتنی بڑی اور کتنی ضروری نعمت ہے … کوئی نعمت اس کے برابر نہیں کیونکہ باقی سب نعمتیں ’’مخلوق ‘‘ ہیں…جبکہ قرآن مجید خود اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام ’’مخلوق‘‘ نہیں ہو سکتا…
اس کے لئے اچھا ہو گا کہ…آپ فضائل قرآن مجید کی احادیث کا ایک بار ضرور مطالعہ کر لیں…دوسرا کام یہ کہ اپنے دل میں اس بات کا عزم باندھیں کہ میں نے ان شاء اللہ قرآن مجید کو اپنے ساتھ لے جانا ہے…
جب یہ فکر دل میں بیٹھ گئی تو ان شاء اللہ اس کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا…
عجیب نقشے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص تجوید کے ساتھ قرآن مجید پڑھنا جانتا ہے…وہ بہت پختہ حافظ بھی ہے…اور قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر بھی جانتا ہے…مگر مرتے وقت قرآن مجید اس کے ساتھ نہیں جاتا… روح نکلتے وقت بھی قرآن مجید اس کے ساتھ کوئی تعاون نہیں فرماتا…اور قبر و حشر میں بھی اس کا ساتھ نہیں دیتا…بلکہ اُلٹا اس کے خلاف گواہی دیتا ہے…یا اللہ! ایسی صورتحال سے آپ کی پناہ…
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ…ایک شخص شرعی عذر کی وجہ سے درست قرآن مجید نہیں پڑھ سکتا… وہ حافظ اور عالم بھی نہیں…تلاوت بھی زیادہ نہیں کر سکتا…مگر مرتے وقت قرآن مجید اس کے ساتھ جاتا ہے…اور آگے کے تمام مراحل میں اس کے ساتھ بھرپور تعاون کرتا ہے…
وسیع اور دلکش میدان
دل میں قرآن مجید کی عظمت ہو…قرآن مجید پر مکمل ایمان ہو…قرآن مجید کو ساتھ لینے کی فکر، کڑھن اور حرص ہو…اور اسے اپنی اہم ضرورت سمجھتا ہوتو…خدمت قرآن کا میدان بہت دلکش اور وسیع ہے…تلاوت سیکھنا،تلاوت کرنا…ادب کرنا، قرآن مجید کو سمجھنا، سمجھانا … قرآن مجید پڑھانا…قرآن مجید کی تعلیم کے لئے سہولیات اور اَسباب فراہم کرنا…قرآن مجید کی طرف لوگوں کو بلانا…قرآن مجید کی دعوت چلانا …قرآن مجید چھاپنا، چھپوانا، تقسیم کرنا…قرآن مجید کی محبت عام کرنا…قرآن مجید پر عمل کرنا… عمل کرانا…قرآن مجید کے احکامات کو خود پر ، معاشرے پر اورزیرِاختیار اَفراداور علاقے پر نافذ کرنا…قرآنی تعلیم کی حفاظت کرنا…قرآن مجید کی تعلیم دِلوانا…قرآن مجید کی تفسیر بیان کرنا، تفسیر لکھنا یا کوئی بھی علمی خدمت کرنا…
ماضی میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں…جو قرآن مجید کے ادب کی بدولت کامیاب ہو گئے… اور ایسے بھی گذرے ہیں کہ بظاہر قرآن مجید ان کے ساتھ تھا…مگر یقین،عمل اور ادب کے نہ ہونے کی وجہ سے …وہ قرآن مجید کے ساتھ سے محروم رہے …ایک شخص قتال فی سبیل اللہ کا منکر ہو اور تلاوت کر رہا ہو آیاتِ قتال کی…یہ تلاوت خود اُس کے خلاف حجت بن جائے گی…
آج ہی سے
الحمد للہ شعبان شروع ہو چکا ہے…آپ آج سے ہی اپنی زندگی کا ’’قرآنی منصوبہ‘‘ طے کر لیں …پھر اس کے لئے دعاء اور محنت شروع کر دیں …اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں…ایک آدمی ہر وقت یہ سوچتا ہے کہ میں نے ان شاء اللہ مرنے سے پہلے قرآن مجید کے چار سو مکتب قائم کرنے ہیں… ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے ان شاء اللہ محاذوں تک قرآن مجید کے نسخے پہنچانے ہیں…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے اول تا آخر ایک بار قرآن مجید کی ہر آیت کو ان شاء اللہ ضرور سمجھنا ہے کہ میرا رب مجھ سے کیا فرما رہا ہے…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے درست تلفظ کے ساتھ قرآن مجید سیکھنا ہے،پھر روز تلاوت کرنی ہے اور اپنی ساری اولاد کو ان شاء اللہ حافظ بنانا