Sunni Network

Contact the school

Sunni Network اس پیج پر اہل سنت و جماعت کی تقریر و تحریر کے ذریعے ترجمانی کی جائے گی لہذا ضرور اس پیچ کو جوئن کریں

25/09/2026

حیات محدث اعظم ہند کے مصنف کا انتقال۔
آج بتاريخ ٢٥/ستمبر ٢٠٢٦ء مطابق ١٢/ربیع الثانی ١٤٤٨ھ بوقت نو بج کر انتالیس منٹ تنظیم علمائے اہل سنت راج محل رجسٹرڈ کے واٹس ایپ گروپ میں تنظیم کے صدر اور جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ کے صدر المدرسين استاذی مکرمی حضرت مفتی عبد الخالق جامعی اشرفی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی کے ذریعے نہایت ہی افسوس ناک خبر ملی کہ حضرت علامہ مولانا ذاکر حسین مصباحی اشرفی صاحب قبلہ حسن ٹولہ راج محل کا انتقال ہو گیا ہے۔انا للہ وانا الیہ رجعون۔
خبر سنتے ہی دل مضطرب ہو گیا اور مولانا موصوف رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات سلام و کلام کی یادیں تازہ ہونے لگیں راقم الحروف کو مولانا موصوف سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا ہے خصوصاً سلسلہ اشرفیہ نظامیہ چشتیہ پر کام کرنے کا جذبہ انہی کی کتاب "حیات محدث اعظم ہند"کے مطالعہ کے بعد ملا ہے،نیز مجھے یاد ہے فقیر عروس بلاد ممبئی سے اپنا ایک مضمون بنام"غریب نواز رضی اللہ عنہ اپنے ملفوظات کے آئینے میں" لکھ کر ماہ نامہ جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں چھاپنے کے لیے مولانا موصوف رحمۃ اللہ علیہ کے پاس روانہ کیا تو حضرت نے نہ صرف چھاپا بلکہ چھاپنے کے بعد ماہ نامہ بھی ممبئی روانہ فرمایا اور بار بار رابطہ کرکے راہنمائی کرتے رہے کہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہیں پھر فقیر کے کئی مضامین ماہنامہ جامع اشرف کی زینت بنا بعدہ فقیر کے لکھنے کا سلسلہ جاری رہا سوشل میڈیا پر فقیر کی تحریریں جب وائرل ہوتیں تو کچھ تحریروں پو بہت زیادہ خوشی کا اظہار فرماتے نیز فرماتے اس تحریر کو صرف سوشل میڈیا تک محدود نہ رکھیں بلکہ کسی ماہ نامہ میں چھپوائیں یا پھر خود رسالہ کی شکل دے کر محفوظ کر لیں۔
بہر حال!فقیر کی تحریری میدان میں آج جو کچھ بھی تھوڑی بہت خدمات ہیں ان خدمات میں کہیں نہ کہیں مولانا موصوف رحمۃ اللہ علیہ کی راہنمائی شامل ہیں۔
مولانا موصوف رحمۃ اللہ علیہ ایک فنی عالم دین ہونے کے ساتھ اچھے قلم کار کئی کتابوں کے مصنف بے شمار مضامین کے محرر تھے کافی وقتوں سے جسمانی امراض میں مبتلا تھے فقیر سے کئی بار کچھ باتوں کو لے کر آپسی اختلافات بھی واقع ہو جاتے تھے مگر اس کو انا کا مسئلہ نہیں بناتے تھے بلکہ اختلاف کے بعد بھی جب ملاقات ہوتی محبت سے باتیں کرتے تھے اللہ تعالیٰ مرحوم کی بے حساب مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
اطلاع کے مطابق کل بروز سنیچر بتاریخ ٢٦/ستمبر ٢٠٢٦ء مطابق ١٣/ربیع الثانی ١٤٤٨ھ بوقت ساڑھے آٹھ بجے نماز جنازہ مولانا موصوف کے اپنے گاؤں حسن ٹولہ کے مدرسہ زینب العلوم کے احاطہ میں ادا کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کے جملہ وارثوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔
شریک غم: شبیر احمد راج محلی
جنرل سکریٹری:تنظیم علمائے اہل سنت راج محل"رجسٹرڈ"و استاذ دارالعلوم گلشن کلیمی راج محل۔
٢٦/ستمبر ٢٠٢٦ء۔




25/09/2026

हयात-ए-मुहद्दिस-ए-आज़म हिंद के लेखक का इंतकाल।
आज दिनांक 25 सितंबर 2026 ई,(मुताबिक 12 रबीउस-सानी 1448 हि.) को समय सुबह 9:39 बजे
'तंजीम उलमा-ए-अहल-ए-सुन्नत राजमहल (रजिस्टर्ड)' के व्हाट्सएप ग्रुप में तंजीम के अध्यक्ष और जामे अशरफ कछौछा मुकद्दसा के सदरुल मुदर्रिसीन (प्रधान शिक्षक),मेरे उस्ताद हज़रत मुफ्ती अब्दुल खालिक जामी अशरफी साहब किबला (मद्ज़िल्लुहुल आली वन्नूरानी)के माध्यम से यह अत्यंत दुखद खबर प्राप्त हुई के हज़रत अल्लामा मौलाना ज़ाकिर हुसैन मिस्बाही अशरफी साहब किबला (हसन टोला, राजमहल)का निधन हो गया है। इन्ना लिल्लाहि व इन्ना इलैहि राजिऊन।
​यह खबर सुनते ही दिल बेचैन हो गया और मौलाना मरहूम (रहमतुल्लाहि अलैह)से मुलाकात, सलाम-ओ-कलाम की यादें ताज़ा होने लगीं।
राक़िमुल हुरूफ (लेखक)को मौलाना मरहूम से काफी कुछ सीखने को मिला है, विशेष रूप से 'सिलसिला-ए-अशरफिया निज़ामिया चिश्तिया' पर काम करने का जज़्बा उनकी पुस्तक (हयात-ए-मुहद्दिस-ए-आज़म हिंद) के अध्ययन के बाद ही मिला।
​इसके अलावा मुझे याद है कि जब इस फ़कीर ने उरूसूल-बलाद मुंबई (सपनों का शहर मुंबई) से अपना एक लेख शीर्षक "ग़रीब नवाज़ (रज़ियल्लाहु अन्हु) अपने मलफ़ूज़ात के आईने में" लिखकर 'माह नामा जामे अशरफ कछौछा शरीफ' में प्रकाशन हेतु मौलाना मरहूम की सेवा में भेजा, तो हज़रत ने न केवल उसे प्रकाशित किया बल्कि प्रकाशन के बाद मासिक पत्रिका (माह नामा) भी मुंबई भेजी। यही नहीं, उन्होंने बार-बार संपर्क करके मेरा मार्गदर्शन किया कि कुछ न कुछ लिखते रहें। इसके बाद इस फ़कीर के कई लेख 'माह नामा जामे अशरफ' की ज़ीनत (शोभा) बने और मेरे लेखन का यह सिलसिला जारी रहा। सोशल मीडिया पर जब मेरे लेख वायरल होते, तो वे कुछ रचनाओं पर अत्यधिक प्रसन्नता व्यक्त करते और फरमाते कि इस रचना को केवल सोशल मीडिया तक सीमित न रखें, बल्कि किसी मासिक पत्रिका में छपवाएं या स्वयं पुस्तक/पुस्तिका (रिसाला) का रूप देकर सुरक्षित कर लें।
​बहरहाल! लेखन के क्षेत्र में इस फ़कीर की आज जो भी थोड़ी-बहुत सेवाएं हैं, उनमें कहीं न कहीं मौलाना मरहूम (रहमतुल्लाहि अलैह) का मार्गदर्शन शामिल है।
​मौलाना मरहूम (रहमतुल्लाहि अलैह) एक उच्च कोटि के विद्वान (आलिम-ए-दीन) होने के साथ-साथ एक बेहतरीन लेखक, कई पुस्तकों के रचयिता और अनगिनत लेखों के सम्पादक थे। वे काफी समय से शारीरिक बीमारियों से ग्रस्त थे। इस फ़कीर से कई बार कुछ बातों को लेकर आपसी मतभेद भी हो जाते थे, लेकिन वे इसे कभी अपनी अना (अहंकार) का मुद्दा नहीं बनाते थे; बल्कि मतभेद के बाद भी जब मुलाकात होती, तो बड़े प्रेम से बातें करते थे। अल्लाह तआला मरहूम की बेहिसाब मगफिरत (क्षमा) फरमाए और जन्नतुल फिरदौस में आला मकाम (उच्च स्थान) अता फरमाए। आमीन, सुम्मा आमीन।
​सूचना के अनुसार, कल शनिवार दिनांक 26 सितंबर 2026 ई. (मुताबिक 13 रबी-उस सानी 1448 हि.) को समय सुबह 8:30 बजे मौलाना मरहूम की नमाज़-ए-जनाज़ा उनके अपने गांव 'हसन टोला' के 'मदरसा ज़िनातूल उलूम' के प्रांगण (अहाते) में अदा की जाएगी।
​अल्लाह तआला मौलाना मरहूम (रहमतुल्लाहि अलैह) के सभी परिजनों व वारिसों को सब्र-ए-जमील अता फरमाए। आमीन।
​शरीक-ए-ग़म: शब्बीर अहमद राजमहली
जनरल सेक्रेटरी: तंजीम उलमा-ए-अहल-ए-सुन्नत राजमहल (रजिस्टर्ड) व उस्ताद: दारुल उलूम गुलशन-ए-कलीमी राजमहल।
26 सितंबर 2026 ई.
​



