25/09/2026
*حُرمت کے فتووں سے تشہیر کے منبر تک: دوغلے پن کا کھلا آئینہ اور تحقیقِ حق کی فتح!*
کل تک جو طبقہ جدید ذرائع ابلاغ اور تصویر و ویڈیو کو مطلقاً #حرام قرار دے کر کفر، فسق اور الحاد کے فتوے بانٹتا پھرتا تھا، آج وہی ڈیجیٹل اسکرینوں کا سب سے بڑا بازی گر بن کر جلوہ افروز ہے۔ وہ نام نہاد منبر اور جمود پسند خانقاہیں، جہاں سے کیمرے، ویڈیو، ٹی وی اور نشریات کے خلاف نفرت و تعصب کا طوفان کھڑا کیا جاتا تھا، آج انہی کے نام لیواؤں، مریدین، علماء اور خلفاء کی ایچ ڈی ویڈیوز اور پورٹریٹ تصاویر سوشل میڈیا کے چپے چپے کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب دورِ حاضر کی سب سے جلیل القدر علمی و روحانی شخصیت، رئیس المحققین، شیخ الاسلام والمسلمین، مجددِ دوراں، زینت الفقہاء، یادگارِ اسلاف، گلشنِ سادات کے مہکتے پھول، شہزادۂ حضور محدث اعظم ہند حضرت مفتی علامہ سید محمد مدنی اشرف اشرفی الجیلانی (مدظلہ العالی والنورانی) نے اپنے نکھرے، متوازن اور عمیق تحقیقی قلم سے وقت کے تقاضوں، ابلاغی ضرورتوں اور شرعی حدود کا کماحقہ احاطہ کرتے ہوئے ویڈیو، ٹی وی اور جدید ٹیکنالوجی کے باب میں ایک تاریخی و بے مثل فتویٰ صادر فرمایا، تو دنیا بھر کے اہلِ علم، محققین اور باشعور دانشوروں نے اسے سینے سے لگایا اور اس دور اندیشانہ رہنمائی کو دل و جان سے قبول کیا۔
مگر اس حق گوئی کے بالمقابل ملکِ ہندوستان کے اندر بغض و عناد اور فکری جمود کی ماری ایک مخصوص خانقاہ اور اس کے زیرِ اثر چلنے والے شدت پسندوں نے اپنی خود ساختہ انا اور حسد کی تسکین کے لیے تمام اخلاقی اور شرعی حدود پامال کر ڈالیں۔ اپنے حواریوں اور حاسد مریدوں کے ذریعے بے سروپا کتب اور رسائل کے انبار لگا دیے گئے، اخلاق و سنجیدگی کے تمام پیمانے روند ڈالے گئے، اور بغض کی انتہا یہ ہوئی کہ سلطان التارکین، قطبِ مدینہ حضور سرکار مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی (علیہ الرحمہ) کے پاکیزہ شجرہ و نسب تک پر سوال اٹھانے کی ناکام و ناپاک جسارتیں کی گئیں۔ لیکن جب حضرت کی شاہکار اور دندان شکن تصنیف "آدابِ جہانگیری" جلوہ گر ہوئی، تو حسد و فریب کے تمام خود ساختہ تانے بانے خاک میں مل گئے اور باطل کے ایوان لرز اٹھے۔
آج وقت نے ایسا کھلا فیصلہ صادر کیا ہے کہ وہی معترضین اپنے ماضی کے فتوے اور ہنگامے فراموش کر کے، اسی تحقیقی فتوے کی روح کو عملاً اپنائے ہوئے ہیں۔ آج ان کا ہر اجلاس، ہر جلسہ، ہر خطاب، اینڈرائیڈ موبائل، یوٹیوب چینلز، فیس بک اسٹوڈیوز اور انسٹاگرام ریلز کے ذریعے براہِ راست نشر ہو رہا ہے۔ حیرت ہے کہ نہ تو ان کے حواریوں کو اس کھلے #تضاد پر کوئی ندامت ہے اور نہ ہی ان کی خانقاہوں کو اپنے ماضی کے فکری افلاس پر کوئی شرمندگی! جس کام کو کل تک حرام اور فسق کہہ کر امت پر تھوپا گیا تھا، آج وہی ان کی ذاتی تشہیر، مسلکی تسلط اور مالیات کا سب سے بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
ہم رئیس المحققین، سلالۂ سادات حضرت شیخ الاسلام والمسلمین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جن کی بصیرت اور تحقیقی فتاویٰ نے امت کو بند گلی سے نکال کر حق کی واضح شاہراہ دکھائی، اور ان شدت پسند منافقوں کے چہروں سے تقدس کا جھوٹا نقاب نوچ کر انہیں دورِ حاضر کا سب سے بڑا آئینہ دکھا دیا۔
قلم کار: واصلی امیٹھوی بھارتی