ہے…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے ایک ایسا پریس قائم کرنا ہے جو صرف قرآن مجید چھاپے گا اور درست چھاپے گا اور مفت تقسیم کرے گا…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں نے ایک بار قرآن مجید کا اس طرح مطالعہ کرنا ہے کہ…ہر آیت پر غور کروں گا کہ میرا اس پر کتنا یقین ہے اور کتنا عمل ہے…ایک آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں ان شاء اللہ ایک سو افراد کو قرآن مجید پڑھنا سکھا جاؤں گا…وہ پڑھتے پڑھاتے رہیں گے…اور میرا کارخانہ چلتا رہے گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ…میں اپنی اولاد کو سورہ فاتحہ خود حفظ کراؤں گا…اولاد زندہ رہی اور بڑی ہوئی تو لاکھوں بار فاتحہ پڑھے گی جس کااجر ان شاء اللہ میرے لئے جاری رہے گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ میں جلد سازی کی چھوٹی سی دکان بنا لوں گا… چھٹی کے دن مساجد میں جاکر قرآن مجید کے ضعیف نسخے اٹھا لاؤں گا اور ان کی جلد بنا کر واپس رکھ دوں گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ…میں کسی غریب آدمی کے ایک بچے کی قرآنی تعلیم کا سارا بوجھ اپنے سر لے لوں گا…اور اس کی تعلیم مکمل ہونے تک ان شاء اللہ خرچہ اٹھاتا رہوں گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ میں قرآن پاک کے فضائل کی دس احادیث ٹھیک ٹھیک یاد کروں گا اور روز کچھ مسلمانوں کو سناؤں گا…اور انہیں قرآن مجید پڑھنے اور سمجھنے کی دعوت دوں گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ روزآنہ اتنا قرآن مجید حفظ کروں گا اور مرتے دم تک حفظ کرتا رہوں گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ میں قرآن مجید کا ایک نسخہ لے کر…کسی مستند عالم یا مستند ترجمہ کے ذریعے اس پر نشانات لگا دوں گا تاکہ…تلاوت کے وقت دھیان رہے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں… پھر یہ نسخہ بعد والوں کے کام بھی آتا رہے گا…ایک آدمی سوچتا ہے کہ میں نے خود بھی قرآن مجید حفظ کرنا ہے…اپنی بیوی اور اولاد کو بھی کرانا ہے اور اپنے پورے خاندان کو بھی کرانا ہے ان شاء اللہ…
دیکھا آپ نے کہ خدمت قرآن کا میدان کتنا وسیع ہے…اور اہل ہمت کے لئے اس میں کیسے کیسے امکانات موجود ہیں…یہ اوپر جو چند نیتیں بغیر ترتیب کے لکھی ہیں …یہ بطور مثال ہیں… اصل ترتیب درج ذیل ہے:
(۱) قرآن مجید پر ایمان لانا
(۲) قرآن مجید پر عمل کرنا
(۳) قرآن مجید کی تلاوت سیکھنا اور کرنا
(۴) قرآن مجید کی دعوت دینا
(۵)قرآن مجید سمجھنا، سمجھانا، پڑھنا اور پڑھانا
(۶) قرآن مجید کو حفظ کرنا،پھر حفظ رکھنا، اور قرآن مجید کا ادب کرنا…
اسی طرح اوپر جو نیتیں لکھی ہیں…ان کے علاوہ بھی خدمت قرآن کے بے شمار طریقے ہیں …آپ صرف تاریخ پر نظر ڈالیں تو اہل سعادت نے خدمتِ قرآن پر زندگیاں قربان کر دیں… تفسیر الگ خدمت، ترجمہ الگ خدمت، الفاظ الگ خدمت، معانی الگ خدمت،تجوید الگ خدمت، کتابت،اشاعت، دعوت الگ خدمت …
اور بے شمار خدمات…ارے بھائیو! شہنشاہِ اعظم، اللہ اکبر کا عظمت والا کلام ہے…اس لئے اس کے خُدّام بھی بے شمار، خدمتیں بھی بے شمار اور ان خدمات کا اجر بھی بے شمار…اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو توفیق عطا فرمائے …مگر ایک کام تو ابھی سے کر لیں…شعبان آ گیا ہے آج سے ہی اپنی تلاوت میں کچھ اضافہ کر لیں…وقت بہت قیمتی ہو جائے گا…بہت قیمتی …
لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ،لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا
لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