23/09/2026

جہان بانی سلسلہ کلیمیہ چشتیہ
مرتب:-شبیر احمد راج محلی۔
کتاب":تذکرہ حضرت فخر جہاں دہلوی"میں بانی سلسلہ کلیمیہ چشتیہ کے تعلق سے اس طرح لکھا ہے:
حضرت شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ
ابتدائی حالات، خاندانہ، پیدائش، اسم و القاب، وطن، تعلیم و تربیت:
حضرت شاہ کلیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ ٢٤/ جمادی الثانی ١٠٦٠ھ مطابق ۱٦٥٠ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔
آپ نے اپنی تاریخ پیدائش رقعات کلیمی میں تحریر فرمائی ہے لفظ ”غنی“ سے
آپ کی تاریخ پیدائش برآمد ہوتی ہے۔آپ کے والد بزرگوار کا نام نور اللہ اور دادا کا
نام شیخ احمد معمار ابن شیخ حامد صدیقی تھا۔آپ کے سلسلہ نسب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے
ملتا ہے۔آپ کو اور آپ کے خاندان کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان میں سے ہونے کا شرف حاصل ہے۔آپ کے آباء و اجداد خجند کے رہنے والے تھے جو ترکستان میں ہے۔آپ کے دادا علم نجوم، ہیئت، ریاضی اور اقلیدس میں کامل مہارت رکھتے تھے۔شاہ جہاں بادشاہ دہلی نے لال قلعہ کی تعمیر کے وقت انہیں خجند سے بلوایا تھا اور آپ نقل مکانی کر کے دہلی آ گئے
اور اسی مقام پر ہمیشہ کے لئے سکونت اختیار کر لی۔ مؤلف مناقب المحبوبین بحوالہ فخر الاولیاء
بیان کرتے ہیں کہ آپ کے والد کا نام شیخ طیب تھا اور لاہور کے رہنے والے تھے۔مزید
لکھتے ہیں کہ دونوں آپ ہی کے نام ہوں۔اولاً خجند سے آکر لاہور میں ساکن ہوئے ہوں۔پھر دہلی تشریف لے گئے ہوں گے۔مخبر الاولیاء نوشتہ نام پدر ایشان شیخ طیب بود و لاہورے الاصل بود کاتب الحرف گوید عجب نیست کہ بردس نام ایشان باشند و از خجند در لاہور آمدہ ساکن شدہ باشند،
آپ کے والد کو "حاجی" بھی کہا جاتا ہے۔بعض تذکرہ نویسوں نے آپ کو حاجی
نور اللہ لکھا ہے اور شاہجہان کے زمانے میں ایک کامیاب اور قابل ماہر فن تعمیرات تھے۔
اب تک یہ تحقیق نہیں ہوسکی کہ آپ نے لاہور کے کس جانب اور کون سے محلہ یا دروازہ میں رہائش اختیار کی،مگر اتنا علم ہوتا ہے کہ آپ کے خاندان کے چند افراد لاہور میں محل نواب آصف خاں کے تعمیر کے سلسلہ میں آئے تھے پھر دہلی واپس چلے گئے،ان دنوں یہ خاندان ماہر فن تعمیرات میں یکتا اور لاثانی تھا۔
آپ کے دادا احمد معمار دہلوی عہد شاہجہانی کے مشہور و مایہ فن تعمیر کے ماہر
تھے۔شاہان مغلیہ کی طرف سے "نادر العصر" کا خطاب حاصل کئے ہوئے تھے تاج محل آگرہ، لال قلعہ دہلی، جامع مسجد دہلی ۔محل نواب آصف خاں لاہور،قلعہ جات شمشیر گڑھ اور
حسن ابدال مقبرہ، دل راس بانو بیگم اورنگ آباد خاندان کلیمی کے تعمیری کارنامے اور
یادگاریں شمار ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کا خاندان صاحب علم بھی تھا اور متعدد کتابیں تصنیف کیں جو آپ کی یادگار ہیں۔چند سنسکرت کی کتابوں کے فارسی زبان میں بھی ترجمہ
کئے جس سے اس خاندان کی علمی دلچسپیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔احمد معمار نے ۱۰۵۹ھ میں وفات پائی۔ آپ کے تین بیٹے تھے۔عطا اللہ، لطف اللہ اور نور اللہ۔عطا اللہ کو نظم اور نثر میں کمال حاصل تھا۔ لطف اللہ علم ہندسہ کے ماہر تھے۔اور ان کا ”مہندس“ خطاب شاہی تھا۔شعر و
شاعری کا بڑا ذوق تھا۔ایک مثنوی آپ کی علمی یادگار ہے۔نور اللہ والد بزرگوار حضرت شاہ کلیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور فن تعمیرات میں باکمال شخص تھے۔فن تعمیر کے علاوہ خطاطی میں بھی ماہر فن تھے۔دہلی کی جامع مسجد کی پیشانی پر جو کتبہ درج میں وہ آپ ہی کی باکمال انگلیوں کا کرشمہ ہے۔جامع مسجد دہلی کے کتبہ کے آخر جانب شمال یہ لکھا ہوا پایا گیا ہے..... ”کتبہ نور اللہ احمد“
آپ کا شجرہ نسب یوں بیان کرتے ہیں:
شجرہ نسب
استاد حامد
¦
احمد معمار ”نادر العصر“
¦
(١)عطا اللہ رشیدی(٢)لطف اللہ مہندس(٣)نور اللہ معمار۔ لطف اللہ مہندس کے دو بیٹے
(١)ابوالخیر المعروف خیر اللہ(٢)امام الدین ”الریاضی“
ابوالخیر المعروف خیر اللہ کے ایک بیٹے۔(١)محمد علی”ریاضی“
اور"نور اللہ معمار"کے ایک بیٹے(١)شاہ کلیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے چار بیٹے:
۱-خواجہ محمد(لاولد)۲-حامد سعید،۳-محمد فضل اللہ(لا ولد)٤-محمد احسان اللہ۔
اور بیٹیاں
(١)لڑکی اسم نامعلوم(٢)بی رابعہ-(٣)لڑکی اسم لا معلوم(٤)بی بی فخر النساء (٥)زینب بی بی عرف بی بی مصری۔
حضرت شاہ کلیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی ابتدائی تعلیم و تربیت بہت اعلیٰ پیمانے پر ہوئی تھی۔آپ نے بڑی محنت اور جانفشانی سے علم حاصل کیا۔تکملہ سیر الاولیاء میں لکھا ہے:
”در ایام جوانی بتحصیل علوم مشغول بودند و کمال علم کردہ بودند“
حدیث، فقہ اور دیگر علوم ظاہری آپ نے شیخ برہان الدین المعروف بہ شیخ بھلول بن کبیر الدین محمد بن علی الصدیقی برہان پوری اور شیخ ابو الرضا الہندی سے پڑھے۔شیخ بھلول سید محمد غوث ......صاحب جواہر خمسہ سے نسبت رکھتے تھے جن کا حلقہ ارادت وسیع بہت وسیع تھا۔اکابر و اعاظم زمانہ میں سے تھے۔قلوب پر تصرف کامل رکھتے تھے۔آپ کو نسبت تلمذ کے علاوہ اجازت اعمال بھی ان سے حاصل تھی۔جنہیں خرقہ خلافت حضرت عیسٰی سندھی رحمۃ اللہ علیہ سے انہیں حضرت شیخ لشکر محمد رحمۃ اللہ علیہ سے اور انہیں حضرت شیخ محمود غوث سے حاصل تھا۔
شیخ ابوالرضا الہندی شیخ وجیہ الدین شہید کے فرزند اور شاہ عبدالرحیم کے بڑے بھائی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے تایا تھے۔ آپ اپنے زمانہ میں بڑی عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔شاہی دربار میں بھی ایک ممتاز عہدہ حاصل تھا لیکن تھوڑے
ہی عرصہ کے بعد اس زندگی سے تنگ آگئے اور مسجد فیروز آباد کے قریب ایک حجرہ میں رہنا شروع کر دیا۔ درس و تدریس کا بھی شوق تھا۔وعظ میں بڑی تاثیر تھی۔ نماز جمعہ کے بعد ہمیشہ وعظ فرمایا کرتے تھے۔ہر وعظ قرآن و حدیث کے رنگ میں ڈوبا ہوتا تھا۔ہزاروں
کی تعداد میں سامعین موجود ہوتے تھے۔وحدت الوجود کے قائل تھے۔آپ نہایت ہی دقیق النظر،عالی ہمت، بلند حوصلہ، قوی علم، فصیح اللسان،وسیع المعرفت، شجاع اور فیاض
انسان تھے۔ان حضرت نے بڑی محبت اور شفقت سے حضرت شاہ کلیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت فرمائی۔
شاہ صاحب نے بھی نہایت سرعت اور برق رفتاری سے علوم عقلی اور نقلی کے ہر گوشہ پر کامل عبور حاصل کیا۔جب آپ فارغ التحصیل ہوئے تو آپ نے راہ سلوک میں قدم رکھا۔اور علم باطنی حاصل کرنے کی طرف متوجہ ہوئے۔
بیعت و خلافت:
دہلی کے بازاروں میں ایک مجذوب پھرا کرتا تھا۔آپ ان کی صحبت میں اکثر جایا کرتے تھے۔حضرت شاہ صاحب کی طبیعت اس مجذوب کی طرف راغب ہوگئی۔پہلے تو اپنی حالت
چھپاتے رہے لیکن پھر ضبط نہ ہوسکا اور بالکل مجبور ہوگئے۔اپنی حالت بیان کی اور مدد کے طالب ہوئے۔مجذوب نے حضرت شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جو ان دنوں مدینہ منورہ میں
تھے جانے کے لئے کہا۔آپ بے اختیار مدینہ منورہ کی طرف دوڑ پڑے۔آپ کی والدہ
محترمہ حیات تھیں اور اتنی بھی تاخیر نہیں کی کہ والدہ ماجدہ سے اجازت حاصل کر لیں۔طویل مسافت کو طے کرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
حضرت شیخ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا نام محی الدین، لقب یحییٰ مدنی اور کنیت ابو یوسف ہے۔آپ کے والد گرامی کا نام شیخ محمود رحمۃ اللہ علیہ ہے جن کا سلسلہ نسب حضرت شیخ کمال الدین علامہ تک یوں پہنچتا ہے:
حضرت شیخ محمود رحمۃ اللہ علیہ بن شیخ حسن محمد رحمۃ اللہ علیہ بن شیخ احمد میاں جیو رحمۃ اللہ علیہ بن شیخ نصیر الدین
ثانی رحمۃ اللہ علیہ بن شیخ محمد الدین رحمۃ اللہ علیہ بن شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ بن شیخ کمال الدین علامہ الچشتی رحمۃ اللہ علیہ ہے۔
آپ کی والدہ کا نام بی بی رابعہ بنت شیخ تاج محمد عرف ملک تاجو ولد ملک قطب محمد بن ملک لطف اللہ قاضی النسب تھے۔آپ احمد آباد (گجرات) کے رہنے والے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم و اشارہ سے احمد آباد(گجرات) سے منتقل ہو کر مدینہ منورہ میں جاکر سکونت اختیار کر لی۔اور اسی نسبت سے آپ کو ”مدنی“ کہتے ہیں۔آپ
صاحب کشف و کرامات تھے جو کچھ زبان سے فرماتے تھے وہی واقع ہوتا۔سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت پابند تھے۔آپ مکمل درویش،بے نوا اور کامل تھے۔آپ نے اپنی زندگی کے چودہ برس مدینہ منورہ میں بسر کئے، مدینہ منورہ میں ۲۸ صفر ۱۱۲۲ھ میں وفات پائی۔
حضرت حافظ جمال ملتانی رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء کبار میں سے ہیں۔لکھتے ہیں کہ" جب حضرت شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی مدینہ منورہ پہنچے تو قافلہ کے ساتھ کھجور کے جھنڈ کے نیچے بیٹھ گئے ان کے وہاں پہنچتے ہی حضرت" شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ "نے اپنے ایک غلام سے فرمایا کہ شہر کے باہر جا کر قافلہ میں سے کلیم اللہ نام کے شخص کو بلا لاؤ۔حضرت یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے غلام نے شہر سے باہر جاکر کلیم اللہ کا نام لے کر آواز دی لیکن آپ سمجھے شاید کلیم اللہ نام کا کوئی دوسرا شخص ہوگا، اس لئے خاموش رہے۔خادم نے واپس جاکر حضرت یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ اس نام کا کوئی شخص وہاں نہیں ہے۔حضرت یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے خادم سے فرمایا دوبارہ جاؤ اور کلیم اللہ جہاں آبادی کا نام لے کر آواز دو۔جب خادم نے اس طرح آواز دی تو شیخ کلیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور زیارت سے مشرف ہوئے۔دست عقیدت دراز کیا اور بیعت ہوئے۔خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے۔کچھ عرصہ اپنے شیخ کامل کی صحبت میں رہ کر تمام مدارج روحانی کی تکمیل فرمائی، تصوف میں بھی سبق لیا۔نیاز مندی حضرت کے خوب جوہر دکھائے۔حضرت یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے تو توجہات خاصہ کا مرکز بنایا اور خاندان چشت کا چشم و چراغ بنا دیا۔
دہلی کو واپسی:
اپنے پیر و مرشد کے حکم کے مطابق آپ ہندوستان واپس تشریف لائے۔آپ نے دہلی جا کر جامع مسجد اور لال قلعہ کے درمیان رہنا پسند فرمایا۔ دہلی بازار خانم میں آپ
نے درس و تدریس اور رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ کی شہرت بہت جلد پورے ملک میں پھیل گئی۔ دور دور سے طلبہ تحصیل علم کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور فیض یاب ہو کر واپس اپنے گھروں کو جاتے۔تبلیغی نظام کو مضبوطی سے قائم کیا۔اپنے متعدد خلفاء اور مریدین کو ہندوستان کے مختلف صوبوں میں بھیجا اور خود مرکز میں رہ کر ان کی ہر طرح نگرانی کی۔آپ نے عوام کی اصلاح کے لئے اپنے خلفاء کو خاص کر حضرت شیخ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر مریدین کو جنہوں نے آپ کے زیر سایہ تعلیم و تربیت حاصل کی ہوئی تھی۔ہند کے مختلف حصوں میں پھیل جانے کے احکام صادر کئے تاکہ رشد و ہدایت کی شمع روشن ہو۔
حضرت خواجہ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد سلسلہ چشتیہ کا مرکزی نظام جو درہم برہم ہو چکا تھا اس کو قائم اور بحال کیا۔ان نامساعدہ حالات میں سلسلہ کی مرکزی حیثیت کو دوبارہ قائم کیا اور اس کام میں پھر ایک بار باقاعدگی پیدا ہو گئی۔ہزاروں خانقاہیں جن میں خاموشی اور افسردگی چھائی ہوئی تھی جوش و حرارت میں آگئیں ۔ہزاروں انسانوں نے ان سے ہدایت پائی۔چراغ سے چراغ روشن ہوئے حق کے نعروں سے خانقاہوں کی دیواریں گونج اٹھیں۔بیان کرتے ہیں کہ آپ کے عقیدت مندوں اور مریدوں کی تعداد ایک لکھ سے زائد تھی جن کی اصلاح و تربیت کے آپ ضامن تھے۔
ذریعہ معاش:
شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دہلی آکر بازار خانم میں رہائش اختیار فرمائی۔آپ کی مالی حالت اچھی نہیں تھی۔ آپ کا ایک مکان تھا۔اس کا ڈھائی روپے ماہوار کرایہ آتا تھا۔آپ خود ایک کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔آٹھ آنے یعنی پچاس پیسے اس مکان کا کرایہ ادا کرتے تھے۔اور باقی دو روپے میں اپنا اور اپنے وابستگان کا خرچہ چلاتے تھے اور آپ کا وقت عسرت سے گزرتا تھا۔مگر آپ نے کبھی توکل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔اللہ تعالیٰ
نے آپ کو توکل اور قناعت کی بے پناہ دولت عطا کر رکھی تھی۔فرخ سیر بادشاہ نے بہت کوشش کی کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ شاہی خزانہ سے کچھ قبول فرما لیں مگر آپ نے ہر ایسی پیش کش کو کمال بے نیازی سے ٹھکرا دیا اور فقر و غیور کے پاکیزہ دامن پر دنیاداری
کا بدنما داغ نہ لگنے دیا۔آپ عوام میں بہت مقبول تھے۔ اس مقبولیت کے سبب ان
کے مزار کے گرد بڑی آبادی ہوگئی تھی۔غدر میں(۱۸۵۷ء) یہ سارا علاقہ تباہ و برباد ہو گیا تھا۔مرزا غالب اپنے ایک خط میں رقم طراز ہیں،یہ خط آپ نے مولانا سید احمد حسن مودودی کو لکھا تھا......شیخ کلیم اللہ جہاں آبادی کا مقبرہ اجڑ گیا۔ایک اچھے گاؤں کی آبادی تھی، ان کی اولاد کے تمام لوگ اس موضع میں سکونت پذیر تھے اب ایک جنگل ہے اور میدان میں قبر اس کے سوا کچھ نہیں۔ وہاں کے رہنے والے اگر گولی سے بچے ہونگے تو خدا ہی جانتا ہوگا کہ کہاں ہیں۔
