Seraji Channel

Call Website

Seraji Channel Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Seraji Channel, Education Website, Rajmahal.

فیضانِ مجدد دوراں، غوث زماں، مفسر قرآن،‌ ثانی بو حنیفہ، قبلہ عالم، امام ہمام،‌ سلطان المشائخ،‌ حضور شیخ الاسلام والمسلمین، امام سید محمد مدنی پاک 'اختر' اشرفی جیلانی مجدد کچھوچھوی
Please Like& follow this

*حُرمت کے فتووں سے تشہیر کے منبر تک: دوغلے پن کا کھلا آئینہ اور تحقیقِ حق کی فتح!*​کل تک جو طبقہ جدید ذرائع ابلاغ اور تص...
25/09/2026

*حُرمت کے فتووں سے تشہیر کے منبر تک: دوغلے پن کا کھلا آئینہ اور تحقیقِ حق کی فتح!*

​کل تک جو طبقہ جدید ذرائع ابلاغ اور تصویر و ویڈیو کو مطلقاً #حرام قرار دے کر کفر، فسق اور الحاد کے فتوے بانٹتا پھرتا تھا، آج وہی ڈیجیٹل اسکرینوں کا سب سے بڑا بازی گر بن کر جلوہ افروز ہے۔ وہ نام نہاد منبر اور جمود پسند خانقاہیں، جہاں سے کیمرے، ویڈیو، ٹی وی اور نشریات کے خلاف نفرت و تعصب کا طوفان کھڑا کیا جاتا تھا، آج انہی کے نام لیواؤں، مریدین، علماء اور خلفاء کی ایچ ڈی ویڈیوز اور پورٹریٹ تصاویر سوشل میڈیا کے چپے چپے کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
​تاریخ گواہ ہے کہ جب دورِ حاضر کی سب سے جلیل القدر علمی و روحانی شخصیت، رئیس المحققین، شیخ الاسلام والمسلمین، مجددِ دوراں، زینت الفقہاء، یادگارِ اسلاف، گلشنِ سادات کے مہکتے پھول، شہزادۂ حضور محدث اعظم ہند حضرت مفتی علامہ سید محمد مدنی اشرف اشرفی الجیلانی (مدظلہ العالی والنورانی) نے اپنے نکھرے، متوازن اور عمیق تحقیقی قلم سے وقت کے تقاضوں، ابلاغی ضرورتوں اور شرعی حدود کا کماحقہ احاطہ کرتے ہوئے ویڈیو، ٹی وی اور جدید ٹیکنالوجی کے باب میں ایک تاریخی و بے مثل فتویٰ صادر فرمایا، تو دنیا بھر کے اہلِ علم، محققین اور باشعور دانشوروں نے اسے سینے سے لگایا اور اس دور اندیشانہ رہنمائی کو دل و جان سے قبول کیا۔
​مگر اس حق گوئی کے بالمقابل ملکِ ہندوستان کے اندر بغض و عناد اور فکری جمود کی ماری ایک مخصوص خانقاہ اور اس کے زیرِ اثر چلنے والے شدت پسندوں نے اپنی خود ساختہ انا اور حسد کی تسکین کے لیے تمام اخلاقی اور شرعی حدود پامال کر ڈالیں۔ اپنے حواریوں اور حاسد مریدوں کے ذریعے بے سروپا کتب اور رسائل کے انبار لگا دیے گئے، اخلاق و سنجیدگی کے تمام پیمانے روند ڈالے گئے، اور بغض کی انتہا یہ ہوئی کہ سلطان التارکین، قطبِ مدینہ حضور سرکار مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی (علیہ الرحمہ) کے پاکیزہ شجرہ و نسب تک پر سوال اٹھانے کی ناکام و ناپاک جسارتیں کی گئیں۔ لیکن جب حضرت کی شاہکار اور دندان شکن تصنیف "آدابِ جہانگیری" جلوہ گر ہوئی، تو حسد و فریب کے تمام خود ساختہ تانے بانے خاک میں مل گئے اور باطل کے ایوان لرز اٹھے۔
​آج وقت نے ایسا کھلا فیصلہ صادر کیا ہے کہ وہی معترضین اپنے ماضی کے فتوے اور ہنگامے فراموش کر کے، اسی تحقیقی فتوے کی روح کو عملاً اپنائے ہوئے ہیں۔ آج ان کا ہر اجلاس، ہر جلسہ، ہر خطاب، اینڈرائیڈ موبائل، یوٹیوب چینلز، فیس بک اسٹوڈیوز اور انسٹاگرام ریلز کے ذریعے براہِ راست نشر ہو رہا ہے۔ حیرت ہے کہ نہ تو ان کے حواریوں کو اس کھلے #تضاد پر کوئی ندامت ہے اور نہ ہی ان کی خانقاہوں کو اپنے ماضی کے فکری افلاس پر کوئی شرمندگی! جس کام کو کل تک حرام اور فسق کہہ کر امت پر تھوپا گیا تھا، آج وہی ان کی ذاتی تشہیر، مسلکی تسلط اور مالیات کا سب سے بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
​ہم رئیس المحققین، سلالۂ سادات حضرت شیخ الاسلام والمسلمین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جن کی بصیرت اور تحقیقی فتاویٰ نے امت کو بند گلی سے نکال کر حق کی واضح شاہراہ دکھائی، اور ان شدت پسند منافقوں کے چہروں سے تقدس کا جھوٹا نقاب نوچ کر انہیں دورِ حاضر کا سب سے بڑا آئینہ دکھا دیا۔
​قلم کار: واصلی امیٹھوی بھارتی

*تجلیات حضور شیخ الاسلام*(بموقع یکم رجب ١٤٤٣ھ٣فروری) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام کی مذہبی، علمی، ادبی، دینی، تا...
23/09/2026