٭…٭…٭
Alqalamonline.com

Photos 27/05/2015

ایک اہم فرض کی ادائیگی
کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 497)
اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور مظلوم مسلمانوں کی آزادی کیلئے کفار سے برسرِ پیکار ہونا،اسلام کے عظیم ترین اور اہم ترین فرائض میں سے ہے۔ راہِ خدا میں اپنے وطن کو چھوڑنا، دوست احباب سے جدا ہونا اور پھر اپنے تن من دھن کو اپنے خالق و مالک کے حکم پر نچھاور کردینا، ایسی اعلیٰ عبادت ہے کہ رب کائنات خود ایسے لوگوں سے اپنی محبت کا اظہار فرماتے ہیں، چنانچہ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّھُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌo
(بے شک اللہ تعالیٰ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کے راستے میں صف بنا کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔)(الصف:۴)
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاد سے جو تعلق اور وابستگی تھی، اُس کا اندازہ غزوات و سرایا کی اُس غیر معمولی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے جو زیادہ نہیں صرف مدینہ منورہ کے دس سالہ دور میں پیش آئے۔ احادیثِ رسول اور سیرت نبوی کی کتابوں کے سینکڑوں صفحات ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت، دلیری اور بہادری پر گواہ ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر صحابہ کرامؓ نے جس سرفروشی اور اعلیٰ ترین جنگی مہارت کے نمونے پیش کئے، وہ نہ صرف آج کے مسلمانوں کی غفلت اور بزدلی کیلئے، تازیانہ ہیں بلکہ جنگی تاریخ کے نادر اور بے مثال واقعات بھی ہیں۔
جنگ اور لڑائی انسانیت کی تاریخ میں کوئی نایاب اور انوکھی چیز نہیں۔ جب سے انسان نے اس سرزمین پر قدم رکھا ہے، باہمی کشمکش اور زور آزمائی کے مناظر دیکھتا آیا ہے۔ تاریخ کو وہ وقت یاد ہے جب بختِ نصر اُٹھا اور بیت المقدس کو برباد کردیا، ایرانی آئے اور بابل کے تمدن کو تاخت و تاراج کرکے چلے گئے، رومی نکلے اور کارتھیج کی سرزمین کو آگ اور خون سے بھر دیا، سکندر یونان سے نکلا اور ایران کے در و دیوار سے زندگی کے ایک ایک نقش کو مٹا ڈالا، تاتاری ابھرے اور بغداد کے قدیم آثار کو دجلہ میں ڈبو دیا۔ یہ سب مشہور فاتحین کس مقصد کیلئے میدانوں میں اُترے، انہوں نے کس غرض سے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا اور انہوں نے کس ادارے سے انسانی بستیوں کو کھنڈرات میں تبدیل کیا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر بچہ دے سکتا ہے کہ ان جنگجو بادشاہوں کے پیش نظر انسانیت کی کوئی فلاح و بہبود یا انسانوں کیلئے بلند مقصدِ حیات نہیں تھا، یہ تو محض اپنے اقتدار کو وسعت دینے کیلئے ہوسِ ملک گیری میںمبتلا ہو کر انسانوں کا خون بہاتے رہے۔
لیکن رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والے جب ظلم اور کفر سے برسرِ پیکار ہوئے اور انہوں نے معرکہ آرائیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کی تو اُن کے سامنے کیا عزائم تھے؟ اقبال مرحوم کی زبانی اس کا جواب یہ ہے:
تھے وہی ایک ترے معرکہ آرائوں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریائوں میں
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائوں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھے وہ چھائوں میں تلواروں کی
وہ جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کیلئے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کیلئے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کیلئے
سربکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کیلئے؟
کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
منہ کے بل گر کر ھو اﷲ احد کہتے تھے
پھر ایک طرف دنیاوی بادشاہوں کی جنگیں ہیں، جن میں بے دریغ انسانی خون بہایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو یہ ہدایات جاری ہوتی تھیں:
’’میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور اپنے اہل لشکر کے ساتھ اچھا برتائو کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ کے نام پر قتال کرنا اور اللہ ہی کے راستے میں اُس شخص سے قتال کرنا جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اختیار کیا ہو۔ غدّاری نہ کرنا، مال غنیمت میں چوری نہ کرنا، کسی بچے، عورت اور بے کار بوڑھے یا کسی عبادت گاہ میں بیٹھے گوشہ نشین کو قتل نہ کرنا، کسی کھجور کو ہاتھ نہ لگانا، کسی درخت کو نہ کاٹنا، کسی عمارت کو نہ گرانا۔‘‘(نبیٔ رحمت بحوالہ واقدی ۴۹۷)
حیرت اور تعجب تو اُس پڑھے لکھے طبقے پر ہے جو اسلامی غزوات اور جہاد کے بارے میں اُس قوم کو صفائی پیش کرتا رہتا ہے، جس کے اپنے ہاتھ انسانیت کے خون سے رنگین ہیں اور اُس کے جبڑوں سے معصوم مسلمان بچوں کے لہو کی بو آرہی ہے۔ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے دس سالہ مدنی دورِ حیات میں جتنے غزوات و سرایا پیش آئے، ان سب میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی کل تعداد ۳۸۷ ہے جبکہ ہلاک ہونے والے کفار کی تعداد ۷۵۹ ہے، گویا صرف ۱۰۱۸ ؍انسانی زندگیوں کے خاتمے کے نتیجے میں عرب کے ریگزاروں میں اُس عالمگیر انقلاب کی بنیاد پڑی جس نے غلامی اور بے بسی کی چکی میں پسنے والی اقوام کو آزادی اور حرّیت کا پیغام دیا اور بدامنی کے گڑھ عرب میں جہاں بڑے بڑے کارواں بھی غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے بغیر نہیں چل سکتے تھے، اب یہ حالت ہوگئی کہ ’’ایک خاتون حیرہ سے چلتی اور کعبہ کا طواف کرکے واپس چلی جاتی اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہ ہوتا (بخاری)‘‘ اور ’’ایک اکیلی عورت قادسیہ سے اپنے اونٹ پر چلتی اور بیت اللہ کی زیارت کرتی اور اس کو کسی کا خوف نہ ہوتا (سیرت ابن ہشام)‘‘
جہاد اسلام کا ایک اہم ترین فریضہ ہے۔ یہ اللہ کریم کا محکم حکم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت ہے، فقہ اسلامی کا متفقہ مسئلہ ہے، اسلافِ امت کا اجماعی عقیدہ ہے اور یوں کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی شکل میں ہمیں جو ضابطۂ حیات عطا فرمایا، جہاد اِس سرزمین پر اُس کا محافظ بھی ہے اور اُس کے نفاذ کا واحد راستہ بھی۔
تاریخ اسلام میں جہاد کی اس اہمیت اور خصوصی حیثیت کے باوجود مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو ببانگ دہل اس کو دہشت گردی سے تعبیر کرتا ہے اور اپنے دین کے تحفظ کیلئے اور ممالکِ اسلامیہ کے دفاع کیلئے اسلحہ استعمال کرنے کو غلط سمجھتا ہے۔ ان حضرات کی دو رُخی اور تضاد بیانی کا اندازہ صرف اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف تو یہ مسلمانوں کو اسلحہ سے دور بھاگنے کو کہتے ہیں اور اہل اسلام کی ہر جہادی تحریک کو شدت پسند اور انتہا پسند جیسے القابات سے نوازتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ لوگ عالمی استعماری طاقتوں کے ظالمانہ کردار پر نہ صرف راضی ہیں بلکہ اُن کی طرف سے برپا ہونے والے ہر ظلم و ستم کی حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو سمجھانے کیلئے اقبال مرحوم نے کہا تھا:
تعلیم اس کو چاہئے ترکِ جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجۂ خونیں سے ہو خطر
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر
ایک اور طبقہ مسلمانوں میں ایسا پیدا ہوا جس نے تلوار اور اخلاق کو ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا اور پھر اپنے دل و دماغ سے یہ فیصلہ سنا ڈالا کہ چونکہ ہم با اَخلاق قوم ہیں، اسلام میں اخلاق کی اہمیت پر بڑا زور دیا گیا ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اخلاقِ کریمانہ کے اعلیٰ درجے پر تھے، اس لئے جہاد و قتال (نعوذ باللہ) بداخلاقی ہے اور ہم اس کے مرتکب نہیں ہو سکتے۔ ظاہر ہے کہ یہ فلسفہ بھی اسلامی تعلیمات سے سو فیصد متصادم ہے، اسلام میں اخلاق صرف ہنسنے مسکرانے کا نام نہیں، مقابلے اور لڑائی میں پیٹھ دکھانے اور راہِ فرار اختیار کرنے کو ہر عقل مند بے غیرتی اور بزدلی قرار دیتا ہے، اخلاق و کردار نہیں۔ پھر نبی ٔ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ نبوت کا تذکرہ تو بغیر جہاد کے مکمل ہی نہیں ہوسکتا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء گرامی میں ہمیں نبی السیف (صلی اللہ علیہ وسلم) یعنی تلوار والے نبی اور نبی الملحمۃ (صلی اللہ علیہ وسلم) یعنی گھمسان کی جنگوں والے نبی جیسے اسماء مبارکہ ملتے ہیں۔
رحمان کیانی نے کیا خوب کہا ہے:
جب بھی سپاہیوں سے پیمبرا کو پوچھئے
خندق کا ذکر کیجئے، خیبر کو پوچھئے
بدر و احد کے قائدِا لشکر کو پوچھئے
یا غزوۂ تبوک کے سرورا کو پوچھئے
ہم کو حنین و مکہ و موتہ بھی یاد ہیں
ہم امتیِٔ بانی رسمِ جہاد ہیں
مسلمانوں کے ان دو طبقات کا تذکرہ تو بطورِ مثال نوکِ قلم پر آگیا ورنہ ایسے درجنوں وساوس اور لایعنی باتوں کے ذریعے امت مسلمہ کے دلوں سے جہادی جذبات اور شہادت کے ولولوں کو کرید کرید کر صاف کرنے کی کوشش کی گئی اور انتہائی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاد کے خلاف پھیلائے جانے والے وساوس و شبہات کے تانے بانے قادیان کے اُس شیطان کے افکار سے بُنے گئے ہیں جو سیالکوٹ کچہری میں سولہ روپے ماہوار پر انگریزی حکومت کا ملازم تھا اور پھر انگریز نے مسلمانوں کے جذبات حریّت سے بیگانہ کرنے کیلئے اس فاتر العقل شخص کو دعویٰ نبوت کرنے کیلئے منتخب کیا۔ افسوس کہ آج اپنے آپ کو بہت بڑا دانش ور اور متقی پرہیزگار باور کرنے والے مخلص مسلمان بھی جہاد کے خلاف اُسی کے الفاظ کو چبا رہے ہیں اور اُس کے غلیظ پس خوردہ سے اپنے آپ کو آلودہ کررہے ہیں۔
ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کو جہاد کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے، اہلِ اسلام کو اُن کے اصل سرچشموں یعنی قرآن و سنت سے جہاد کی آفاقی حیثیت بتائی جائے اور مرزا ملعون کے افکار کو ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے دل و دماغ سے کھرچ کھرچ کر نکال دیا جائے۔
الحمد للہ تعالیٰ! کاروانِ رحمت کے زیر اہتمام پورے ملک میں ہونے والے چھ روزہ دروس قرآن کے مبارک اجتماعات اس فرضِ کفایہ کو بحسن و خوبی ادا کر رہے ہیں اور ان کی برکات سے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر شریر کے شر ، ہر فتین کے فتنہ اور ہر حاسد کے حسد سے محفوظ فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)
٭…٭…٭
Www.alqalamonline.com

Want your school to be the top-listed School/college in Saharanpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Saharanpur District Of
Saharanpur
247554