سیرت:
تلاوت قرآن پاک آپ کا خاص مشغلہ تھا۔آپ فنا فی اللہ ہیں۔مجاہدات اور ریاضات میں بے مثل تھے۔بہت بڑے عالم تھے۔سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت پابند تھے۔نفل بہت پڑھتے تھے۔رات کو جاگتے تھے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے۔توکل اور قناعت میں یکتا روزگار تھے۔ہمیشہ مریدوں کی اصلاح و تربیت میں مصروف رہتے،عبادت،
اشغال اور اوراد و وظائف کے بارے آپ سختی سے کام لیتے تھے۔آپ جب تقریر فرماتے
فصاحت اور بلاغت کے وہ جوہر دکھلاتے کہ سننے والے بے حد متأثر ہوتے سننے والے مسلم و غیر مسلم دونوں قومیں شریک ہوتیں۔غیر مسلم آپ کے وعظ سے اتنے متاثر ہوتے کہ مسلمان ہو جاتے۔
تعلیمات:
آپ نے اپنے خطبات، مکتوبات اور تصانیف سے لوگوں کو پیغام حق پہنچایا۔آپ کے خطوط تصوف اور معرفت کا خزانہ ہیں۔خطوط مکتوبات کلیمی کے نام سے شائع ہو چکے ہیں جس کے مطالعہ
سے آپ کے افکار و خیالات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔آپ کے مکتوبات جو آپ نے اپنے خلیفہ حضرت شیخ نظام الدین اورنگ آبادی کے نام لکھے ہیں وہ بہت قدر و قیمت کے ہیں تصوف میں ان کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ان کی چند واقعات کا اردو ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔
خلاصہ مکتوب بنام حضرت شیخ نظام الدین اورنگ آبادی:
"ہر قسم کے تغیرات سے خدا آپ کو محفوظ رکھے تاکہ آپ شریعت و طریقت و حقیقت کا اہتمام کریں"
مزید لکھتے ہیں۔
”مسئلہ وحدت الوجود کو ہر کس و ناقص کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے احباب و مریدین جو اس مسئلہ کو سمجھنے کی استعداد رکھتے ہیں ان کے ساتھ رمز و کنایہ میں بات
کرنی چاہیے۔اگر وہ اس بات کو سمجھتے ہوں تو اس کی مزید وضاحت بھی کر دینی چاہیے ورنہ کنایات ہی کافی ہیں“
”امراء سے رسمی ملاقات ہونی چاہیئے۔ان سے قطع تعلق بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر ان میں سے بعض کے ساتھ تعلقات کا سلسلہ رکھا جائے تو کوئی حرج بھی نہیں"
”امراء کے نذرانے قبول یا رد کرنا اگر محض رضائے خدا وندی کے لئے ہے تو قابل تعریف بات ہے ورنہ مذموم۔“
" حضرت خواجہ نور الدین رحمۃ اللہ علیہ،حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد امجاد سے ہیں حضرت نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے عزیز خلیفہ تھے حضرت شاہ کلیم اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی تعریف
نہایت شاندار الفاظ میں ادا کی ہے۔ ایک خط میں حضرت شاہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کو لکھتے ہیں کہ
خواجہ نور الدین فنا فی الشیخ ہیں تمہارے سب خلفاء سے افضل اور فوقیت لئے ہوئے ہیں اگر عربی علم اور حاصل کرلیں تو ایک عالم اس شخص سے روشن ہو جائے"
" ایک اور مراسلہ بنام شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ میں درج ہے کہ :
”ہم چو ایں عزیز(خواجہ نور الدین محمد) را باید کہ امتیاز دادہ در تربیت باطن ایشاں کوشش بسیار نمود۔“
(ترجمہ)”اے مرید! خواجہ نور الدین محمد کے لئے چاہیے کہ مخصوص طریقہ پر اس کی باطنی تربیت
کی طرف توجہ کی جائے۔“
اس کے علاوہ مکتوبات میں اکثر مقام پر خواجہ نور الدین رحمۃ اللہ علیہ کو آپ نے۔
"محب صادق" دیار موافق" کے القاب سے مخاطب کیا ہے۔حضرت شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی خواجہ نور الدین رحمۃ اللہ علیہ سے بھی غایت درجہ محبت تھی اور ان کی باطنی تربیت میں خاص دلچسپی لیتے تھے۔
آپ اپنے مریدوں کو بھی یہی ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں کی جفا و قضا برداشت کریں اور لب نہ ہلائیں۔کہتے ہیں کہ ہمارا کام دلوں کو ایک جگہ کرنا ہے اس میں جتنی بھی مشکلات پیش آئیں ان کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا چاہیے۔
حضرت نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے مرید صادق حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی اسی طرح فرمایا تھا"ان سے کہہ دو کہ شہر دہلی میں رہنا چاہیے اور مخلوق کی جفا و قضا کو برداشت کرنا چاہیے اور اس کے بدلے ان کے ساتھ بذل و ایثار اور عطا کرنی چاہئیے۔
اس واقعہ کا بیان کرتا بے محل نہ ہوگا کہ سلطان محمد تغلق نے سب سے بڑا وار سلطان المشائخ کے جانشین حضرت چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ پر کیا۔انہیں اپنی جامہ داری اور کپڑے پہنانے پر مقرر کیا۔انہوں نے انکار کیا تو انہیں جیل خانے میں ڈال دیا۔حضرت چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے مرشد کی ہدایت جو آپ کو کی تھی یاد آگئی کہ تمہیں دہلی میں رہ کر خلق کا ظلم و ستم برداشت کرنا چاہیئے۔
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اور اپنے خدام و متعلقین کے ساتھ جو تعلق کی جو ادا سب سے نمایاں اور روشن تھی وہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی غیر معمولی محبت و شفقت تھی۔نو مسلم حضرات پر حضرت کی یہ شفقت اور بھی زیادہ تھی۔ان کے ساتھ آپ کا نیک سلوک تھا۔مکتوب کلیمی کے مطالعہ سے یہ علم ہوتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے خلیفہ شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف جو رقعات ارسال کئے ہیں ان میں ان کو ہدایات دی گئی ہیں کہ جوگیوں اور ہندوؤں کو بھی ذکر کی تلقین کیا کرو۔ ذکر کی برکت سے ان شاء اللہ تعالی ان کو ایک دن اسلام نصیب ہوں گا۔حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے خلیفہ شاہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ اورنگ آبادی کو بار بار لکھتے تھے کہ جلد جلد ذاکرین کے حالات سے آگاہ کرتے رہا کرو۔جب بھی خط لکھنے میں دیر ہو جاتی تو خط شاہ صاحب پھر لکھتے اور تاکید فرماتے کہ میں تمہارے خط کا منتظر رہتا ہوں اور بے چین رہتا ہوں۔دیا رام نو مسلم کے خط کے جواب میں اُسے لکھا ہے کہ وہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی ذات بابرکات پر بکثرت درود شریف پڑھا کرے۔کیونکہ یہ سب سعادتوں سے بڑی سعادت ہے۔