*تجلیات حضور شیخ الاسلام*
(بموقع یکم رجب ١٤٤٣ھ٣فروری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام کی مذہبی، علمی، ادبی، دینی، تاریخی، تہذیبی اور معاشیاتی تاریخ میں
مجددِ دوراں،‌ غوثِ زماں، حضور شیخ الاسلام والمسلمین رئیس المحققین سیدالمفسرین امام المتکلمین مظہر غزالی، یادگار رازی، مفتی سواد اعظم، تاجدار اہلسنت، شاعر فطرت
سیدنا و سندناحضرت علامہ ومولانا
مفتی ابوالحمزہ سید محمد
مدنی میاں اشرفی جیلانی اطال اللہ عمرہ بصحۃ وعافیۃ کا نام بھی آتاہے۔ ویسے بہت سارے عالِم مفکر اور شاعر گزرے ہیں جن کے افکاروخیاالت نے عالَم اسلام کے ایک بہت بڑے حصے کو متاثر کیا ہے اور آج بھی ان کی خدمات وہ چاہے دینی ہویا مذہبی، علمی ہویا ادبی قدر دارنوں کی تعداد ہندو پاک کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک میں کثرت سے پائے گئے ہیں۔ آپ کی شخصی خصوصیات کے متعلق "خطبات برطانیہ میں،، شیخ طریقت حضرت علامہ سید محمد جیلانی میاں اشرفی جیلانی فرماتے ہیں کہ:
" ہر دور میں ایسی شخصیتیں پروردگار عالم پیدا فرمارہے جوملت قوم کی آبرو بن جایا کرتی ہیں۔
آسمان رشدوہدایت کے آفتاب کی طرح چمکتی ہیں۔ سیادت، شرافت ودیانت، حق گوئی وبےباکی، بالغ نظری وفکری اصابت، درویشانہ ادا فقیرانہ شان، محققانہ صلاحیتیں، الغرض حق پرستی، حق آگاہی، اور حق نوازی جیسی تمام خصوصیات ایک ہی شخصیت میں سمو دیتا ہے۔ حضور شیخ الاسلام والمسلمين حضرت علامہ سید محمد مدنی اشرفی جیلانی کچھوچھوی کی ذات والا صفات میں ان تمام خوبیوں کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔،،
وہ شیخ الاسلام جنہیں رب قدیر نے بیک وقت کئی خوبیوں سے نوازکر
مثالی بنایا ہے. آپ جہاں کلام الہی کےرمزآشنامفسرہیں، وہیں ذخیرہ احادیث کے فہیم بھی، علم فقہ پر دسترس رکھنے والے فقیہ ہیں تووہیں ایک نکتہ رس معقولی بھی. علم کلام کے اگر ماہر ہیں توبحرتحقیق وتدقیق کے شناور بھی. شائستہ وپاکیزہ شاعری کا اگر ذوق رکھتے ہیں تو وہیں ایک سلامت رو، ادیب بھی، فصاحت وبلاغت سے مزین اگر تاجدار خطابت ہیں تو تصوف حقیقی سے آراستہ ایک خانقاہی فقیر بھی. ان فضائل وکمالات کو دیکھ کر بس یہی کہا جاسکتا ہے جسے صدیوں پہلے حضرت سعدی نے کہا تھا، پھر آج تک کہا جارہا ہے اور شاید قیامت تک کہا جاتا رہے کہ،
ایں سعادت بزوربازونیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
حضور شیخ الاسلام ایک دو نہیں بلکہ انیک خصوصیات و امتیازات کے حامل ومالک ہیں اور وہ ایک عظیم وقدیم خانوادہ کے قابل فخر فرزند اور چشم وچراغ ہیں۔ آپ ایک ایسےنامی گرامی والدماجد کے ولدِعزیز ہیں جن پر بجا طور پر"الولدُسرلابیہ"کاعربی محاورہ صد فیصد صادق آتا ہے یعنی علم وادب،تصوف سے سلوک اور مذہب و سیاست کے شہریار وشہسوارمخدوم ابن مخدوم، مخدوم ملت حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ ہیں۔ اس نسبی تعلق کے علاوہ بذات خود ان کی ذات والا صفات عبقری شان ہے۔
کئی درجن علمی و تحقیقی و تنقیدی مقالات کے مصنف اور محقق ہیں۔ لاکھوں ارادتمندوں کے مربی گرامی ومرشد ہیں۔ امت اسلامیہ اورملت مرحومہ کے قائد وپیشواہیں۔ عوام وخواص اور علماء ومشائخ میں محترم ومسلم ہیں۔

جس طرح علم اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے اسی طرح قلم بھی اللہ کریم کا ایک بڑا انعام ہے اس لئے کہ ہر عالِم و فاضل قوتِ قلم کی قدرت اپنے آپ میں نہیں پاتا۔
شوکتِ الفاظ کےہنرکو برتنے کا ملکہ نہیں رکھتا۔ کوئی کوئی قلم کار ضرور، ہوتا ہے مگرعلوم وفنون کی وہ گہرائی اور گیرائی سے آشنا نہیں ہوتا، جو اورعلماء کوحاصل ہوتی ہے۔ یہ رب اکبر کاکیسابےپایاں احسان ہے کہ حضور شیخ الاسلام والمسلمین جہاں تمام علوم و ادبیات اور اصناف و اسالیب پر عبور تام رکھتے ہیں، وہیں تحریروقلم کی تمام تر توانائیوں سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔

جبھی تو ڈاکٹر اقبال نےکہاہے،

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق
کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

یہ اس فردِفریدکاذکر جمیل ہے، جس کاتعلق خانوادہ شاہ سمنان کچھوچھہ مقدسہ سے ہے، جو اپنے علمی وروحانی بلندوبالاقدروقامت کے اعتبار سے سارے عالم اسلام میں بحیثیت ِ"شیخ الاسلام "اور" رئیس المحققین "سے متعارف ہیں۔ اب نہ وہ کسی تعارف کے منت کشِ احسان ہیں، نہ کسی تعریف کے محتاج۔ کیونکہ ان کی عِلمیت وعبقریت اور شہرت ومقبولیت کی خوشبو دوشِ ہواپرپھیل کر بَحروبَرکی وُسعتوں میں پہنچ چکی ہے۔ بس یہ مٹھی بھر حروف اس لئے پیش ہیں کہ خریدارانِ حضور شیخ الاسلام میں کم از کم نام ہی درج ہوجائے۔
چوں کہ عالم یہ ہے۔ ع:
اٹھ گئیں سب کی نگاہیں جب وہ آئے بزم میں
حضور شیخ الاسلام کی ولادت باسعادت ١٩٣٨ءمیں ہوئی۔ آج ٢٠٢٢ءکادوسرامہینہ ہے، تو حاصل یہ ہواکہ حضور شیخ الاسلام اب اپنی عُمر عزیز کی تقریباً ٨٤/ویں بَہار میں داخل ہو چکے ہیں۔ خدائے کریم بطفیل رؤف رحیم ﷺ حضور شیخ الاسلام والمسلمین سے ہم تمام کوسچی محبت عطا فرمائے
اوربارگاہ رب العزت میں دعاہےکہ رب کریم حضور شیخ الاسلام والمسلمین کو صحت وعافیت کےساتھ عمرمیں بےپناہ برکتیں عطافرمائے اورآپ کا فیضان اہلسنت پرعام فرمائے۔
*کلام حضور شیخ الاسلام*

*حمد باری تعالیٰ*
ذرےذرےسےنمایاں ہے مگر پنہاں ہے
میرےمعبودتیری پردہ نشینی ہے
عجیب

دُور اتناکہ تَخیُّل کی رسائی ہے محال
اور قُربت کایہ عالم کہ رگِ جاں سے قریب

*نعت شریف*

خدائے برتر و بالا ہمیں پتہ کیا ہے تیرے حبیب مکرم کا مرتبہ کیا ہے

جبین حضرت جبریل پر کفِ پاہے
ہے ابتداکایہ عالم تو انتہا کیا ہے

بشر کے بھیس میں لاکَالَبَشر کی شان رہی
یہ معجزہ جو نہیں ہے تو معجزہ کیا ہے

کرم کرم کہ کریمی ہی شان ہے تیری تیرے کرم کے مقابل میری خطا کیاہے

فقط تمہاری شفاعت کا آسرا ہے حضور
ہمارے پاس گناہوں کے ماسوا کیا ہے

بخاری پڑھ کےبھی شانِ محمدِ عربی
سمجھ نہ پائے اگر تم تو پھر پڑھا کیا ہے

وہ دیکھو گنبد خضرا ہے روبرو تیرے
نثار کردے دل وجان دیکھتا کیا ہے

کھڑا ہے اختر عاصی درمقدس پر حضور آپ کی رحمت کا فیصلہ کیا ہے

*کلام تاج العلماءسید نورانی میاں درشان حضور شیخ الاسلام سید مدنی میاں*
میرا دل اور میری جان ہیں شیخ الاسلام
چوم لو بولتے قرآن ہیں شیخ الاسلام

حامی سنت وایمان ہیں شیخ الاسلام
قاطع بدعت وکفران ہیں شیخ الاسلام

جن سے مل جاتی ہے دارین کی نعمت سب کو
میرے اشرف کاوہی دان ہیں شیخ الاسلام

جن کے فتؤوں میں صداقت کے سوا کچھ بھی نہیں
دین احمد کی وہی شان ہیں شیخ الاسلام

پرخطر دور میں تنہا نہ سمجیں خود کو
ہم سبھی آپ پر قربان ہیں شیخ الاسلام

غم کے ماروں کو عجب دولت خوشحالی ملی
اس قدر آپ مہربان ہیں شیخ الاسلام

نعت سرکار میں دیکھا ہے عجب طرزِ سخن
گویااس دور کےحسان ہیں شیخ الاسلام

ہاشمی گھر کی مہک بول اٹھی سن لے نُور
تو توایک پھول ہےگلدان ہیں شیخ الاسلام

از :خلیفہ حضورشیخ الاسلام
ابوضیا غلام رسول سعدی اشرفی، رضوی آسوی کٹیہاری
خطیب وامام فیضان مدینہ، بلگام کرناٹک انڈیا
مقام بوہر، تیلتا، کٹیہار بہار
مبائل نمبر8618303831
مورخہ3,فروری 2022ء