فرماتے ہیں"جسے خلافت بخشیں اُسے کہیں کہ وہ اپنے ابتدائی اور انتہائی حالات پر مشتمل ایک تفصیلی خط مجھے لکھے تاکہ میں ہر ایک کی حیثیت و قابلیت اور استعداد سے واقف ہو جاؤں آپ کے مکتوبات آپ کی عملی سرگرمیوں کے آئینہ دار ہیں۔ان کے مطالعہ سے آپ کی زندگی کے علمی اور عملی دونوں پہلو روش ہو جاتے ہیں اور آپ کی شخصیت پوری طرح سے ہمارے سامنے آجاتی ہے چشتیہ سلسلہ کی ترقی کے لئے مسلسل کوشش اور لشکریوں اور عوام میں روحانی تعلیم و تربیت کے لئے سعی بلیغ کا علم ان ہی مکتوبات سے ہوتا ہے۔علاوہ ازیں یہ خطوط خاندانی حالات اور سماجی مشکلات کی بھی نشان دہی کرتے ہیں۔
تصانیف:
آپ شریعت و طریقت کے عالم تھے۔صاحب تصنیف بھی تھے۔مرقع،کشکول، تسنیم، عشرہ کاملہ، قِرآن القرآن،سواء السبيل، الہامات کلیمی، رسالہ تشریح الافلاک اور شرح القانون آپ کی مشہور تصانیف ہیں جو کئی بار شائع ہوئیں اور خواص و عوام سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں کشکول کلیمی کو سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔
جناب خلیق احمد صاحب نظامی تاریخ مشائخ چشت میں لکھتے ہیں:شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ایک تصنیف رسالہ رد روافض کا بھی بعض کتابوں میں ذکر ہے لیکن وہ دستیاب نہیں ہوسکی ہے۔مناقب المحبوبین میں لکھا ہے کہ علم منطق پر بھی ان کا رسالہ تھا۔وہ بھی اب نایاب ہے کہتے ہیں(یک رسالہ در علم منطق است)غالب کے ایک خط سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ شعر بھی کہتے تھے اور ان کا کلام غدر کی تباہیوں کی نذر ہو گیا تھا
وصال:
آپ نے ۲٤ ربیع الاول ١١٤٢ھ میں شہر جہان آباد (دہلی) میں رحلت فرمائی۔آپ کو آپ کے مکان مسکونہ واقع درمیان جامع مسجد و لال قلعہ میں دفن کئے گئے۔آپ کا مزار آج مرجع خلائق ہے ۔ "قطب زمانہ خوش بوده" تاریخ وفات ہے-
اولاد:
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے چار لڑکے اور تین لڑکیاں تھیں۔لڑکوں کے نام: خواجہ محمد،حامد سعید، محمد فضل اللہ،محمد احسان اللہ ہیں۔لڑکیوں کے نام بی بی رابعہ، بی بی فخر النساء اور زینب بی بی ہیں۔ خواجہ محمد پچپن میں فوت ہو گئے تھے۔مناقب المحبوبین میں لکھا ہے کہ آپ نے دو شادیاں کیں۔ایک بی بی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔دوسری بی بی سے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں چوتھی اور پانچویں بیٹی کا نام نہیں ملتا۔
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ مکتوب کلیمی مراسلہ چہل ودوم (٤٢) میں بیان کرتے ہیں:
"بتاریخ بست و چهارم شهر ربیع الثانی فرزند عزیز خواجہ محمد از دار الفنا بدار البقاء رحلت نمود جدائی بر سینہ دوستان بگذاشت ان لله و انا الیه راجعون( ۲٤ ماه ربیع الثانی عزیز بیٹا خواجہ محمد اس دنیا سے چل بسا)
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ مکتوب کلیمی مراسلہ صد و بیست و پنجم (۱۲۵)میں تحریر کرتے ہیں: تین بیٹے اور تین بیٹیاں حیات ہیں۔حامد کتب سلوک کے مطالعہ میں مشغول ہے تو فضل اللہ کی عمر دس سال ہے۔ ۱۲ پارے کلام پاک حفظ کئے ہیں۔محمد احسان اللہ پانچ سال کا ہے مکتب میں ابجد پڑھتا ہے۔لڑکیوں کا یہ ہے کہ ایک محمد ہاشم کے نکاح میں ہے۔بی بی رابعہ اس کا نام ہے دوسری بی بی فخر النساء برادر زادے کے نکاح میں دے دی ہے۔(مناقب المحبوبین میں ان کا نام شیخ عبد الرحیم لکھا ہے) تیسری لڑکی زینب بی بی جو بی بی مصری کے نام سے مشہور ہے ١٤/سال کی ہے۔ ابھی کہیں اُس کی نسبت نہیں ہوئی۔مگر بعد میں ان کا نکاح شاہ میر رحمۃ اللہ علیہ سے ہوا۔
مناقب المحجوبین کے مطالعہ سے علم ہوتا ہے کہ بی بی رابعہ کے انتقال کے بعد چوتھی یا پانچویں بیٹی کا محمد ہاشم صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے نکاح ہو گیا تھا۔ اب مناقب المحبوبین کی عبارت ملاحظہ ہو:اول بی بی رابعہ کہ از محمد ہاشم خلیفہ ایشاں منکوحہ شد،دوئم فخر النساء کہ از برادر زاده خود شیخ عبد الرحیم نام منکوحہ کردند. سوئم زینب بی عرب بی مصری کہ از شاه میر منکوحہ شد،چهارم را نام دی ننوشت اما ایں دختر هم بعد فوت بی بی رابعہ در نکاح محمد هاشم آمده بود و حال پنجم راوی ننوشت کہ نام او چہ بود و از کدام کس منکوحہ شد"
خلفاء:
آپ کے خلفاء کی تعداد کثیر تھی۔اور آپ کے خاص خاص خلفاء کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں۔
حضرت مولانا نظام الدین اورنگ آبادی،حضرت محمد ہاشم،مولانا شاہ ضیاء الدین مولانا شاہ جمال اور خواجہ یوسف رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
نظام خلافت:
مکتوبات کلیمی کے مطالعہ سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ حضرت شاہ کلیم اللہ خلافت کو بہت اہمیت دیتے تھے اور خلافت کا نہایت مکمل اور مضبوط نظام قائم کئے ہوئے تھے ہر کس وناکس اور نا اہل لوگوں کو خلافت نہیں دی جاتی تھی۔خلافت سے متعلق ان کے چند اصول بیان کئے جاتے ہیں:
١-خلاقت دینے کا مقصد دست بدست دادن نہیں بلکہ اشاعت اسلام کے لئے جد و جہد کرنا ہے۔
۲-حضرت شاہ کلیم اللہ حضرت نظام الدین اورنگ آبادی کو فرماتے ہیں کہ خلافت جس کو دی جائے اس کے تفصیلی حالات سے مرکز کو آگاہ کیا جائے تاکہ اس کی صلاحیت اور اہلیت کا اندازہ ہو سکے۔
۳-صرف اہل علم کو خلافت دی جائے۔اس صورت میں گمراہی اور ضلالت کے پھیل جانے کا کوئی فکر اور اندیشہ نہیں ہے۔
٤-خلافت کی دو قسمیں کی جائیں۔خلافت ربانی۔خلافت سلوک۔
۵-بیعت کرنے کے بعد فوراً اجازت بیعت نہ دی جائے۔
٦-حضرت شیخ نظام الدین اورنگ آبادی نے اپنے پیر و مرشد کو عورتوں کی بیعت کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ عورتوں کو بیعت کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی خلوت سے بچا جائے اور براہ راست ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت نہ کیا جائے چونکہ"مس اجنبیہ"حرام ہے۔روحانی ترقی کے لئے اتباع شریعت کی سخت تلقین کیا کرتے تھے۔
حضرت شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے عزیز ترین مرید اور خلیفہ تھے۔آپ ہی کی ہدایت سے دکن تشریف لے گئے تھے جہاں انہوں نے نظامیہ سلسلہ کی شاندار خانقاہ قائم کی تھی۔جب کہ ہر طرف ہراس و پریشانی کا عالم تھا اور چاروں اطراف باغیانہ قوتیں ابھر رہی تھیں۔بد امنی کا دور تھا۔ ملت کی نگہبانی کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔آپ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے اور قدرت نے آپ کو ملت کا پاسبان بنا دیا۔
(کتاب:تذکرہ حضرت فخر جہاں دہلوی،ص ١٦٧ تا ١٨٢،باب سوئم:مصنف:میاں اخلاق احمد، ایم، اے۔اشاعت اول ١٤١٧ھ،ناشر:میاں اخلاق احمد اکیڈمی شاد باغ لاہور)
طالب دعا:شبیر احمد راج محلی۔
٢٣/ستمبر ٢٠٢٦ء......قسط وار جاری.......






جہان بانی سلسلہ کلیمیہ چشتیہمرتب:-شبیر احمد راج محلی۔کتاب"بہار چشت"میں بانی سلسلہ کلیمیہ چشتیہ کے تعلق سے اس طرح لکھا ہے...
23/09/2026

جہان بانی سلسلہ کلیمیہ چشتیہ
مرتب:-شبیر احمد راج محلی۔
کتاب"بہار چشت"میں بانی سلسلہ کلیمیہ چشتیہ کے تعلق سے اس طرح لکھا ہے:
حضرت خواجہ شیخ کلیم اللہ جہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ (م: ١١٤٢ھ)
چشتیہ سلسلہ کے دور انحطاط کو دور عروج میں بدلنے کا سہرا خواجہ کلیم اللہ جہاں آبادی کے سر ہے جو حاجی نور اللہ کے فرزند تھے آپ ایک باکمال معمار تھے، لال قلعہ،جامع مسجد
دہلی،حاجی نور اللہ اور ان کے والد جن کا نام احمد تھا کے فن تعمیر کے شاہکار ہیں، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نسل سے تھے، دہلی ان دونوں علمی ثروت سے محروم نہ ہوا تھا،
متعدد اصحاب علم موجود تھے،جن میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بزرگ بھی تھے،ان
سے کسب علم کیا،اورنگ زیب عالمگیر کی تخت نشینی سے آٹھ سال قبل پیدا ہوئے تھے جب کہ شاہ
ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اورنگ زیب کی وفات سے چار سال قبل پیدا ہوئے،تحصیل علم کے بعد کسی برتر نسبت کی طلب ہوئی تو ایک صاحب علم بزرگ ”رسول نما“ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت کے خواستگار ہوئے،صاحب بصیرت و عرفان بزرگ نے جواب دیا تمہارا حصہ سلوک یہاں نہیں حضرت یحییٰ مدنی علیہ الرحمہ کے پاس ہے اور وہ مدینہ منورہ میں
ہیں،وہاں جاؤ اور اس دسترخوان سے خوشہ چینی کرو، بس پھر کیا تھا طالب راہ حق،مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگیا اور مدینہ منورہ میں حضرت یحییٰ مدنی علیہ الرحمہ کے یہاں کچھ
عرصہ قیام رہا،خرقہ خلافت پہنا اور دہلی واپس آگئے، قیام حجاز کے دوران آپ نے
امیر محترم لاہوری سے نقشبندیہ نسبت حاصل کی اور سید محمد کبرروی علیہ الرحمہ سے قادریہ کی
خلافت پائی۔(تذکرہ خواجگان تونسوی ص ۵۵)
دہلی میں واپسی پر خام بازار کی ایک مسجد میں قیام کیا اور تعلیمی بساط بچھائی،علمی استطاعت تو حد درجہ کی تھی،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے صاحب علم چچا
ابوالرضا محمد علیہ الرحمہ سے علم حاصل کر چکے تھے، مدینہ منورہ میں حضرت یحییٰ مدنی علیہ الرحمہ سے
شرح وقایہ کا بھی درس لیا تھا،آپ کا درس علم و معرفت کا امڑتا دریا تھا، دور دور سے طلبہ شریک ہوتے، کھانے پینے کا سارا نظام مفت تھا،حدیث کے درس کی شہرت پھیلی چکی تھی، کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ صوفی شاعر مرزا مظہر جان جاناں علیہ الرحمہ ملاقات کے لیے
آئے تو آپ صحیح بخاری کا درس دے رہے تھے۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ ١٧/٢٨٠)
روایت ہے کہ شاہ عالمگیر نے کئی بار بڑی عاجزی سے اصرار کیا کہ حضرت اپنی ضروریات کے لیے سرکاری خزانہ سے رقم لے لیا کریں لیکن آپ نے ہر بار پیشکش مسترد کر دی اور فرمایا مجھے اس سے زیادہ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
اسی نے ایک بڑی حویلی دینے کا بھی ارادہ کیا مگر آپ نے نہ مانے، اس نے
حاضری کی اجازت چاہی مگر آپ نے ٹال دیا، فرمایا بذات خود آنے کی ضرورت نہیں اس سے مجھے الجھن ہوگی،بادشاہ نے اس کے بعد یہ وطیرہ اختیار کر لیا تھا کہ ہر روز جمعہ المبارک جب حضرت شیخ مسجد میں جمعہ کے تشریف لے جاتے تو وہ بھی اجازت لے کر بڑی عاجزی اور تعظیم سے آپ کی قدم بوسی کر لیتا۔“(مخزن چشت، ص ۳۲۷)
حضرت کلیم اللہ جہاں آبادی علیہ الرحمہ صاحب تصنیف بزرگ تھے،تیس کے
قریب تصانیف کا نام ملتا ہے جن میں عشرہ کاملہ عربی میں (رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کے حوالے سے)سواء السبیل (تصوف و صوفیاء) کشکول (ذکر، فکر اور مراقبہ کے بارے میں)، مرقع(نماز و نوافل اور وظائف کے حوالے سے)کئی اور کتب جن میں علم منطق کا ذکر بھی ہے، یہ بھی روایت ہوا کہ شعر کہتے تھے،قِرآن القرآن تفسیر
ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تفسیر جلالین کے ہم پایہ ہے فرق یہ ہے کہ وہ شافعی نقطہ نظر سے ہے اور یہ حنفی۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ ١٧/٣٨٢)
ان کے علاوہ ’مکتوب کلیمی‘ ہے جو ۱٣٢ مکتوبات کا مجموعہ ہے، ان کتب میں
رسالہ کشکول اور مرقع شریف کی چشتیہ بزرگ اپنے مریدوں کو باقاعدہ اجازت دیتے ہیں۔ایک دلچسپ حقیقت کہ حضرت نے اپنے تمام بیٹوں کو سلسلہ قادریہ میں بیعت کیا،فرماتے کہ سلسلہ چشتیہ میں بے پناہ ریاضتیں اور مجاہدے ہیں لیکن غوث اعظم حضرت
شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کا دامن اس لحاظ سے بہت وسیع ہے اور تمام ناقصوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔“ (مخزن چشت، ص ۳۲۹)
آپ نے ۲٤/ ربیع الاول ۱۱٤٢ھ کو وفات پائی، دہلی میں قلعہ اور جامع مسجد کے
درمیان اپنی ہی خانقاہ میں دفن ہوئے،۱۸۵۷ھ کی جنگ آزادی میں یہ خانقاہ مسمار ہوگئی صرف قبر باقی رہی، “تقریباً چالیس سال بعد خواجہ غلام فرید علیہ الرحمہ نے جو نواب بہاول پور کے مرشد و طریقت تھے، اس کی تعمیر نو کے لیے معتد بہ رقم دی،شاہ صاحب کے ورثاء میں سے ایک نے بعد میں اس کی مرمت کرائی اور اسے از سر نو تعمیر کرایا، مقبرہ ابھی تک موجود ہے ہر سال عرس ہوتا ہے،دہلی کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور شہزادگان اس میں
باقاعدگی سے شریک ہوا کرتے تھے۔ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ ١٧/٣٨١)
(کتاب:بہار چشت،ص ١٠٦ تا ١٠٧،ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی صاحب،پی ڈی ایف Www.Nafseislam.com)
طالب دعا:شبیر احمد راج محلی۔
٢٣/ستمبر ٢٠٢٦ء......قسط وار جاری.......