تاجدارِ اہلسنّت‌، مجددِ دوراں، غوثِ زماں، سلطان المشائخ، قبلہ عالم امامِ ہمام، حضور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت علامہ اما...
19/09/2026

تاجدارِ اہلسنّت‌، مجددِ دوراں، غوثِ زماں، سلطان المشائخ، قبلہ عالم امامِ ہمام، حضور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت علامہ امام سید محمد مدنی میاں' اختر' اشرفی جیلانی ::: حیات و خدمات- ایک نظر میں

مرتب:
بشارت علی صدیقی اشرفی
اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد، دکن

--------:::::::::--------

اسم گرامی: سید محمد مدنی۔

کنیت: ابوالحمزہ۔

تخلص: اخترؔ۔

القابات:
۱) شیخ الاسلام- مشہور لقب۔
۲) رئیس المحققین: یہ لقب غزالی زماں، امام اہل سنت حضرت علامہ مولانا سید احمد سعید کاظمی چشتی صابری قادری امروہی ثم ملتانی نے عطا فرمایا۔

*ولادت:*

1رجب المرجب 1357 ھ/ 27 اگست 1938ء؛ بروز اتوار۔ بمقام کچھوچھہ مقدسہ۔

*والد گرامی:*
مخدوم ملت محدث اعظم حضرت علامہ ابو المحامد سید محمد اشرفی جیلانی۔

*جد امجد:*
حکیم الاسلام حضرت علامہ مولانا حکیم سید نذر اشرف اشرفی جیلانی۔

*والدہ ماجدہ:*
حضرت سیدہ فاطمہ بنت سلطان الواعظین سید احمد اشرف اشرفی جیلانی۔

*سلسلہ نسب:*
26؍ واسطوں سے نسب عالی حضور غوث اعظم سے جا ملتا ہے۔

37؍ واسطوں سے نسب عالی حضور اکرم رسول اللہ ﷺ تک پہنچتا ہے۔

*اساتذہ:*
والدہ ماجدہ اور محدث اعظم۔ پھر حضور محدث اعظم نے 14 سال کی عمر میں 10 شوال المکرم 1371ھ/ 1951 ء کو دار العلوم اشرفیہ مصباح العلوم، مبارکپور میں داخلہ کروایا۔

*اساتذہ اشرفیہ:*
1۔جلالۃ العلم حافظ ملت حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ عبد العزیز اشرفی محدث مرادآبادی ثم مبارکپوری۔

2۔استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبد المصطفی نقشبندی مجددی اعظمی۔

3۔اشرف العلماء حضرت علامہ مولانا سید حامد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی۔

4۔شمس العلماء حضرت قاضی مفتی سید شمس الدین رضوی قادری جونپوری۔

5۔ شیخ العلماء حضرت علامہ مفتی غلام جیلانی قادری اعظمی۔

6۔استاذ العلماء حضرت علامہ حافظ عبد الرؤف قادری بلیاوی۔

7۔بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان قادری اعظمی۔

8۔شیخ القراء حضرت علامہ قاری محمد یحی قادری اعظمی۔

9۔شیخ المعقولات علامہ مولانا ظفر ادیبی اعظمی۔

*ہم درس رفقاء:*

1۔ محدث جلیل حضرت علامہ مولانا عبدالشکور قادری مصباحی [سابق شیخ الحدیث، الجامعۃالاشرفیہ، مبارکپور]

2- حضرت علامہ مولانامفتی مشہود رضا قادری ابن شیربیشہ اہل سنت۔

3- حضرت علامہ مولانامفتی نعمان خان قادری رضوی [پرنسپل،جامعہ اسلامیہ،روناہی]۔

4- حضرت علامہ مولانامفتی نعیم اللہ خان قادری رضوی [شیخ الحدیث، منظرالاسلام، بریلی شریف]

5- حضرت علامہ مولانامفتی غلام حسین رضوی مصباحی۔

6- حضرت علامہ مولانامفتی حنیف قادری رضوی۔

7- حضرت علامہ مولانامفتی عبد القدوس اشرفی مصباحی ۔

*وصال والد گرامی:*
16 رجب المرجب 1381ھ / 25 ڈسمبر 1961ء۔

*بیعت و خلافت:*
26 شوال المکرم 1381ھ / 1961ء میں مخدوم المشائخ قدوۃ السالکین امام اہل سنت سرکارکلاں حضرت علامہ مولانا مفتی سید محمد مختار اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی کے دست اقدس پرسلسلہ قادریہ چشتیہ اشرفیہ میں بیعت کی اور سلسلہ قادریہ چشتیہ اشرفیہ منوریہ کی خلافات سے نوازے گئے۔

دیگر تمام سلاسل کی اجازت و خلافت اشرف الاصفیاء حضرت سید مصطفی اشرف اشرفی جیلانی ابن اعلی حضرت اشرفی میاں سے حاصل ہوئی۔

*جانشینی:*
مخدوم الملت محدث الاعظم کے فاتحہ چہلم کے موقع پر، منعقدہ ۔ شوال المکرم 1381ھ/ 1962ءکے موقع پر اکابرین سلسلہ اشرفیہ اور مشائخ و علماء اہل سنت کی موجودگی میں جانشینی کا اعلان ہوا۔

*فراغت:*
10 شوال المکرم 1382ھ/ جنوری 1963 ء کو دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم، مبارک پور۔

*رسم مناکحت:*
26 شعبان المعظم 1384ھ / 27 ڈسمبر 1964ء؛ حضرت سرکار کلاں نے خطبہ نکاح پڑھایا۔

*اولاد: *
حضرت کی حقیقی اولاد نہیں البتہ فرزند آغوشی حضرت مولانا سید حمزہ اشرف اشرفی (جانشین حضور شیخ الاسلام) ہیں۔

*پہلا خطاب:*
بہرائچ شریف، 1963ء۔

*پہلا حج:*
1973ء میں حضرت شیخ الاسلام نے اپنی والدہ، پیر و مرشد سرکار کلاں کے ساتھ کیا۔

*دینی خدمات:*
حضرت کی دینی خدمات کا تذکرہ چند صفحات میں نہیں ہوسکتا ،اس کے لیے کئی مجلد کتابیں درکار ہیں ،ہندوستان کے ہر گوشے میں آپ کی خدمات مشہور ہیں ۔کشمیر سے کنیا کماری، آسام سے راجستھان کے صحرا تک ہر جگہ آپ کی خدمات کا چرچا ہے۔ یہاں اختصاراً دکن کے دینی خدمات کا ذکر کیا جارہا ہے۔

*پہلا دورۂ کرناٹک:*
1963 ء [حضور سید العلماء آل مصطفی برکاتی مارہروی کے ساتھ۔]

*سنی کانفرنس:*
ہبلی ،کرناٹک: 1964 ء میں ۔دکن (سائوتھ انڈیا) کا مرکزی اجلاس۔ [حضور مفتی اعظم ہند شاہ مصطفی رضا خان قادری نوری، حضور سید العلماءآل مصطفی برکاتی مارہروی، برہان ملت مفتی برہان الحق صدیقی قادری رضوی جبلپوری، حکیم الامت مفتی احمد یار خان اشرفی نعیمی بدایونی،شمس العلماء حضرت پیرسید مقبول شاہ کشمیری ، شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی اعظمی جیسے اکابرین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس نے دکن کی مذہبی فضاء کو بدل کررکھ دیا، رد وہابیت و دیوبندیت اور اتحاد اہل سنت کے لیےمثال قائم کر دی۔]