Spreading Faith Of Islam

23/09/2026

جہان بانی سلسلہ کلیمیہ چشتیہ
مرتب:-شبیر احمد راج محلی۔
کتاب"صوفیاء کرام(حصہ دوم)"میں بانی سلسلہ کلیمیہ چشتیہ کے تعلق سے اس طرح لکھا ہے:
حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ
۔
اُس کی نگاہِ ناز کے قربان جائیے
قلب و نظر کو مرکزِ انوار کر دیا
حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ۔
حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی ایسے بزرگ ہیں جن پر بجا طور پر
ہندوستان فخر کر سکتا ہے۔ روحانیت کے اعتبار سے صوفیاء کرام میں آپ کو خصوصی مقام حاصل ہے۔
پیدائش اور ابتدائی حالات:
آپ ۲٤/ جمادی الاول ۱۰٦٠ھ یعنی ۱٦٥٠ء کو دہلی میں دورِ شاہجہانی میں پیدا
ہوئے اس وقت شاہجہاں بادشاہ دہلی کو پایہ تخت بنا چکا تھا۔اور دہلی میں اس وقت اعلیٰ درجے کے عالموں کا ہجوم تھا۔آپ کے والد کا نام شیخ نور اللہ صدیقی تھا۔ آپ ریاضی،سائنس اور تعمیری کاموں کے ماہر تھے۔ جامع مسجد دہلی کے دروازوں اور محرابوں پر جو
نقش آج بھی موجود ہیں وہ سب آپ ہی کی فنکاری کی مثالیں یادگار ہیں۔
حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی کی تعلیم و تربیت آپ کے والد بزرگوار کی نگرانی میں ہوئی۔آپ اس قدر ذہین تھے کہ آپ کے ساتھی طالب علم جتنا برسوں میں پڑھتے تھے آپ اتنا چند ماہ میں پڑھ لیتے تھے۔آپ کی ذہانت اور علمی لگاؤ کا ہی نتیجہ تھا کہ کم عمری میں ہی آپ کا شمار بڑے عالموں میں ہونے لگا تھا۔
دینی و دنیاوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کا دل روحانی تعلیم کی طرف رجوع ہوا اور نہایت لگن کے ساتھ عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے۔
بیعت ہونا:
جب یادِ الٰہی میں آپ کو لطف آنے لگا تو آپ کو ایک ایسے پیر کی ضرورت محسوس ہوئی جو آپ کو روحانیت کی منزلوں تک پہنچا سکے۔آپ اسی خیال میں سرگرداں مکے شریف میں پہنچے۔یہاں آپ کی ایک مجذوب صفت آدمی نے آپ کی رہنمائی کی اور بتایا کہ آپ مدینہ شریف جا کر حضرت یحییٰ مدنی سے بیعت کر لیں۔آپ مدینے شریف تشریف لے گئے۔اور حضرت یحییٰ سے بیعت کر کے ان کے مریدوں میں
شامل ہو گئے۔
حضرت یحییٰ مدنی کا روحانی اثر حضرت شیخ کلیم کو دہلی سے مدینے کھینچ لایا تھا۔
اسی وجہ سے وہ شیخ کلیم پر بہت مہربان تھے۔شیخ کلیم کو بیعت کرنے کے بعد ان کو روحانیت کی اعلیٰ منزل تک پہچانے کے بعد اپنا خلیفہ مقرر کر دیا۔اس طرح آپ کو قطب الدین کا عہدہ بھی حاصل ہو گیا۔
روحانیت سے معمور ہو کر جب آپ مدینہ شریف سے مکے شریف واپس آئے۔ تو آپ کا روحانی جلال دیکھ کر ہر شخص آپ کو قطب عالم کہنے لگا۔
ہندوستان واپسی:
حضرت شیخ کلیم خرقہ خلافت حاصل کرنے کے بعد جب ہندوستان واپس
ہونے لگے تو آپ سے شیخ یحییٰ مدنی نے فرمایا کہ پرانی دہلی کا ایک شخص شیخ ”اچھا“ نام کا
پوشیدہ طریقے پر ہم سے مرید ہوا تھا۔ دہلی پہنچ کر اس سے اخلاق سے تم پیش آنا۔ وہ بھی تمہاری طرح میرا روحانی بیٹا ہے اور میری طرف سے یہ شجرہ اور کلاہ اسے دے دینا۔
حضرت شیخ کلیم اللہ جب مکہ سے ہندوستان واپس آئے تو پرانی دہلی میں داخل ہونے سے قبل آپ نے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار پر پہلے
حاضری دی۔ اور وہیں رات کو ٹھہرے اسی رات ”شیخ اچھا“ نے اپنے پیر شیخ یحییٰ مدنی کو خواب میں دیکھا کہ فرما رہے ہیں کہ ہمارا خاص مرید اور بڑا خلیفہ شیخ کلیم اللہ جس نے ہمیں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ آج صبح دہلی میں داخل ہوگا۔ تمہیں اس کا استقبال کرنا چاہئے۔ نیز شجرہ و کلاہ اس سے حاصل کرو۔
اس طرح شیخ ”اچھا“ نے اپنے پیر کی ہدایت کے مطابق شیخ کلیم اللہ کا
استقبال کیا۔ اس سے قبل دونوں نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا تھا۔ لیکن چشم بینا رکھتے ہوئے دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا اور ساری زندگی دونوں میں بہت محبت رہی۔