*پہلا دورۂ حیدرآباد:* 1966ء۔

*فلسطین کانفرنس:*
ممبئی ميں 1967ء میںسنی جمیعۃ العلماء کے زیر اہتمام منعقد اس کانفرنس ميں شرکت کی، تاریخی خطاب فرمایا اورقیادت فرمائی۔حضور شیخ الاسلام اس تنظیم کے نائب صدر تھے اور حضرت سید العلماء علامہ مولانا سید آل مصطفی قادری برکاتی مارہروی اس کے صدر تھے۔

*ٓآل انڈیا محدث اعظم کانفرنس،ہبلی،کرناٹک:*
25-26 دسمبر 1989ء خانوادئہ محدث اعظم ہند کے ساتھ مختلف سلاسل سے وابستہ علماء اہل سنت ایک اسٹیج پر موجود تھے۔

*سنی مشائخ کانفرنس، ہبلی، کرناٹک:*
رد شيعت ورافضیت اوربيداری اہلِ سنت کےلیے 500سے زائد علما و مشایخ کوایک اسٹیج پرجمع کیا، دکن کےاکثرخانقاہوں نےشرکت کرکےایک نئی تاریخ رقم کی۔

*غوث وخواجہ کانفرنس،ہبلی کرناٹک:*
2000ء۔ اس کانفرنس میں غوث پاک کے سجادہ نقیب الاشراف سید ظفر گیلانی بغداد شریف سے اور حضرت سید مہدی میاں اجمیر شریف سے اہم مہمانان تھے۔

*رحمت عالم کانفرنس،ہبلی ،کرناٹک:*
2007ء ۔مشائخ خانوادئہ اشرفیہ کے علاوہ دکن کے اکثر خانقاہوں کے مشائخ موجود تھے۔

*انٹر نیشنل محدث اعظم کانفرنس:*
پچاس سالہ دور سجادگی پر سہ روزہ انٹرنيشنل کانفرنس، واگھرا ،ضلع بھروچ گجرات؛ جس میں حضرت شیخ الاسلام کے کم و بيش5 لاکھ مریدین اور 1500سے زائد خلفاء نے شرکت کی۔ملک و بیرون ملک سے مہمانان گرامی و سامعین جمع ہوئے۔ مہمانان خصوصی کے طور پر پاکستان سے شہزادۂ خطيب اعظم پاکستان، حضرت علامہ مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی، مناظر اہل سنت حضرت علامہ سيد مظفر شاہ قادری اور عالمی شہرت یافتہ مداح رسول اويس رضا قادری،سید صبیح الدین صبیح رحمانی ،برطانیہ سےعلامہ شاہد رضا نعیمی، مفتی ایوب شمسی اشرفی ،امریکہ سے پروفیسر مسعود احمد سہروردی و دیگر ممالک سے علماء و مشائخ تشریف لائےتھے۔

*بیرون ملک میں دینی خدمات:*

صرف ملک ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی آپ کے ذریعے دین و سنیت کا بہت بڑا کام ہو اہے۔برطانیہ،امریکہ،سائوتھ ،افریقہ،کینیڈا،پاکستان کے علاوہ کئی ممالک میں آپ کے دینی و تبلیغی خدمات کی ایک عظیم تاریخ ہے۔یہاں صرف برطانیہ کا مختصر دورہ درج ہے۔

*پہلا دورۂ برطانیہ:*
1974ء میں حضرت اہلِ برطانیہ کی دعوت پر پہلی بار تشریف لےگئے۔ 25 شہروںکادورہ رہااور 30 سے زائد علمی اورفکری خطبات سے اہل سنت کوفیضاب کیا۔

*دوسرا دورۂ برطانیہ:* 1976ء۔

*تنظیمی خدمات:*

جماعت رضائےۓمصطفی، برطانیہ:
1974ء میں حضرت شیخ الاسلام نے اہل سنت کے استحکام اور ترویج و اشاعت کے لئے جماعت رضائےمصطفی کی شاخ برطانیہ میں قائم کی۔حضرت شیخ الاسلام اس تحریک کےاہم رکن تھےاور صدرشہزادئہ اعلیٰ حضرت مفتی اعظم شاہ مصطفی رضاخان قادری نوری بریلوی تھے۔

*بانی:*
(1)جماعت رضائےمصطفی، برطانیہ[1974ء[ ؛
(2) انٹرنیشل محدث اعظم مشن [18 اگست، 1978ء]؛
(3)مدنی میاں عربک کا لج[1985ء]۔

*سرپرست:*

(1) دارالعلوم شاہ احمد کھٹو،احمدآباد۔

(2) دارالعلوم شاہ عالم،احمدآباد۔

(3) انٹر نیشنل محدث اعظم مشن، یوکے۔

(4)شیخ الاسلام ٹرسٹ،احمدآباد۔

(5)مدنی دارالافتاء،احمدآباد۔

(6) مکتبہ انوارمصطفی/ شیخ الاسلام اکیڈیمی، حیدرآباد،دکن۔

(7) اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد،دکن۔

(8) مدنی میاں عربک کا لج،ہبلی ،کرناٹک۔

(9)مدنی فاؤنڈیشن،ہبلی ،کرناٹک۔

(10) گلوبل اسلامک مشن،یوایس اے۔

(11)مدنی اسلامک اسٹدی سنٹر ،کرجن گجرات

*سابقہ رکنیت:*
(1) آل انڈیا الجمیعۃ الاشرفیہ؛
(2) سرپرست، آل انڈیا سنی لیگ؛
(3) نائب صدر، آل انڈیا جماعت رضائےمصطفی؛
(4)نائب صدر، آل انڈیا تبلیغ سیرت ؛
(5)نائب صدر، آل انڈیا سنی جمیعۃ العلماء۔

*قلمی خدمات:*

*ماہنامہ المیزان:*
1970ءمیں اجراء کیا اور اپنی سرپرستی میں جاری رکھا۔ شیخ الاسلام کے بھتیجے علامہ سید جیلانی اشرف اس کے مدیر تھے۔

*ترجمہ و شرح مشکاۃ المصابیح:* 1970ء میں حضور شیخ الاسلام نے اس ترجمہ و شرح کا آغازبنام تفہیم الحدیث کیا تھاجوماہنامہ المیزان میں قسط وارشائع ہوتا تھا۔

*اعلی حضرت نمبر:*
مجلس رضا قائم کی۔ اس مجلس کےزیراہتمام 1396ھ/ 1976ء میں ماہنامہ ا لمیزان نے اعلی حضر ت پرایک تاریخی نمبرشائع کیا۔ یہی نمبر دوسرے سال یعنی 1977ء دوبارہ انواررضا کےنام سےلاہورسےشائع ہوا، اور پھرتیسری بارماہ نامہ قاری نے 1989ء میں شائع کیا۔ اس نمبرکےمحرک اوراہم نگران شیخ الاسلام تھےجب کہ مدیراعلی حضرت مولانا سید جیلانی اشرفی کچھوچھوی تھے۔

*تصانیف عالیہ:*

*قرآنیات:*

( ۱ ) تفسیر اشرفی (سید التفاسیر) ۔ 10 جلدیں۔

( ۲ ) کنز الایمان اور دیگر تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ (محاسن کنز الایمان پر جامع رسالہ)۔

*حدیثیات:*

( ۳ ) تفہیم الحدیث شرح مشکوٰۃ شریف ( جس کی تکمیل نہ ہوسکی ۔ اے کاش ۔۔۔ )

( ۴ ) الاربعین الاشرفی۔

( ۵ )شرح حدیث ’’انماالاعمال بالنیات‘‘۔

( ۶) تعلیم دین اورتصدیق جبریل امین۔

( ۷) محبت رسول روح ایمان۔

*اعتقادیات:*

( ۸ )مسئلہ حاضر و ناظر۔

( ۹ ) اسلام کا نظریہ ختم نبوت اور تحذیر الناس (رد قاسم نانوتوی و دیوبندیہ)۔

( ۱۰ ) شرح التحقیق البارع فی حقوق الشارع۔(شرح ۔رسول اکرم ﷺ کے تشریعی اختیارات)

( ۱۱ ) اشتراکیت۔

*فقہیات:*

( ۱۲ ) ویڈیواور ٹی وی کاشرعی استعمال (تاریخی تحقیقی فتوی)۔

(۱۳ )کتابت نسواں اورعصری تقاضے۔

*رد مودودیت:*

( ۱۴ ) اسلام کا تصورالہ اورمودودی صاحب۔

(۱۵ ) اسلام کا نطریہ عبادت اورمودودی صاحب۔

(۱۶ ) دین اور اقامت دین۔

(۱۷) فریضہ دعوت و تبلیغ۔

*تحقیقات و تنقیحات:*

(۱۸)تحریک دعوت اسلامی کاتنقیدی جائزہ۔

( ۱۹ ) مسلم پرسنل لاء یااسلامک لاء؟

(۲۰ ) دین کامل۔

(۲۱ ) اظہار حقیقت ۔

*مقالات:*

(۲۲ ) مقالات شیخ الاسلام (حصہ اول)۔

(۲۳ )مقالات شیخ الاسلام (حصہ دوم؛مرتب راقم الحروف- بشارت علی صدیقی۔غیر مطبوعہ)

*شعریات: *

(۲۴ ) تجلیات سخن۔

*خطبات کےمجموعے:*

1- خطبات برطانیہ (سرزمین برطانیہ میں ہوے9 خطبات کا مجموعہ۔مرتب : سید جیلانی میاں )

2- خطبات حیدرآباد۔ (4 خطبات کا مجموعہ ۔مرتب: علامہ مولاناسیف خالداشرفی)

3- خطبات شہادت امام حسین۔(7 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی)

4- خطبات شیخ الاسلام۔ سیریز۔1 (10 خطبات کامجموعہ؛مرتب: مولانااصغرعلی اشرفی)

5-خطبات شیخ الاسلام۔ سیریز۔2 (10 خطبات کا مجموعہ، مرتب: مولانا نعیم الدین اشرفی)

6- خطبات جامعہ نظامیہ،حیدرآباد۔ (3 خطبات کامجموعہ؛ مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

7- خطبات میلادوسیرت رسول۔(7 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

8- خطبات معارف القران۔(4 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

9- خطبات رفعت مصطفی۔(7 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

10- خطبات عظمت مصطفی۔(7 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

11- خطبات تصوف ومقامات اولیاء۔(7 خطبات کامجموعہ؛مرتب: ڈاکٹرفرحت صدیقی اشرفی۔غیر مطبوعہ)

12- خطبۂ جدہ بنام ۔ شان علی (مرتب: راقم الحروف- بشارت علی صدیقی۔غیر مطبوعہ)

13-تین(3) مجددین۔(مرتب: راقم الحروف- بشارت علی صدیقی۔غیر مطبوعہ)
©
*اشرفیہ اسلامک فاؤنڈ یشن-حید رآباد ،دکن*

--------:::::::::--------

Link Comment meYe Tasveer Imam e Ahlesunnat Aala Hazrat Imam Ahmed Raza fazile Bareillwi ki Nahi hai, Haqeeqat.... Comme...
16/09/2026

Link Comment me
Ye Tasveer Imam e Ahlesunnat Aala Hazrat Imam Ahmed Raza fazile Bareillwi ki Nahi hai,
Haqeeqat.... Comment me .... LINK

ہماری جان ہماری شان۔۔۔۔۔ شیخ الاسلام شیخ الاسلام
15/09/2026

ہماری جان ہماری شان۔۔۔۔۔ شیخ الاسلام شیخ الاسلام

🌹عرس شیخ اعظم مبارک ہو🌹اسم گرامی: سید اظہار اشرف۔کنیت : ابوالمحمود، القاب: شیخ اعظم، مخدوم العلماء۔ولادت پاک: 6 محرم الح...
12/09/2026

🌹عرس شیخ اعظم مبارک ہو🌹
اسم گرامی: سید اظہار اشرف۔
کنیت : ابوالمحمود، القاب: شیخ اعظم، مخدوم العلماء۔
ولادت پاک: 6 محرم الحرام 1355ھ بمطابق 2 مارچ 1936ء کو علم و عرفان والے گھرانے کچھوچھہ مقدسہ میں ولادت باسعادت ہوئی۔
حلیہ مبارک: رنگ گورا، قد لمبا، گول چہرہ، پیشانی کشادہ، کھڑی ناک، گھنی داڑھی، بڑی بڑی وسرمگیں آنکھیں، خاندانی رعب وجلال سے مزین نہایت خوب صورت وحسین چہرہ جسے دیکھ کر خدا یاد آجائے۔
جب آپ کی عمر چار سال، چار ماہ، چار دن کی ہوئی تو خاندانی روایت کے مطابق نہایت اہتمام کے ساتھ آپ کی رسم بسم اللہ خوانی ادا کی گئی جس میں آپ کے والد گرامی سرکار کلاں حضرت سید محمد مختار اشرف، آپ کے نانا جان تاج الاصفیا حضرت سید محمد مصطفےٰ اشرف اور آپ کے پھوپھا جان امامِ اہلسنت حضور مخدوم الملت سید محمد اشرفی المعروف محدث اعظم ہند کے ساتھ خاندان عظمیٰ کی کئی دیگر شخصیات نے بھی شرکت فرمائیں (رحمہم اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین)
بیعت و ارادت: آپ نے اپنے والد گرامی عارف باللہ حضرت سرکار کلاں رحمتہ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ چشتیہ اشرفیہ میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ بعد میں حضور سرکار کلاں علیہ الرحمہ نے اپنے تمام سلاسل طریقت کی اجازت وخلافت اور تمام اوراد و وظائف اور اعمال خاندانی کی اجازت کے ساتھ ساتھ آپ کو اپنا جانشین اور ولی عہد مقرر فرمایا۔
حج و زیارت حرمین طیبین: کئی بار حج وعمرہ کی سعادتوں سے بہرہ مند ہوئے اور کربلائے معلیٰ، نجف اشرف، کاظمین، بغداد شریف، دمشق اور ہند و پاک کے مشہور ومعروف اولیائے کرام کے مقدس مزارات پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔
سیرت و خصائص: شیخ اعظم علیہ الرحمہ صاف دل اور نیک سیرت انسان تھے، عفو و درگزر اور بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر شفقت کے خوگر تھے۔ وہ خاموش پسند مگر سعی و عمل کے دلدادہ تھے, حاجت مندوں کی حاجت روائی اور ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرنا ان کا شیوہ تھا اور مہمان نوازی اور خوش اخلاقی ان کا نمایاں وصف تھا۔
آپ ایک عظیم مبلغ, ایک کہنہ مشق شاعر, منفرد خطیب اور جید عالم دین تھے۔ آپ کی دینی وعلمی, روحانی وتبلیغی خدمات سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔
حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ حسن شخصیت میں ممتاز تھے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت محبوب سبحانی، قطب ربّانی سیدنا و مرشدنا الشیخ سید محی الدین عبد القادر جیلانی غوث الاعظم دستگیر رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے حضرت شیخ اعظم علیہ الرحمہ کو یہ شرف عطا کیا کہ آپ کے والد ماجد حضرت مخدوم المشائخ سرکار کلاں اللہ کے ولی، آپ کی والدہ ماجدہ اللہ کی ولیہ، آپ کے دادا جان عالم ربّانی حضرت سید احمد اشرف اللہ کے ولی، آپ کے پڑدادا محبوب ربّانی اعلیٰحضرت سید علی حسین اشرفی المعروف اعلیٰحضرت اشرفی میاں اللہ کے ولی، آپ کے نانا جان تاج الاصفیاء حضرت سید مصطفےٰ اشرف اللہ کے ولی اور آپ کے ماموں جان حضور اشرف الاولیاء حضرت سید مجتبیٰ اشرف بھی اللہ کے ولی (رحمہم اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین)، سبحان اللہ کیا شان والا خاندان ہے۔
قربان جاؤں اپنے دادا پیر ہم شبیہ غوث الثقلین محبوب ربّانی اعلیٰحضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے ارشاد عالی شان پر کہ فرماتے ہیں:
اشرفی ناز کر تو اشرف پر
کون پاتا ہے خاندان ایسا
وصال پُر ملال: علم و عمل کا یہ نیر تاباں اور شریعت و طریقت کا یہ مہر درخشاں 29 ربیع الاول شریف 1433 ھ مطابق 22 فروری 2012ء بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بمقام ممبئی میں اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔ بروز جمعہ بعد نماز عصر آپ کے خلف اکبر قائد ملت حضرت سید شاہ محمود اشرف اشرفی جیلانی مدظلہ النورانی نے لاکھوں کے مجمع میں نماز جنازہ پڑھائی۔
آپ کا مزار اقدس کچھوچھہ مقدسہ میں آپ کے والد ماجد کے پائتیں میں مرجع خلائق ہے۔
خصوصی التجا: حضور شیخ اعظم علیہ الرحمہ کی بارگاہ اقدس میں خوب خوب ایصال ثواب پیش کریں۔
اللہ رب العزت ہمیں خانوادہ اشرفیہ کے فیوض و برکات سے مالامال فرمائے۔
آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ

غوثِ زماں حضور شیخ الاسلام مجددِ کچھوچھوی کے دادا جان، حضرت حکیم الاسلام،حکیم سید نذر اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی رحمۃ ال...
05/09/2026

غوثِ زماں حضور شیخ الاسلام مجددِ کچھوچھوی کے دادا جان، حضرت حکیم الاسلام،
حکیم سید نذر اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می‌رقصم
مگر نازم بہ ایں ذوقے کہ پیشِ یار می‌رقصم
نگاہش جانبِ من، چشمِ من محوِ تماشائش
منم دیوانہ، لیکن با دلِ ہشیار می‌رقصم

دلچسپ حقیقت

""حکیم سید نذر اشرف اشرفی جیلانی فاضل کچھوچھوی کی یہ غزل معرکۃالآرا ہے اور اپنی فنی و معنوی خصوصیات میں بے مثال ہے۔ اس کی غیر معمولی عوامی مقبولیت اور آستانوں میں محفلِ سماع کی مستقل زینت بن جانے نے اسے کسی تعارف یا مدح کا محتاج نہیں رہنے دیا۔
یہ پورے کیف و سرور کے ساتھ خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ایک نظم کے اقتباس میں بہار کے ضلع بھاگلپور میں تخلیق ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بجلی کی طرح پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ بعد ازاں قوالوں کی معمولی مگر مسلسل تحریفات کے باعث اس غزل کی اصل صورت میں تبدیلی آتی گئی، چند اشعار حذف و ملغوب ہو گئے، بلکہ تلفظ تک بدل دیا گیا، تاہم اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
نورالحسن مودودی ساعدی نے 1935ء میں اپنی کتاب "نغماتِ سماع " میں اس غزل کو خواجہ عثمان ہارونیؒ کی طرف منسوب کیا، جس کے بعد یہ نسبت عام طور پر نقل ہونے لگی، حالانکہ اس سے قبل یہ غزل فاضل کچھوچھوی کے نام سے خاصی مقبول ہو چکی تھی۔
اہم نوٹ: تصویر میں آخری شعر کا متن مکمل طور پر نظر نہیں آ رہا، اس لیے اوپر دوسرے شعر کی عبارت تصویر کے ظاہر ہونے والے حصے کے مطابق منتقل کی گئی ہے۔ "
اس فارسی غزل کے متعلق مذکورہ بالا الفاظ ریختہ کے ہیں . ریختہ کا فارسی ویب سائٹ "صوفی نامہ " ہے اس کے اندر اس معرکۃ الآراء غزل کی نسبت جو غلط طور پر کی گءی اس کا انکشاف کیا گیا ہے . اس غزل کی نسبت حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃاللہ علیہ کی طرف کرنا نا درست ہے . ہوسکتا ہے اس زمین میں ان کی کوئی غزل ہو . نور الحسن مودودی ساعدی صاحب مرحوم کو اشتباہ ہوگیا . سچائی یہی ہے جو ریختہ نے بیان کیا کہ یہ فارسی غزل حضرت حکیم سید نذر اشرف صاحب اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے . ریختہ نے بھاگلپور کا نام لیا ہے . خانوادہ اشرفیہ کے مشایخ ہم شیوخ جونپور کی دعوت پر ہمارے گاوں تشریف لاتے تھے . شیوخ جونپور شہر بھاگلپور سے چھ سے دس کلو میٹر کے فاصلہ پر آباد ہیں . ابراہیم پور ،فتحپور ، اگر پور ،ماچھی پور ، راجپور اور بنسی ٹیکر . یہ چھ آبادیاں شیوخ جونپور کی ہیں . ہمارے اجداد پانچ سو سال پہلے جونپور سے بہار مہاجر ہوءے تھے . اور گنگا ندی کے شمال و جنوب میں آباد ہوگءے . شمال میں سمری بختیار پور ضلع سہرسا کے اندر ہماری درجنوں آبادیاں ہیں .بنسی ٹیکر محلے کے اندر خانوادہ اشرفیہ کے تین بزرگ حضرت سید نصیرالدین اشرف ، حضرت سید علاءالدین اشرف حضرت سید برہان الدین اشرف شہزادگان حضرت سید صادق اشرف اشرفی جیلانی رحمھم اللہ آرام فرما ہیں . حضرت سید صادق اشرف کچھوچھا شریف سے بہار کے سمری بختیارپور تشریف لاءے تھے . یہیں بود و باش اختیار کی . اس ٹاون سے متصل خانوادہ اشرفیہ کی دو بستی ہے اشرف چک ،مخدوم چک . غالباً محلہ ابراہیم پور میں قیام کے دوران درج ذیل فارسی غزل کہی گءی .
حکیم سید نذر اشرف صاحب اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق خانوادہ اشرفیہ کچھوچھا شریف سے ہے . آپ کی پیدایش 1285، 1290 کے آس پاس ہے . آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی سید شاہ فضل حسین ابن سید شاہ منصب علی سجادہ نشین آستانہ اشرفیہ کچھوچھا شریف ہے . شاہ منصب علی ، اعلی حضرت محبوب ربانی شاہ علی حسین اشرفی جیلانی المعروف اشرفی میاں اور اشرف الصوفیاء حضرت شاہ سید اشرف حسین قدس سرہ عرف بڑے حضرت صاحب سجادہ نشین قدس سرہ کے سگے چچا ہیں . اپنے چچا شاہ منصب علی سے آپ کو استانہء اشرفیہ حسنیہ کی سجادگی ملی ، انہوں نے ایک سال بعد ہی اپنے برادر خرد اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ کو مرید کرکے اپنا جانشین اور آستانہ اشرفیہ حسنیہ کا سجادہ نشین بنا دیا.
سید شاہ نذر اشرف علیہ الرحمۃ عالم اجل فاضل بے بدل تھے . آپ کی نانہال جاءس ضلع راءے بریلی کی ہے . آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت وہیں ہوءی . طب یونانی میں آپ نے کمال حاصل کیا . وقت کے بو علی سینا تھے .حکیم اجمل مرحوم کے احباب میں تھے . طبابت آپ کا پیشہ تھا . جامعہ اشرفیہ کچھوچھا شریف کے اندر آپ مدرس بھی رہے . محدث اعظم ہند حضرت سید محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے فرزند ارجمند تھے . آپ اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ کے بھتیجے (چچا زاد بھائی شاہ فضل حسین کے بیٹے) ہیں . بعد میں حضرت قدس سرہ کا داماد ہونے کا شرف حاصل ہوا . گزشتہ صدی میں حضرت فاضل کچھوچھوی کی ذات اپنی علمی و فنی خوبیوں کی وجہ سے بہت ممتاز نظر آتی ہے . آپ اردو کے ساتھ فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے . زبان و مضمون ہر دو لحاظ سے آپ کی شاعری بہت بلند درجہ پر نظر آتی ہے . آپ نے ایک معراج نامہ بھی تحریر کیا ہے اعلی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کی زمین میں
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوءے تھےاس کے اشعار بھی بہت معیاری اور بلند پایہ ہیں
حضرت فاضل علیہ الرحمۃ کے مضامین اور اردو و فارسی کلام ماہنامہ "اشرفی" میں چھپتے تھے. راقم الحروف کو مطالعہ کا شرف حاصل ہوا ہے . یہ رسالہ 1920ء سے 1928 تک شاءع ہوتا رہا . اس کے مدیرِ تحریر اور سب کچھ محدث اعظم ہند تھے . ماہنامہ اشرفی کے کسی شمارے ہی میں درج ذیل فارسی غزل شاءع ہوءی ہے . لطاءف اشرفی ، ملفوظات قدوۃ الکبراء مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کا اردو ترجمہ بھی آپ نے شروع کیا تھا جو قسط وار مجلہ اشرفی میں شاءع ہوتا رہا . 8 لطاءف کا ترجمہ مکمل ہوا تھا . لطاءف کے کثیر فارسی اشعار کا ترجمہ بھی آپ نے اردو اشعار میں کیا . اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر رحمت و انوار کی بارش برسانے آمین