حضرت شیخ ”اچھا“ کا مزار دہلی میں حضرت امیر خسرو کے مزار کے قریب واقع ہے۔
حضرت شیخ کلیم اللہ کا فیض:
حضرت شیخ کلیم اللہ کا قیام لال قلعہ اور جامع مسجد کے درمیانی حصے میں رہتا تھا جو آج کل پریڈ گراؤنڈ کے نام سے مشہور ہے۔ اور آج جس جگہ آپ کا مزار ہے یہ آپ کے قیام اور یہیں پر دینی تعلیم کا مرکز تھا۔ جس کی روشنی سے تمام ہندوستان روشن ہو گیا تھا۔
آپ کی ظاہری اور باطنی تعلیم سے لوگوں کو فیض پہونچا۔ہندوستان کے کونے کونے سے لوگ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں آتے تھے۔
حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی ایک باکمال عالم اور ولی کامل ہوتے ہوئے
بھی ایک اچھے اور اعلیٰ درجے کے مصنف تھے۔آپ نے بے شمار کتابیں تحریر کیں۔ ان میں سے خاص کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔
۱- قرآن پاک کی تفسیر کلیمی جواب بازار میں نہیں ملتی
۲- سواء السبیل کلیمی،عربی اس کا اردو میں ترجمہ ہوا تصور اور معرفت کی بیش
قیمت کتاب ہے۔
۳- عشرہ کاملہ فارسی (اردو میں ترجمہ ہوا ہے)
٤- کشکول کلیمی یہ فارسی میں ہے اردو میں ترجمہ ہوا ہے۔
۵- مرقع کلیمی فارسی میں ہے (اردو ترجمہ ہوا ہے)
٦-مکتوبات کلیمی فارسی میں شیخ کلیم اللہ کے خطوط کا مجموعہ ہے۔
۷- تسنیم۔
زندگی کے اہم واقعات:
آپ کی زندگی بہت سادہ تھی عام لوگوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ ذاتی
مکان کا کرایہ ٥٠-۵ روپیہ ماہوار تھا اسی پر گزارہ کرتے تھے۔خانقاہ میں جو تحفے و نذرانے آتے تھے اس سے لنگر کا خرچ چلتا تھا۔ بادشاہ
”فرخ سیر“ نے کئی بار جاگیر دینے کی پیشکش کی۔مگر آپ نے قبول نہیں کی آپ امیروں سے ملنے میں کتراتے تھے اور غریبوں کو گلے لگاتے تھے۔اور سماع و قوالی سننے کا بہت شوق تھا مگر اپنے مریدوں کے علاوہ قوالی کی محفل میں دوسروں کو نہیں آنے دیتے تھے۔
ایک بار محفل سماع سجی ہوئی تھی کہ دربان نے آکر کہا کہ نظام الدین نامی شخص اندر آنے کی اجازت طلب کرتا ہے۔آپ نے کہا بلالو۔ مریدوں نے عرض کیا کہ آپ تو سماع میں کسی کو اندر آنے نہیں دیتے ہیں آپ نے فرمایا وہ کوئی غیر نہیں ہے۔ یہی نظام الدین جو اس وقت بڑے عالموں میں تھے۔ آپ کے خاص مرید ہوئے اور آپ کے عظیم خلیفہ ہوئے حضرت کلیم اللہ نے حضرت نظام کو مغربی ہندوستان کی خلافت سونپ کر اورنگ آباد روانہ کیا۔ آپ نے وہیں پر پردہ فرمایا اور آپ کا مزار بھی اورنگ آباد میں ہے۔
حضرت کلیم اللہ کے چند خلیفہ خاص:
ویسے تو آپ کے خلفاء کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر چند مخصوص خلفاء کے نام درج ذیل ہیں۔
۱- حضرت مولانا نظام الدین اورنگ آباد۔
۲- حضرت محمد ہاشم۔
۳- حضرت مولانا شاہ جمال الدین جے پور۔
٤-حضرت شاہ نانو آپ کا مزار مسجد فتحپوری دہلی میں ہے۔
۵- حضرت مولانا عبدالمجید۔
٦- حضرت یوسف آپ کا مزار حیدرآباد دکن میں ہے۔
۷- حضرت خواجہ شریف آپ کا مزار بھی حیدرآباد میں ہے۔
آخری سفر:
۸۱ سال کی عمر میں مختصر بیماری کے بعد ۲٤ ربیع الاول مطابق ١١٤٢ھ کو آپ
اللہ کو پیارے ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کو آپ کی خانقاہ میں ہی دفن کیا
گیا۔ آپ کے مزار شریف"پر" آج بھی ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی رات دن حاضری دیتے اور فیضیاب
ہو رہے ہیں۔ جہاں ”قومی یکجہتی“ کا سہانا منظر دکھائی دیتا ہے۔راقم الحروف کو آپ کے مزار پر کئی بار حاضری کا شرف حاصل ہے۔
(کتاب:صوفیاء کرام(حصہ دوم)ص ٢٦٨ تا ٢٧٣،مصنف اسلم بارہ بنکوی،طباعت امبر ٹریڈرس نبی اللہ روڈ لکھنؤ،)
طالب دعا:شبیر احمد راج محلی۔
٢٣/ستمبر ٢٠٢٦ء......قسط وار جاری.......






Address

Rajmahal،Rajmahal, Sahebganj (JH)India
Rajmahal
816108

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sunni Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Sunni Network:

Shortcuts

Share