غزل

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بایں ذوقے کہ پیشِِ یار می رقصم
مجھےنہیں معلوم کہ آخر دیدار کے وقت میں کیوں ناچ رہاہوں، لیکن اپنے اس ذوق پر نازاں ہوں کہ اپنے یار کے سامنے ناچتا ہوں
تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خونخوار می رقصم
تُو وہ قاتل ہے کہ تماشے کے لیے میرا خون بہاتا ہے اور میں وہ بسمل ہوں کہ خونخوار خنجر کے نیچے ناچتا ہوں
بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں
بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم
آ، اے محبوب ! اورتماشا دیکھ کہ جانبازوں کی بھِیڑ میں، میں سینکڑوں رسوائیوں کےسامان کےساتھ ،سر بازار ناچتا ہوں
خوشا رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را
زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم
واہ ! مے نوشی کہ جس کیلیے میں نے سینکڑوں پارسائیوں کو پامال کر دیا، خوب! تقویٰ کہ میں جبہ و دستار کے ساتھ ناچتا ہوں
اگرچہ قطرۂ شبنم نپوئید بر سرِ خارے
منم آں قطرۂ شبنم بنوکِ خار می رقصم
اگرچہ شبنم کا قطرہ کانٹے پر نہیں پڑتا لیکن میں شبنم کا وہ قطرہ ہوں کہ کانٹے کی نوک پر ناچتا ہوں
تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہر طرزے کہ رقصانی منم اے یار می رقصم
توہر وقت جب بھی مجھے نغمہ سناتا ہے، میں ہر بار ناچتا ہوں، اور جس طرز پر بھی تو رقص کراتا ہے، اے یار میں ناچتا ہوں
سراپا بر سراپائے خودم از بیخودی قربان
بگرد مرکزِ خود صورتِ پرکار می رقصم
سر سے پاؤں تک جو میرا حال ہےاس بیخودی پر میں قربان جاؤں،کہ پرکار کی طرح اپنے ہی گرد ناچتا ہوں
مرا طعنہ مزن اے مدعی طرزِ ادائیم بیں
منم رندے خراباتی سرِ بازار می رقصم
اے ظاہر دیکھنے والے مدعی !مجھے طعنہ مت مار،میں تو شراب خانے کا مے نوش ہوں کہ سرِ بازار ناچتا ہوں
کہ عشقِ دوست ہر ساعت درونِ نار می رقصم
گہے بر خاک می غلطم , گہے بر خار می رقصم
عشق کا دوست تو ہر گھڑی آگ میں ناچتا ہے،کبھی تو میں خاک میں مل جاتا ہوں ،کبھی کانٹے پر ناچتا ہوں

سیف خالد اشرفی
ماچھی پور ، بھاگلپور
3 ستمبر 2026

حضور شیخ الاسلام والمسلمین کے دادا جان، حضرت حکیم الاسلام،حکیم سید نذر اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ نمی دان...
04/09/2026

حضور شیخ الاسلام والمسلمین کے دادا جان، حضرت حکیم الاسلام،
حکیم سید نذر اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می‌رقصم
مگر نازم بہ ایں ذوقے کہ پیشِ یار می‌رقصم
نگاہش جانبِ من، چشمِ من محوِ تماشائش
منم دیوانہ، لیکن با دلِ ہشیار می‌رقصم

دلچسپ حقیقت

""حکیم سید نذر اشرف اشرفی جیلانی فاضل کچھوچھوی کی یہ غزل معرکۃالآرا ہے اور اپنی فنی و معنوی خصوصیات میں بے مثال ہے۔ اس کی غیر معمولی عوامی مقبولیت اور آستانوں میں محفلِ سماع کی مستقل زینت بن جانے نے اسے کسی تعارف یا مدح کا محتاج نہیں رہنے دیا۔
یہ پورے کیف و سرور کے ساتھ خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ایک نظم کے اقتباس میں بہار کے ضلع بھاگلپور میں تخلیق ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بجلی کی طرح پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ بعد ازاں قوالوں کی معمولی مگر مسلسل تحریفات کے باعث اس غزل کی اصل صورت میں تبدیلی آتی گئی، چند اشعار حذف و ملغوب ہو گئے، بلکہ تلفظ تک بدل دیا گیا، تاہم اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
نورالحسن مودودی ساعدی نے 1935ء میں اپنی کتاب "نغماتِ سماع " میں اس غزل کو خواجہ عثمان ہارونیؒ کی طرف منسوب کیا، جس کے بعد یہ نسبت عام طور پر نقل ہونے لگی، حالانکہ اس سے قبل یہ غزل فاضل کچھوچھوی کے نام سے خاصی مقبول ہو چکی تھی۔
اہم نوٹ: تصویر میں آخری شعر کا متن مکمل طور پر نظر نہیں آ رہا، اس لیے اوپر دوسرے شعر کی عبارت تصویر کے ظاہر ہونے والے حصے کے مطابق منتقل کی گئی ہے۔ "
اس فارسی غزل کے متعلق مذکورہ بالا الفاظ ریختہ کے ہیں . ریختہ کا فارسی ویب سائٹ "صوفی نامہ " ہے اس کے اندر اس معرکۃ الآراء غزل کی نسبت جو غلط طور پر کی گءی اس کا انکشاف کیا گیا ہے . اس غزل کی نسبت حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃاللہ علیہ کی طرف کرنا نا درست ہے . ہوسکتا ہے اس زمین میں ان کی کوئی غزل ہو . نور الحسن مودودی ساعدی صاحب مرحوم کو اشتباہ ہوگیا . سچائی یہی ہے جو ریختہ نے بیان کیا کہ یہ فارسی غزل حضرت حکیم سید نذر اشرف صاحب اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے . ریختہ نے بھاگلپور کا نام لیا ہے . خانوادہ اشرفیہ کے مشایخ ہم شیوخ جونپور کی دعوت پر ہمارے گاوں تشریف لاتے تھے . شیوخ جونپور شہر بھاگلپور سے چھ سے دس کلو میٹر کے فاصلہ پر آباد ہیں . ابراہیم پور ،فتحپور ، اگر پور ،ماچھی پور ، راجپور اور بنسی ٹیکر . یہ چھ آبادیاں شیوخ جونپور کی ہیں . ہمارے اجداد پانچ سو سال پہلے جونپور سے بہار مہاجر ہوءے تھے . اور گنگا ندی کے شمال و جنوب میں آباد ہوگءے . شمال میں سمری بختیار پور ضلع سہرسا کے اندر ہماری درجنوں آبادیاں ہیں .بنسی ٹیکر محلے کے اندر خانوادہ اشرفیہ کے تین بزرگ حضرت سید نصیرالدین اشرف ، حضرت سید علاءالدین اشرف حضرت سید برہان الدین اشرف شہزادگان حضرت سید صادق اشرف اشرفی جیلانی رحمھم اللہ آرام فرما ہیں . حضرت سید صادق اشرف کچھوچھا شریف سے بہار کے سمری بختیارپور تشریف لاءے تھے . یہیں بود و باش اختیار کی . اس ٹاون سے متصل خانوادہ اشرفیہ کی دو بستی ہے اشرف چک ،مخدوم چک . غالباً محلہ ابراہیم پور میں قیام کے دوران درج ذیل فارسی غزل کہی گءی .
حکیم سید نذر اشرف صاحب اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق خانوادہ اشرفیہ کچھوچھا شریف سے ہے . آپ کی پیدایش 1285، 1290 کے آس پاس ہے . آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی سید شاہ فضل حسین ابن سید شاہ منصب علی سجادہ نشین آستانہ اشرفیہ کچھوچھا شریف ہے . شاہ منصب علی ، اعلی حضرت محبوب ربانی شاہ علی حسین اشرفی جیلانی المعروف اشرفی میاں اور اشرف الصوفیاء حضرت شاہ سید اشرف حسین قدس سرہ عرف بڑے حضرت صاحب سجادہ نشین قدس سرہ کے سگے چچا ہیں . اپنے چچا شاہ منصب علی سے آپ کو استانہء اشرفیہ حسنیہ کی سجادگی ملی ، انہوں نے ایک سال بعد ہی اپنے برادر خرد اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ کو مرید کرکے اپنا جانشین اور آستانہ اشرفیہ حسنیہ کا سجادہ نشین بنا دیا.
سید شاہ نذر اشرف علیہ الرحمۃ عالم اجل فاضل بے بدل تھے . آپ کی نانہال جاءس ضلع راءے بریلی کی ہے . آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت وہیں ہوءی . طب یونانی میں آپ نے کمال حاصل کیا . وقت کے بو علی سینا تھے .حکیم اجمل مرحوم کے احباب میں تھے . طبابت آپ کا پیشہ تھا . جامعہ اشرفیہ کچھوچھا شریف کے اندر آپ مدرس بھی رہے . محدث اعظم ہند حضرت سید محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے فرزند ارجمند تھے . آپ اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ کے بھتیجے (چچا زاد بھائی شاہ فضل حسین کے بیٹے) ہیں . بعد میں حضرت قدس سرہ کا داماد ہونے کا شرف حاصل ہوا . گزشتہ صدی میں حضرت فاضل کچھوچھوی کی ذات اپنی علمی و فنی خوبیوں کی وجہ سے بہت ممتاز نظر آتی ہے . آپ اردو کے ساتھ فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے . زبان و مضمون ہر دو لحاظ سے آپ کی شاعری بہت بلند درجہ پر نظر آتی ہے . آپ نے ایک معراج نامہ بھی تحریر کیا ہے اعلی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کی زمین میں
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوءے تھےاس کے اشعار بھی بہت معیاری اور بلند پایہ ہیں
حضرت فاضل علیہ الرحمۃ کے مضامین اور اردو و فارسی کلام ماہنامہ "اشرفی" میں چھپتے تھے. راقم الحروف کو مطالعہ کا شرف حاصل ہوا ہے . یہ رسالہ 1920ء سے 1928 تک شاءع ہوتا رہا . اس کے مدیرِ تحریر اور سب کچھ محدث اعظم ہند تھے . ماہنامہ اشرفی کے کسی شمارے ہی میں درج ذیل فارسی غزل شاءع ہوءی ہے . لطاءف اشرفی ، ملفوظات قدوۃ الکبراء مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کا اردو ترجمہ بھی آپ نے شروع کیا تھا جو قسط وار مجلہ اشرفی میں شاءع ہوتا رہا . 8 لطاءف کا ترجمہ مکمل ہوا تھا . لطاءف کے کثیر فارسی اشعار کا ترجمہ بھی آپ نے اردو اشعار میں کیا . اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر رحمت و انوار کی بارش برسانے آمین

غزل

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بایں ذوقے کہ پیشِِ یار می رقصم
مجھےنہیں معلوم کہ آخر دیدار کے وقت میں کیوں ناچ رہاہوں، لیکن اپنے اس ذوق پر نازاں ہوں کہ اپنے یار کے سامنے ناچتا ہوں
تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خونخوار می رقصم
تُو وہ قاتل ہے کہ تماشے کے لیے میرا خون بہاتا ہے اور میں وہ بسمل ہوں کہ خونخوار خنجر کے نیچے ناچتا ہوں
بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں
بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم
آ، اے محبوب ! اورتماشا دیکھ کہ جانبازوں کی بھِیڑ میں، میں سینکڑوں رسوائیوں کےسامان کےساتھ ،سر بازار ناچتا ہوں
خوشا رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را
زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم
واہ ! مے نوشی کہ جس کیلیے میں نے سینکڑوں پارسائیوں کو پامال کر دیا، خوب! تقویٰ کہ میں جبہ و دستار کے ساتھ ناچتا ہوں
اگرچہ قطرۂ شبنم نپوئید بر سرِ خارے
منم آں قطرۂ شبنم بنوکِ خار می رقصم
اگرچہ شبنم کا قطرہ کانٹے پر نہیں پڑتا لیکن میں شبنم کا وہ قطرہ ہوں کہ کانٹے کی نوک پر ناچتا ہوں
تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہر طرزے کہ رقصانی منم اے یار می رقصم
توہر وقت جب بھی مجھے نغمہ سناتا ہے، میں ہر بار ناچتا ہوں، اور جس طرز پر بھی تو رقص کراتا ہے، اے یار میں ناچتا ہوں
سراپا بر سراپائے خودم از بیخودی قربان
بگرد مرکزِ خود صورتِ پرکار می رقصم
سر سے پاؤں تک جو میرا حال ہےاس بیخودی پر میں قربان جاؤں،کہ پرکار کی طرح اپنے ہی گرد ناچتا ہوں
مرا طعنہ مزن اے مدعی طرزِ ادائیم بیں
منم رندے خراباتی سرِ بازار می رقصم
اے ظاہر دیکھنے والے مدعی !مجھے طعنہ مت مار،میں تو شراب خانے کا مے نوش ہوں کہ سرِ بازار ناچتا ہوں
کہ عشقِ دوست ہر ساعت درونِ نار می رقصم
گہے بر خاک می غلطم , گہے بر خار می رقصم
عشق کا دوست تو ہر گھڑی آگ میں ناچتا ہے،کبھی تو میں خاک میں مل جاتا ہوں ،کبھی کانٹے پر ناچتا ہوں

سیف خالد اشرفی
ماچھی پور ، بھاگلپور
3 ستمبر 2026

Address

Rajmahal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Seraji Channel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share